گوڑانو ڈیم کے خلاف مظاہرہ

گوڑانو ڈیم کے خلاف مظاہرہ

۲۰ جنوری بروز اتوار،۳ بجے کراچی پریس کلب پر تھر میں بننے والی گوڑانو ڈیم کے خلاف مظاہرہ ہوا جس میں بڑی تعداد میں نوجوان مظاہرین تھے جو کراچی میں ہی رہائش پذیر ہیں اور ان کا تعلق تھر سے ہی ہے. سندھی قوم پرست نعرے بھی نہ تھے، یہ نوجوان نچلی پروفیشنل پرت سے تعلق رکھتے تھے. ان کے ساتھ چند بزرگ بھی تھے.احتجاج میں انقلابی سوشلسٹ کے کامریڈ بھی شریک ہوئے.ان لوگوں کا مطالبہ تھا کہ تھر میں بننے والی ڈیم کا راستہ بدلا جائے تاکہ اس کے پانی کی زد میں آنے والی ۲۷۰۰ایکڑ زمین،۱لاکھ درخت،۱۲گاؤں اور۱۵ہزار آبادی کو بچایا جاسکے. ترقی کا وہ ماڈل جو ریاست پیش کرتی ہے یہ لوگ اس کی حقیقت کو بخوبی جانتے تھے کہ یہ تو ترقی کے نام پر بربادی ہے. ان کا گھر بار، زمینیں،کھیت وغیرہ سب اس ترقی کے نام پر تباہ کر دیئے جائیں گے. یہ لوگ اس مظہر سے بھی بخوبی واقف .تھے کہ اس ڈیم کے نام پر کاٹے جانے والے درخت اور تباہ کئے جانے والا نیچرل انوارئمنٹ کس ،قدر خطرناک ثابت ہوسکتا ہے.

ان لوگوں میں ایک منفرد بات یہ تھی کہ ان میں اندرونی اعتبار سے کوئی مذہبی یا ذات پات کی تقسیم نظر نہیں آرہی تھی. تمام لوگوں نے لگ بھگ ملتے جلتے لباس پہنتے تھے بناوٹ کے اعتبار سے بھی اور قیمت کے اعتبار سے بھی اور ان میں قوم پرستی کا کوئی پہلو بھی نہیں دیکھا جاسکتا تھا.
ہمیں ان مظاہرین سے مسلسل رابطے میں آنا چاہیئے اور ان کی اس جدوجہد میں ان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہوکر ان کا ساتھ دینا چاہیئے.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *