تھرکول فیلڈپروجیکٹ ترقی یاتباہی کامنصوبہ؟

تھرکول فیلڈپروجیکٹ ترقی یاتباہی کامنصوبہ؟

رپورٹ: رشید آزاد، عامر حسینی

سندھ میں ضلع تھرپارکر کے اندر صحرائے تھر کے اندر 9000 مربع کلومیٹر کے اندر 175ارب ٹن کوئلے کے ذخائر موجود ہیں۔اور اس ایریا کو تھر کول فیلڈ کہا جاتا ہے۔اور اس تھر کول فیلڈ کو 12 بلاک میں تقسیم کیا گیا ہے۔اور اس کے چار بلاک میں ابھی کام شروع کیا گیا ہے۔بلاک 2 میں سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی (ایس ای سی ایم سی) کوئلے کی کھدائی اور اس کھدائی کے دوران نکلنے والے کھارے پانی کو ذخیرہ کرنے کے منصوبے پہ کام کررہی ہے۔بلاک 2 سے نکلنے والے کوئلہ 660 میگاواٹ کے دو پاور پلانٹ کو سپلائی ہوگا جو کہ چائنا پاور انٹرنیشنل ہولڈنگ لمیٹڈ (سی پی آئی ایچ ) اینگرو پاور جین اور سندھ حکومت کا مشترکہ منصوبہ ہے۔
روزنامہ ڈان نے 29 ستمبر ،2016کو ایک خبر سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی کے چیف ایگزیگٹو شمس الدین کی جانب یہ خبر سرکاری خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کی جانب سے جاری کی گئی تھی۔سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی 660 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے والے دو پاور پلانٹ کی تعمیر کے پروجیکٹ پہ کام کررہی ہے۔یہ پلانٹ 2019تک کام کرنا شروع کریں گے۔اور کمپنی کو پانچ ماہ ہوگئے ہیں اس پروجیکٹ پہ کام کرتے ہوئے۔اس پروجیکٹ کا پہلا فیز 1ء1 ارب ڈالر کا ہے اور اس کے لئے 75 فیصد فنانسنگ چینی کمپنی اور 25 فیصد مقامی سرمایہ کاری ہے۔اور یہ 38 ماہ میں پروجیکٹ مکمل ہوگا۔اور سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی تھر کول فیلڈ کے بلاک 2 میں کام کررہی ہے۔اور اس سارے پروجیکٹ کی لاگت 3ء2 بلین ڈالر ہے۔113 ملین کیوبک میٹر کھدائی کرنا ہے جبکہ ابھی تک 7 ملین کیوبک میٹر کھدائی ہوئی ہے۔اس پروجیکٹ پہ 2028 افراد ملازم ہیں جن میں سے 997 تھر پارکر ضلع کے مقامی ، 647 چینی اور 384 کا تعلق ملک کے دوسرے حصوّں سے ہے۔اس پروجیکٹ سے شمس احمد شیخ کے مطابق درس سنہری گوٹھ اور تھری ہالیپوتہ سے 6500 اور باقی چھوٹی چھوٹی آبادیاں بے دخل ہوں گی۔
سندھ اینگرو مائننگ کمپنی کے سی ای او کا ایک آرٹیکل ایکپریس ٹرائبون کراچی میں بھی ” تھر کول : افسانے سے حقائق کی علیحدگی ” شایع ہوا تھا جس میں سی ای او نے یہ کہا کہ بلاک 2 پہ ان کا پروجیکٹ تھر میں نہ تو بڑے پیمانے پہ بے دخلی کا سبب بنے گا اور نہ ہی اس کے تھر پہ ماحولیاتی اعتبار سے کوئی زیادہ بڑے پیمانے پہ تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔اس سلسلے میں ان کا کہنا یہ ہے کہ انہوں نے جو انوائرمنیٹل اینڈ سوشل امپیکٹ اسسمنٹ کروائی ہے وہ جرمنی کی معروف فرم ایس کے آر اور ٹی پی سی ایل سے کرائی ہے۔اور انہوں نے اسے کلئیر کردیا ہے۔یہ 2014ء میں ان کے بقول اسٹڈی کرائی گئی تھی۔
اور اگر اس پروجیکٹ کے حوالے سے پاکستان کے مین سٹریم میڈیا میں شایع ہونے والی رپورٹنگ کا جائزہ لیا جائے تو یہ سوال ذہن میں ضرور آتا ہے کہ اس پروجیکٹ پہ کام کرنے والی ایس ای سی ایم سی کے سی ای او،سندھ حکومت کے متعلقہ حکام اور چینی کمپنی کے نمائندوں وغیرہ کے بیانات کو جتنی پروجیکشن دی گئی اتنی پروجیکشن انگریزی اور اردو پریس نے اس پروجیکٹ سے متاثر ہونے والے باشندوں اور اس پروجیکٹ پہ معترض سول سوسائٹی کو کیوں نہ دی گئی؟
سندھی پریس میں تھرکول فیلڈ میں بلاک 2 میں سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی کے 660 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کے منصوبے پہ احتجاج کرنے والے اس منصوبے کے متاثرین اور ناقدین کی خبریں اور آرٹیکل شایع تو ہوئے لیکن ادارتی صفحات میں اب بھی سرکار اور کمپنی کے لوگوں اور اس پروجیکٹ کے حق میں موجود سرکار نواز آوازوں کو زیادہ جگہ مل رہی ہے۔اور سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی بھی اس حوالے سے بھرپور میڈیا مہم چلائے ہوئے ہے۔اور سرکاری حلقے تھر سے کوئلہ نکالنے اور اس سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پہ ہونے والی تنقید کو ترقی دشمنی بھی کہا جارہا ہے۔اور اس حوالے سے بلاک 2 میں کول کی مائننگ اور پاور پلانٹ کی تعمیر سے بے دخل ہونے والے، زمینوں اور دیگر نقصانات کا شکار ہونے والوں نے ایک احتجاجی تحریک شروع کررکھی ہے۔یہ احتجاجی تحریک گوٹھ سنہری درس ، گوٹھ تھری ہالیپوتہ (یہ کوئلہ کی کھدائی ، پائپ لائن ، اور پاور پلانٹ سے متاثر ہورہے ہیں ) ،گوڑانو گوٹھ ، کاٹن گوٹھ، چوتھے دی دھانی،حاجم دی دھانی، کھوکھر دی دھانی،لالے دی دھانی،پوٹو جی دھانی ، شیوی جو دھانی ،تڑمتو دڑ ،احسان شاہ جو تڑ ، سمیت 12 گوٹھوں کے متاثرین نے شروع کی ہوئی ہے اور انہوں نے گزشتہ 68 دنوں سے ضلع تھرپارکر کی تحصیل اسلام کوٹ جو کہ ڈیم سائٹ سے 37 کلومیٹر کی دوری پہ واقع ہے کے پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ لگا رکھا ہے جس میں بچے، بوڑھے ، نوجوان مرد اور عورتیں بیٹھی ہوئی ہیں۔اور متاثرہ گوٹھوں اور دھانیوں سے لوگ روز صبح کے وقت پریس کلب کے سامنے کیمپ پہ بیٹھ جاتے ہیں اور ان کی اکثریت شام کو واپس چلی جاتی ہے جبکہ درجن بھر سے زائد بزرگ مرد اور عورتیں وہاں پہ دن رات گزار رہی ہیں۔
ہم اس وقت اسلام کوٹ میں موجود ہیں۔ ہم یہاں شام مغرب کے بعد پہنچے تو روزنامہ جنگ کے اسلام کوٹ میں رپورٹر حافظ عبدالغنی نے ہمارا استقبال کیا۔وہ ہمیں سیدھا پریس کلب اسلام کوٹ لے گئے جہاں پہ گزشتہ 62 دن سے اسلام کوٹ سے 40 کلومیٹر دور پہ گوڑانو گوٹھ کے مرد اور عورتیں دھرنا دئیے بیٹھے ہیں۔ان میں سے ایک درجن سے زیادہ لوگ تو پریس کلب کی عمارت کے برآمدے میں رات بسر کرتے ہیں جبکہ گاﺅں کے دوسرے مرد،عورتیں،بچے صبح پریس کلب کے سامنے لگے کیمپ میں پہنچ جاتے ہیں اور شام کو واپس چلے جاتے ہیں۔گوڑانو گا وں وہ جگہ ہے جہاں پہ اس پانی کو ذخیرہ کیا جانا ہے جو تھر کول کے بلاک 9 کی ڈرلنگ کے نتیجے میں نکلے گا۔اور اس منصوبے سے اردگرد کے 12 گاﺅں کی 2700 ایکٹر زمین ،اس پہ موجود نباتات، 1500 سے زائد گھر، مویشیوں کے لیے چراگاہیں سب کی سب تباہ ہوجائیں گی جبکہ یہاں تمام زمینیں آباد ہیں۔گوڑانو گوٹھ کے باسیوں نے بتایا کہ اینگرو کمپنی کے لوگوں نے ان کو کبھی ڈیم کی تعمیر بارے نہیں بتایا تھا۔اور نہ ہی ان کو یہ بتایا تھا کہ اس منصوبے کی وجہ سے ان کو اپنی زمینیں،اپنا گھر بار سب چھوڑنا پڑے گا، مال مویشی بیچنا پڑے گا۔
خواتین کا کہنا تھا کہ جسے ترقی کہا جارہا ہے یہ تو ان کی بربادی کا دوسرا نام ہے۔ان کو دو وقت کی روٹی جو میسر تھی وہ چھین کر ترقی کا مڑدہ سنایا جاتا ہے اور یہ ترقی ان کے سمجھ میں آنے والی نہیں ہے۔
مٹھی تھرپارکر شہر میں معروف سندھی اخبار روزنامہ کاوش اور کے ٹی این کے نمائندے کھاٹو جانی، روزنامہ سندھ ایکسپریس حیدرآباد کے مٹھی میں نمائیندے ممتاز لوڑی، روزنامہ جنگ کراچی کے اسلام کوٹ میں نمائندے حافظ عبدالغنی اور روزنامہ امت کے اسلام کوٹ میں نمائندے شاہ نواز ہماری جو گفتگو ہوئی وہ بھی چونکا دینے والی تھی۔
کھٹو جانی کا کہنا تھا کہ انہوں نے سابق چیف منسٹر سندھ سید قائم علی شاہ سے کہا تھا کہ وہ تھر پارکر میں جن لوگوں کی زمینیں کوئلہ کی ڈرلنگ کے منصوبوں کی زد میں آرہی ہیں ان زمینوں کو لینڈ ایکوزیشن ایکٹ کے تحت لینے کی بجائے منصوبہ بنانے والی کمپنیوں کو لیز پہ دی جائیں۔جب وہ کوئلہ نکال لیں تو یہ زمینیں ان کو واپس کردی جائیں۔لیکن سید قائم علی شاہ نے کہا ایسی شرط سے ملک میں سرمایہ کون لگانے آئے گا؟
مقامی صحافی حافظ عبدالغنی نے اپنی یادداشت پہ زور دیتے ہوئے ہمیں بتایا سابق چیف منسٹر سید قائم علی شاہ کے بیٹے اسد شاہ گوڑانو ڈیم کی سروے ٹیم میں شامل تھے تو ایک مرتبہ وہ اسلام کوٹ پریس کلب میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ڈیم کے منصوبے سے متاثرہ لوگوں کی بے دخلی کو معمول کا واقعہ بتایا اور یہ کہا کہ” یہ خانہ بدوش ایک جگہ سے اٹھ کر دوسری جگہ چلا جائیں گے تو کونسی قیامت آجائے گی” ۔گوڑانو ڈیم سے 12 گوٹھ جو متاثر ہوں گے وہ این اے 229 اور پی ایس 62 ہے۔ممبر صوبائی اسمبلی مہیش کمار ملانی کا کہنا یہ ہے ،” یہ محض چند لوگ ہیں جو شور شرابا کرتے ہیں”۔اسلام کوٹ ضلع تھرپارکر کی تحصیل ہے اور اس کی آبادی 75 ہزار کے قریب ہوگی۔روزنامہ کاوش حیدرآباد کے مٹھی میں رپورٹر کھٹو جانی سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر اینگرو کمپنی بلاک نمبر 9 سے کوئلے کی ڈرلنگ کے پروسس میں پانی زخیرہ کرنے کے لیے 12 گائ وں متاثر کرتی ہے تو باقی کے 11 بلاکس کی ڈرلنگ سے جو پانی ہوگا وہ کہاں ذخیرہ ہوگا اورکی ڈرلنگ کے پروسس میں پانی زخیرہ کرنے کے لیے 12 گا وں متاثر کرتی ہے تو باقی کے 11 بلاکس کی ڈرلنگ سے جو پانی ہوگا وہ کہاں ذخیرہ ہوگا اور اس سے کتنی زمینیں اور کتنے گھر اجڑیں گے؟ ایک جیالوجسٹ جو ایک کول کمپنی میں ہی ملازم ہے اس کا کہنا ہے اینگرو کمپنی کے حکام سچ نہیں بول رہے۔اور وہ غلط بیانی سے کام کے رہے ہیں۔ان کو متاثر ہونے والے گوٹھ کے باشندوں سے سچ بولنا چاہئیے تھا۔مقامی صحافی ،سول سوسائٹی کے باخبر نمائندوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اینگرو کمپنی کے سی ای او نجی محفل میں یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ چیف منسٹر سندھ سید مراد علی شاہ اینگرو کے شئیر ہولڈر ہیں۔جبکہ سید قائم علی شاہ کے بیٹے اسد علی شاہ اس کمپنی کے ملازم رہے ہیں۔جبکہ یہ افواہیں بھی عام ہیں کہ تھر کول پروجیکٹ میں پی پی پی کے چند بڑے نام پس پردہ رہ کر سرمایہ کاری بھی کررہے ہیں۔
گوڑانو ڈیم پروجیکٹ 12 گوٹھوں کے 1500 گھرانوں کو بے دخل کرنے،ان 12 گوٹھوں کے میٹھے پانی کو کھارا اور ناقابل استعمال بنانے، مویشیوں کی چراگاہیں ختم کرنے کا منصوبہ ہے اور یہ بات صرف گوڑانو ڈیم پہ رکنے والی نہیں ہے۔یہ تھر کے کل 12 بلاک اور ہر ایک بلاک کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے 12 ڈیم کی تعمیر کا اشارہ ہے اور اس سے ان بلاکس کے گرد گوٹھوں کی تباہی میں کوئی شک نہیں ہے۔اور ایک طرح سے یہ ضلع تھرپارکر میں بلا مبالغہ ہزاروں گھرانوں کی بے دخلی و تباہی کا منصوبہ ہے۔جبکہ ماحول کی تباہی اور آلودگی سے پیدا ہونے والے مسائل الگ سے ہیں جن پہ ابھی تک بات ہی نہیں ہورہی۔
پاکستان پیپلز پارٹی کا گڑھ سمجھا جانے والا ضلع تھرپارکر اور اس کی تحصیل اسلام کوٹ جہاں کی 80 فیصد آبادی ہندﺅ ہے۔ور اس 80 فیصد ہندئ و آبادی کے اندر 99 فیصد دلت ہندئ و ہیں۔اور گوڑانو ڈیم کے متاثرین کی بھاری ترین اکثریت میگھواڑ ہندوں پہ مشتمل ہیں۔اسی میگھواڑ برادری سے تعلق رکھتے ہیں اقلیتی نشست پہ ایم پی اے ڈاکٹر کھٹومل اور سینٹر گیان چند کا تعلق بھی اسی برادری سے ہے۔یہ ڈاکٹر کھٹومل تھے جو اس گزر گئی ہولی سے پہلے ہی یہ کہہ کر احتجاج میں بیٹھے لوگوں کو لے گئے کہ کمپنی اب ڈیم ان کی جگہ نہیں بنائے گی اور وقتی طور پہ دکھاوے کے لیے دس دن کام روکا بھی گیا۔لیکن پھر کام شروع ہوگیا اور اس مرتبہ پولیس کو بھی استعمال کیا گیا۔”یہ سب کام وہ حکومت کررہی ہے جس کا چئیرمین بلاول بھٹو پنجاب کے چیف منسٹر شہباز شریف کے “ڈویلپمنٹ پراجیکٹس ” کو غریبوں کو گھروں سے بے دخل کرنے اور ان کے کاروبار ختم کرنے اور بڑا مال بنانے کے منصوبے قرار دیتا ہے۔پنجاب کے شہری و دیہی غریبوں کا نمائندہ بننے کی بات کرتا ہے۔میٹرو بس سروس، اورنج ٹرین جیسے منصوبوں کی آڑ میں لوگوں کی بے دخلی کو رد کرتا ہے لیکن سندھ میں اس کی پارٹی کی حکومت کا ڈویلپمنٹ ماڈل پنجاب کے حاکموں سے مختلف نہیں ہے۔یہ ماڈل بھی بڑے پیمانے پہ بے دخلیاں کرتا اور لوگوں سے گوٹھ کے گوٹھ خالی کرواتا ہے۔یہ نیولبرل ازم کا گھٹیا سا نمونہ ہے” ۔اسلام کوٹ تحصیل میں بالعموم اور اس کے اردگرد گوٹھوں گوٹھوں میں صحت ،تعلیم ، رہائش اور روزگار کی فراہمی کی ضمانت اسی طرح سے ایک خواب ہے جسطرح سے ملک کے دیگر اکثر حصوں میں یہ خواب ہی ہے۔تھر کول فیلڈ تک جانے کے لیے کارپٹ روڈ، ملٹی نیشنل کمپنی کے افسران کے لیے ائرپورٹ اور چند ایک بڑے شاہانہ قسم کے گیسٹ ہاوس کی موجودگی کو ترقی کہا جاتا ہے جبکہ اندر شہر کی سڑکیں ٹوٹی پھوٹی ہیں۔گوٹھوں تک جانے والے راستے بہت ہی خراب ہیں اور وہاں پہ حکومت کا ا نفراسٹرکچر بدتر حالت کا منظر پیش کرتا ہے۔
گوڑانو ڈیم سائٹ بارے چند مشاہدات
“جب آپ اسلام کوٹ سے گوڑانو گوٹھ کی طرف جانے والی سڑک پہ سفر کرتے ہیں تو جس جگہ اس وقت ڈیم کی تعمیر شروع ہے عین سڑک کے درمیان جس کے ایک طرف گوٹھ گوڑانو اور دوسری طرف کاٹن گوٹھ ہے جب اس کے ساتھ ہی ایک دھانی موجود ہے ان کے درمیان ایک دیوار تعمیر کی جارہی ہے جس سے یہ سڑک تو گوڑانو سمیت کئی ایک گوٹھوں کے لئے اس راستے سے اسلام کوٹ جانا ناممکن بنادے گی۔جبکہ جس جگہ پہ اس وقت کام شروع ہے اس جگہ پہ ایک سوئتر گوٹھ جہاں 20 سے زائد گھر آباد تھے زمین کے برابر ہوچکے جبکہ کاٹن گوٹھ کے کئی گھر مسمار ہوچکے جبکہ ابھی تک درجنوں ایکٹر آباد زمینوں کو لیول کیا جاچکا ہے۔اور سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی کی جانب سے سندھی زبان میں ایک بروشر شایع کیا گیا ہے جس میں گوڑانو گوٹھ سمیت کسی بھی گوٹھ کے لوگوں کی بے دخلی کا ڈیم کی تعمیر سے سرے سے ہی انکار کردیا گیا ہے۔جبکہ سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی کے سی ای او نے ابتک اپنے سندھی اور انگریزی میں اخبارات میں شایع ہونے والے مضامین میں بھی کسی ایک مضمون م?ن گوڑانو ڈیم سے آس پاس کے لوگوں کے بے دخل ہونے اور اس ڈیم کے براہ راست متاثر ہونے کا زکر تک نہیں کیا۔بلکہ اس کا انکار ہی کیا ہے۔درس سنہری اور تھری ہالپوتہ گوٹھوں کے بالکل شروع مین ایک بڑا پینا فلیکس ہے جس میں ان دونوں گوٹھوں کی آبادی کے لئے اصل گاو¿ں سے 20 کلومیٹر دور ماڈل گاو¿ں بنانے کے پروجیکٹ کا زکر ہے۔لیکن گراو¿نڈ پہ چند نمائشی اقدامات کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔”کیا ڈیم تعمیر ہونے سے پہلے کوئی پبلک ہئیرنگ منعقد ہوئی ؟ابھی تک یہ سوال ایک معمہ بنا ہوا ہے۔سندھ اینگرو کول مائننگ کا دعوی یہ ہے کہ ڈیم کی اس سائٹ پہ کام شروع کرنے سے پہلے ایک پبلک ہئیرنگ کا انعقاد کیا گیا تھا۔اور اس حوالے سے اخبارات میں اشتہار بھی دئے گئے تھے۔گوڑانو گوٹھ جہاں پہ یہ ڈیم تعمیر کیا جارہا ہے اس کی ایک دیوار کے سامنے ایڈوکیٹ سندھ ہائی کورٹ لیلا رام کا گھر ہے اور اس گوٹھ میں شاید یہ واحد کنکریٹ سے بنا ہوا گھر ہے۔ایڈوکیٹ لیلا رام کا گھرانا گوڑانو گوٹھ کا واحد تعلیم یافتہ گھرانا ہے۔اور یہ لیلا رام ایڈوکیٹ ہیں جنھوں نے سندھ ہائیکورٹ حیدرآباد میں 30 جون،2016ئ کو رٹ پٹیشن 76/16 دائر کی اور اس درخواست پہ 6 ماہ گزرنے کے باوجود ہائیکورٹ ڈیم کے خلاف سٹے تک نہیں دے سکی ہے،نے بتایا،
” پبلک ہئیرنگ ایک بہت بڑا جھوٹ ہے جو ایس ای سی ایم سی بول رہی ہے۔پبلک ہئیرنگ پہ روزنامہ عبرت حیدرآباد اور چند ایک انگریزی اخبارات میں اشتہار شایع کئے گئے۔یہ اخبارات تو یہاں آتے ہی نہ تھے۔اور اگر یہ اخبار آبھی جاتے تو یہاں کوئی بھی پڑھا لکھا نہیں ہے جو ان کو پڑھ سکتا۔”
گوڑانو گوٹھ سمیت آس پاس کے گوٹھوں کے کافی لوگ ڈیم کی سائٹ کے قریب جمع ہوگئے تھے۔ان سب کا بھی یہی کہنا تھا کہ اچانک کمپنی نے جب یہاں پہ ڈیم کی تعمیر شروع کی تو تب ان کو پتا چلا کہ یہاں کیا ہونے جارہا ہے اور اس دوران ڈیم کی تعمیر سے متاثر والوں کو یہ بھی پتا چلا کہ اس ڈیم کے لئے پہلے دوسری سائٹس کا انتخاب کیا گیا تھا جو بعد ازاں تبدیل کردیا گیا۔
گوڑانو گوٹھ اور اس سے متصل دھانیاں اور تڑ جو ملا جلا کر 12 کے قریب بنتے ہیں کی 2700 ایکٹر اراضی اس ڈیم کی حد میں آرہی ہے ، کمپنی کہتی ہے کہ 1500 ایکٹر اراضی ہے۔اس زمین میں قریب قریب 1500 گھر ہیں جبکہ 1500 سے زائد ایکٹر اراضی آباد ہے، میٹھے پانی کے درجنوں کنوئیں ہیں، ایک لاکھ سے زائد درخت اور پودے ہیں اور کئی چراگائیں ہیں جو سب کی سب ختم ہوجانی ہیں۔اور درختوں ، پودوں کے کاٹے جانے اور میٹھے پانی کے کھارے ہوجانے سے یہاں پہ نباتات پھر نہیں اگ پائیں گی اور یہاں پہ کاشت کاری بھی ناممکن ہوجائے گی اور جنگلی حیات کو بھی نقصان پہنچے گا۔سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی کے سی ای او شمس احمد شیخ اور اس کمپنی کے دیگر ذمہ داران نے اس حوالے سے جو موقف اپنایا ہے اسی موقف کو سابق اری گیشن سیکرٹری سندھ ادریس راجپوت اور دیگر ڈیم کے حق میں لکھاریوں نے آگے بڑھایا ہے۔” بلاک2 تھر کول فیلڈ سے 38 کلومیٹر دور ٹرسنگھڑی جھیل میں کھارا پانی ذخیرہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور اس کے لئے فیزیبلٹی بھی تیار ہوگئی تھی لیکن پھر پتا چلا کہ یہ جھیل رامسر سائٹ میں شامل ہے اور اس سے ماحولیاتی اثرات بہت برے ہوں گے تو اس منصوبے کو ترک کردیا گیا، پھر سندھ حکومت نے ڈکر شاہ گوٹھ کے قریب ایک سائٹ تلاش کی جس پہ ایک جھیل 400 ایکٹر اراضی پہ مشتمل تھی لیکن 2013ءمیں پتا چلا کہ یہ زمین سندھ وائلڈ لائف کی ہے اور سیکرٹری ماحولیات سندھ اور سیکرٹری انرجی سندھ کی باہمی میٹنگ میں یہ فیصلہ ہوا کہ اگر یہاں ڈیم بنانا ضروری ہے تو پہلے ماحولیات پہ پرںے والے اثرات کا تدارک کیا جائے۔اور یہ تجویز بھی رد ہوگئی۔اس کے بعد ایک سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی اور جرمن فرم آر ڈبلیو ای نے ملکر گوڑانو گوٹھ اور اس کے آس پاس کی زمین اس ڈیم کے لئے تجویز کی اور اس پہ انورائرمنٹل اینڈ سوشل امپیکٹ اسسمنٹ رپورٹ تیار کروائی گئی”۔سی ای او سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی شمس احمد شیخ کا کہنا ہے کہ اس سائٹ کے علاوہ اور کوئی جگہ بھی ڈیم کے لئے موزوں نہیں ہے۔
یہاں پہ سوال یہ جنم لیتا ہے کہ کمپنی ڈکر شاہ جو گوٹھ جھیل پہ ڈیم کی تعمیر بارے ماحولیاتی و سماجی اثرات کی جانچ رپورٹ اور ٹر سنگھڑی جھیل پہ ڈیم کی تعمیر سے ہونے والے ماحولیاتی وسماجی اثرات کی جانچ رپورٹ اور ٹر سنگھڑی جھیل پہ ڈیم کی تعمیر سے ہونے والے ماحولیاتی و سماجی اثرات کی رپورٹ پبلک کیوں نہیں کررہی؟آخر وہ کون سی گیڈر سنگھی ہے جو سندھ وائلڈ لائف کی جگہ پہ ماحولیاتی تباہی کا تدارک کرنے سے قاصر ہے جبکہ گوڑانو اور اس سے ملحق 12 بستیوں پہ ڈیم کی تعمیر سے بالکل بھی اثرات نہیں ہونے دے گی ؟
لیلا رام ایڈوکیٹ جنھوں نے اس ڈیم کی تعمیر کے خلاف عدالت میں رٹ دائر کی ہوئی ہے ان کا کہنا ہے کہ اگر سی ای او اینگرو کول مائننگ کمپنی کے بقول کوئی اور سائٹ تھر میں دستیاب ہی نہیں ہے تو پھر بلاک 1 سے لیکر باقی ماندہ 11 کول بلاک کی کھدائی کے بعد پانی کہاں پہ ذخیرہ کیا جائے گا؟ اور کیا باقی بلاک کے لئے مزید ڈیم تعمیر نہیں ہوں گے؟ اور یقینی بات ہے کہ جب کمپنی خود کہہ رہی ہے کہ کوئلے کی کھدائی کے دوران پانی کو نکالے بغیر کوئلہ نہیں نکلے گا اور یہ مجبوری ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ تھر کول فیلڈ سے کوئلہ نکالنے کے لئے گوڑانو ڈیم جیسے 11 اور ڈیم تعمیر کرنے پڑیں گے اور اس کے لئے اگر بلاک 2 پہ کام کرنے والی کمپنی کے بیان پہ اعتماد کرلیا جائے کہ 1500 ایکٹر اراضی درکار ہوگی تو اس کا مطلب ہے کہ 18000 ایکٹر اراضی تو صرف ڈیم کی تعمیر کے لئے درکار ہے اور اگر گاو¿ں والوں کی بات پہ اعتبار کیا جائے تو یہ 32 ہزار چار سو ایکٹر اراضی صرف ڈیم کی مد میں درکار ہوگی اور قریب قریب 15 لاکھ سے زائد درخت ،پودے بھی سرے سے ختم ہوجائیں گے۔اور یہ اراضی کہاں سے دستیاب ہوں گی؟ اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کمپنی نے کبھی نہیں کی ہے؟اور تھر کول فیلڈ میں جو پاور پلانٹ تعمیر کئے جائیں گے ان کے ماحول پہ کیا تباہ کن اثرات ہوں گے؟ اس بارے میں تو کمپنی ایک لفظ بھی سننے کو تیار نہیں ہے۔( جاری ہے باقی اگلے شمارے میں )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *