شام میں انقلاب اورجنگ

شام میں انقلاب اورجنگ

ترجمہ وتلیخص :روزاخان


پانچ سال قبل شام میں عوامی بغاوت ہزاروں افراد کے سڑکوں پر آنے سے شروع ہوئی اور اب پورا ملک خانہ جنگی میں جل رہا ہے۔
شامی انقلاب جن مقاصد کے لیے برپا کیا گیا تھا، خانہ جنگی اور ملک کی تباہی اس کا مقصد ہرگز نہیں تھا۔ یہ انقلاب تو دراصل بہار عرب سے متاثر ہوکر برپاکیا گیا تھاجس کے اثر میں پورا جنوبی افریقہ اور مشرق وسطی تھا۔شام کے لوگوں میں بے چینی پہلے سے موجود تھی،بہار عرب نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔لوگوں نے جب مصری مظاہرین سے اظہار یکجہتی کی تو ریاست کی طرف سے انہیں بری طرح سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔’ڈیرا کوپس‘ میں پندرہ طلباءکو دیوار پر ©© ’لوگ حکومت کا تختہ الٹنا چاہتے ہیں ‘ ،نعرہ لکھنے کی وجہ سے گرفتار کیا گیا۔اسد کے خفیہ پولیس کی طرف سے لوگوں پر کئے جانے والا تشددہی ملک بھر میں مظاہروں کا سبب بنا۔
سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں نے سیاسی اصلاحات کے لئے دمشق کی طرف مارچ کیا جس پر اسد کے سپاہےوں نے گولیا ں چلائیں اور الزام بیرونی سازشوں پر دھر دیا۔
مظاہروں کا یہ سلسلہ تیزی سے پھیلا اور اب لوگ حکومت کا تختہ الٹنا چاہتے تھے۔اسد کی حکومت پیچھے ہٹی اور لوگوں نے بنیادی عوامی خدمات(پبلک سروس) چلانے کے لئے اپنی کمیٹیاں بنا لی جس میں عام عوام کے ساتھ ساتھ سرگرم کارکنوں نے بھی حصہ لیا۔لیکن حکومت کی طرف سے بری طرح بمباری کر کے تباہی پھیلائی گئی اور اس عوامی تحریک کو پیچھے دھکیلا گیا۔مغرب مشرقی وسطی میں اپنے کھوئے ہوئے حاکمیت کوواپس پانے کے لئے بیتاب تھاجو کہ عرب بہار کی وجہ سے کمزور پڑ گئی تھی۔اقوام متحدہ شامی منحرفین کی تشکیل کردہ شامی قومی کونسل ( سیرین نیشنل کاو¿نسل) اور’ دا سیرین نیشنل انیشیٹو‘ کی پشت پناہی کررہا تھالیکن اس کو بنانے والے کچھ سیاستدانوں کے نچلے طبقے کے لوگوں سے بھی رابطے تھے۔تےونیس اور شام کی طرح منظم مزدور طبقے نے اس انقلاب میں کوئی خاص کردار ادانہیں کیا کیونکہ ۱۱۰۲ سے قبل مزدور طبقہ نے مظاہروں کے ذریعے خود کو منظم کرنے کا کوئی تجربہ حاصل نہیں کیا تھا۔
۱۱۰۲ کے دسمبر میں ایک عمومی ہڑتال کی کال تو گئی تھی لیکن یہ شہری نافرمانی کے لئے دی گئی تھی نہ کہ مزدور طبقے کو منظم کرنے کے لئے۔اس انقلاب کے جواب میں اسد حکومت نے بری طرح سے لوگوں کو کچلا اور نسل پرستانہ جنگوں کی شروعات ہوئی جس کا مطلب یہ نکلا کہ ہتھیار تھامے لوگ ہی اپنا اثر پیدا کر سکتے ہیں۔
باغی افسروں اور فوجیوں نے فری شامی آرمی قائم کر لی۔شروعات میں انہوں نے بہت سی جنگیں لڑیںاور پھر مختلف اسلامی گروہوں کا حصہ بن کر اپنا اثر قائم کیا۔بغاوتوں کو کچلنے کیلئے حکومت نے ملک کے شمال مشرق حصے کو خالی کردیا اور اسطرح پڑوسی ملک عراق سے آنے والی القاعدہ کو اس خطے میں قدم جمانے میں کو ئی مشکل نہیں ہوئی۔تمام عالمی قوتیں اس خطے میں اپنا کنٹرول حا صل کرنے کے لئے کسی نہ کسی گروپ کو سپورٹ کرنے یہاں آپہنچی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ شامی حکومت بہت کمزور ہو چکی ہے جس کے نتیجے میں ملک ٹکڑوں میں تقسیم ہو جائے گا۔
مغرب نے اس میں ۳۱۰۲ کو مداخلت کی کوشش کی جس کو عالمی سطح پر جنگ مخالف تحریک کے ذریعے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا گیا ۔۵۱۰۲ میں روس اسد کی حوصلہ افزائی کے لئے شام میں داخل ہوا۔نومبر ۵۱۰۲ میں ہونے والے پیرس ٹیرر اٹیکس کے بعد برطانیہ سمیت مغربی طاقتیں القاعدہ سے جنگ کی آڑ میں یہاں داخل ہوگئے۔شام میں ردانقلاب کے لئے ملاپ اور عالمی قوتوں کی مداخلتیںاس جنگ کی
ہولناکی کی وجہ بنا۔
رازان غزاوی جو کہ شامی نژاد امریکی،مہم جواور سرگرم کارکن تھی اورجس نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف کافی کام کیا، انقلاب کے آغاز میںدمشق میں تھی۔انہوں نے شام اور عراق کے حالات پر ریسرچ کرنے والی ڈاکٹر عینی الیگزنڈر کو بتایا کہ:
’۱۱۰۲میںتیونس میں بن علی اور مصرمیںمبارک کے انہدام نے لوگوں میں بہت حوصلہ پیدا کیا۔سال کے شروع میں چھوٹی سطح پر جو احتجاج ہوئے وہ بلاگرز کی طرف سے منظم کئے گئے تھے لیکن الحمیدیہ سوق میں فروری میں ہونے والے احتجاج نے حالات تبدیل کردیئے جوکہ پولیس کی طرف سے ایک دکاندار کو مارنے کے نتیجے میں کیا گیا تھا۔ایسا پہلی بار ہوا کہ مقامی لوگوں نے خود سے مرکزی دمشق کے ایک بہت بڑے حصے پر احتجاج کیا۔ان کا مطالبہ تھا کہ اب شامی لوگوں کو اور نہیں دبایا جائے گا۔ اس کے علاوہ اور کوئی واضح مطالبات نہیںتھے۔لوگ پریشان تھے کہ کیا کیا جائے کیونکہ یہ ایک تجرباتی تحریک تھی۔یہ تحریک اب تک خود کو جاننے میں لگی ہے۔لوگ اب بنا کسی ڈر اور خوف کے سیاسی گفتگو کرنے لگے ہیں یہاں تک کہ اب سرگرم لوگ گھروں اور چھوٹے سرکلز میں مل سکتے ہیں۔
’ثقافتی افراد،لکھاری، صحافی ،دانشور،جن کاتعلق اعلی مڈل کلاس سے اورجوحکومت مخالف تھے،کواب ہرقسم کے ذرائع بشمول انٹرنیٹ تک رسائی حاصل تھی‘۔ ’مزدورطبقہ کے افرادکواگرچہ اس طرح کی رسائی حاصل نہ تھی مگریہ تحریک میں مرکزی اہمیت کے حامل رہے‘
چنگاری جس نے اس چھوٹے پیمانے کے مجموں کوایک بہت بڑی عوامی بغاوت میں بدل ڈالاوہ شام کے جنوبی سرحدی قصبے ’دیرا‘سے بڑھکی۔احتجاجی مظاہرے اس وقت پھوٹ پڑے جب اسکول کے بچوں کے ایک گروپ کوگرفتارکیاگیاجوایک دیوارپرلکھ رہاتھا’عوام حکومت کوگرا ہودیکھناچاہتے ہیں‘۔
رازن نے کہا’ان(بچوں) پرتشددکیاگیا۔پھرفوج نے مظاہرے کرنے والے خاندانوں پرگلی چلاکران کوہلاک کیا۔اس نے پوراشامی سماج سکتے میں آگیا۔ان سے یکجہتی کرنے کے لئے پورے دیراکے خطے میں مظاہرے پھوٹ پڑے اوربہت جلد یہ دیگرعلاقوں تک پھیل گئے۔‘اول توسینکڑوںافردمظاہروں میں شریک ہوئے پھریہ تعدادہزاروں تک جاپہنچی۔دوسرے شہروں میں بھی مظاہرے ہوئے ۔
’حکومت کی طرف سے جبر، مظاہرین کے عزم میں اضافہ کی صورت میں ہی نکلا‘۔رازن نے کہا۔’ان کے خلاف فوج کے استعمال کے باوجودیہ احتجاج کوجاری رکھے ہوئے تھے۔شروع کے چند ہفتوں میں ، مظاہرین کے زیادہ ترمطالبوں کاتعلق سیاسی اورمعاشی اصلاحات کاتھے۔عوام نوکریوں کامطالبہ کرتے،عوامی سہولیات ،تعلیم اورصحت وغیرہ کی سہولیات میں بہتری کی مانگ کرتے۔‘
اضافہ
’حکومت کی طرف سے جبرکی وجہ سے عام مطالبات ،حکومت کے خاتمہ کے مطالبے میں بدل گئے‘۔نوجوان افرادکوپتہ تھاکہ حکومت اپنے جبرکے لئے پہچانی جاتی ہے۔جبکہ پرانی نسل کو۰۸۹۱کی دہائی میں احتجاج کوبزورطاقت کرش کرنایادتھا۔لیکن یہ ۱۱۰۲میں تشددکی اس سطح کے لئے تیارنہ تھے۔۲۸۹۱میں ’ہاما‘شہرمٰں اسلام پرستوں کی طرف سے بغاوت کی کہانی جنہوں بعدازاں شہرکومحصورکردیاتھاجن پرشامی فوج نے حملہ کرکے بیس ہزارلوگوں کوذبح کرڈالا،تاریخ سے صاف کردیاگیاتھا۔’حکومت اپنی جبراورتشددکے بدنام تھی۔لیکن یہ اپنے تشددکوچھپاتی تھی۔رازان نے کہا۔’لوگ عام طورپرخوفزدہ رہتے ۔اورہاماشہرکے قتل عام
کاذکرنہیں کرتے۔لاکھوں شامی جنہوں نے سنسرشپ اورٹارچرکاسن رکھاتھا۔ان کوکھلے عام اورمل کرجبرکودیکھنے اورسہنے کاپہلی مرتبہ تجربہ ہورہاتھا۔بشرالاسد کولبرل اصلاح پسندکے طورپرپیش کیاجاتاتھا،کیونکہ اس کی تعلیم برطانیہ میں ہوئی تھی۔لیکن ہم نے بشرکواس کے باپ ہی جیساپایا۔بلکہ اس سے کچھ زیادہ ہی مظالم ڈالنے پرآمادہ نظرآرہاتھا۔

’مل کرمظاہرے کرنے سے آپ کوتقسیموں پرقابوپانے کے لئے جگہ مل جاتی ہے۔اس ابھارمیں ہم نے مکالمہ کاآغازکردیاتھا۔‘
’ایک چیزجومیں نے اس ابھارسے سیکھی وہ یہ ہے کہ ہم جس قدراپنے آپ کوجانتے ہیں،حکومت ہم کواس سے بہترجانتی ہے۔کیونکہ اس کے پاس ساری معلومات ہیں،اس کے پاس سارے نقشے ہیں، اس کے پاس ہرچیزہے۔ہم ایک حیران کن محدودحقیقت میں زندگی گزارتے ہیں، جہاں ہم دیگرممکنہ حقیقتوں کی موجودگی سے آشنانہیں تھے۔اس کے باوجودہم نے اس ابھارمیں اپنے آپ کودریافت کرلیا۔
حکومت نے بہت کوشش کہ جنگ کے ہراول دستے میں فرقہ ورانہ تفریق کوپیداکرے تاکہ عوامی تحریک کے اتحاد میں دراڑیں ڈال سکیں۔’لیکن یہ ایسانہیں تھاکہ لوگوں نے ایک دوسرے کواس وجہ سے قتل کرناشروع کردیاکیونکہ وہ ایک دوسرے سے نفرت کرتے تھے۔اس کے برعکس یہ ہواکہ لوگوں نے پرامن احتجاج شروع کردیا۔’تب فوج اورسیکورٹی فورسزآئیںاوران پرگولی چلائی،ان پربمباری کی،کیمیائی ہتھیاراستعمال اوران کوٹارچرکیااورمارا۔اس کے نتیجہ میں شامی عوام نے تشددکی طرف رخ کیااورانہوں نے ۲۱۰۲کے اواخراور۳۱۰۲کے آغازمیں ہتھیاراٹھاکراپنادفاع کرناشروع کیا۔‘
’میں اس احتجاج میں موجودتھی۔یہ ایک پرامن احتجاج تھاجس کوآزادشامی فوج(فری سیرین آرمی ،ایف ایس اے)نے گھیرے رکھاتھامگرجس نے ایک بھی گولی نہیں چلائی ۔یہ تواس لئے موجودتھے کہ ہمیں مارنے سے بچائے۔ان لوگوں کی فوج تھی جوشامی فوج سے بغاوت کرکے مظاہرین کی مددکوآئے تھے۔‘
’تمام ترمصائب کے باوجودہم کویادرکھناچاہیے کہ لوگ کیسے تبدیل ہوتے ہیں۔بہت سارے ایسے افرادجوخواتین کے کام کرنے پریقین نہیں رکھتے،آج یہ خواتین کی شمولیت کے بارے میں مکمل طورپرتبدیل ہوگئے ہیں۔ہمیں یہ بھی یادرکھاچاہیے کہ جب لوگ کہتے ہیں کہ شام میں خانہ جنگی ہے،سات سے زائد ممالک نے گزشتہ پانچ سالوں میں شام پربم گرائے ہیں۔میں اسے شام پرجنگ کہتی ہوں‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *