ترقی انسانی زندگی کی قیمت پرمنظورنہیں:لیلارام ایڈوکیٹ

ترقی انسانی زندگی کی قیمت پرمنظورنہیں:لیلارام ایڈوکیٹ

تحریر: نغمہ شیخ

لیلارام ایڈوکیٹ تھرپارکرکے گرانوڈیم کی تحریک میں سرگرم ہیں۔ یہاں ہم ان کے خیالات پیش کررہے ہیں۔ادارہ

سوال :گرانوڈیم کے خلاف عوامی تحریک کاپس منظرکیاہے؟اس سے مقامی آبادی کیسے متاثرہوگی۔
جواب :تھرکول میگاپروجیکٹ ہے جس سے پاکستان کے انرجی کرائسس پرقابوپایاجائے گا۔ جب کوئی پروجیکٹ ہوتاہے اس میں لوکل لوگوں کونظراندازکیاجاتاہے۔جیسے ہمیں نظراندازکیاجارہاہے۔جس میں۱۴بلاک بنائے جارہے ہیں۔ جس میں بلاک ون اورٹوپرکام کیاجارہاہے۔یہ انگروکمپنی اورحکومت سندھ کوجوائنٹ پروجیکٹ ہے۔اس کیلئے پہلے انڈرگراونڈواٹرکوپہلے باہرنکالاجاتاہے۔اس سلسلے میں جواسسمنٹ کی گئی وہ مقامی لوگوں سے کوئی مشورہ کئے بغیرکی گئی۔مئی میں پروجیکٹ پرکام شروع ہوا۔توبتایاگیاکہ ۲۷۰۰،ایکٹرزمین سے پانی نکالناہے۔جس کے لئے ان سے یہ زمین چھینی جارہی ہے۔زمین کے نیچے نمکین پانی ہے۔اس نکال کر ایک ایسے جگہ میں تالاب بناکرذخیرہ کیاجارہاہے جس کے اردگردبارہ گاوں ہیں جس پر۲لاکھ درخت پائے جاتے ہیں۔ جس پرجانورپلتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کاواحدذریعہ معاش ہے۔کیونکہ آبادی کابڑاحصہ مویشی پالتے ہیں۔ہمارامطالبہ ہے کہ آپ اس کی ای آئی اے کروائی مگراس کی سوشل اسسمنٹ کہاں ہے اورکس سے کروائی ہے۔اس کاٹھیکہ حکومت سندھ کے پاس ہے۔اگریہ حکومت کے پاس ہے توہمیں اعتمادمیں کیوں نہیں لیتی ۔کیونکہ ہم یہاں سوسال سے آبادہیں۔بارہ گاوں کااپناکلچر،روایات اوررسم ورواج ہیں جس کویہ بربادکرنے پرتلے ہوئے ہیں۔یہاں ان کے قبرستان ہیں۔حکومت کوچاہئے کہ یہ پانی یہاں کے بجائے کسی اورجگہ جیسے رن آف کچھ لے جائیں۔ہم مئی سے یہ احتجاج کررہے ہیں۔رن آف کچھ میں پانی چھوڑنامنصوبہ میں شامل تھا۔لیکن اینگرومائننگ کمپنی نے طے شدہ منصوبہ سے ہٹ کراس کوگرانوکے علاقے میں چھوڑنے کامنصوبہ بنایا۔اوریہاں ۲۷۰۰ایکٹر آبادزمین پرڈیم بنانے کاپروگرام بنایاجس سے دولاکھ درخت،پندرہ ہزارآبادی،بارہ گاوں،بیس ہزارسے زائد مال مویشی اورعلاقے کے پرانے قبرستان تباہ ہورہے ہیں۔جس کیلئے ان گاوں کے لوگ مسلسل احتجاج کررہے ہیں۔پچھتردن سے زائد اسلام کوٹ کے پریس کلب پراحتجاج چل رہاہے۔اوراس کمپنی نے نہ توڈیم کاای آئی اے کرایاہے۔اوریہ ان کے پاس ڈاکومنٹ ہیں۔اس طرح کے کام پولیس کی مددسے کرائے جارہے ہیں۔اس کے لئے کوئی پبلک ہیرنگ یا عوامی شنوائی نہیں کی گئی۔ہم نے اس کے لئے عدالت سے رجوع کیامگرہمیں وہاں سے ریلیف نہیں ملی۔ کمپنی نے کھڑی فصلیں تباہ کردی گئیں مگرعوام کواس کی معاوضہ نہیں دیاگیا۔ہم بھی پاکستانی ہیں ہم بھی ترقی چاہتے ہیں مگرایسی ترقی ہوجس میں انسانی آبادی متاثرنہ ہو۔ان کاکہناہے کہ زمین ہم نے حاصل کرلی ہے۔جوکہ غلط ہے۔اس پرسیکشن چارلاگوکیاہے۔زمین پرکام تین مارہ پہلے شروع کیاگیااوردعوی بعدمیں کیاگیا۔جواپنے حق کے لئے لڑتے ہیں ان پرراء کے ایجنٹ ہونے کاالزام لگایاجاتاہے۔یہ ہماراساتھ بھی ہورہاہے۔یہ اپنی مرضی سے کام کررہے ہیں۔اس سے تھرکاپوراماحول متاثرہوجائے گا۔
مقامی افرادکاکہناہے کہ کڑوے پانی سے ان کی زمین بنجرہوجائے گی۔ہماراذریعہ معاش ایک توزمین اوردوسرامال مویشی ہیں۔جواس پانی کی وجہ سے ختم ہوجائیں گے۔ہمیں کمپنی والے کہاں آبادکریں گے اس کے بارے میں بھی کوئی منصوبہ نہیں ہے۔یہ ایک ڈیم نہیں بلکہ ایسے کئی ڈیم بنائے جائیں گے جس تھرتبدیل ہوجائیں گے۔ہم چاہتے ہیں ترقی ہومگرہماری جانوں کی قیمت پرکئی جائے تواس کوہم ترقی کیسے کہہ سکتے ہیں۔ کمپنی کے پاس دیگرمتبادل بھی ہیں جس پرعمل کیاجاسکتاہے اورجس سے نقصان بھی نہیں ہوگا۔
سوال :عوامی نمائندوں کوکیاکردار رہاہے
جوابِ: یہاں کے ایم پی اے اورایم این اے کمپنی کی زبان بولتے ہیں۔کیونکہ کمپنیوں نے ان کوخریدلیاہے۔ایم این اے ،ایم پی اے جوتھرپارکرسے تعلق رکھتے ہیں،جن کوعوام ووٹ دیاہے اوراسمبلی میں پہنچایاہے ،ان کوکوئی دکھ دردنہیں۔اورجواحتجاج پربیھٹے ہیں کمپنی والے ان کوبھی خریدناچاہتے ہیں۔لیکن ہم کہتے ہیں کہ درتھی ہماری ماں ہے،ہم اس کاسودانہیں کریں گے۔ویسے کام تووہ کرہے ہیں۔دیکھیں سیاسی لوگ توصرف کمپنسیشن ’تلافی‘کی بات کرتے ہیں جیسے کمپنی کرتی ہے۔لیکن پیسہ مسئلہ کاحل نہیں ہے۔آپ پیسے زمین کے مالک کودوگے،باقی کاکیاہوگاجووہاں رہتے ہیں۔جب آپ یہ درخت کاٹوگے توکیااثرات پڑیں گے اورکچی ریت پانی کواتناروک نہیں سکتی کیونکہ سینڈ ڈیونزپرزیادہ انحصارکرتے ہیں۔یہاں زخیرہ بنانے سے ان کمپنی والوں کی رقم بچ رہی ہے۔دوسری جگہوں پرزیادہ رقم خرچ ہوتی ہے۔آپ عوام کی زندگیوں سے کھیل رہے ہو۔اگریہ مستقبل میں ٹوٹتاہے تواس کاذمہ دارکون ہوگا۔مستقبل کی کوئی منصوبہ بندی نہیں ہے۔اسمبلی ممبران کمپنی کی زبان بولتے ہیں۔
سوال :عدالتوں کاکردارکیاہے؟
جواب:کورٹ میں بھی کیس چل رہاہے۔مگروہاں بھی کمپنی کی طرف سے کوئی ڈاکومنٹ نہیں ہے،جس میں گرانوریزروائرکاذکرہو۔کورٹ میں اگلی پیشی کی تاریخ ۱۹جنوری ہے ۔جس میں ڈائریکشن تھی کہ جوکورٹ نے کمیٹی بنائی ہے اس کے نوٹس بھیجے جائیں جتناجلدی ہوسکے۔جس کمیٹی میں آصف حیدرشاہ اوردیگرآفیسرہیں۔
ہماری اس تحریک کوکوئی اورآرگنائزیشن منظم نہیں کرتی۔ہم اپنے وسائل اورطاقت پربھروسہ رکھتے ہیں۔ ہم خودکہتے ہیں کہ کبھی دن کاکھاناملتاہے اورکبھی نہیں۔البتہ ہمیں ملک بھرکے عوام کی یکجہتی درکارہے ،کیونکہ ریاست اورکمپنیاں بہت طاقتورہیں۔ا ن کوہم مل کرہی شکست دے سکتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *