سی پیک:مقامی سرمایہ داروں کے خدشات اورتحفظات میں اضافہ

سی پیک:مقامی سرمایہ داروں کے خدشات اورتحفظات میں اضافہ

تحریر: سرتاج خان، قسط دوئم

 

ڈان کہتاہے کہ پنجاب کے صنعتی مرکز سے اٹھنے والی آوازدراصل ان آوازوں کاحصہ ہے جس میں حکومت کے ملکی صنعت کونظراندازکرنے کے بڑھتے ہوئے خدشہ کے رحجان کوظاہرکرتاہے۔اخبارکہتاہے کہ سیالکوٹ کی برآمدات بری طرح متاثرہوئی ہیں ۔اس لئے پاکستان کاچین میں کاروبارکے بدلے میں سیالکوٹ کے لئے چین سے معاملہ کرنے سے اس کے مخفی قوت میں اضافہ ممکن ہے۔اخبارکہتاہے کہ اگرحکومت کوشش کرے توگجرات،گجرانوالہ اورسیالکوٹ کی مصنوعات کوچین کے مغربی خطوں میں ان کوجگہ مل سکتی ہے کیونکہ یہ جغرافیائی طورپرچین کے ساحلی علاقوں سے زیادہ پاکستان سے قریب ہیں۔ اخبارآخرمیں کہتاہے کہ اگرسی پیک دوطرفہ معاملہ ہے توحکومت کوان آوازوں پرکرنادھرناہوگا۔

نئے نوآبادیاتی نظام کی بازگشت
رائٹرکہتاہے کہ حالیہ دنوں میں چین کی پاکستان میں سرمایہ کاری کے عام پاکستانیوں کے لئے فائدے پرگرماگرم بحث ہوئی ہے۔ معترضین کاکہناہے کہ اس سے چینی بنک اورکمپنیاں زیادہ ترمستفیدہوں گی۔سرمایہ داروں کے مفادات پرزدپڑی تووہ سی پیک کو استعماری ،نوآبادیاتی اورسامراجی نظام کے طورپردیکھنے لگے ہیں۔اب سرمایہ داروں کے حامیوں نے چین کوبرطانیہ استعمارسے تشبیہ دینی شروع کردی ہے۔وہ کہنے لگے کہ سڑکیں،ریل اوربندرگاہیں برطانیہ بھی تعمیرکیں تھیں۔ظاہرہے یہ سب برصغیرکے قدرتی وسائل کی لوٹ ماراورفوجی مقاصد کے لئے کئے گئے اقدامات تھے۔پی ای دبلیوکے ڈاکٹرمرتضی مغل کے مطابق برطانیہ نے بھی اپنے طویل دورمیں ہزاروں میلوں کے ریل اورسڑکوں کانیٹ ورک بنائے،پل، تعلیمی ادارے، اسپتال، سب سے بڑادریائی نظام اورائیرپورٹ وغیرہ تعمیرکئے۔لیکن ان کامقصدعوام کی فلاح وبہبودنہ تھابلکہ اپنے اقتدارکوطول دیناتھا۔ڈاکٹرمغل کے مطابق آزادی کے بعد حکومتیں عوام کے فائدے کوذہن میں رکھ کرپروجیکٹ ڈائزین کرنے میں ناکام رہیں ،جوعوام میں اپوزیشن ابھارنے کی ایک اہم وجہ بنی۔ ا س نے مزیدکہاکہ حکومت بزنس کمیونٹی کے خدشات کوزیرغورلائے اورعوام کے مفادات کوتمام پروجیکٹوں میں سب سے مقدم رکھے۔یہاں عوام محض ایک حوالہ ہے ،اصل مقصد سرمایہ داروں کے مفادات ہیں۔

سرمایہ داروں کے خدشات کاسیاسی اظہارایوان بالاسینٹ میں دیکھنے میں آیا۔ ڈان نیوزکے مطابق ’ارکان سینیٹ نے خدشہ ظاہرکیاہے کہ اگرملکی مفادات کافعال طریقے سے تحفظ نہ کیاگیاتوچائناپاکستان اقتصادی راہداری ایک اورایسٹ انڈیاکمپنی بن سکتی ہے۔ایم کیوایم کے سینٹراورقائمہ کمیٹی برائے ترقی ومنصوبہ بندی کے چیئرمین طاہرمشہدی نے کہاکہ’ایک اورایسٹ انڈیاکمپنی بننے والی ہے،ملکی مفادات کاتحفظ نہیں کیاجارہا،ہمیں پاک چین دوستی پرفخرہے لیکن ملکی مفادسب سے پہلے آناچاہیے‘۔ڈان نیوزنے وضاحت کرتے ہوئے ایسٹ انڈیاکی ضمن میں کہاکہ ایسٹ انڈیاکمپنی برطانوی تجارتی مشن تھاجسے ہندوستان بھیجاگیااورجوبرصغیرمیں برطانوی استعماریت کاپیش خیمہ ثابت ہوئی تھی جس کے ذریعے اس وقت ہندوستان پرحکومت کرنے والے مغل بادشاہوں کوعہدوں سے ہٹادیاگیاتھا۔یوں کچھ سرمایہ داراورکچھ اراکین پارلیمان کے مطابق چین نئے زمانہ کاسامراج ہے جوپاکستان میں تجارت اورترقی کے نعرے کے ساتھ تو آرہاہے لیکن اس کانتیجہ ملک پرقبضہ کی صورت میں نکلے گااوریہ ملکی حکمرانوں کیلئے بھی اچھانہیں ہوگا:جس طرح مغل حکمرانی سے محروم ہوئے یہی حال پاکستانی حکمرانوں کابھی ہوسکتاہے۔اراکین پارلیمان پاکستانی معاملات میں کھلی چینی مداخلت کواچھی نظرسے نہیں دیکھتے:

اراکین سینٹ نے توانائی کے منصوبوں کے پاورٹیرف کاتعین چین کی جانب سے کئے جانے پربھی تحفظاتکااظہارکیا۔سینٹرزنے انکشاف کیاکہ نیپرانے ایک منصوبہ کے لئے ٹیرف مقررکیالیکن اسپانسرکے تحفظات پرحکومت نے اس پرنظرثانی کی درخواست دائرکردی۔نیپرانے اس کے لئے پاورٹیرف ۷۱پیسہ فی یونٹ مقررکیاتھالیکن چینی سرمایہ کار۹۵پیسہ فی یونٹ کامطالبہ کررہے تھے۔سینٹرعثمان خان کاکڑنے کہاکہ ’حکومت نے ٹیرف میں اضافے کے لئے نیپرامیں اپیل دائرہ کردی حالانکہ وہ جانتی ہے کہ اس کابوجھ غریب صارفین کوبرداشت کرناپڑے گا۔‘
سندھ حکومت نے دوبلین روپے سالانہ میں کراچی کے دواضلاع ایسٹ اورساوتھ کے کچرے اٹھانے اورٹھکانے لگانے کے کام کوچینی کمپنی کوٹھیکے دیاہے۔ جس پرسندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرایم کیوایم کے خواجہ اظہارالحسن کاکہناہے کہ یہ کام ایک مقامی کمپنی اس رقم کے نصف میں کرسکتی ہے جوچینی کمپنی کودی جارہی ہے۔ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشن سینٹرل کے چیئرپرسن ایم کیوایم کے ریحان ہاشمی نے ایکسپریس کوبتایاکہ وہ اپنے ضلع میں چینی کمپنی کے آپریشن کے خلاف مزاحمت کریں گے۔اوریہ کام چینی کمپنی کودینے کے بجائے خودڈی ایم سی کرے گی۔اس نے حکومت سندھ کی طرف سے چینی کمپنی کوٹھیکہ دینے میں غیرشفافیت کے مسئلہ کوبھی اجاگرکیا۔ ڈسٹرکٹ ایسٹ میونسپل کارپوریشن کے مویدانورنے کہاکہ اگرچینی کمپنی نے اچھاکام نہیں کیاتواسے واپس بھیجاسکتاہے۔کراچی میں بجلی،ٹرانسپورٹ سے لے کرجس طرح کام چین کے حوالے کئے جارہے ہیں اس پربے چینی کااظہارایم کیوایم کے اسمبلی رہنماخواجہ اظہارالحسن نے یوں کیاکہ سندھ کوہی چین کے حوالے نہ کیاجائے!

سرمایہ داروں کی وفاقی تنظیم نے حکومت کوخبردارکرتے ہوئے کہاکہ وہ بیرونی سرمایہ کاری کوسنجیدگی سے لے۔’بیرونی سرمایہ کاروں کاسیاسی اورمعاشی فیصلہ سازی میں غلبہ صرف ’بنانارپبلک‘تک محدودنہیں۔‘ان کے کہنے کامطلب یہ ہے کہ چینی سرمایہ کاروں کاغلبہ دنیاکی ساتویں فوجی طاقت اورنیوکلیائی ہتھیاروں لیس ملک میں بھی نظرآرہا ہے۔ کیونکہ رپورٹ کے مطابق’اس طرح کے خدشہ بدقسمتی سے پاکستان میں بھی پائے جاتے ہیں،جہاں سیاستدانوں اورپالیسی سازوں کے اندرعدم اعتمادپایاجاتاہے، جوپالیسی سازمیں من پسندی،رشوت ستانی ،غیرقانونی ادائیگیاں بین الاقوامی تھنک ٹینک نے مشاہدہ میں لائی ہیں۔‘ تنظیم نے عوامی خدمات کے شعبہ کوچینی سرمایہ کاروں کوہاتھوں جانے پربھی شدیدفکرمندی دکھائی ہے۔ ان کے مطابق عوامی خدمات کے شعبوں کووفاقی اورصوبائی سطح پرچینی کمپنیوں کوحوالے کئے جارہے ہیں۔تنظیم کے مطابق ’چین سے ریلوے کے انجن خریدنے کے بعد اب ریلوے میں تمام آپریشنزچینی فرموں کوحوالے کئے جارہے ہیں،سندھ حکومت تھرکول ڈپولیمنٹ اورکراچی کاکچرا چینی منجمنٹ کودینے پرغورکررہی ہے۔سب سے اہم مسئلہ کے الیکٹرک کاشنگھائی الیکٹرک پاورکمپنی کاحاصل کرناہے۔‘

قومی سرمایہ داراوربلوچ عوام کی تحریک
چینی سرمایہ کی طاقت کودیکھ کرمقامی سرمایہ دار،پاکستانی ریاست کے آپریشن کے شکاربلوچ عوام کواپنے ساتھ ملاکرحکومت کودباناچاہتی ہے کہ وہ چینی غلبہ سے ان کوبچائے۔

یہ ایک طرح سے نچلے درجے پرحکومت اورچین دونوں کے لئے مقامی سرمایہ داروں کاچیلنج بھی ہے کہ اگران کے مفادات کوگزندپہنچانے کی کوشش کی گئی تووہ مقامی لوگوں کی تحریک مزاحمت کے ساتھ ہوکرمسائل کھڑے کرسکتے ہیں۔پاکستانی سرمایہ داروں کاایک حصہ پہلے ہی بلوچستان میں حدسے زائد جبراورفوجی آپریشن پرتحفظات کی شکارہے جس کاسب سے بہتراظہارمسنگ پرسن کیس میں عدلیہ کی کاروائی اوراکبربگٹی کے مارے جانے پرتقیسم سے سامنے آتاہے۔

اپنے مفادات کووسعت دینے کیلئے اس میں بلوچستان اورگوادارکے لوگوں کواپنے ساتھ ملانے کی یوں کوشش کی گئی ہے کہ ان کے خدشات اورتحریکوں کواپنے مقاصد کوتحفظ دینے کے لئے استعمال کرنے کی خاطررپورٹ میں یہ اضافہ کیاگیاہے کہ بلوچستان اورگوادرکے باسیوں کے مفادات کوقانونی طریقے سے تحفظ دیاجائے۔دی نیشن کے مطابق ۲۰۴۸میں مقامی آبادی مکمل طورپراقلیت میں بدل جائے گی۔چین سے ۴۴ء افرادفی ہزارکے حساب سے آرہے ہیں۔سی پیک جب کام کرناشروع کردے گاتوہ تعدادچھ لاکھ افرادفی سالانہ کے حساب سے بڑھ جائے گا۔

خدشات اورتحفظات میں اضافہ

یہ ایک طرح سے نچلے درجے پرحکومت اورچین دونوں کے لئے مقامی سرمایہ داروں کاچیلنج بھی ہے کہ اگران کے مفادات کوگزندپہنچانے کی کوشش کی گئی تووہ مقامی لوگوں کی تحریک مزاحمت کے ساتھ مل کرمسائل کھڑے کرسکتے ہیں۔پاکستانی سرمایہ داروں کاایک حصہ پہلے ہی بلوچستان میں حدسے زائد جبراورفوجی آپریشن پرتحفظات کی شکارہے جس کاسب سے بہتراظہارمسنگ پرسن کیس میں عدلیہ کی کاروائی اوراکبربگٹی کے مارے جانے پرتقیسم سے سامنے آتاتھا۔

اپنے مفادات کووسعت دینے کیلئے اس میں بلوچستان اورگوادارکے لوگوں کواپنے ساتھ ملانے کی یوں کوشش کی گئی ہے کہ ان کے خدشات اورتحریکوں کواپنے مقاصد کوتحفظ دینے کے لئے استعمال کرنے کی خاطررپورٹ میں یہ اضافہ کیاگیاہے کہ بلوچستان اورگوادرکے باسیوں کے مفادات کوقانونی طریقے سے تحفظ دیاجائے۔دی نیشن کے مطابق ۲۰۴۸میں مقامی آبادی مکمل طورپراقلیت میں بدل جائے گی۔چین سے ۴۴ء افرادفی ہزارکے حساب سے آرہے ہیں۔سی پیک جب کام کرناشروع کردے گاتویہ تعدادچھ لاکھ افرادفی سالانہ کے حساب سے بڑھ جائے گا۔

رپورٹ میں مقامی سرمایہ داروں کے مفادات کوتحفظ دینے کی خاطر تین اقدامات کے طریقے کارکو بنانے کی بات کی گئی ہے۔اول؛مقامی سرمایہ کاروں کوتحفظ دیاجائے۔دوئم؛پاکستان میں مقامی مینوفیکچرنگ انڈسٹری کوبڑھاوادیاجائے۔سوئم؛مقامی لوگوں اورانڈسٹری کو آنے والے بیرونی طاقتوردیوہیکل انڈسٹریل شعبہ کے غضب سے بچایاجائے۔چہارم؛گلگت میں ڈیم پرکام میں تیزی لائی جائے۔پنجم؛مصروف ترین راستوں کے متبادل کے لئے طورپردیگرراستوں کی تعمیرجوکاریڈورکی مصروف شاہراہوں کے رش سے بچاناچاہتے ہیں۔

ایف پی سی سی آئی کی رپورٹ میں بلوچ عوام اورپشتون وبلوچ مڈل کلاس کی تحریکوں کونظرمیں رکھ کران کے مسائل کابھی سہارالینے کی کوشش کی گئی ہے۔بلوچ مڈل کلاس یہ شکوہ کرتی ہے کہ ملک اوربیرونی ملک سے آبادکاری میں اضافہ سے مقامی آبادی اقلیت میں تبدیل ہوجائے گی۔جبکہ پشتون مڈل کلاس مغربی روٹ پرکام میں سست روی اورنظراندازکرنے کی شکایت کرتی ہے۔اسلئے رپورٹ میں کہاگیاہے کہ بلوچستان میں غیرملکیوں کی تعدادبڑھنے سے مقامی آبادی اقلیت میں تبدیل ہوسکتی ہے۔رپورٹ کے مطابق سی پیک منصوبے سے خطے میں طویل مدت میں سیاسی وسماجی تبدیلی آسکتی ہے جبکہ حکومت کو مقامی معیشت اورصنعتوں کومنفی اثرات سے بچانے کیلئے اقدامات کرناہوں گے۔ایف پی سی سی آئی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ سی پیک کا مشرقی اور مغربی روٹ بعض اہم علاقوں سے دور ہے، رہداری منصوبے کا کام کئی مقامات پرتیزی سے جاری ہے جبکہ بعض علاقوں میں اس کی رفتارکم ہے۔

پاکستانی سرمایہ دارکہتے ہیں کہ سی پیک پراگرمقامی سرمایہ داروں کواعتمادمیں لیاجائے، ان کے مفادات کوتحفظ دیاجائے تواس سے سی پیک پرخدشات اوراٹھنے والے سوالات دورہوسکتے ہیں۔روف عالم نے کہاکہ’ حکومت مقامی سرمایہ کاروں کو تحفظ دے اور اقتصادی زونز کا کنٹرول نجی شعبے کو دیا جائے کیونکہ نجی شعبے کی شمولیت سے سی پیک پر خدشات اور سوالات دور ہو سکتے ہیں۔‘ اس طرح وہ بلوچ عوامی مزاحمتی تحریک اورپورے سماج کے اعتراضات کومقامی سرمایہ داروں کی سطح تک محدودکرکے لے آتے ہیں۔اس سے صاف ظاہرہوتاہے کہ مقامی سرمایہ دارچین کواس درجہ تک ہی استعمارسمجھتے ہیں جس حدتک ان کے مفادات اجازت دیتے ہیں۔ وہ کمپراڈورسرمایہ دارتوپہلے ہی تھے۔وہ بھی سی پیک کوگیم چینچراس وقت سمجھتاہے اورحکومت کواس صورت میں تعاون کرنے پرتیارہیں جب حکومت سی پیک میں مقامی سرمایہ کے مفادات کوفوقیت دے :’ سی پیک گیم چینجر ہے، حکومت کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہیں، سی پیک کے منصوبے کو شفاف بنانے کے لیے سرمایہ کاروں کو آن بورڈ لیا جائے۔چھوٹی صنعتوں نے چائنا پاکستان اقتصادی راہدرای (سی پیک) اور مختلف ملکوں کے ساتھ آزادانہ تجارتی معاہدوں کے تحت غیر ملکی کمپنیوں کو دی جانے والی مراعات پر خدشات کا اظہار کردیا۔‘

پاکستانی سرمایہ داروں کے خدشات اورتحفظات توسامنے آئے توہیں لیکن پہلے کی طرح مزاحمتی تحریک کی عدم موجودگی بھی نظرآتی ہے۔ سی پیک کے حوالے سے سب سے اہم یہ ہے کہ سرمایہ داروں کی ہرٹولی فی الحال کھل کراس کی مخالفت پرکمربستہ نظرآتا۔ ابھی یہ بلوچستان کے عوام کے اقلیت میں ہونے والے معاملے اورکسی حدتک نوآبادیاتی نظام کے دورکوتازہ کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ یہ کس طرف جاتے ہیں ،اس الجبراء میں ابھی بہت سارے متغیرات نامعلوم ہیں۔ لیکن سرمایہ داروں کی تاریخی بزدلی کودیکھتے ہوئے ان سے کسی بڑی مزاحمت کی امیدنہیں لگائی جاسکتی۔البتہ ان کے خدشات سے سی پیک کومتنازعہ بنانے اوراس پرسوالات اٹھانے سے سی پیک کے خلاف نچلے طبقات کی تحریک کودلائل ضرورمل جائیں گے۔سی پیک کے خلاف تحریک دراصل سرمایہ کے خلاف تحریک ہے۔ اس کوآگے بڑھانے کی کوشش کرنی چاہئے ۔ضرور ت اس امرکی ہے ترقیاتی پروجیکٹوں سے متاثرین کی بڑی تحریک ہی کسی متباد ل کی طرف لے جاسکتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *