سی پیک اور گلگت بلتستان

سی پیک اور گلگت بلتستان

تحریر: مصفی ٰ جان

سی پیک کے بارے میں پاکستان کے حکمران طبقے میں بڑا جوش پایا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ گیم چینجر ہے۔ یہ وقت ہی بتائے گا کہ سی پیک گیم چینجر ہے یا نہیں۔
پی پی پی اس سارے معاملے میں زیادہ ریڈیکل رنگ لانے کی کوشش کر رہی ہے۔ مثلا ان کا کہنا ہے کہ وہ حقِ ملکیت اور حقِ حاکمیت کے لیے تحریک چلائیں گے اور بلاول کو بھی گلگت بلتستان لا کر عوام کی دبی ہوئی آواز کو ابھاریں گے۔ پچھلے دنو ں انہوں نے یکم نومبر کو ایک جلسہ بھی کیا ۔ ن لیگ حکومت میں ہونے کی وجہ سے وہی موقف اپنارہی ہے جو مرکز کی حکومت کا ہے یعنی سی پیک سے معاشی انقلاب کا نعرہ ہے۔ پی ٹی آئی والے حکومت کی ناکامیوں کو اجاگر کر کے اپنے نمبر بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دوسری جانب قوم پرست خوفزدہ ہیں ، بظاہر ان کا بھی وہی موقف ہے جو پی پی پی اور پی ایم ایل این اور پی ٹی آئی کے کاروباری طبقہ کا سی پیک پر ہے۔ گلگت بلستان میں عوام الناس میں سی پیک پر زیادہ توقعات ہیں جو حکمران طبقہ کے موئثر پراپیگنڈے کا اثر ہے۔ یہ کہتے ہیں کہ سی پیک سے ان کی زندگی میں معاشی انقلاب آئے گا، انقلاب کیسے آئے گا یہ ان کو نہیں پتابلکہ جواب یہ ہوتا ہے کہ کاروبار بڑھے گا ، سرمایہ آئے گا تو ہر ایک کی زندگی سدھر جائے گی۔ دراصل یہ تمام خیالات یہاں کے درمیانے اور کاروباری طبقہ کے ہیں جو میڈیا کے زریعے باربار نشر ہونے اور بحث ہونے کی صورت میں عوام الناس کے خیالات بن گئے ہیں۔ اسی درمیانے اور کاروباری طبقہ کی خواہش کو حکمران طبقہ نے اپنا کر غالب خیال بنا ڈالا ہے۔ ان کا آپس میں جھگڑا بھی ہے اور وہ اس بات پر ہے کہ اس تمام گیم میں ان کو کتنا حصہ ملنا چاہئیے ۔ یہی سی پیک کے گلگت بلتستان روٹ پر معاشی زون کا مطالبہ کرتے ہیں جہاں مزدوروں کو کوئی حقوق نہیں ملیں گے اور سرمایہ دار بناءٹیکس خوب منافع بنائیں گے۔ کچلا ہوا طبقہ اور غریب طبقات میں سی پیک سے متعلق کوئی جوش و خروش نہیں ہے۔ کیونکہ یہ ہر معاملے میں کاروباری اور درمیانے طبقہ کی سیاست کو قبول کر لیتے ہیں۔ اسی لیے جب کاروباری اور درمیانے طبقہ کا سی پیک پر موقف معاشی انقلاب کا ہے تو اسی کا نتیجہ ہے کہ غریب اور کچلے ہوئے طبقہ کے مفادات کی ترجمانی یہ بڑی سیاسی پارٹیاں نہیں کرتیں۔ کاروباری اور درمیانہ طبقہ اپنے مفادات کے لیے بڑے سرمایہ داروں اور پاکستانی ریاست سے سمجھوتہ کر لیتا ہے، نام عوامی مفاد دے دیا جاتا ہے۔ اسی لیے یہ سب سی پیک سے متعلق چین اور عالمی سرمایہ داری کے غلبے پر یہ بات نہیں کرتے، اس غلبے کے اثرات گلگت بلتستان کے عوام کی کالونائیزیشن کی صورت میں ابھریں گے یہ اس پر بھی خاموش ہیں۔ راہداری کو جنگ وجدل کا سامان پہنچانے کےلیے استعمال کیا جائے گا اور اس سے اس خطے میں پہلے سے موجود فرقہ وارانہ اور علاقائی تضادات کو ہوا ملے گی، یہ اس پر بھی کچھ نہیں سوچنا چاہتے۔ ان کا ہدف سرمایہ داری کا ہدف ہے اور وہ ہے سی پیک کی تعمیر اور اس کے استعمال سے منافع کمانا۔ بڑے سرمایہ دار کا چین سے گٹھ جوڑ ہے، گلگت بلستان کے کاروباری اور مڈل کلاس جن کی پی پی ، ن لیگ اور پی ٹی آئی نمائندگی کرتی ہے یہ اسی بڑے سرمائے کے گٹھ جوڑ کا ساتھ دے رہے ہیں۔
میں یہاں تین نکتہ پر روشنی ڈالنے کی کوشش کروں گا۔
یہ کہ ضروری نہیں کہ چائنا کا ہر ایکسپورٹ گوادر سے ہی گزرے گا۔ گوادر اُسی وقت چائنا کے لیے کارآمد ہو گا جب کسی جنگ کی صورت میں چائنا اس روڈ کو استعمال کرے گا۔ ساﺅتھ چائنا سمندر جہاں ایمریکن نیوی کا ۰۶ فیصد قوت موجود ہے اور امریکہ کسی جنگ کی صورت میں چائنا کی تجارت روک سکتا ہے تب چائنا گوادر اور برما کے راستے تجارت جاری رکھنا چاہتا ہے۔ پاکستان کے اندر یہ پراپیگنڈہ زرووں پر ہے کہ پاکستان کے راستے چائنا کی تجارت سے چائنا کو فائدہ ہے۔ یہ بالکل غلط تاثر ہے۔ کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ سمندر کے راستے سے آنے والا مال کراچی اور پنڈی سے سستا پڑتا ہے اور خشکی کے راستے سے آنے والا مال مہنگا پڑتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ چین اپنے مغربی صوبے سنکیانگ کو ترقی دینے کے لیے اس روٹ کو استعمال کرنا چاہتا ہے، گویا کہ سرمایہ داری کوئی ایسی چیز ہے جو ہر خطے کو یکساں اور ہموار ترقی دیتا ہو۔ مغربی حصے میں جو ترقی ہونا تھی وہ ہو چکی۔ مزید کسی ترقی کی چین کو فل وقت جیسے کوئی ضرورت نہیں۔ مغربی حصہ مشرقی صنعتی زون کی مارکیٹ ہے۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ چین مین پیداواری لاگت زیادہ ہو گئی ہیں، یعنی یہ کہ مزدوروں کی اجرت بڑھ گئی ہے۔ پیدااور اب چین میں منافع بخش نہیں رہی۔ چین میں سرمایہ کاراسی وقت تک منافع بخش تھا جب تک چین میں اجرت کم تھی۔اب سرمایہ زیادہ جمع ہونے کے عمل نے اجرتوں کو جیسے بڑھا دیا ہے۔ اس لیے چین ایسے علاقوں کی تلاش میں ہے جہاں مزدوروں کی اجرت کم ہو۔ خام مال بھی ہو، بندرگاہ بھی قریب ہو اور پیداوار کے لکے مارکیٹ بھی وہی خطہ ہو۔ پاکستان چین کے لیے ایک پسِ منظر کی حیثیت رکھتا ہے۔ کسی زمانے میں پاکستان امریکہ کے لیے منفرد تھا ، پاکستان اب چین کے لیے پکا ہوا پھل ہے اور چین کی گود میں گرنے کے لیے بے قرار۔
گلگت بلتستان تنگ درووں اور تنگ وادیوں کا شمالی علاقہ ہے۔ یہ علاقاہ اس کے قدیم باسیوں کے لیے تنگ ہوتا جا رہا ہے اور جو تباہی پاکستانی سرمایہ داری کے آنے سے ہونا تھی وہ ہو چکی۔ اب کسی دوسرے سرمائے کے آنے سے جو تباہی آئے گی وہ کسی قیامت سے کم نہیں ہو گی۔ پہلی تباہی ہو گی وہ ماحول کی تباہی ہو گی جو ہزاروں مال بردار ٹرکوں کے گزرنے کی وجہ سے پیدا ہو گی۔موسمی تبدیلی کو ہر کوئی یہاں محسوس کر سکتا ہے۔ جا بجا گلیشیر پگھل رہے ہیں، خشک پہاڑ رائی کی طرح گر کر عطاءآباد جھیل بنا دیتے ہیں، سیلاب میں پورے پورے علاقے زمین بوس ہو رہے ہیں۔ اگر واقعی کوریڈور شروع ہوا تو پہاڑوں پر پگھلنے والی برف مزید تیزی سے ختم ہو گی اور لاکھوں لوگ ہجرت پر مجبور ہوں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *