جبری گمشدگیاں نامنظور

جبری گمشدگیاں نامنظور ۔ اب اور نہ سہہ پائیں گے

منزلوں کو راستوں سے جوڑنا ہوگا

راستے جو بھٹکے سارے ہیں

اب تو طوفان کو پلٹ کر دیکھنا ہوگا

کتنے گھر اس نے اجاڑے ہیں

اور نہ سہہ پائیں گے

ایسے نہ رہ  پائیں گے

ڈوبیں گے یا پار جائیں گے

تجھے الزام نہ دیں گے

تھجے الزام نہ دیں گے

اے خدا

کیسی لاچاری رے ،آج ہماری رے

لٹ گئی آنکھوں کے آگے دنیا ہماری

کیسے جی پائیں گے، کیسے خود کو سمجھائیں گے

آگ لگی ہے من ہے کیسے بجھائیں گے

بے بسی کی بھیڑ سے نکلنے کے راستے خود بنائیں گے

تجھے الزام نہ دیں گے اے خدا

آگئے ہیں ہم کہاں

یہ زميں،یہ آسماں

سب ہمیں آنکھیں دکھادیتے ہیں

ویری ہے سارے جہاں ، جائیں تو جائیں کہاں

سوچ کے ہم سہم جاتے ہیں

پھر امیدوں کا تھامیں ہاتھ اپنی

سوئی قسمت کو جگائیں گے

اور نہ سہہ پائیں گے

ملک بھر میں جبری گمشدگیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے۔ہیومن رائٹس گروپ کہتے ہیں کہ جبری گمشدگیوں کی تعداد 16 ہزار سے زیادہ ہوچکی ہے۔جبری گمشدگیوں میں سیاسی کارکن،شاعر ، ادیب ، طالب علم ، سوشل میڈیا ایکٹوسٹ،اقلیتوں کے حقوق پہ کام کرنے والے سبھی شامل ہیں۔جبری طور پہ لوگ نہ صرف گمشدہ کئے جارہے ہیں بلکہ جبری طور پہ گمشدگان کی مسخ شدہ لاشوں کے ملنے کا سلسلہ بھی جاری و ساری ہے۔حکومت پاکستان نے خود تسلیم کیا ہے کہ بلوچستان سے ابتک ایک ہزار مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں۔

حال ہی میں کراچی سے دو اساتذہ ، جب کہ اسلام آباد، لاہور، ننکانہ شیخوپورہ سے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ اٹھائے گئے ہیں جن میں سلمان حیدر جیسا شاعر، ادیب ، دانشور ، فنکار بھی شامل ہے۔

حالات کی سنگینی صرف یہ ہی نہیں ہے کہ پاکستان میں سیاسی کارکنوں،دانشوروں ، ادیبوں اور سماجی دانش کے حامل لوگوں کو جبری گمشدہ بنایا جارہا ہے بلکہ اس سے بڑی سنگینی یہ ہے کہ غائب ہونے والے روشن دماغوں کے خلاف ایک منظم مہم چلاکر ان کو مذہب دشمن ، توہین رسالت و اسلام کے مرتکب بھی قرار دیا جارہا ہے۔

ہم دیکھ رہے ہیں کہ یہ مہم کئی طرح کے انسٹی ٹیوشنل ، فزیکل ایڈمنسٹریشن  اور علم کے پاور سٹرکچر پہ مبنی ڈھانچے کے ساتھ چلائی جارہی ہے اور فوکو نے اسے کنٹرول کرنے اور لوگوں کو روک کر رکھنے اور اپنے مطابق ڈھالنے والے آپریٹس کا نام دیا تھا۔معروف سماج واد دانشور انتینو گرامچی اسے ریاست کو کنٹرول کرنے والے حکمران طبقے کی ثقافتی یلغار پہ مبنی ایک ثقافتی تسلط کا نام دیتا ہے جس کا مقصد لوگوں کو بس اپنے ہی مطابق سوچنے ، سمجھنے  اور یہاں تک کہ بات کرنے پہ مجبور کرنا ہوتا ہے۔پاکستان کے اندر اس آپریٹس کا ایک اہم ترین اور اب بہت طاقتور آپریٹس ، اوزار یا آلہ توہین مذہب کا الزام بن گیا ہے۔اگرچہ اس کے ساتھ دیگر کئی اور الزامات کو بھی نتھی کردیا جاتا ہے۔جیسے اگر آپ سعودی فنڈڈ انتہا پسندی کی جانب توجہ دلائیں تو فوری طور پہ آپ کو ایرانی ایجنٹ کہہ دیا جاتا ہے یا آپ شیعہ نسل کشی پہ بولیں تو آپ کو شیعہ کہہ کر رد کردیا جاتا ہے اور اگر آپ بلوچ کے حقوق کی بات کریں تو اپ ہندوستانی ایجنٹ قرار پاجاتے ہیں۔اور سوشل میڈیا، پاکستان کا الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا میں ایک بڑا اردو سیکشن اس مہم کو بڑے منظم انداز میں چلارہا ہے

یہ ویسے کوئی پہلی بار نہیں ہورہا۔

دارا شکوہ کو گرفتار کروانے والا آدمی وہ تھا جسے کبھی بادشاہ وقت سے دارشکوہ نے چھڑوایا تھا۔دارشکوہ کا زندہ رہنا اورنگ زیب

کے مفاد میں نہ تھا اور دارا شکوہ کا زندہ رہنا اورنگ زیب کے اردگرد جمع کٹھ ملائیت اور طاقت کے نشے میں چور اور مذہبی بلعم باعوروں کے لئے بھی بہت ہی خطرناک تھا۔دارشکوہ جس نے ہندوستان کی شناخت کی کثرت اور یہاں رہنے والوں کے درمیان افکار کی رنگا رنگی کو حسن تہذیب قرار دیا تھا تقسیم کرنے والوں کے لئے خطرے کا نشان تھا۔تو اس مقصد کے لئے دارشکوہ کو اسلام سے باغی بلکہ سرے سے کسی بھی مابعدالطبعیات کو ماننے سے انکاری بتلادیا گیا اور اس کے ملحد ہونے کا اسقدر زیادہ پروپیگںڈا ہوا کہ دہلی کے رہنے والے بھی یہ یقین کرنے لگے کہ دارشکوہ ایسا ہی ہوگا جیسے صاحبان جبہ و دستار بتارہے ہیں۔

میں ایک جگہ پڑھ رہا تھا کہ حجاج بن یوسف ثقفی کو پتا چلا کہ ان کے مخالف سیاسی کیمپ یعنی علوی کیمپ کا ایک انتہائی اہم آدمی عطیہ عوفی /کوفی خراسان چلا آیا ہے جہاں اس کا بھتیجا محمد بن قاسم ثقفی گورنر لگا ہوا تھا۔حجاج بن یوسف نے محمد بن قاسم سے کہا کہ اگر عطیہ عوفی گرفتار ہوجائے تو اس کے سامنے دو آپشن رکھنا،ایک آپشن یہ کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو برا بھلا کہے اور نہ کہے تو دوسرا آپشن کوڑے کا ہے۔عطیہ عوفی نے کوڑے کا آپشن چن لیا اور سچائی سے روگردانی نہیں کی

آپ حجاج بن یوسف کے زمانے میں ہوتے تو حجاج بن یوسف اپنے ظالمانہ اقدامات کے بارے میں آپ کو قرآن و سنت سے دلائل پیش کرتا نظر آجاتا۔وہ اس زمانے میں جو حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے محبت کرتا اور آپ کے خاندان سے عقیدت کا اظہار کرتا تو اسے کوڑے لگواتا، قید ميں ڈالتا اور دوسری جانب وہ تہجد گزار تھا۔نماز پنجگانہ کی امامت کرتا، قرآن پاک کے اعراب اس نے لگوائے۔گویا اس کی مذہبیت پورے عروج پہ تھی اور وہ عبادات کے معاملے میں بہت پنکچوئل تھا۔بلکہ اس کے زہدو تقوی بارے روایات کا نہ ختم ہونے والا انبار ملے گا۔

ہٹلر کہا کرتا تھا کہ وہ خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے جرمنی سمیت پوری دنیا سے یہودیوں کا خاتمہ کررہا ہے۔اور اس زمانے میں جرمنی کے اندر قومی سرمایہ داروں اور درمیانے طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی اکثریت کو ہٹلر کی اس بات کا پورا یقین تھا۔اور پروپیگنڈا اسقدر زیادہ تھا کہ یہودی جیسے کہ وہ تھے اس کو ماننے کی بجائے نازی یہودیوں کے بارے میں جو کہتے تھے یہودیوں کو ویسا ہی خیال کرتے تھے۔مجھے یہاں پہ مائیکل فوکو یاد آیا جو اس طرح کی سوچ کو سٹریٹجک وردودھ یعنی تزویراتی دشمنی کہتا ہے اور وہ لکھتا ہے

سٹریٹجک ورودھ یا دشمنی کرنا فاشزم ہے۔۔۔۔۔۔ فاشزم ہم سب کے اندر ، سب کے دماغوں میں اور ہمارے روزمرہ کے رویوں میں پوشیدہ ہوتا ہے،فاشزم ہمیں طاقت کا پجاری بناتا ہے اور اور ہر اس شئے کا خواہش مند ہوتا ہے جو غالب آجاتی ہو ہم پہ یا ہمارا استحصال کرتی ہو۔

مجھے یاد نہیں پڑتا کہ کس نے یہ کہا تھا کہ انتہا پسندی کو معقول دماغ اس لئے پسند نہیں ہیں کہ ان کی بصیرت ایک فلٹر کی طرح ہوتی ہے جو انتہا پسندی کے مضحکہ خیز اور ردی ہونے کو سامنے لے آتی ہے اور اسی سے انتہا پسندی کو بڑا خوف آتا ہے۔لیکن اندر کے اس خوف کو انتہا پسندی لوگوں کو ڈرانے ، دھمکانے اور ان میں عدم تحفظ پیدا کرنے کے لئے استعمال کرتی ہے اور اس کا فائدہ انتہا پسندی کو یہ ہوتا ہے کہ کئی ایک معقول ذہنوں کی معقولیت اس ڈر ،خوف اور عدم تحفظ کے ماحول میں گم ہوجاتی ہے۔

کیا ایسا نہیں ہورہا کہ ہمارے ہاں ایک اسٹراٹیجک دشمنی ہورہی ہے روشن دماغوں کے خلاف اور ایسی خوف اور عدم تحفظ کا خوف پیدا کیا جارہا ہے کہ لوگ اپنی مرضی اور خواہش سے بولنے کی بجائے انتہا پسندی کے قائم کئے جانے والے ضابطوں کے تحت بات کریں۔اور ایسی اسٹراٹیجک دشمنی کا روپ ہے توہین مذہب کا الزام عائد کیا جانا۔آپ کو ایسا شخص بناکر پیش کرنا کہ جسے دوسروں کے عقائد ، مذہبی خیالات اور دوسروں کی قابل احترام ہستیوں کا زرا بھر بھی لحاظ یا احترام نہیں ہے اور اس کا زندہ رہنا یا اپنے علم کی روشنی کے ساتھ زندہ رہنا ناقابل برداشت ہوگیا ہو۔سٹرٹیجک دشمنی بصیرتوں کو سلب ہی کرتی ہے۔اس لئے کسی انسان کے جینے حق کو چھین کر جب اسے غائب یا قتل کردیا جاتا ہے تو ایک بہت بڑا حلقہ اس غائب کئے جانے یا قتل ہوجانے کو ٹھیک ہی خیال کرنے لگتا ہے۔

میں جب بلوچ اور سندھیوں کی مسخ شدہ لاشیں ملنے یا ان کے اچانک غائب کردئے جانے کا ذکر کرتا ہوں تو مجھے اکثر یہ جملے سننے کو ملتے ہیں کہ انھوں نے کچھ کیا ہی ہوگا ، ایسے تو کوئی نہیں مارتا۔میں لوگوں کو کہتا ہوں کہ آپ نے بالکل درست کہا کہ یہ ایسے ہی بنا کسی وجہ کے نہیں مارے گئے بلکہ وجہ ان لوگوں کی سیاسی رائے ہے جس کا احترام سرمایہ کی لوٹ مار کے سامنے قربان کردیا گیا ہے۔اب سیاسی رائے اور اختلاف کرنا جرم ہے اور ایسا جرم کہ آپ یا تو جبری گمشدہ ہوں یا آپ سانس لینے کے حق سے بھی محروم کردئے جائیں؟ اس کا فیصلہ لوگوں کو خود کرنا ہے۔

اردن کے ناھض حتر یاد ہیں آپ کو ؟ اردن کا یہ عیسائی نژاد عرب صحافی عدالت کے سامنے توہین مذہب کے کیس کا سامنا کررہا تھا کہ ایک دن عدالت کے احاطے ہی میں اسے گولیاں مار کر ہلاک کردیا گیا۔اسے جان سے ماردینے میں الجزیرہ جیسے ٹی وی چینلوں کا ہاتھ تھا جنھوں نے اس کے خلاف اسقدر پروپیگنڈا کیا ، سٹرٹیجک دشمنی کی کہ ایک آدمی نے ناھض حتر کو جان سے ماردینے میں ہی اپنے مذہب کی بقا سمجھ لی۔

پروفیسر سلمان حیدر ہوں یا ڈاکٹر ظفر حسن عارف ہوں ان کا قصور کیا ہے؟ یہ سٹریٹجک دشمنی کا شکار ہوئے ہیں۔آپ ان کے شبدوں کا مقابلہ تو کر نہیں سکتے،یہ جو کہہ رہیں اس پہ تو استدلال کے ساتھ بات کرنے کو آپ کے پاس ہے کچھ نہیں تو آپ کرتے کیا ہیں کہ ان کے ماتھے پہ وہ پرچیاں چسپاں کرتے ہیں جو آپ کی اپنی لکھی ہوئی ہیں اور یہ پرچیاں اتنی زیادہ ہے ان کے اصل چہرے چھپ گئے ہیں اور اسقدر کالک ان کے چہروں پہ ملی جارہی ہے کہ لوگ اس کالک کو مٹانے کے نام پہ ان کی جانوں کے درپے ہونے لگے ہيں۔

یعنی آپ یہ چاہتے ہیں کہ لوگ سلمان حیدر کو ویسا سمجھ لیں جیسا کہ اوریا جان مقبول اور ان کے مقتدی چاہتے ہیں۔لوگ شیعہ کو ویسا خیال کرلیں جیسا کہ فرقہ پرست مولوی چاہتے ہیں؟ سنّی کی وہ تصویر بنالیں جیسی القاعدہ، داعش، لشکر جھنگوی ، جیش و احرار و سپاہ چاہتے ہیں؟یہی وہ سٹرٹیجک دشمنی ہے جو فاشزم کی جڑ ہے اور اسے پوری قوت کے ساتھ پھیلایا جارہا ہے۔پاکستان ميں اس سٹرٹیجک دشمنی کا مقصد ہر ایک اختلافی آواز کو فنا کردینا ہے۔اور اتنا ڈر و خوف پیدا کرنا ہے کہ کہیں سے کوئی آواز نہ اٹھے

گلیاں ہوجاون سنجیاں

وچ کلا جابر سلطان پھرے

ہٹلر نے کیا کیا تھا کہ اس نے آئن سٹائن ، سگمنڈ فرائیڈ جیسوں کو ختم کرنے کی کوشش کی کیونکہ ان جیسے روشن دماغ اسے اپنے نازی ازم کے خلاف سب سے بڑی روکاوٹ لگتے تھے۔پاکستانی سماج میں بھی روشن دماغوں کے خلاف تاریکی کی قوتوں نے تزویراتی دشمنی کا ہتھیار استعمال کیا ہے اور اس سے خوف، عدم تحفظ پھیل رہا ہے۔ہمارا فرض بنتا  ہے کہ اس خوف اور عدم تحفظ کی فضاء کو ختم کرنے کی کوشش کریں اور سٹرٹیجک دشمنی کو ناکام بناڈالیں

انقلابی سوشلسٹ آرگنائزیشن

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *