منٹو مرگیا تب اچھا ہوا

منٹو کے پسندیدہ افسانہ نگار گائے ڈی موپساں نے لکھا تھا

ماضی مجھے لبھاتا ہے، حال مجھے ڈراتا ہے کیونکہ مستقبل موت ہے

 

آج کے دن 18 جنوری 1954ء کو اردو کے شہرہ آفاق افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کی جسمانی موت واقع ہوگئی تھی۔اس کی جس دن موت واقع ہوئی اسی روز اردو ادب کو تاریخ ، معاشیات ، نفسیات ، فلسفہ ، عمرانیات اور یہاں تک کہ تھیالوجی کو بھی اپنے مطابق سچی اسلامی روح کی عکاس بنانے والے اسلام ازم، جہاد ازم، لا شرقیہ ولا غربیہ اسلامیہ ، اسلامیہ کے نعرے بلند کرنے والوں کو بہت خوشی ہوئی تھی۔منٹو ان کے نزدیک جہنمی تھا سو ان کے ہاں یہ خس کم جہاں پاک والا معاملہ تھا۔جبکہ ستم ظریفی یہ تھی کہ جن کا قبلہ ماسکو تھا جن کی ترقی پسند اور روشن خیالی کے جملہ تصورات پہ بلاشرکت ٹھیکے داری تھی وہ بھی سعادت حسن منٹو بہت پہلے رد کرچکے تھے۔ان کے ہاں بھی منٹو کا ادب پاکستان کے اندر اشتراکی انقلاب کی راہ میں روکاوٹ بن گیا تھا۔انھوں نے بھی خیال کیا کہ چلو قصّہ تمام ہوا۔یہ اور بات کہ بعد کے عشروں میں منٹو کے ادب پہ ملکیت جتانے کے دعوے دار ادب برائے ادب والے بھی ہوئے اور ادب برائے زندگی والے بھی ہوئے۔جبکہ اسی ادب برائے ادب کے اندر سے ہی ایک اور ادب کی شاخ نکلی جسے آج آپ اگر “ادب برائے جہاد ” اور ” ادب برائے تکفیر ” کہہ دیں تو کچھ مبالغہ نہ ہوگا۔اور آپ اگر ” ادب برائے جہاد ” اور “ادب برائے تکفیر ” تخلیق نہیں کرتے اور ” ادب برائے زندگی ” کو منٹو کی جیسی نظر سے دیکھتے ہیں تو آپ کو اس کے نتائج بھگتنے کے لئے تیار رہنے کی ضرورت ہے۔

ہندوستان کے ناول نگار رحمان عباس نے اپنی آنکھ کو منٹو کی طرح ایکسرے کی آنکھ بناکر ہندوستانی سماج کو دیکھنے کی کوشش کی اور اس نے ممبئی میں ہوئے سلسلہ وار بم دھماکوں کے بعد کی صورت حال پہ جب ایک ناول لکھا تو ایک مسلم نوجوان طالبہ نے ان پہ فحاشی کا الزام عائد کیا۔ آبسینٹی کے الزام میں رحمان عباس پہ ایک مقدمہ درج ہوا اور کئی سال یہ مقدمہ چلتا رہا۔انھوں نے اس حوالے سے ایک رات حوالات میں بھی گزاری اور اپنا تجربہ انھوں نے ایک مضمون ” منٹو کا احساس اذیت” میں شئیر کیا ہے۔ ان پہ فحاشی کا الزام لگا ، جبکہ اردو کے ایک اور مایہ ناز افسانہ نگار ، پتریکا کار (صحافی ) ساجد رشید پہ تو سیدھا سیدھا بلاسفیمی کا الزام لگا تھا۔اور ان پہ قاتلانہ حملہ بھی ہوا تھا لیکن ان کی قسمت اچھی تھی بچ گئے اور پھر اس کے بعد کئی سال زندہ رہے، بھرپور ادبی زندگی گزاری اور اپنی طبعی موت مرے۔ایف ایم حسین پہ بھی توہین مذہب کا الزام لگا مگر وہ بھی ایک بھرپور زندگی گزارنے کے بعد طبعی موت مرے۔عبدالماجد دریا آبادی برٹش سامراج کے دور میں اپنی نوجوانی میں ملحد ہوئے اور انھوں نے اس زمانہ الحاد میں مذہب بارے جن خیالات کا اظہار کیا ان پہ کفر کے فتوے تو لگے لیکن نہ تو وہ گھر سے بے گھر ہوئے اور نہ ہی کسی نے ان کو راہ چلتے میں قتل کیا لیکن جب خود مولوی ہوئے تو اپنی تحریروں سے کیا سیکولر ، کیا لبرل اور کیا کمیونسٹ سب کا ناطقہ بند کردیا اور جب انگارے چھپ کر آئی تو ان کی تحریریں بھی مذہبی انگاروں سے بھر گئیں اور انھوں نے کسی کو نہ بخشا۔سوچتا ہوں کہ آج اگر عبدالماجد دریا آبادی کہیں ملحد ہوئے ہوتے اور وہ سب کچھ لکھتے جو انھوں نے اس دوران الحادیت میں رقم کیا تھا تو کسی اقبال کو ، کسی اشرف علی تھانوی کو اتنی مہلت ملتی کہ وہ عبدالماجد دریا آبادی سے مکالمہ کرتا اور اپنی رہ پہ چلانے میں کامیاب ہوجاتا اور آج جو اپنے سے اختلاف کرنے والوں کو فوری گردن زدنی قرار دے ڈالتے ہیں اور ساتھ ہی عبدالماجد دریا آبادی کی آب بیتی پڑھنے کی نوجوانوں کو تلقین کرتے ہیں ان کے پاس ایسی کسی آب بیتی کا وجود ہوتا؟مرے ذہن میں پھر یہ بات بھی آتی ہے کہ ملحد قرار دیکر یا بلاسفیمر قرار دیکر لوگوں کے سر مانگنے کی آج جو ریت چل نکلی ہے اگر یہ ریت اس طرح سے اس زمانے میں ہوتی جب غزالی بقول ان کے “گمراہی ، کفر اور الحاد ” کے اندھیروں میں بھٹک رہے تھے تو کیا غزالی کو اس گمراہی کے اندھیرے سے باہر آنے کا موقعہ مل پاتا؟ اور کیا غزالی ” المنقذ من الضلال ” جیسی آپ بیتی لکھ پاتے؟

 

منٹو نے اگر آج ” ٹوبہ ٹیک سنگھ ” لکھا ہوتا تو کیا پاکستان میں ان پر غداری کا مقدمہ نہ چلایا جارہا ہوتا ؟ منٹو کی آنکھ جیسے چیزوں کو دیکھتی تھی اور انھوں نے خاکہ نگاری میں اپنا جو اسلوب قائم کیا تھا اس اسلوب کے تحت منٹو آج مولوی عبدالعزیز، لدھیانوی ، حافظ سعید ، اورنگ زیب فاروقی ، اسامہ بن لادن کے خاکے لکھتے تو کیا اس کے بعد ان کے زندہ رہنے کی ضمانت دی جاسکتی تھی۔اور اگر منٹو کا قلم راحیل شریف کا خاکہ ان کے حاضر سروس آرمی چیف ہونے کے دوران لکھ ڈالتا تو کیا منٹو ویسے نہ غائب ہوگیا ہوتا جیسے سندھی دانشور استاد محمد راحموں غائب ہوگئے یا واحد بلوچ غائب ہوئے تھے۔منٹو نے امریکی سامراجیت کے عروج پہ چچا سام کے نام خطوط لکھے تھے اور آج وہ زندہ ہوتے تو وہ اسی فنکاری اور طنز کے نشتر چلاتے ہوئے ” چچا ڈینگ یانگ پنگ ” کو خطوط لکھتے اور ان خطوط میں وہ سی پیک کے بارے میں وہ سارا سچ لکھ ڈالتے جسے لکھنے سے چین کے سرکاری دورے کرنے والے ادیبوں کے قلم قاصر ہیں تو کیا وہ ” مسٹر گمشدہ ” نہ ہوگئے ہوتے ؟ اور ان کی گمشدگی کے دورانیہ میں ان کے افسانوں، خاکوں، کالموں ، ڈراموں سے کفر ، الحاد ، بلاسفیمی ، گستاخی ڈھونڈی نہ جارہی ہوتیں اور پھر کوئی پاکستان سول سوسائٹی نامی تنظیم تھانہ مال روڈ پہ لکشمی مینشن کے رہائشی سعادت حسن منٹو کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 اے، بی اور سی کے تحت اندراج مقدمہ کی درخواست نہ دے چکی ہوتی ؟ اور پاکستان کے دینی مدارس کی ایک بہت بڑی تعداد کے مفتیان کرام کے دستخطوں کے ساتھ منٹو کی کتابوں کو جلانے اور اس کو پھانسی پہ چڑھائے جانے کا فتوی نہ سامنے آگیا ہوتا ؟ اور اس طرح سے ریاست اور حکمران طبقہ ایک طاقتور باغی آواز کو اس طرح سے دبا دینے کے قابل نہ ہوگیا ہوتا کہ اس کے دامن پہ کوئی چھینٹ نہ ہوتی اور خنجر بھی اس کا نہ کہا جاسکتا۔

 

میں نے جب پہلی بار منٹو کی موت کا قصّہ پڑھا تھا تو مجھے بہت ترس آیا اور بہت غصّہ بھی۔لیکن جب کوہسار مارکیٹ اسلام آباد میں ایک ریسٹورنٹ کے سامنے میں نے سلمان تاثیر کی لاش پڑے دیکھی اور اردن کی سپریم کورٹ کی سیڑھیوں کے سامنے ناھض حتر کے جسم کو گولیاں کھانے کے بعد تڑپتے دیکھا ، اور کراچی کی ایک سڑک پہ مین خرم زکی کا جسم تڑپتے دیکھا اور اس کے بعد قاتلوں کی شان میں بڑے بڑے قصیدے لکھے دیکھے تو مرے منہ سے بے اختیار نکل گیا کہ اچھا ہوا منٹو 1954ء میں خون تھوکتا ہوا مرگیا اور اس کے مرنے کے بعد آج تک اس کی موت کے مبینہ ذمہ داروں پہ لعنت کی جاتی ہے اگر منٹو آج مرا ہوتا تو اس کی موت پہ سوگ کا اظہار کرنے سے پہلے سو دف،ہ سوچنا پڑتا کہ اس صورت میں آپ بھی اسی انجام سے دوچار کئے جاسکتے ہیں۔

سبط حسن نے موسی سے مارکس تک، پاکستان میں تہذیب کا ارتقاء ، ماضی کے مزار ، انقلاب ایران  اور اس زمانے میں ہفت روزہ لیل و نہار ، پاکستان ٹائمز میں جو لکھ ڈالا تھا اگر آج لکھتے تو نجانے ان کا کیا حشر ہوا ہوتا ؟

سلمان حیدر نے تو اپنی نظموں میں کچھ بھی نہیں لکھا جو ان سے کسی سو سال پہلے عباسیوں کے زمانے میں عرب شاعر ابن راوندی لکھ گیا یا جو کچھ متنبی نے لکھا تھا اور سلمان حیدر نے اپنی نثری تحریروں میں وہ کچھ بھی نہیں لکھا جو نوآبادیاتی دور میں ہمارے ہاں بہت سے ترقی پسند اردو شاعر ،ادیب لکھ گئے۔اور جوش ملیح آبادی جیسا آدمی جس نے اپنے دھریہ ہونے کا اعلان بار بار کیا اور اس نے جو باتیں لکھیں آج اگر لکھتا تو اس کا نجانے کیا حشر ہوتا ؟

 

آپ دیوبند والوں کے پاس جائیں ، آپ اہل حدیث والوں کے پاس جائیں ، آپ شیعہ کے پاس جائیں اور ان سب کے پاس جائیں جن کے ہاں سے مار دو ، جلا ڈالو کی صدائیں بلند ہوتی ہیں اور ان سے پوچھیں کہ ابوالکلام آزاد کیسے آدمی تھے تو سب آپ کو کہیں گے کہ کیا شاندار آدمی تھا؟ امام الھند کا لقب ان کے منہ سے نکلے گا لیکن آپ ان سے کہہ کر دیکھیں کہ آج فلاں آدمی ہے جو وحدت ادیان کا قائل ہے تو یقین کریں وہ اس پہ فوری بلاسفیمی کا الزام لگاڈالیں گے اور اس کا سر مانگ لیں گے اور پھر آپ کہیں کہ یہ بات تو ابوالکلام آزاد نے کہی تھی پھر ان کی بولتی بند ہوتے دیکھئے گا۔آپ فصوص الحکم ، یا فتوحات مکیۃ کی عبارتوں کا آزاد ترجمہ کریں اور اسے کسی دار الافتاء مين بھیج دیں تو آپ کو کفر کے فتوے فوری مل جائیں گے اور جب آپ نے شیخ ابن عربی کا نام لیا یا آپ نے مثنوی کی کسی رباعی کا  نثری ترجمہ کرکے فتوی مانگا تو آپ کو فوری کفر کا فتوی مل جائے گا اور اس فتوے کو لیکر آپ کسی تھانے چلے گئے تو تھوڑی سی دیر بعد 295 اے/بی /سی کے تحت ایف آئی آر بھی مل جائے گی لیکن آپ نے کتاب اور صاحب کتاب کا نام بتایا تو کبھی جواب نہیں ملے گا ۔حیدر جاوید سید کہتے ہیں کہ 20 کروڑ کی آبادی میں آپ کو 10 کروڑ مفتی ، جج اور جلاد ہر وقت مل سکتے ہیں۔مجھے اسی لئے موپساں کا قول بہت بھایا تھا کہ ماضی اچھا لگتا ہے، حال ڈراتا ہے اور مستقبل موت نظر آتا ہے۔منٹو مرگیا تھا 54ء میں بہت اچھتھاا ہوا ۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *