معیشت ننانوے فی صد کے لئے

معیشت ننانوے فی صد کے لئے

آکسفیم
ترجمہ: سارہ احمد

(جب دنیاکے سرمایہ داراور کارپوریشن نمائندے ڈیوس میں ورلڈاکنامک سوشل فورم پرجمع ہورہے تھے توآکسفم نے، ایک رپورٹ شائع ،این اکانومی فار۹۹پرسنٹ، کے نام سے شائع کی۔ جودراصل سرمایہ داری کے ان لوٹ مارکرنے والوں کے کرتوں کوعیاں کرتاہے)وقت آ گیا ہے کہ ایک ایسی معیشت کی بنیاد ڈالی جائیجو ہر ایک کے لئے یکساں طور پر فائدہ مند ہو، نا کہ صرف ایک فیصد مراعات یافتہ طبقے کے لئے۔ نئے اندازوں کے مطابق، فقط آ?ھ افراد اتنی دولت کے مالک ہیں جتنی دنیا کی غریب ترین نصف آبادی۔ شرح نمو جہاں امیر ترین طبقے کوفائدہ پہنچاتی ہے، وہیں معاشرے کے باقی افراد خاص کرغریب ترین افراد معاشی مشکلات کا عذاب جھیلتے ہیں۔ موجودہ معیشت کی ساخت اور قوانین نے ہی ہمیں نا انصافی اور انتہائی غیر مستحکم صورتحال سے دوچارکیا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارا معاشی نظام مراعات یافتہ طبقے کو نوازنے کے بجائے معاشریکے تمام افراد کیلئے کام کرے۔ عوام کو جوابدہ اور دوراندیش حکومتیں، مزدوروں اور کسانوں کے مفادات کی حفاظت کرنے والے کاروبار، ایک قابل قدرماحول، عورتوں کے حقوق کا تحفظ اورمنصفانہ ٹیکسیشن کا مضبوط نظام جیسے اقدام موجودہ معاشی ڈھانچے کو انسانی خطوط پر استوار کرنے کیلئے انتہائی نا گزیر ہیں۔چار سال قبل عالمی اقتصادی فورم اس بات کی نشاندہی کر چکا ہے کہ بڑھتی ہوئی اقتصادی عدم مساوات سماجی استحکام کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے، اورعالمی بینک تین برس پہلے اپنے غربت ختم کرنے کے ہدف کو مشترکہ خوشحالی کی ضرورت سے باہم جوڑ چکا ہے. اس کے بعدسے، دنیا کے رہنماؤں کی عدم مساوات کو کم کرنے کے عالمی مقصد کے لئے دستخط کرنے کے باوجود، امیر اورغریب کے درمیان ہائل خلیج وسیع ہوتی جا رہی ہے. یہ سلسلہ مزید جاری نہیں رہ سکتا. جیسا کہ صدر اوباما نے ستمبر 2016 میں اپنی الوداعی تقریر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “ایک ایسی دنیا کبھی مستحکم نہیں ہو سکتی کہ جس دنیا میں انسانیت کا 1 فیصد اتنی مال و دولت کنٹرول کرتا ہے کہ جتنا بقیہ99 فیصد۔”
اس کے باوجود عالمی سطح پر عدم مساوات کا بحران بلا روک ٹوک جاری ہے:
2015 سے، دنیا کی امیرترین 1 فیصد آبادی کی ملکیت میں باقی 99 239 کے مقابلے میں زیادہ
دولت موجود ہے۔

آٹھ افراد اب اتنی دولت کے مالک ہیں جتنی دنیا کی غریب ترین نصف آبادی۔ –

-اگلے 20 سال کے دوران، 500 افراد 2.1 ٹریلین ڈالرز کی خطیر رقم اپنے ورثاء کے حوالے کر جائیں گے یہ رقم 1.3 ارب لوگوں کی –

>آبادی والے ملک بھارت کی جی ڈی پی سے بھی زیادہ ہے۔ 1988 سے 2011 کے درمیان لوگوں کے غریب ترین 10 فیصد کی آمدنی میں فقط 3 ڈالرزسالانہ کا اضافہ ہوا، جبکہ امیر ترین 1 فیصد کی آمدنی 182 گنا بڑھ گئی۔

فنانشل ?ائم اسٹاک ایکسچینج100کا ایک سیایاو،بنگلہ دیش کی گارمنٹ فیکٹریوں میں کام کرنے والے دس ہزار مزدوروں سے زیادہ کماتا ہے۔ –

ماہراقتصادیات تھامس پکیٹی کی تحقیق کے مطابق امریکہ میں پچھلے تیس برس کے دوران دوران سب سے غریب 50 فیصد آبادی کی آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا جبکہ امیرترین 1 فیصد طبقے کی آمدنی 300 فیصد بڑھ گئی۔

ویت نام میں ملک کا امیر ترین آدمی صرف ایک دن میں اتنا کما لیتا ہے، جتنا غریب ترین شخص دس سال میں کما پاتا ہے۔ –

اگربڑھتی ہوئی طبقاتی تفریق کو قابو نہیں کیا گیا تو یہ معاشرے کی ٹوٹ پھوٹ کا سبب بن جائے گی۔ یہ جرم اورعدم تحفظ میں اضافہ، اورغربت کے خلاف جنگ کو کمزورکرتی ہے۔ یہ دنیا کی ایک بڑی آبادی کو خوف میں مبتلا رکھتی ہے جبکہ صرف چند افراد کیلئے راحت کا سبب بنتی ہے۔
بریگزٹ سے ڈونالڈ ٹرمپ کی صدارتی مہم کی کامیابی تک، نسل پرستی میں ایک پریشان حد تک اضافہ اور مرکزی دھارے کی سیاست سے بڑے پیمانے پرمایوسی، اس بات کی نشانیاں ہیں کہ امیر ممالک میں زیادہ سے زیادہ لوگ اب پرانا نظام برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں. اورکریں بھی تو کیوں، جب کہ تجربہ کہتا ہے کہ یہ اجرت میں جمود، غیرمحفوظ ملازمتیں اورامیر، غریب کے درمیان خلیج بڑھا رہی ہیں۔ چیلنج ایک مثبت متبادل کی تعمیر ہے 150 ایک ایسانظام نہیں جو ان خلیجوں کو بڑھاوا دے۔پسماندہ ممالک میں بھی حال اتنا ہی پیچیدہ اور توجہ طلب ہے۔ حالیہ دہائیوں میں کروڑوں لوگوں کو غربت سے نکال لیا گیا ہے جوایک ایسی کامیابی ہے جس پر دنیا کو فخر ہونا چاہئے۔
اس کے باوجود ہر نو میں سے ایک فرد اب بھی بھوکا سونے پر مجبورہے. اگر 1990 اور 2010کے درمیان ترقی غریب نواز ہوتی تو 700 ملین سے زیادہ لوگ، جن میں اکثریت خواتین کی ہے، آج غربت میں نہیں رہ رہے ہوتے. تحقیق کے مطابق، انتہائی غربت کے تین چوتھائی حصے کو موجودہ وسائل کا استعمال کرتے ہوئے ٹیکسیشن میں اضافہ اور فوجی اور دیگر اوروہی اخراجات پر کمی کر کے ختم کیا جا سکتا پائے. عالمی بینک نے واضح کیا ہے کہ عدم مساوات سے نمٹنے کے لئے کوششوں کو دو چند کے بغیر، عالمی رہنما 2030 تک انتہائی غربت کو ختم کرنے کے اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔اس طرح ہونا ٹھیک نہیں ہے. عدم مساوات کے خلاف مقبول رد عمل عوام کو مزید تقسیم کرنے کیلئے نہیں ہونا چاہئے. 99 فی صدکی معیشت دیکھتی ہے کہ کس طرح بڑے ادارے اور انتہائی امیرافراد عدم مساوات کے اس بحران کو چلا رہے ہیں اوراسے کیسے تبدیل کیا جا سکتا ہے. وہ ان جھوٹے مفروضات پر بھی دھیان دیتی ہے جن کیوجہ سے ہم تنزلی کا
شکارہوئے اور دکھاتی ہے کہ ہم کیسے ایک انسان دوست معیشت پر مبنی منصفانہ دنیا بنا سکتے ہیں 150 وہ دنیا کہ جس کی بنیاد لوگ ہوں نہ کہ منافع، اور جو معاشرے کے کمزوروں کو ترجیح دے۔

عدم مساوات کی وجوہات:
اس بات سے انحراف ممکن نہیں کہ عالمی معیشت کے کامیاب ترین افراد کا تعلق سب سے اعلی طبقے سے ہوتا ہے۔ آکسفام کی تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ پچھلے پچیس سالوں میں اس1فی صدی اعلی طبقے کی آمدنی میں دنیا کی 50 فی صڈ غریب ترین آبادی کی اجتماعی آمدنی سے بھی کئی گنازیادہ اضافہ ہوا ہے۔ عام لوگوں تک پہنچنا تو درکنار، تشویش ناک حد تک آمدنی اور دولت اعلی طبقا ہی ہڑپ کر جاتا ہے۔ ایسا ہونے کی وجوہات کیا ہیں؟ کارپوریشنز اور انتہائی امیرافراد، دونوں ہی دولت کے ارتکاز میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔2015 میں اچھی کارکردگی دکھائی: منافع کی شرح بلند رہی اور / بڑے کاروباروں نے 2016دنیا کی 10 سب سے بڑی کارپوریشنز کی کل آمدنی 180 ممالک کی حکومتی آمدنی سے زیادہ رہی۔
کاروباری ادارے منڈی کی معیشت کے لازمہ حیات ہیں، اور جب وہ سب کے مشترکہ فائدے کے لئے کام کرتے ہیں تو منصفانہ اور خوشحال معاشروں کی تعمیرعمل میں آتی ہے. لیکن جب کارپوریشنز بدتدریج امیروں کے لئے کام کریں تو اقتصادی ترقی کے فوائد معاشرے کے حقیقی ضرورتمندوں تک نہیں پہنچ پاتے۔ اونچے طبقے کو زیادہ سے زیادہ منافعے کی فراہمی کے تعاقب میں کارپوریشنز اپنے مزدوروں اور کسانوں کو نچوڑ کر رکھ دیتی ہیں۔ اورٹیکسوں کی ادائیگی، جس سے ہر ایک کو فائدہ ہو خاص طور پر غریب ترین لوگوں کو، اس سے بچتی ہیں۔

مزدوروں اور کسانوں کا استحصال
جہاں بہت سے چیف ایگزیکٹوز، جنکی اجرت عموما حصص کی صورت میں ادا ہوتی ہے، کی آمدنی میں انتہا کا اضافہ ہوا ہے، وہاں عام مزدوروں اور کسانوں کی اجرت میں بمشکل اضافہ ہوا ہے، اور بعض صورتوں میں حالات بدتر ہوئے ہیں۔ بھارت کی اعلی ترین انفارمیشن فرم کا سی ای او اپنی کمپنی کے ایک عام ملازم سے 416 گنا زیادہ تنخواہ کماتا ہے۔ اسی کی دہائی میں کوکو اگانے والے کسان کو چاکلیٹ بار کی قیمت کا 18 فیصد موصول ہوتا تھاآج وہ صرف 6 فیصد حاصل کر پاتا ہے. انتہائی صورتوں میں، جبری مشقت یا غلامی کو کارپوریٹ اخراجات بچانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے. انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کا اندازہ ہے کہ دنیا بھر میں جبری مشقت پر مجبور 2 کڑوڑ لوگ سالانہ 150 بلین ڈالرز کا منافع پیدا کرتے ہیں۔ دنیا کی ساری ہی بڑی گارمنٹ کمپنیاں بھارت میں موجود کپڑا بننے والے کارخانوں سے منسلک ہیں جو تسلسل سے لڑکیوں کی جبری مشقت استعمال کرتے ہیں۔. سب سے زیادہ خطرناک حالات میں سب سے کم تنخواہ پانے والے مزدوروں کی اکثریت خواتین اور لڑکیوں پر مشتمل ہے. دنیا بھرمیں، کارپوریشنز مزدوری کے اخراجات کو مسلسل کم کر رہے ہیں 150 اور اس بات کو یقینی بنارہے ہیں کہ انکی سپلائی چین میں موجود مزدور اورکسان اقتصادی فوائد سے کم سے کم مستفید ہوں. ایسا کرنا معاشی تفریق بڑھا دیتا ہے اورمنڈیوں میں اشیآ کی طلب کم ہو جاتی ہے۔

ٹیکس کی ہیرا پھیری
کارپوریشنز اپنے منافعے کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کیلئے کم سے کم ٹیکس ادا کرتی ہیں۔ وہ ایسا یا توٹیکس کی پناہگاہوں کا استعمال کر کے کرتی ہیں، یا پھرمختلف ممالک کو ٹیکس پر چھوٹ، ٹیکس سے استشنی دینے، اور انتہائی کم شرح ٹیکس رکھنے کی دوڑ میں لگا دیتی ہیں۔لہذا دنیا بھر میں کارپوریٹ ٹیکس کی شرح گر رہی ہے جو بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ کارپوریشنزکم سے کم ٹیکس دیں۔ ایپل کمپنی نے سال 2014 میں مبینہ طور پر اپنے یورپی منافع پرصرف 0.005 فی صد ٹیکس ادا کیا۔ ترقی پذیر ممالک ہر سال 100 بلین ڈالرز کی ٹیکس چوری کا نقصان اٹھاتے ہیں۔ ٹیکس سے چٹھکارا اور ٹیکس چھوٹ فراہم کرنے کے چکر میں دنیا بھرکے ممالک ہرسال مزید اربوں ڈالرز کا خسارا برداشت کرتے ہیں۔ اس صورتحال سے انتہائی غریب طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے جن کا انحصار
پبلک سروسز پرہوتا ہے جو ٹیکس کی ہیرا پھیری کی نظر ہو جاتی ہیں۔ کینیا سالانہ 1ء 1 بلین ڈالرز ٹیکسوں کی چھوٹ میں گنوا دیتا ہے جو اسکے صحت کے بجٹ سے لگ بھگ دوگنی مقدار ہے ۔یہ صورتحال ایسے ملک کی ہے جہاں ہر 40 میں سے 1 خاتون دوران زچگی انتقال کر جاتی ہیں۔ کمپنیوں کی جانب سے ایسا غیر انسانی رویہ کیوں سامنے آ رہا ہے؟ اسکی دووجوہات ہیں: حصص کے شراکت داروں کو مختصر مدت میں منافع کی واپسی پر توجہ اور ‘کرونی سرمایہ داری’ میں اضافہ۔

تیز و تند حصص دارانہ سرمایہ داری:
دنیا کے بہت سے حصوں میں، کارپوریشنز تیزی سے مقصد واحد کی جانب بڑھ رہی ہیں: اپنے حصص یافتگان کو زیادہ سے زیادہ منافع کی واپسی. مقصد نا صرف مختصرمدت کے منافع کو بڑھانا ہے، بلکہ اپنے حصصداروں کو انکے سرمائے پر ایک انتہائی زیادہ منافع کی فراہمی ہے۔برطانیہ میں، منافع کا 10 فی صد 1970 میں حصص یافتگان کو واپس کیا گیا تھا؛ اب یہ اعداد و شمار 70 فیصد ہیں۔ بھارت میں یہ اعداد و شمار نسبتاکم ہیں مگر تیزی سے بڑھ رہے ہیں، اور بہت سی کارپوریشنز کے لئے اب 50 فی صد سے زائد ہیں۔ اس کو بہت سے لوگوں کی طرف سے تنقید کا سامنا ہے جن میں بلیک راک کے سیایاو(دنیا کے سب بڑے اثاثہ مینیجر) لیری فنک، اور بینک آف انگلینڈ کے چیف اکانومسٹ اینڈریو ہالانڈے، شامل ہیں.حصص یافتگان کے لئے زائد منافع کی واپسی صرف امیروں کے مفاد میں کام کرتی ہے اورچونکہ حصص یافتگان کی اکثریت معاشرے کے سب سے امیر افراد ہیں، اس سے عدم مساوات میں اضافہ ہوتا ہے. ادارہ جاتی سرمایہ کار، جیسا کہ پنشن فنڈز، کارپوریشنز میں سب سے چھوٹے حصص کے مالک ہیں. تیس سال پہلے، پنشن فنڈز برطانیہ میں 30 فیصد حصص رکھتے تھے؛ اب وہ صرف 3 فیصد کے مالک ہیں. ہرایک ڈالر جو کارپوریشنز کے حصص یافتگان کو دیاگیا، ،کسانوں اور مزوروں کی اجرت بڑھانے، زیادہ ٹیکس ادا کرنے، یا بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کرنے میں خرچ کیا جا سکتا تھا۔

کرونی سرمایہ داری:
آکسفام کی دستاویز ” 1 فیصد کیلئے معیشت” کے مطابق مختلف شعبوں فنانس، گارمنٹس مینوفیکچررز، دواسازی و دیگرسے تعلق رکھنے والی کارپوریشنز اپنی بے پناہ طاقت اور اثر ورسوخ استعمال کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ قواعد و ضوابط اور قومی اور بین الاقوامی پالیسیوں کی تشکیل ان کیلئے منافع بخش ثابت ہو. مثال کے طور پر، نائیجیریا میں تیل کی کارپوریشنز نے اپنے لئے فراغ دلانہ ٹیکس چھوٹ کو یقینی بنا لیا ہے۔یہاں تک کہ ٹیکنالوجی کا شعبہ، جسے نسبتآ راست بازسمجھا جاتا تھا، تیزی سے کرونی ازم کیالزام سے منسلک ہو رہا ہے۔ ایلفابیٹ، گوگل کی پیرنٹ کمپنی، واشنگٹن کی سب سے بڑی لابی میں سے ایک ہے، اور اینٹی ٹرسٹ قوانین اور ٹیکس پر یورپ سے مسلسل مذاکرات میں مصروف ہے. کرونی سرمایہ داری اجتماعی بھلائی اورغربت میں کمی کی قیمت پر ان امیروں
کو فائدہ دیتی ہے جو ان کارپوریشنز کو چلاتے ہیں. اس کا مطلب ہے کہ چھوٹے کاروبار اپنی بقا کی جدوجہد کرتے ہیں اور عام لوگوں کو اشاء4 اور خدمات حاصل کرنے کے لئے زیادہ قیمت ادا کرنی پڑتی ہیں کیونکہ انہیں کارپوریشنز کی اجارہ داری کا سامنا ہوتا ہے جس کے حکومت کے ساتھ قریبی تعلقات ہوتے ہیں۔ دنیا کا تیسرا سب سے امیر آدمی، کارلوس سلم، میکسیکو کی تقریبا 70 239 موبائل سروسز اور 65 239 لینڈ لائن کو کنٹرول کرتا ہے جس کی لاگت جی ڈی پی کا 2فیصد ہے۔

امیر ترین طبقے کا عدم مساوات میں کردار
ہر لحاظ سے، ہم انتہائی دولتمندوں کے زمانے میں رہ رہے ہیں، ایک دوسرا ‘سنہری دور’، جس میں ایک چمکتی دمکتی سطح سماجی مسائل اور کرپشن کو چھپا دیتی ہے. آکسفیم کیانتہائی امیر افراد پر تجزیے میں کم از کم 1 بلین ڈالر کی مجموعی مالیت کے تمام افراد شامل ہیں. فوربس 2016 کی فہرست میں 1،810 ڈالر ارب پتی، جن میں سے 89 فی صد مرد ہیں، 5ء6ٹریلین ڈالر کے مالک ہیں 150 اتنی ہی دولت دنیا کے سب سے غریب 70 فی صدکے پاس ہے۔ کچھ ارب پتی یقینآ اپنی محنت اور ٹیلنٹ کے کی مرہون منت امیر ہوئے، لیکن آکسفیم کے اس گروپ پرتجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ ارب پتی دولت کا ایک تہائی، وراثت میں مال و دولت سے حاصل کیا جاتا ہے جبکہ 43 فیصد کرونی سرمایہ داری سے منسلک ہے۔ایک دفعہ دولت جمع یا حاصل ہو جائے تو اپنی رفتار سے بڑھتی رہتی ہے. انتہائی امیرطبقے کے پاس بہترین سرمایہ کاری کے مشورہ پر خرچ کرنے کے لئے دولت ہوتی ہے، اور 2009 کے بعد اس طبقے کی دولت میں ہر سال 11 فیصد کی اوسط سے اضافہ ہوا ہے.امیروں کی دولت جمع ہونے کی یہ رفتار عام عام لوگوں کے مقابلے میں کئی زیادہ ہے. چاہے وہ ہیج فنڈز ہوں یا فن پاروں اور پرانی گاڑیوں سے بھرے گودام، ویلتھ مینجمنٹ کی انتہائی خفیہ صنعت امیر ترین طبقے کی خوشحالی میں اضافہ کرنے میں انتہائی کامیاب رہی ہے. 2006 میں مائیکروسافٹ چھوڑنے کے بعد بھی بل گیٹس کی دولت میں 50 فی صڈ یا 25 بلین ڈالر کا اضافہ ہوا ہے باوجود اسکے کہ انھوں نے اس میں سے بیشتر حصہ فلاحی کاموں کے لئے وقف کر دیا تھا۔ اگر ارب پتی منافع کی واپسی کو اسی طرح یقینی بنایءں تو ہم آنے والے 25 سالوں میں دنیا کا پہلاٹرلینئر بھی دیکھ لیں گے۔ ایسے ماحول میں، اگر آپ پہلے سے ہی امیر ہیں تو آپ کو مزید امیر نہ ہونے کیلئے باقاعدہ کوشش کرنا پڑے گی۔دولت اور آمدنی کے سلسلے پر سب سے اوپر دکھنے والے دولت کے انبار عدم مساوات کے بحران کا واضح ثبوت اور انتہائی غربت کے خاتمے کے لیے جنگ میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں. لیکن انتہایء امیر طبقہ دولت کے ارتکاز کا صرف وصول کنندہ نہیں ہے، وہ اسے مسلسل پروان چڑھانے میں بہت فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ ایسا ہونے کا ایک ذریعہ ان کی سرمایہ کاری ہے۔ جیسا کہ سب سے بڑے حصص یافتگان (خاص طور پر نجی ایکوئٹی اور ہیج فنڈز میں)، معاشرے کیامیر ترین ارکان، کارپوریشنز کی حصص داروں کی پرستش کرنے کے رویے سے خوب فائدہ اٹھاتے ہیں۔

ٹیکسوں سے گریز، سیاست کی خریداری
ممکن حد تک کم ٹیکس ادا کرنا انتہائی امیر طبقے کی ایک اہم حکمت عملی ہے. ایسا کرنے کیلئے وہ ٹیکس کی پناہگاہوں کے خفیہ عالمی نیٹ ورک کا فعال استعمال کرتے ہیں جیسا کہ پانامہ کاغذات اور دیگر نے اجاگر کیا ہے. انتہائی امیر افراد کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے مقابلہ میں ممالک اپنی خودمختاری تک فروخت کر دیتے ہیں. ٹیکس کے پیسوں کو ملک سے باہر بھیجنے کیلئے دنیا بھر میں مقامات کا وسیع انتخاب موجود ہے. صرف 2 ملین پاؤنڈز کی سرمایہ کاری کر کے آپ برطانیہ میں رہائش، کام جائیداد خریدنے اور ?یکس چھوٹ سے فائدہ
حاصل کرنے کا حق بھی خرید سکتے ہیں. مالٹا میں، جو ٹیکس چوری کے پیسوں کی ایک بڑی پناہ گاہ ہے، آپ فقط 650،000 ڈالرز میں مکمل شہریت خرید سکتے ہیں۔ جبرائیل زوکمین کا اندازہ ہے کہ 7.6 ?ریلین کی دولت ٹیکس پناہگاہوں میں چھپائی گئی ہے۔ صرف افریقہ ٹیکس آمدنی کا 14 بلین ڈالر اسلئے کھو دیتا ہے کہ امیر افراد ٹیکس کی پناہگاہوں کا استعمال کرتے ہیں آکسفیم کے حساب سے یہ پیسہ صحت کی سہولیات پر خرچ کرکے 4 ملین بچوں کی زندگی بچائی جا سکتی تھی اور اتنے اساتذہ بھرتی کئے جا ستکے تھے کہ ہر افریقی بچہ اسکول جا سکے. دولت اور انتہائی زیادہ آمدنی پر ٹیکس کی شرح امیر ممللک میں گرتی جا رہی ہے. امریکہ میں 1980 تک انکم ٹیکس کی سب سے زیادہ شرح 70 فی صد تھی، جبکہ اب یہ40فی صد ہے. ترقی پذیر ممالک میں، امیر لوگوں پر ٹیکس کی شرح اب بھی کم ہے: آکسفیم کی تحقیق سے ظاہر ہے کہ سب سے زیادہ ٹیکس کی اوسط شرح آمدنی پر 30 فی صد ہے جسکی اکثریت جمع کی ہی نہیں جاتی۔امیرترین طبقے کے بہت سے لوگ اپنی طاقت، اثر و رسوخ اور ذرائع استعمال کرتے ہوئے سیاست پر قبضہ کر لیتے ہیں اور اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ قوانین ان کے لئے لکھے جائیں. برازیل میں ارب پتی ٹیکس کو کم کرنے کیلئے لابی کرتے ہیں، اور ساؤ پالو میں ٹریفک جام اور ٹوٹے بنیادی ڈھانچے کے اوپر ہیلی کاپٹروں میں پرواز کرتے ہوئے کام پر جانے کوترجیح دیتے ہیں. ان میں سے کچھ سیاسی نتائج خریدنے کیلئے اپنی دولت کا استعمال کرتے ہیں اور انتخابات اورعوامی پالیسی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ کوچ برادرز، دنیا کے امیر ترین
آدمیوں میں سے دوجن کا امریکہ میں قدامت پسند سیاست پر گہرا اثر و رسوخ تھانے بہت سے بااثر تھنک ٹینکس کی مدد کی اور ٹی پارٹی تحریک کی حمایت کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی تبدیلی پر کارروائی کے لئے کیس کو بدنام کرنے کے لئے بہت پیسہ خرچ کیا. انتہائی امیر اور ان کے نمائندوں کی طرف سے فعال سیاسی اثر اندازی اور”مضبوط آراء کے چکر” کی تعمیر کے ذریعے براہ راست عدم مساوات کو بڑھاتی ہیں جس میں کھیل کے فاتحین اگلی بار پہلے سے بڑی جیت کے لئے وسائل تک رسائی حاصل کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *