ایک ارب میں ایک

ایک ارب میں ایک

تحریر:ریاض احمد


انڈیپنڈٹ اسپورٹس اینڈ انٹرٹیمنٹ کی یہ ڈاکومنٹری فلم ہے ’ون ان اے بلین‘ یعنی ایک ارب میں ایک ہے۔نام سے ہی ظاہر ہے کہ یہ ایک ارب انسانوں میں سے ایک کی کہانی ہے۔یہ انسان سرمایہ داری کی ضرورت تھا۔ امریکہ کی نیشنل باسکٹ بال ایسوسی ایشن اب ایک عالمی ادارہ ہے۔ امریکی کھیل اب امریکی نہیں رہے، یہ عالمگیر کھیل ہی نہیں بلکہ عالمی صنعت کا حصہ بن چکے ہیں۔ پاکستان میں زیادہ تر لوگ فٹبال ورلڈ کپ، کرکٹ ورلڈ کپ کو جانتے اور دیکھتے ہیں۔ کافی لوگ انگلینڈ میں فٹبال لیگ کو بھی فالو کرتے ہیں، یہ زیادہ تر برگر کلاس کے ہی ہوتے ہیں۔ عالمی سرمایہ داری کے لیے یہ لوگ مارکیٹ نہیں۔ کھیل اب ویسے ہی ہیں جیسے نائکی ، اڈیڈاس کے سپورٹس برانڈز۔ جیسے آپ نائکی کا اشتہار دنیا میں کہیں بھی دیکھیں اس کا مقصد آپ کو دنیا میں کہیں بھی نائکی کے جوتے اور کپڑے خریدوانا ہوتا ہے۔ سب نائکی کو جانتے ہیں۔ اسی طرح اب نیشنل باسکٹ بال ایسوسی امریکہ بھی ہے۔ یہ چاہتے ہیں کہ این بی اے کو بھی عالمی سطح پر لوگ جانیں۔ اس کے لیے این بی اے اب دنیا کے زیادہ آبادی والے ملکوں کا رخ کر رہی ہے۔ جتنی آبادی اتنا چانس کے لوگ ٹی وی دیکھتے ہیں۔ جتنا یہ ٹی وی دیکھتے ہیں اتنا یہ اشتہار دیکھتے ہیں۔ جتنا یہ اشتہار دیکھتے ہیں تو اتنا اشتہار دینے والی کمپنی ٹی وی چینلوں اور ان کے زریعے اسپورٹس کے میچ کرانے والوں کو رقم دیتی ہے۔ جیسے پاکستان میں پاکستان کرکٹ بورڈ کی سب میں زیادہ آمدنی پاکستانی کرکٹ ٹیم کے میچوں کی کسی سیریز کے ٹی وی رائٹس بیچنے سے ہوتی ہے۔ کبھی یہ رائٹس ای ایس پی این، کبھی جیو، کبھی پی ٹی وی کو بیچ دیئے جاتے ہیں۔ اسی طرح باسکٹ بال کا میچ اگر زیادہ لوگ دیکھیں گے تو اس پر اشتہار زیادہ آئیں گے اور یوں این بی اے امریکہ کی آمدنی بڑھے گی۔ لیکن انڈیا میں تو لوگ باسکٹ بال بہت ہی کم دیکھتے ہیں، بلکہ دیکھا جائے تو ان کی بڑی تعداد تو کرکٹ دیکھتی اور کھیلتی ہے۔ پھر باسکٹ بال پر انڈیا میں اشتہار کیسے ملیں گے؟ وہ بھی باسکٹ بال جو این بی اے کے تحت امریکہ میں ہو رہی ہو اس پر انڈیا میں دیکھنے والے کہاں سے ملیں گے؟
یہ بڑا مشکل سوال ہے۔ ایک کھیل یعنی باسکٹ بال انڈیا میں کھیلا نہیں جاتا۔ یہ کھیل امریکہ میں این بی اے کے تحت ہوتا ہے۔ پھر انڈیا میں لوگ اسے کس طرح دیکھیں گے؟ اس کا حل بہت آسان ہے۔ یہ تجربہ چین میں ہو چکا ہے۔ چین میں تو کچھ باسکٹ بال کھیلی بھی جاتی ہے۔ لیکن چینی امریکی این بی اے نہیں دیکھتے تھے۔ اس کا حل یہ نکالا گیا کہ چین کے ایک کھلاڑی یاﺅ منگ کو کسی طرح این بی اے کی ایک ٹیم نے اپنے ہاں شامل کر لیا۔ پھر کیا تھا، چینیوں کی بہت بڑی تعداد نے چین میں بیٹھ کر ٹی وی پر این بی اے کے میچز دیکھنا شروع کر دئیے۔ یوں جس میچ میں یاﺅ منگ نہ بھی ہوتا اسے بھی چین میں دیکھا جانے لگا۔ اس طرح باسکٹ بال نہیں بلکہ امریکی اسپورٹس کا کلچر چین آیا اور یوں امریکی سرمایہ کاروں کو چین میں اشتہارات بیچ کر اربوں ڈالر کمانے کا موقع ملا۔ یہ سلسلہ جاری ہے۔ یہی کچھ اب انڈیا میں ہونے جا رہا ہے ۔ اور یونہی حادثاتی طور پر نہیں، بہت بڑے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت۔
آپ ون ان اے بلین دیکھیں گے تو یہی لگے گا کہ جیسے ڈریم کم ٹرو (خواب سچ ہوا) قسم کی فلم ہے۔ ایک۴۱ سالہ انڈین پنجاب کاس سکھ نوجوان ستنم صرف قد میں لمبا ہے، ۰۱۰۲ءمیں ۶ فٹ ۶ انچ۔اس کے با پ کو کسی نے مشورہ دیا کہ اس سے باسکٹ بال کھلواﺅ۔ یہ اسے لدھیانہ باسکٹ بال ایسوسی ایشن لے گئے۔ وہاں قد کی بنیاد پر اسے رکھ لیا گیا۔ وہیں امریکی این بی اے کا ایک
ایڈم سلور، این بی اے کا کمشنر ہے۔ کھیل ایک صنعت ہے اور کھلاڑی اشتہار لانے کا زریعہ۔ یہ سمجھنے کے لیے اس فلم میں ایڈم کو سننا بہت ضروری ہے۔ یہ کہتا ہے کہ انڈیا کی مارکیٹ جلدچین کو کراس کر جائے گی کیونکہ انڈیا کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ انڈیا میں اچھی خاصی مڈل کلاس ہے۔ اسے انٹرٹینمنٹ میں دلچسپی ہے۔ اس مارکیٹ کا عالمی مارکیٹ پر کتنا اثر ہو گا یہ تو بیان سے باہر ہے۔ یہیں تو کاروبار ہوگا۔ اور این بی اے کے میچز کو دیکھنے والوںکی تعداد اگر انڈیا میں بڑھ گئی تو سوچیں ہمیں اس سے اشتہارات کی مد میں کتنا ملے گا۔ اور بہت کچھ کرنا بھی نہیں، بس اپنا رستہ بنانا ہے کہ کسی طرح انڈین عوام این بی اے ٹی وی پر دیکھنے لگے۔ اور اس کے لیے اگر صرف ایک ملک سے ایک ہی کھلاڑی تو ہوتا ہے کہ جو اس سوئچ کو کھول دے۔ یاﺅمنگ نے چین میں ہماری مارکیٹ بنانے کے لیے یہی کیا۔مارک کیوبن کہتا ہے کہ اسی طرح اس سے پہلے ۸۹۹۱ئجرمنی کا ڈرک تھا کہ اُس نے جب این بی اے جوائن کیا تو جرمنی میں این بی اے کے شائقین کی تعداد بڑھ گئی۔ ایک بار کسی ملک کا کھلاڑی این بی اے کی کسی ٹیم میں منتخب ہو جائے تو وہ قوم تو پاگل ہو جاتی ہے۔
این بی اے کے ایک کوچ جو باظابط طو رپر امریکہ سے انڈیا بھیجے گئے تا کہ یہاں سے وہ کھلاڑی چن کر امریکہ بھیجیں اور اس کی ٹریننگ کروائی جائے اور اسے این بی اے کا حصہ بنایا جائے۔ یہ کہتے ہیں کہ انڈین عوام کو امریکی کلچر میں دلچسپی ہے۔یہ ایکشن پسند کرتے ہیں، ہیروز کو چاہتے ہیں، گانا سنتے ہیںتو یہی تو وہ تمام باتیں ہیں جو این بی اے کے لیے انڈیا کو پرفیکٹ مارکیٹ بنادیتی ہیں۔
مارک کیوبن جواین بی اے کی ایک ٹیم ڈیلاس میورکس کے مالک ہیں اور انہوں نے ہی ۵۱۰۲ءمیں اپنی ٹیم کے لیے ستنم کو چنا تھا۔ یہ کہتے ہیں کہ آپ ایک ارب لوگوں تک تو نہیں پہنچ سکتے کیونکہ یہ ایک ترقی پزیر ملک ہے ، ابھی تو یہ مالیاتی طور پر اپنے پیروں پر کھڑا ہوا ہے، اسی لیے انڈیا ہمارے لیے ایک بہت بڑی مارکیٹ ہے۔
ویوک راعنادیو، انڈیا میں پیدا ہوئے اور این بی اے کی ایک ٹیم سیکرومانٹو کنگز کا مالک ہے۔ اس کی زبانی سنیں تو آپ کو سمجھ آئے گا کہ انڈیا میں زمین مہنگی ہو رہی ہے تو فٹبال، کرکٹ، ہاکی جیسے کھیلوں کے لیے شہروں میں جگہ ہونا مشکل ہوتا جارہا ہے، سرکاریں پبلک پارکس اور گرائنڈ کو چائنا کٹنگ اور بہانے بہانے ہڑپ کر رہی ہیں کیونکہ سرکار چلانے والے سرمایہ داروں سے اب کھلی جگہ دیکھ کر ہاتھ رکتا نہیں۔ یوں اگر بڑی جگہ مہنگی ہے تو پھر کھیل کھیلنے اور دیکھنے کےلے جگہ کم ہی ملے گی۔ اس طرح باسکٹ بال وہ کھیل ہے جس کے لیے زیادہ جگہ بھی نہیں چاہیے اور بہت زیادہ براہِ راست دیکھنے والے بھی نہیں چاہیئیں کیونکہ براہِ راست تو ٹی وی پر دکھایا جانا ہے نہ ۔ انڈیا میں کرکٹ اس وقت سب میں مقبول کھیل ہے۔ کھیلتے شاید چھ لاکھ بھی نہیں لیکن ورلڈ کپ ۵۱۰۲ءکو ۳۶ کروڑ افراد نے دیکھا تھا۔ یہی ٹی وی پر کرکٹ دیکھنے والے امریکی این بی اے دیکھنے لگیں تو بھلا بتائیے انڈیا میں ہی اشتہار کی کتنی بڑی مارکیٹ امریکی کمپنیوں کو اشتہار کی رقم دے رہی ہو گی؟
جے پال سنگھ جو لدھیانہ باسکٹ بال اکیڈمی میں اسسٹنٹ کوچ ہیں یہ کہتے ہےں کہ انڈیا میں کرکٹ اسلیے مقبول ہے کیونکہ کرکٹ کے دیوتا انڈیا میں ہیں، باسکٹ بال انڈیا میں کھیلا جاتا ہے لیکن اس کے کھلاڑیوں کو صرف باسکٹ بال کھیلنے والے ہیں جانتے ہیں، پورا انڈیا نہیں۔ ہمارے سب میں اچھے باسکٹ بال کھلاڑی آدھے وقت جاب کرتے ہیں اور آدھے وقت کھیلتے ہیں۔ باکسٹ بال اس طرح انڈیا میں کامیاب نہیں ہوا۔ انڈیا میں والدین کے لیے بچوں کی تعلیم اولیت رکھتی ہے۔ اسکول کے بعد ٹیوشن پر بچے چلے جاتے ہیں، اس لیے کھیل کا ٹائم نہیں۔ والدین بچوں کو کھیل پر نہیں جانے دیتے۔ اب کچھ بچے ہیں جن کےلیے اچھی تعلیم کی فیس دینا ممکن نہیں، ان کے لیے باسکٹ بال ایک رستہ ہو سکتا ہے۔ ستنم سنگھ بھامرا ایساہی ایک نوجوان ہے۔ یہ کہتا ہے کہ میری ساری زندگی سارا کیریر کھیت پر کام تھا۔ یہ پنجاب کے ایک گاﺅں بالو کی کا رہنے والا ہے، بالوکی کی آبادی صرف آٹھ سو افراد پر مشتمل ہے۔ یہی تووہ غریب گھر ہے جس میں چھ فٹ لمبا لڑکا اگر مہنگی تعلیم نہیں لے سکتا تو شاید باسکٹ بال کا پلئیر بن سکتا ہے۔ سرمایہ داری نے تعلیم مستقبل بنا دیا۔ کھیل کو کاروبار بنا دیا۔ اشتہار کو آمدنی بنا دیا۔ کھلاڑی کو اس گھناﺅنے سسٹم کا کل پرزہ بنا دیا۔ اب کھیل کھیل نہیں، کھلاڑی کھلاڑی نہیں اور شائقین شائقین نہیں۔ سب اس نظام کا کل پرزہ بنا دئیے گئے ہیں۔ یہی ون ان اے بلین کا پیغام ہے۔ ایک بلین کل پرزے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *