بڑی سماجی تحریک کی تعمیر کی ضرورت کیوں ہے؟

بڑی سماجی تحریک کی تعمیر کی ضرورت کیوں ہے؟

تحریر: ریاض احمد ،عامرحسینی

جبری گمشدگیاں ، شیعہ نسل کشی ، ریاستی جبر و تشددکے خلاف بولنے والی آوازوں کو دبانے کے لئے بلاسفیمی ، انڈین ایجنٹ ، مذہبی جنونیت جیسے ہتھیاروں کا مقابلہ کیسے کیا جائے ؟
بول ٹی وی چینل کے اینکر عامر لیاقت حسین نے حال ہی میں کراچی میں 19 جنوری کو ڈاکٹر سلمان حیدر سمیت جبری گمشدگان کی رہائی کے لئے ہونے والے مظاہرین پہ زبردست تنقیدی حملے کئے ہیں۔اس نے شیما کرمانی ، اسد بٹ ، زھرہ نقوی اور دوسرے مظاہرین کو مبینہ گستاخ بلاگرز کا حامی قرار دیا ہے۔اس حملے نے سول سوسائٹی کو ششدر کردیا ہے۔اس طرح کے زبانی کلامی حملے ہی آخر میں جسمانی حملوں کا سبب بنتے ہیں۔پاکستانی صحافت یقینی طور پہ انتہائی نچلی سطح پہ نظر آرہی ہے۔
سول سوسائٹی پہ حملے نئے نہیں ہیں۔ان میں سب سے بہادر سول سوسائٹی ایکٹوسٹ صبین محمود تھیں جن کو بلوچ جبری گمشدگان پہ ایک پروگرام کئے جانے کے فوری بعد قتل کردیا تھا۔اس سے پہلے اورنگی ٹاؤن کی کچی آبادیوں کو مالکانہ حقوق دلوانے میں سرگرم پروین رحمان کو ان کے پروجیکٹ آفس کے باہر قتل کردیا گیا تھا اور اس قتل میں مبینہ طور پہ وہ رئیل اسٹیٹ مافیا ملوث تھا جو ان زمینوں پہ قبضہ کرنا چاہتا تھا۔اسی طرح سے ایسے سرگرم کارکن ، وکیل ، صحافی حملوں کا نشانہ بنے، جن کو ڈرایا گیا ، یا مجبوری میں ان کو جلاوطن ہونا پڑا جو دبائے جانے اور ظلم کا شکار ہونے والوں کے بنیادی انسانی حقوق کی پامالی پہ آواز اٹھانے کے مرتکب تھے۔یہ ریاستی اداروں کا مسئلہ نہیں ہے جیسے فوج ،پولیس اور ایجنسیاں ہیں۔بہت سے ڈھیلے ڈھالے نیٹ ورک ہیں ، سیٹ ہیں جو کہ ریاستی اداروں سے ہٹ کر مختلف رنگوں کے عسکریت پسندوں کو تباہ کن ہیجان اور کنفیوڑن پیدا کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔
عامر لیاقت کے حملے کو اس لئے سازش کے طور پہ دیکھنے کی ضرورت نہ ہے۔ جیسے تکفیری انتہا پسند ٹولہ اقلیتوں پہ حملے ، فرقہ وارانہ قتل اور قوانین کا کمزوروں کے خلاف استعمال کا موقعہ تلاش کررہا ہے ،دوسرے ادارے بھی اسے کمزور پہ حملہ آور ہونے کے لئے استعمال کررہے ہیں۔بہت بڑی تعداد میں ٹی اینکرز جرائم کو بے نقاب کرنے کی جستجو میں لوئر مڈل کلاس پہ حملے کررہے ہیں۔ایسے ہی عامر لیاقت نے لبرل لیفٹ پہ حملہ کیا ہے کیونکہ یہ اسے زیادہ آسان اور سلمان حیدر کے دفاع کرنے والوں میں سب سے کمزور نظر آتا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ایجنسیاں 24 گھنٹے پس پردہ رہ کر سوشل میڈیا پہ کام کررہی ہیں تاکہ جو بھی ریاست کو بلوچستان، پشتونستان ،سندھ ، کراچی م?ں فوجی آپریشنوں ، شیعہ نسل کشی یا ریاستی حمایت یافتہ جہادیوں جیسے ایشوز پہ چیلنج کرتا ہے تو اس کے خلاف گندہ پروپیگنڈا کیا جائے۔بول جیسے چینل کمزور ترین اہداف پہ حملے اس لئے کررہے ہیں تاکہ لوئر اور مڈل کلاس کی پرتوں میں زیادہ سے زیادہ ان چینلز کے لئے کشش پیدا ہوسکے۔
شیعہ پہ حملے، امتیازی قوانین کا استعمال ،میگا پروجیکٹس جیسے سی پیک وغیرہ کو چیلنج کرنے والوں پہ ہندوستانی ایجنٹ وغیرہ کا لیبل لگانا ، توہین رسالت اور دیگر الزامات لگاکر جبری گمشدگیوں کا جواز نکالنا، فوجی آپریشنوں کو ملکی سلامتی کو خطرے میں بتلاکر جاری رکھنے کا عمل گزشتہ چند سالوں میں بہت تیز ہوگیا ہے۔واحد بلوچ کی جبری کمشدگی کے خلاف ایک تحریک نے جو کراچی ، حیدرآباد، لاہور میں چھوٹی اور سوشل میڈیا پہ برے پیمانے پہ ایک موثر تحریک چلی جس نے نہ صرف واحد بلوچ کی رہائی کو ممکن بنایا بلکہ اس نے سب جبری گمشدگان کی رہائی کی تحریک کو زندہ کرنے میں کردار ادا کیا۔ایکٹوسٹ کی ایک نئی نوجوان نسل نے واحد بلوچ کی رہائی کی مہم سے انسپائریشن لی اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹس، آرٹسٹ ، انسانی حقوق کے کارکنوں اور لیفٹ ورکرز نے اسے لیڈ کیا اور ان میں بھی نیا جذبہ دیکھنے کو ملا۔
یہ وہ اعتماد ہے جو کہ معاشرے کے مختلف شعبوں سے لوگوں کو جبری گمشدہ بنانے میں ملوث اداروں کے لئے ناقابل برداشت ہے۔ان کو ایک وسیع ، عوامی تحریک کا خدشہ ہے جو بڑے پیمانے پہ نوجوانوں، سیاسی اور سماجی کارکنوں کو اپنے ساتھ ملالے گی۔اس لئے عامر لیاقت کو اس طرح سے کھلا چھوڑے جانے کو ریاستی مفادات جو کہ نیوز چینلز پہ نفرت انگیز مہم کے ساتھ چلائی جارہی ہے کے ساتھ ملاکر دیکھنے کی ضرورت ہے۔
واحد بلوچ ، سلمان حیدر سمیت ہزاروں اس لئے جبری گمشدہ ہیں کہ وہ ناانصافی کے خلاف تحریک کا حصّہ تھے۔بلوچ قومی تحریک اس لئے بڑے پیمانے پہ جاری ہے کہ انہوں نے کبھی بھی جبری کمشدگان کے ساتھ اظہار یک جہتی کو ترک نہیں کیا۔جو جبری کمشدگان کی تحریک میں سرگرم ہیں ان کو ایک چیز ذہن میں رکھ لینی ہوگی۔۔۔۔۔ جبری گمشدگان کے بغیر کوئی تحریک نہیں ہے۔اس کی وجہ ریاست اور غیر ریاستی ادارے تحریک پہ حملے جاری رکھیں گے اس وقت تک جب تک جبری گمشدگان کا ایشو تحریک کا نکتہ رہے گا۔
جنوری 2004ء سے چبری گمشدگیوں کو بلوچ نے چیلنج کیا ہے۔ان کی تحریک جو وسائل پہ کنٹرول کا مطالبہ رکھتی ہے بلوجستان میں قوم پرستوں کو تقسیم کرتی ہے۔ایک سیکشن کو تو فوج نے بری طرح سے کچل ڈالا ہے،دوسرا سیکشن جیسے نیشنل پارٹی ، مسلم لیگ وغیرہ ہے اسے ریاست اور پیش رو حکومتوں نے مین سٹریم میں لانے کے نام پہ ہومیوپیتھک کردیا گیا ہے۔اسے مین سٹریم میں لانے لانے کا مقصد تحریک کو کمزور کرنا، سیاسی حقوق کا مطالبہ کرنے والوں کو نچوڑنا اور سی پیک جیسے پروجیکٹس کی طرف بڑھنا تھا۔لیکن اب بلوچ پورے پاکستان سے جبری گمشدگان کی لسٹ میں شامل ہیں۔اس لئے بڑھے ہوئے جبر کو مجبور و محکوموں کی ایک بڑی تحریک سے ہی چیلنج کرنا ہوگا۔اس وقت یہ تحریک لبرل ،لیفٹ اور مختلف رنگوں کے سرگرم کارکنوں پہ مشتمل ہے۔اس کو پھیلانے کی اشد ضرورت ہے،اس میں دیوار سے لگائے جانے والے شیعہ ، بری طرح سے خاموش کرائے جانے والے بلوج ، پشتون اور سندھی قوم پرست جو اپنے جبری کمشدگان کے لئے جدوجہد کررہے ہیں اور اردو بولنے والے گمشدگان کے خاندانوں کو ساتھ ملانے کی ضرورت ہے۔ماضی میں تحریک کو تقسیم کرنے کی کوشش ہوئی ہیں۔ڈاکٹر ظفر حسن عارف کی غیر قانونی نظر بندی پہ کچھ حلقوں کا خاموش رہنا اور بولنے والوں پہ تنقید کرنا فاش غلطی تھی اور ایسی غلطیوں سے اب گریز کرنا ہوگا۔

جبری گمشدگان کے لئے ایک وسیع تحریک کے لئے ضروری ہے کہ کسی ایک واحد جبری گمشدگی کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ایسا کرنے سے تحریک تقسیم ہوگی۔اور جو اس گمشدگیوں کے پیچھے ہیں ان کو یہ بات بہت اچھی لگتی ہے۔اس میں شک نہیں کہ پاکستان میں امن اور ترقی کے خلاف بہت سی قوتیں کام کررہی ہیں۔بہت سے عناصر جن کا تعلق کمرشل لبرل مافیا سے ہے وہ اپنے آقاؤں کے وسیع تر مقاصد اور مفادات کے لئے اس تحریک پہ اثر انداز ہونے کی کوشش کررہے ہیں۔تاہم لبرل لیفٹ اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ تحریک کے جو عظیم تر مقاصد ہیں وہ سکڑ کر کمرشل لبرل مافیا کے آقاؤں کے مفادات تک محدود نہ ہوجائیں۔اس لئے ایک وسیع ، جمہوری تحریک جس میں سبھی طرف سے آوازیں مظلوموں اور پسے ہوئے لوگوں کے لئے اٹھیں اور تحریک میں وہ لوک بھی شامل ہوں جو قومی مفاد اور ترقی کے نام پہ مچائے جانے والے شور کی وجہ سے خاموش ہیں۔

احتجاج، تحرک ، پروپیگنڈا اور شرکت کے تمام شکلوں کو استعمال کرنا اشد ضروری ہے۔سوشل میڈیا ایک انتہائی طاقتور میڈیم ہے اور اس کا استعمال لوئر مڈل کلاس اور مڈل کلاس یوتھ میں خیالات کے تبادلے اور پھیلاؤ کے لئے بہت موثر ہے۔یہ وقت ہے کہ ہم تعلیمی اداروں کے کیمپس کی طرف جانے کا سوچیں، سوشل میڈیا کے زریعے سے کیمپس کے اندر جبری گمشدگیوں، شیعہ نسل کشی ، فوجی آپریشنوں کے خلاف سوشل گروپس بنائے جائیں۔تعلیمی اداروں کے کیمپس میں ان موضوعات پہ پروگرام کئے جائیں جس میں جبری گمشدگان،نسل کشی کا شکار ہونے والوں کے خاندان کے لوگوں کو بطور مہمان مقرر بلائیں۔تاکہ وہ طلباء سے بات کریں اور طلباء کو براہ راست تفصیل معلوم ہوسکے۔اس طرح لیف لیٹ ، بروشرز کی کیمپسز میں تقسیم سے تحریک نیچے تک جائے گی ورنہ یہ سب بس ایک خاص سطح تک رہے گا۔آخر میں مسنگ پرسنز ، شیعہ نسل کشی ، فوجی آپریشنوں کے خلاف قومی سطح پہ سرگرم لوگوں کا ایک اتحاد تشکیل دیا جائے اور بڑے احتجاجوں کی کال دی جائے۔اور یہ اس مرحلے پہ ہوگا کہ معاشرہ لوگوں کی بڑی تعداد اس تحریک کی طرف آئے گی اور عامر لیاقت جیسے لوگوں کے سامعین میں کمی آئے گی۔ اور اتنے بڑے پیمانے پہ تحریک کی حمایت

خدشات اورتحفظات میں اضافہ

یہ ایک طرح سے نچلے درجے پرحکومت اورچین دونوں کے لئے مقامی سرمایہ داروں کاچیلنج بھی ہے کہ اگران کے مفادات کوگزندپہنچانے کی کوشش کی گئی تووہ مقامی لوگوں کی تحریک مزاحمت کے ساتھ مل کرمسائل کھڑے کرسکتے ہیں۔پاکستانی سرمایہ داروں کاایک حصہ پہلے ہی بلوچستان میں حدسے زائد جبراورفوجی آپریشن پرتحفظات کی شکارہے جس کاسب سے بہتراظہارمسنگ پرسن کیس میں عدلیہ کی کاروائی اوراکبربگٹی کے مارے جانے پرتقیسم سے سامنے آتاتھا۔
اپنے مفادات کووسعت دینے کیلئے اس میں بلوچستان اورگوادارکے لوگوں کواپنے ساتھ ملانے کی یوں کوشش کی گئی ہے کہ ان کے خدشات اورتحریکوں کواپنے مقاصد کوتحفظ دینے کے لئے استعمال کرنے کی خاطررپورٹ میں یہ اضافہ کیاگیاہے کہ بلوچستان اورگوادرکے باسیوں کے مفادات کوقانونی طریقے سے تحفظ دیاجائے۔دی نیشن کے مطابق ۲۰۴۸میں مقامی آبادی مکمل طورپراقلیت میں بدل جائے گی۔چین سے ۴۴ء افرادفی ہزارکے حساب سے آرہے ہیں۔سی پیک جب کام کرناشروع کردے گاتویہ تعدادچھ لاکھ افرادفی سالانہ کے حساب سے بڑھ جائے گا۔

رپورٹ میں مقامی سرمایہ داروں کے مفادات کوتحفظ دینے کی خاطر تین اقدامات کے طریقے کارکو بنانے کی بات کی گئی ہے۔اول؛مقامی سرمایہ کاروں کوتحفظ دیاجائے۔دوئم؛پاکستان میں مقامی مینوفیکچرنگ انڈسٹری کوبڑھاوادیاجائے۔سوئم؛مقامی لوگوں اورانڈسٹری کو آنے والے بیرونی طاقتوردیوہیکل انڈسٹریل شعبہ کے غضب سے بچایاجائے۔چہارم؛گلگت میں ڈیم پرکام میں تیزی لائی جائے۔پنجم؛مصروف ترین راستوں کے متبادل کے لئے طورپردیگرراستوں کی تعمیرجوکاریڈورکی مصروف شاہراہوں کے رش سے بچاناچاہتے ہیں۔

ایف پی سی سی آئی کی رپورٹ میں بلوچ عوام اورپشتون وبلوچ مڈل کلاس کی تحریکوں کونظرمیں رکھ کران کے مسائل کابھی سہارالینے کی کوشش کی گئی ہے۔بلوچ مڈل کلاس یہ شکوہ کرتی ہے کہ ملک اوربیرونی ملک سے آبادکاری میں اضافہ سے مقامی آبادی اقلیت میں تبدیل ہوجائے گی۔جبکہ پشتون مڈل کلاس مغربی روٹ پرکام میں سست روی اورنظراندازکرنے کی شکایت کرتی ہے۔اسلئے رپورٹ میں کہاگیاہے کہ بلوچستان میں غیرملکیوں کی تعدادبڑھنے سے مقامی آبادی اقلیت میں تبدیل ہوسکتی ہے۔رپورٹ کے مطابق سی پیک منصوبے سے خطے میں طویل مدت میں سیاسی وسماجی تبدیلی آسکتی ہے جبکہ حکومت کو مقامی معیشت اورصنعتوں کومنفی اثرات سے بچانے کیلئے اقدامات کرناہوں گے۔ایف پی سی سی آئی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ سی پیک کا مشرقی اور مغربی روٹ بعض اہم علاقوں سے دور ہے، رہداری منصوبے کا کام کئی مقامات پرتیزی سے جاری ہے جبکہ بعض علاقوں میں اس کی رفتارکم ہے۔

پاکستانی سرمایہ دارکہتے ہیں کہ سی پیک پراگرمقامی سرمایہ داروں کواعتمادمیں لیاجائے، ان کے مفادات کوتحفظ دیاجائے تواس سے سی پیک پرخدشات اوراٹھنے والے سوالات دورہوسکتے ہیں۔روف عالم نے کہاکہ’ حکومت مقامی سرمایہ کاروں کو تحفظ دے اور اقتصادی زونز کا کنٹرول نجی شعبے کو دیا جائے کیونکہ نجی شعبے کی شمولیت سے سی پیک پر خدشات اور سوالات دور ہو سکتے ہیں۔‘ اس طرح وہ بلوچ عوامی مزاحمتی تحریک اورپورے سماج کے اعتراضات کومقامی سرمایہ داروں کی سطح تک محدودکرکے لے آتے ہیں۔اس سے صاف ظاہرہوتاہے کہ مقامی سرمایہ دارچین کواس درجہ تک ہی استعمارسمجھتے ہیں جس حدتک ان کے مفادات اجازت دیتے ہیں۔ وہ کمپراڈورسرمایہ دارتوپہلے ہی تھے۔وہ بھی سی پیک کوگیم چینچراس وقت سمجھتاہے اورحکومت کواس صورت میں تعاون کرنے پرتیارہیں جب حکومت سی پیک میں مقامی سرمایہ کے مفادات کوفوقیت دے :’ سی پیک گیم چینجر ہے، حکومت کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہیں، سی پیک کے منصوبے کو شفاف بنانے کے لیے سرمایہ کاروں کو آن بورڈ لیا جائے۔چھوٹی صنعتوں نے چائنا پاکستان اقتصادی راہدرای (سی پیک) اور مختلف ملکوں کے ساتھ آزادانہ تجارتی معاہدوں کے تحت غیر ملکی کمپنیوں کو دی جانے والی مراعات پر خدشات کا اظہار کردیا۔‘

پاکستانی سرمایہ داروں کے خدشات اورتحفظات توسامنے آئے توہیں لیکن پہلے کی طرح مزاحمتی تحریک کی عدم موجودگی بھی نظرآتی ہے۔ سی پیک کے حوالے سے سب سے اہم یہ ہے کہ سرمایہ داروں کی ہرٹولی فی الحال کھل کراس کی مخالفت پرکمربستہ نظرآتا۔ ابھی یہ بلوچستان کے عوام کے اقلیت میں ہونے والے معاملے اورکسی حدتک نوآبادیاتی نظام کے دورکوتازہ کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ یہ کس طرف جاتے ہیں ،اس الجبراء میں ابھی بہت سارے متغیرات نامعلوم ہیں۔ لیکن سرمایہ داروں کی تاریخی بزدلی کودیکھتے ہوئے ان سے کسی بڑی مزاحمت کی امیدنہیں لگائی جاسکتی۔البتہ ان کے خدشات سے سی پیک کومتنازعہ بنانے اوراس پرسوالات اٹھانے سے سی پیک کے خلاف نچلے طبقات کی تحریک کودلائل ضرورمل جائیں گے۔سی پیک کے خلاف تحریک دراصل سرمایہ کے خلاف تحریک ہے۔ اس کوآگے بڑھانے کی کوشش کرنی چاہئے ۔ضرور ت اس امرکی ہے ترقیاتی پروجیکٹوں سے متاثرین کی بڑی تحریک ہی کسی متباد ل کی طرف لے جاسکتی ہے۔

احتجاج، تحرک ، پروپیگنڈا اور شرکت کے تمام شکلوں کو استعمال کرنا اشد ضروری ہے۔سوشل میڈیا ایک انتہائی طاقتور میڈیم ہے اور اس کا استعمال لوئر مڈل کلاس اور مڈل کلاس یوتھ میں خیالات کے تبادلے اور پھیلاؤ کے لئے بہت موثر ہے۔یہ وقت ہے کہ ہم تعلیمی اداروں کے کیمپس کی طرف جانے کا سوچیں، سوشل میڈیا کے زریعے سے کیمپس کے اندر جبری گمشدگیوں، شیعہ نسل کشی ، فوجی آپریشنوں کے خلاف سوشل گروپس بنائے جائیں۔تعلیمی اداروں کے کیمپس میں ان موضوعات پہ پروگرام کئے جائیں جس میں جبری گمشدگان،نسل کشی کا شکار ہونے والوں کے خاندان کے لوگوں کو بطور مہمان مقرر بلائیں۔تاکہ وہ طلباء سے بات کریں اور طلباء کو براہ راست تفصیل معلوم ہوسکے۔اس طرح لیف لیٹ ، بروشرز کی کیمپسز میں تقسیم سے تحریک نیچے تک جائے گی ورنہ یہ سب بس ایک خاص سطح تک رہے گا۔آخر میں مسنگ پرسنز ، شیعہ نسل کشی ، فوجی آپریشنوں کے خلاف قومی سطح پہ سرگرم لوگوں کا ایک اتحاد تشکیل دیا جائے اور بڑے احتجاجوں کی کال دی جائے۔اور یہ اس مرحلے پہ ہوگا کہ معاشرہ لوگوں کی بڑی تعداد اس تحریک کی طرف آئے گی اور عامر لیاقت جیسے لوگوں کے سامعین میں کمی آئے گی۔ اور اتنے بڑے پیمانے پہ تحریک کی حمایت سے ریاستی ادارے بھی غیر ریاستی کرداروں کے زریعے سے انسانی حقوق کے کارکنوں کو کنارے لگانے کی پالیسی پہ نظر ثانی پہ مجبور ہوں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *