طبقاتی جدوجہد،این جی اوزاورعوامی تحریکیں

طبقاتی جدوجہد،این جی اوزاورعوامی تحریکیں

تحریر: ہمسفرخان


اگرچہ این جی اوز، تحقیقاتی ادارے، اورانسانی بنیادوں پرکام کرنےوالے خیراتی ادارے ریاستوں اورعالمی مالیاتی اداروں جیسے عالمی بنک کے اعداد وشماراورانہی کے تحقیقات کوان کے خلاف دعووں کے طورپراستعمال کرکے ان کوجوابدہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں . یہ ان اداروں کے خلاف جدوجہد میں بھرپورحصہ ڈالتے ہیں اوران کی کوشش ہوتی ہے کہ اس سے عوامی بہتری کی راہیں نکالی جائیں۔ مگران کے ساتھ خود کئی ایک مسائل وابستہ ہیں۔
عالمی ادارے،لیبر،کسانوں اوریہاں تک کہ انسانی بہبود کے لئے سرگرم تنظمیں اوراین جی اوز کے پاس اگرغربت میں کمی، کسانوں، دیہی غریب اورکچی آبادیوں سے لے کرفوڈ سیکورٹی اورماحولیاتی بربادی کی حالت بہتربنانے کا کوئی حل ہے بھی تووہ سرمایہ دارانہ مارکیٹ کے چلن سے ہم آہنگ ہے۔ انسانی بنیادوں پرکام کرنےوالے فلاحی ادارے اوراین جی اوزکے بہتری کے یہ منصوباتی حل سرمایہ داری کے مین اسٹریم ڈیزائن اورکمرشل ازم سے خودکوہم آہنگ کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ مارکیٹ کی ضرورت ان کی تہہ میں چھپی ہوئی ہوتی ہے۔ یوں انسانی بنیادوں پر ڈیزائن کردہ سوشل بزنس اورسماجی بہبود’90فی صد’ ضرورت مندوں کے لئے بہتری کے منصوبے سرمایہ دارانہ ڈیزین کے اندرتخلیق کئے جاتے ہیں۔
دوسری طرف لٹ بند کمیونسٹ ہیں۔ ان میں کمیونسٹوں،ترقی پسندوں اورقوم پرست قوتوں کے ساتھ اتحادپرزورہے۔ اس کی وجہ مزدورطبقہ اورعوامی تحریکوں سے دوری ہے۔ یوں یہ پارٹیاں سکڑ گئیں ہیں اوران کاحل ان کے پاس یہ ہے کہ ناقدین کے طنزنمامعترضات کایہی جواب دیاجائے۔ اس کوٹراٹسکی نے یوں بیان کیاہے کہ ہرایک پارٹی کی ضرورت پرزوردیتاہے۔ مگرجواس قسم کے اتحادات پرزوردیتے ہیں وہ بہت بڑے ایشوز جیسے سرمایہ دارانہ ترقی، سامراجی جنگیں، ریاستی فوجی آپریشنوں، بڑی تعدادمیں علاقوں سے زبردستی کی بدخلیاں، ماورائے عدالت قتل، اغوائ ،فوجی عدالتیں، جعلی انکاونٹرزکے خلاف مزاحمت کے سوال کونظراندازکرتے ہیں۔ آئین میں اٹھاوریں ترمیم کے بعد بھی صوبائی معاملات میں اپیکس کمیٹیوں کے نام پرمداخلتیں جاری ہیں۔ جمہوری حکومتوں کے ہوتے ہوئے بھی سخت گیرقوانین کانفاذ جمہوریت،انسانی حقوق اوردہشت کے خلاف جنگ کے نام کئے جارہے ہیں، ان کی نوعیت کونظراندازکیسے کیاجاسکتاہے۔
طبقاتی جدوجہد ہرطبقاتی سماج، خاص کرسرمایہ دارانہ سماج کا سب سے بنیادی عمل ہے۔ کمیونسٹ مینی فسٹو خبردارکرتاہے کہ :’اب تک کی تاریخ، طبقاتی جدوجہدکی تاریخ ہے’۔ جومارکسی نظریہ کا مرکزی ستون ہے۔ بعض اوقات طبقاتی جدوجہد کوغلط رنگ میں پیش کیاجاتاہے۔ مارکس کہتاہے کہ طبقاتی جدوجہد کی طرف اشارہ سرمایہ دارانہ لکھاریوں نے بھی کیا۔ جوچیزمارکس نے نکالی وہ یہ ہے کہ اول، طبقات کاوجود ایک خاص پیداواری تاریخی پیش رفت کے طورپرہے۔ دوئم؛طبقاتی جدوجہد، لازمی طورپرمزدورطبقہ کے آمریت کے طرف لے جائے گا۔ اورسوئم؛ یہ کہ مزدورطبقہ کی آمریت ازخودصرف تمام طبقات کے خاتمے اور ایک غیرطبقاتی سماج کے صورت میں ہوگا۔ یوں مارکس اوراینگلزکے نزدیک طبقاتی جدوجہد کی خصوصیت یہ ہے کہ ناصرف یہ موجودہ سرمایہ دارانہ سماج کے کردارکوواضح کرتاہے بلکہ مستقبل کے سماجی تبدیلی کے حصول میں مرکزی حیثیت کی حامل ہے۔
مستقبل کاسماجی تبدیلی کامنبع مزدورطبقہ کی جدوجہدہے۔ جوسرمایہ داری کے ترقی کے ساتھ پھیلتی جارہی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ روایتی مراکزسے زیادہ نئے ابھرنےوالے مزدورطبقہ کے مراکزمیں ظاہرہورہی ہیں۔ مارکس کے نزدیک مزدورطبقہ کی جدوجہد ہی مزدورطبقہ کی اپنی آزادی اپنے لئے ضروری ہے۔ یوں مزدورطبقہ کوحکمران طبقہ یامڈل کلاس آزاد نہیں کرسکتی۔ بلکہ یہی نہیں پورے سماج کوصرف مزدورطبقہ ہی آزادکرے گاجب یہ اپنی جدوجہد میں صدیوں کے اس گندسے نجات حاصل کرے گاتویہ مڈل کلاس، کسانوں، غریبوں، مظلوم قومیتوں، فرقوں کوبھی آزادکرے گا۔ یہ کام دوسرا کوئی طبقہ نہیں کرسکتا۔ یہ صرف مزدورطبقہ کافعل ہے۔
گرامچی کہتاہے کہ حکمران طبقہ کا تاریخی اتحاد ریاست کی شکل میں سامنے آتاہے۔ نچلے طبقات اس وقت تک متحدنہیں ہیں اورنہ ہوسکتے ہیں،جب تک یہ خود کوایک ریاست کے طورپرسامنے نہ لائیں۔
پس سب سے اہم سوال یہی ہے کہ نچلے طبقات کیسے متحدہوں تاکہ وہ ایک ریاست کی شکل اختیارکرلیں؟ اس کے لئے نا صرف یہ کہ مزدور خودمنظم ہوں اوربلکہ ان کواپنی دانشورانہ صلاحیتوں کوسامنے لاناہوگا۔ اس طرح مزدورطبقہ کو ہرلحاظ سے خود کو سرمایہ داروں کے چنگل سے آزادکراناہوگا۔ تاکہ ان کی جدوجہد سرمایہ داروں سے آزادہو۔ اس کامطلب یہ ہے کہ خیالات اورتنظیمی لحاظ سے آزادی یعنی اپنی انقلابی پارٹی کی تعمیراورپروپگنڈے کے اپنے نشریاتی وسائل جیسے رسالہ سوشلسٹ۔ لہذاء مزدورطبقہ کوخود سرمایہ دارانہ ریاست سے آزادکرنے کے لئے متبادل ذرائع سے رجوع کرناہوگا۔ اور اس کی وجہ سوشلسٹ انقلاب ہے۔
سوشلسٹ انقلاب، سرمایہ دارانہ انقلابات سے بنیادی لحاظ سے مختلف ہے۔ سرمایہ دارانہ انقلابات کے لئے حالات جیسے،معاشی، ترقی پہلے سے سازگارتھے۔ سرمایہ دارانہ پیداواری رشتے پہلے ترقی کرچکے تھے جب سیاسی وقانونی انقلاب نے اسے وسعت دیتے ہوئے مقدس گردانا۔ مزیدبراں یہ کہ جوسرمایہ دارانہ انقلابات لارہے تھے وہ ضروری نہیں کہ اس سے شعوری طورپرآگاہ تھے کہ وہ کیا کررہے ہیں۔ بعض اوقات ان کے خودساختہ مشن ان کے اصل کوششوں سے مختلف ومتصادم بھی ہوتے۔ ناہی سرمایہ داروں نے خود کوکبھی اس قسم کے سیاسی مشن میں براہ راست ملوث کیا،جیسے روسی زارشاہی کی بیوروکریسی، کمیونسٹ یا قوم پرست آرمی افسران ان انقلابات کوآگے بڑھاتے رہے۔
لیکن مزدورطبقہ کا انقلاب بہت مختلف ہے۔ سوشلزم پہلے ہی، آغازسے ہی یہ شعوری طورپرسماجی پیداوارکوان کے پیداکرنے والے کے مشترکہ کنٹرول کے طورپرسامنے لاتاہے ۔ سرمایہ داری کی ترقی سے مزدورطبقہ کے پیداہونے کی بات درست ہوسکتی ہے، لیکن یہ سوشلسٹ انقلاب کے لئے کافی نہیں۔ جوکہ سیاست کوسامنے لاتاہے، بہت بڑا عوامی شعورسوشلسٹ انقلاب کی تبدیلی کے لئے اہم ہے۔
مارکس کا ‘طبقاتی جدوجہد’ ایک قسم کاابسٹرک خیال ہے۔ مارکس کے معنوں میں طبقاتی جدوجہد زندگی کے تمام شکلوں میں گھل مل گئی ہے۔ اورناصرف یہ کہ اس کوچلاتی ہے بلکہ یہ اس پرسیاسی اورسماجی زندگی کی تمام حدود وقیود بھی لاگوکرتی ہے۔ ہم اس وقت تک سرمایہ دارانہ سماجوں کونہیں سمجھ سکتے جب تک ہم طبقاتی جدوجہد کوایک عام عمل (جنرل پروسس)کے طورپرنہ دیکھیں، ایک ایساعمل جوہرچیزکی تہہ میں ہے اوراسے شکل دیتاہے۔ او

رنہ ہی طبقاتی جدوجہد کے بغیرہم مستقبل کے سماجی تبدیلی کوسمجھ سکتے ہیں۔ دریں اثنائ ، طبقاتی جدوجہد ہمیشہ بلواسطہ (mediated’ شکلوں میں سامنے آتاہے۔ طبقات، ایک سماجی تکمیل، نہ کہ براہ راست سیاسی شکل جس کے اپنے ارادے اورمقاصد میں ظہورپذیرہوکر ایک یکسو شکل میں کام کرتے ہیں۔ اس کے بجائے، حقیقی طبقاتی جدوجہد میں تمام مزدورایک ساتھ ملوث بھی نہیں ہوتے۔ اسی لئے لینن کہتاہے کہ ایسا کبھی نہیں ہوگا کہ ایک طرف سرمایہ دارکی فوج ہوگی اوردوسری طرف مزدورسوشلزم کے لئے کھڑےہوں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی حقیقی تحریک میں صرف ایک ہی طبقہ کے لوگ ملوث نہیں ہوتے ہیں۔
ہم طبقاتی جدوجہد کوایک عام عمل (جنرل پروسس)کے طورپرنہ دیکھیں، ایک ایساعمل جوہرچیزکی تہہ میں ہے اوراسے شکل دیتاہے۔ اورنہ ہی طبقاتی جدوجہد کے بغیرہم مستقبل کے سماجی تبدیلی کوسمجھ سکتے ہیں۔ دریں اثنائ ، طبقاتی جدوجہد ہمیشہ بلواسطہ (mediated’ شکلوں میں سامنے آتاہے۔ طبقات، ایک سماجی تکمیل، نہ کہ براہ راست سیاسی شکل جس کے اپنے ارادے اورمقاصد میں ظہورپذیرہوکر ایک یکسو شکل میں کام کرتے ہیں۔ اس کے بجائے، حقیقی طبقاتی جدوجہد میں تمام مزدورایک ساتھ ملوث بھی نہیں ہوتے۔ اسی لئے لینن کہتاہے کہ ایسا کبھی نہیں ہوگا کہ ایک طرف سرمایہ دارکی فوج ہوگی اوردوسری طرف مزدورسوشلزم کے لئے کھڑےہوں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی حقیقی تحریک میں صرف ایک ہی طبقہ کے لوگ ملوث نہیں ہوتے ہیں۔

اورنہ ہی طبقاتی جدوجہد کے بغیرہم مستقبل کے سماجی تبدیلی کوسمجھ سکتے ہیں۔ دریں اثنائ ، طبقاتی جدوجہد ہمیشہ بلواسطہ (mediated’ شکلوں میں سامنے آتاہے۔ طبقات، ایک سماجی تشکیل، نہ کہ براہ راست سیاسی شکل جس کے اپنے ارادے اورمقاصد میں ظہورپذیرہوکر ایک یکسو شکل میں کام کرتے ہیں۔ اس کے بجائے، حقیقی طبقاتی جدوجہد میں تمام مزدورایک ساتھ ملوث بھی نہیں ہوتے۔ اسی لئے لینن کہتاہے کہ ایسا کبھی نہیں ہوگا کہ ایک طرف سرمایہ دارکی فوج ہوگی اوردوسری طرف مزدورسوشلزم کے لئے کھڑے ہوں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی حقیقی تحریک میں صرف ایک ہی طبقہ کے لوگ ملوث نہیں ہوتے ہیں۔
سرمایہ داری میں نہ صرف یہ کہ مزدورطبقہ، استحصال کے مقابلے میں متحدہوتاہے، بلکہ سرمایہ داروں کی طرح، مقابلہ کے ہاتھوں تقسیم بھی ہوتاہے۔ اسی طرح سرمایہ داری میں یہ مزدوروں کوآمادہ بغاوت ہی نہیں کرتابلکہ ان کوسرنگوں کرنے کے لئے دباوبھی ڈالتاہے۔
مارکس ازم کوایک خاص زبان کی ضرورت ہوتی ہے جوحقیقی سیاست اورسماجی زندگی کے حلقوں کومخاطب کرے۔ مارکس نے ‘پیداوارکے معاشی حالات میں تبدیلی’ اور’قانونی، سیاسی، مذہبی،آرٹ اورفلسفیانہ مختصریہ کہ نظریاتی شکلوں جس میں لوگ تنازعات سے سے آشناہوتے ہیں اوراس کے خلاف لڑتے ہیں’کے درمیان فرق ظاہرکیاہے۔ یہ وہ شکلیں ہیں جس کی ہمیں نمائندگی کرنے چاہئے۔ معاشی تبدیلی کی وجہ سے یہ وہ ظاہری شکلیں ہیں جس میں لڑائیاں سامنے آتی ہیں۔
مارکس کا پیداواری نظام (موڈآف پروڈکشن) بہت ہی اعلی سطح کی ابسٹرکشن ہے:’ ایک طریقہ جس میں انسان مل کرکام کرتے ہیں’۔مارکس اوراینگلز نے اپنی ابتدائی تحریرجرمن آئیڈیالوجی میں اس کے لئے ‘مل کرکام کرنے کاطریقہ’ (موڈ آف کوآپریشن) کی اصطلاح استعمال کی۔ نچلے درجے کی ابسٹرکشن پر’کلچر’ بھی ایک طرح کا وہ طریقہ ہے جس میں مل کرلوگ کام کرتے ہیں۔
سرمایہ داری جس عمل کے ذریعے سے منافع نکالتی ہے اوراس کا ارتکازکرتاہے یہ طبقاتی جدوجہدکی بنیادہے، کیونکہ یہ مختلف متحارب طبقات کی مختلف طرح کی ضرورتوں اورمقاصد کاتعین کرتاہے، جس کے نیتجہ میں ان کے درمیان مخاصمت پیداہوتی ہے۔اوراسی سے لڑائی جنم لیتی ہے۔ پس جہاں تک کلچرکاتعلق ہے ہمیں اس میں اسی طرح کاتناو اورتنازعہ نظرآتاہے جواس کے تمام قوس وقزع کے پہلووں میں نظرآتاہے۔
گرامچی کہتاہے کہ نچلے طبقات کے کلچرمیں ‘خلیج کی روح’ کااظہارہوتاہے۔ نچلے طبقات کے کلچرکی تشکیل میں نہ صرف مطابقت اورمزاحمت کی دونوں شکلیں موجودہوتی ہیں بلکہ اس میں غالب نظام کے ترتیب اوراقدارکے متبادل کی ابتدائی شکل کی پیش رفت پائی جاتی ہے۔
اس بحث سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ تحریکیں ایک طرح کی غالب اورنچلے طبقات کے ثقافتی اظہاریے ہیں۔ تحریکیں مشترکہ طورپردیگرتمام قوتوں جیسے سیاسی پارٹیاں، ریاست وغیرہ کے مخالفت میں سوال کوجنم دیتی ہے۔ ہمیں یہ فرض نہیں کرلینا چاہئے کہ تحریکیں لازمی طورپرترقی پسند، جمہوری ہو ں گی ۔ ایسی تحریکیں ہیں جن کے مقاصد اس کے الٹ ہیں۔ لیکن سامراج، قبضوں، بےدخلیوں، ترقیاتی پروجیکٹوں،فرقہ ورانہ اورنسلی قتل عام ، جبرکی ہرشکل کے خلاف اورحقوق کے لئے ہرعوامی تحریکیں کاحصہ بنناچاہئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *