سرمایہ دار اور شپ یارڈ

سرمایہ دار اور شپ یارڈ

تحریر: ریاض احمد

اس ماہ کے سوشلسٹ میں گڈانی شپ یارڈ پر ایم ٹی ایس از پر خوفناک حادثے پر علی ارقم کی خصوصی رپورٹ شائع کی جا رہی ہے۔ اس رپورٹ کو پڑھ کر آپ کو بخوبی اندازہ ہو جائے گا کہ آگ سے جھلس کر مرنے والے ۸۲ سے ۰۰۱ سے زائد افراد کی موت کی وجہ کیا تھی۔ مختصر الفاظ میں اس حادثہ کی وجہ ہر طرح کے سرمایہ داروں کی منافع خوری تھی۔ اس حادثہ کے ذمہ دار جہاں مالکان ہیں وہاں مزدوروں کے ٹھیکہ دار بھی ہیں۔ اور شپ بریکنگ کے اس خوفناک کاروبار میں ملوث صرف یہی مالکان اور ٹھیکہ دار ہی نہیں بلکہ مقامی پولیس، کسٹمز کے بغیر یہ کاروبار ممکن ہی نہیں۔ اس کاروبار کا سب میں بڑا فائدہ ان جہاز راں کمپنیوں کو ہوتا ہے جیسے ڈنمارک کی مرسک لائن کہ جو اولین سطح پر اپنے ناکارہ جہاز کباڑیوں کو فروخت کرتے ہیں اور یوں عالمی مارکیٹ سے یہ جہاز اپنا سفر طے کر کے پاکستان کے گڈانی شب یارڈ میں آن پہنچتے ہیں۔
اس طرح جہاز چلانے والی کمپنی کے بہت بڑے سرمایہ داروں سے لے کر جہاز میں بچے کچے فرنس آئل کو کراچی کی بھٹیوں میں استعمال کرنے والے بہت ہی کم سرمایہ لگانے والے بھی شپ بریکنگ سے منافع بنا رہے ہیں۔ ناکارہ جہازوں میں موجود ریفائنڈ تیل بطور فیول بکتا ہے، ان میں موجود کچرا تیل یعنی سلج یہ بطور فرنس آئل یا ریفائنری کے آئل کے طور پر فروخت ہوتا ہے۔ اسی طرح جہازوں سے نکلی ہوئی لکڑی کراچی کی ٹمبر مارکیٹ، بچے ہوئے پائپ ، اسٹیل کی شیٹیں کراچی کی اسکریپ مارکیٹ یا اسٹیل ری رولنگ مل مالکان کی ملوں کا رُخ کرتی ہیں۔ جہاز کو کاٹنے، اس میں سے تیل اور دیگر سامان نکالنے کا خطرناک ترین کام وہ لوگ کر رہے ہیں جو دور دراز علاقوں سے کراچی روزگار کے لیے آتے ہیں اور جانے انجانے موت کی اس وادی میں پہنچ جاتے ہیں۔ لیبر کانٹریکٹر یا مزدوروں کے چھوٹے ٹھیکہ داروں کا کام یہی ہے کہ کسی طوراپنی برادری یا نیم ہنر مندوں کو بہلا پھسلا کر گڈانی تک لے آئیں ۔ انہی کی محنت مزدوری کا پھل ٹھیکہ دار، شپ یارڈ مالکان، کسٹم، نیوی عملہ، پولیس، بلوچستان ڈولپمنٹ اتھارٹی، ری رولنگ مل مالکان اور تیل ریفائن کرنے اور اسے بیچنے والے چھوٹے سرمایہ دارکھاتے ہیں۔ مزدوروں کو جو اجرت ملتی ہے وہ کراچی کے دیگر علاقوں میں کام سے کچھ زیادہ ہوتی ہے۔ لیکن یہ بات جہاز کو دیکھ کر ہی واضع ہو جاتی ہے کہ اس پر صفائی، کٹائی، دھلائی کا کام انتہائی خطرناک ہے ۔علی ارقم کا یہ مضمون یہی بتاتا ہے کہ ہر سطح پر ریاستی ادارے مزدوروں کو خوفناک حالات میں کام کرنے چھوڑ دیتے ہیں اور کوئی ریگولیشن نہیں کی جاتی کیونکہ شپ بریکنگ میں بڑے سرمایہ دار ملوث ہیں، انہی کی ملیں اور بھٹیاں ہیں اور یہ ریاست کے اندر اپنا اثر رسوخ استعمال کر کے سیفٹی اور حادثات کی روک تھام پر کوئی خرچ نہیں کرتے۔ اسی طرح یہ لاگت کم رکھنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ اور لاگت کم ہو تو یہ عالمی مارکیٹ سے ناکارہ جہازاُٹھانے میں اسی لیے کامیاب ہو جاتے ہیں کہ دیگر جگہ پر سیفٹی اور مزدور حقوق دینے میں لاگت بڑھ جاتی ہے۔ پاکستان، انڈیا اور بنگلہ دیش میں یہی سرمایہ دار اور ریاستی گھٹ جوڑ ہے جو انتہائی خطرناک کام کے حالات کو نظر انداز اسی لیے کرتا ہے تا کہ سرمایہ دار منافع کما سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ سال ۵۱۰۲ءمیں ۴۷ فیصد شپ بریکنگ انہی تین ممالک میں ہوئی جن میں پاکستان کا تیسرا نمبر ہے۔
گڈانی شپ یارڈ پر لگنے والی آگ اور اس میں بے دردی سے مارے جانے والے مزدوروں کی کہانی ہمیں یہی بتاتی ہے کہ سرمایہ داری اسی قسم کے ہولناک نظام کا نام ہے۔ سرمایہ داروں کا میڈیا یہی بتاتا ہے کہ ٹھیکہ داروں کی غفلت تھی یا مزدوروں نے احتیاط نہ برتی۔ یہ نہیں بتاتا کہ لاگت کم کرنے کے لیے ریاست نے سرمایہ داروں کو چھوٹ دے رکھی ہے۔ یہ نہیں بتاتا کہ منافع کو انسانی جان اور اس کی سیفٹی پر برتری حاصل ہے۔بعض لوگوں کے نزدیک یہ طفلی سرمایہ داری یا نئی سرمایہ داری کی خاصیت ہے کہ یہ کام کے حالات کو نظر انداز کرتی ہے۔ بعض کا کہنا یہ ہے کہ تعلیم کی کمی کے سبب مالکان حادثات کی بروقت روک تھام نہیں کر پاتے۔ لیکن یہیں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر معمولی سی تکلیف پر یہی بڑے سرمایہ دارکس طرح بیرون ملک جا کر علاج کراتے ہیں؟ ٹھیکہ دار اگر اتنے ہی کم پڑھے لکھے ہیں تو یہ نیوی، پولیس، ڈولپمنٹ اتھارٹی اور این اوسی جاری کرنے والے ماحولیاتی ڈپارٹمنٹ میں رشوت چلا کر کیسے کام چلا لیتے ہیں؟ سرمایہ داری نظام میں کیونکہ فوقیت سرمائے کو حاصل ہے اسی لیے سرمایہ داروں کے بیچ اندھا مقابلہ ہے۔ ریاست ان پر روک تھام نہیں بلکہ انکی معاونت کے لیے سرگرم ہے۔ ریاست اور سرمایہ داروں کا یہ گٹھ جوڑ مزدور طبقہ ہی ختم کر سکتا ہے۔ مزدور منظم ہوں، اپنے ساتھیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کےلیے باہر نکلیں تو سرمایہ داروں کی گرفت ڈھیلی پڑے گی۔ تب ہی ممکن ہو گا کہ سرمایہ داروں کو منافع سے پیچھے دھکیلا جا سکے۔

ویسے بھی پاکستان میں سرٹیفیکشن کی نوعیت سیفٹی کی ضروریات سے کہیں کم ہیں۔ رابن دی بوائس کی رپورٹ کہتی ہے کہ ’پاکستان آنے والے جہاز کے لیے گیس سے پاک سرٹیفیکشن کا تعلق خطرناک علاقے میں مزدوروں کی سیفٹی تک محدود ہے، اسے ہاٹ ورکس (گرمائش زدہ کام) سے کوئی سروکار نہیں ۔۔۔ہاٹ ورکس کےلیے کسی کلیرنس کی ضرورت نہیں‘۔ ہاٹ ورک کے لیے ایسیٹائلین گیس اور اسی طرح کی گیسوں کے ویلڈنگ ٹارچ استعمال کیے جاتے ہیں جن سے ہی سلج کو آئل ٹینک کی دیواروں سے الگ کیا جاتا ہے۔
کامران علی تیل کی صفائی کا کام کرتا ہے۔ یہ کہتا ہے کہ تیل کا ٹھیکہ دار فاروق بنگالی اس کا دوست ہے، اسی کو ایم ٹی ایس از کی صفائی کا ٹھیکہ ملا تھا۔علی کہتا ہے کہ ’جب جہاز آیا تو ہم سے فاروق نے کہا کہ جا کر دیکھو اور بتاﺅ کے تم یہ کام کر سکتے ہو کہ نہیں۔ جب ہم وہاں پہنچے تو دیکھا کہ ٹینکوں میں موجود پانی اور سلج سے خطرناک دھوﺅاں اٹھ رہا تھا۔ خطرہ یوں بھی اور زیادہ تھا کہ ٹینک سورج کی روشنی کی وجہ سے بہت گرم تھے‘۔علی کے مطابق کوئی بھی ان ٹینکوں کے قریب پندرہ سے زیادہ منٹ نہیں ٹھر سکتا تھا ۔ اور جو کوئی ایسا کرتا وہ یا تو بے ہوش ہوتا یا پھر اس کا دم گھٹنے لگتا۔ یوں کامران علی نے یہ کام لینے سے انکار کردیا۔ لیکن جہاز کے مالک کو جلدی تھی، وہ چاہتا تھا کہ ٹینکوں کو جلدصاف کیا جائے اور اسی لیے ٹھیکہ بنگالی کو ۰۹ لاکھ روپے میں دیا بھی تھا اور ساتھ ہی یہ ہدایت بھی کہ جتنے لوگ چاہو بھرتی کرو اور اس کام کو جلد مکمل کرو۔ اور یہی کچھ اس نے کیا۔علی کہتا ہے کہ ’میرے علاوہ درجنوں دیگر تیل صاف کرنے والے مزدوروں نے کام کے خطرناک حالات کے سبب انکار کر دیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ جہاز کو پہلے کھلے سمندر میں لے جایا جائے تا کہ زہریلا دھوﺅاں خارج ہو اور اس کے بعد ہی جہاز کی صفائی شروع ہو ۔ایک اور صفائی کا ٹھیکہ دار سلیم جو کہ کام کے خطرات کو بخوبی سمجھتا ہے ۔اس نے ایک اور جہاز پر تیل صفائی کا کام اُس وقت روک دیا جب ماکان چاہتے تھے کہ ’ہاٹ‘ ورک کے ساتھ ساتھ سلج کی پمپنگ کا کام بھی چالو کر دیں، سلیم کا سوال تھا کہ اگر اس دوران کوئی حادثہ ہوتا ہے تو ذمہ دار کون ہو گا۔ بنگالی البتہ کسی طور یہ کام نمٹانا چاہتا تھا۔ اس نے نئے اور ناتجربہ کار افراد کراچی سے بلا کر رکھ ہے اور تیل کی صفائی کا کام شروع کر ا دیا‘۔
عام طور پر دھوئیں اور گیسوں کے اخراج میں جہازوں کے ڈھانچے یعنی لوہے کی شیٹوں میں سوراخ کیے جاتے ہیں اس کے لیے ڈرل مشین یا گرائنڈر استعمال ہوتا ہے۔ ایسے سوراخ کرنے کے لیے ایسیٹائیلین گیس کے ویلڈنگ ٹارچ استعمال نہیں کیے جاتے کیونکہ ایسا کرنا آگ لگانے کے مترادف ہوتا ہے۔ البتہ ایم ٹی ایس از پر کیونکہ ناتجربہ کار لوگ تھے اور کوئی احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کی گئی تھیں اس لیے کام کرنے والوں کو خطرات کا اندازہ بھی نہیں تھا۔
جب ایم ٹی ایس از کو یارڈ نمبر ۴۵ پر لادا گیا تو اس کے مالک عبدالغفور کمبوہ عرف چوہدری نے اخراجات بچانے کے لیے خیر محمد ٹھیکہ دار کو برخاست کر دیا جبکہ عام طور پر یہ اسی کے ساتھ کام کرتا تھا اور اس کی جگہ ناتجربہ کار گل زمین کو لگا لیا۔ گل زمین ابھی ۰۴ کے پیڑے میں ہے ، انگریز کے نام سے جانے جانے والا یہ اپر دیر کا پشتون ہے اسے تنخواہ پر لیبر سپروائزر تعینات کیا گیا تھا اور اس سے وعدہ تھا کہ اسے لیبر کنٹریکٹر کے عہدے پر ترقی ملے گی گر یہ ایم ٹی ایس از کو توڑنے کا کام ۵۱ دن کے اندر مکمل کر لے۔ بعد ازاں ڈوگر، جو گراﺅنڈ فورمین اور جہاز کے مالکان کا فرنٹ مین بھی ہے ، اس نے سیٹھ کی ڈیمانڈ نئے سپروائزر کے سامنے رکھ دیں۔ یہ سپروائزر ہاٹ ورک کا انچارج تھا اور ڈوگر نے اس سے مطالبہ کیا کہ مین ڈیک پر پائپ لائنوں کی کٹائی کا کام فوری طور پر شروع کر دیا جائے۔ آئیل ٹینکر کے اندر پائپ لائنوں کا ایک جال ہوتا ہے جو مین ڈیک پر بچھا نظر آتا ہے۔ ہر پائپ لائن کا الگ مقصد ہوتا ہے۔ کچھ سے تیل کی ترسیل ہوتی ہے، کچھ سے ہائیڈرالک تیل ، کچھ سے ناکارہ تیل گزرتا ہے۔ پھر دیگر لائنیں جیسے بلج پانی اور صاف پانی کی لائنیں ہوتی ہیں۔ یہ پائپ لائنیں ان ٹینکوں سے جڑی ہوتی ہیں جن میں ہر طرح کا مال ہوتا ہے۔
گل زمین کے ساتھ کام کرنے والے ایک مزدور نے بتایا کہ ’حادثہ کی رات گل زمین کو ڈوگر کا فون آیا اور اس کا اصرار تھا کہ مین ڈیک پر ہاٹ ورک کوٹینکوں کے اندر تیل کی صفائی کے کام کے ساتھ ساتھ شروع کر دیا جائے‘۔گل جسے شپ یارڈ میں نوکری ہی ڈوگر کی وجہ سے ملی تھی اس دباﺅ پر بہت پریشان ہو گیا۔ لوگوں نے سنا کہ وہ کہہ رہا تھا کہ اسے کسی قسم کی تاخیر نہیں ہونے دینی اور ہاٹ ورک کو اگلے ہی روز شروع کرانا ہے۔
ان خطرات کو دیکھتے ہوئے مگر ترقی کی لالچ میں بھی اور یہ بھی جانتے ہوئے کہ اس کے دوست بطور لیبر کنٹریکٹر کروڑ پتی بن چکے تھے گل زمین نے تمام تر خطرات کو نظر انداز کر دیا۔ ۲۱ ویلڈر اور ۴۲ ہیلپر پائپ لائنیں کاٹنے کے لیے رکھ لیے۔ظاہر ہے حادثہ تو بس وقت کا محتاج تھا، اس نے کسی بھی لمحے ہو جانا تھا۔ سلج، بلج پانی اور تیل سے اٹھتے ہوئے زہریلے دھوئیں کو اس وقت آگ لگ گئی جب ٹینک کو جانے والی ایک پائپ لائن کاٹنے کے لیے بلو ٹارچ کو شعلہ دکھایا گیا۔ ایسیٹائلین گیس اور شعلہ ملا اور ایک زور دار دھماکہ ہوا جس میں تیل کے دھوﺅں میں شامل تیل شامل تھا۔ اور اس دھماکہ کی گونج سے دیگر ٹینک بھی پھٹ پڑے۔ گل زمین، اس کا بیٹا، کئی بھانجے بھتیجے ان ۸۲ ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں جن کی شناخت ہو چکی ہے۔ یہ تمام زندہ جل گئے۔
سید شاکر علی، ایک ۳۲ سالہ پشتون اپر دیر سے تعلق اور پلاٹ نمبر ۴۵ کے سامنے ہوٹل کا مالک ہے۔ یہ دھماکہ کے وقت اپنے لکڑی کے کیبن میں بیٹھا تھا جو کبھی کسی جہاز کا حصہ تھا۔ اس نے دھماکے کی آواز سنی، چیخ و پکار ، آہیں اور کراہیں اور امداد کے لیے چیخیں۔ وہ بتاتا ہے کہ ’دھماکہ اس قدر زوردار تھا کہ میرا کیبن جو ۰۰۳ میٹر کے فاصلے پر تھا یہ بھی لرز گیا۔ میں بستر سے زمین پر آن گرا۔ جب میں نے کھڑکی سے باہر دیکھا تو جہاز سے دھوﺅاں اُٹھ رہا تھا۔ اس کا اگلا حصہ اُڑ چکے تھے اور جہاز آر پار تھاکیونکہ ٹینکوں کو حصوں میں تقسیم کرنے والا ڈھانچہ دھماکے سے تباہ ہو چکا تھا۔
’لوگ جمع ہونا شروع ہو گئے۔ لیکن سب ہی پریشان تھے کہ قریب جانے سے ڈر رہے تھے کیونکہ دھماکے جاری تھی اور آگ پھیل رہی تھی۔ اس سے برا یہ تھا کہ انسانی اعضائ، جہاز کے حصے یعنی لوہے کی شیٹیں اور پائپ ہر طرف سے آسمان سے گر رہے تھے۔ علاوہ ازیں بچاﺅ کا کوئی سامان ہی نہیں تھا۔ گڈانی میں استعمال ہونے والی واحد سرکاری ایمبولینس سرکاری افسران نے اپنی ذاتی سواری بنائی ہوئی تھی یا پھر یہ ان کے بچوں کو اسکول سے لاتی لے جاتی تھی۔ یوں ہم نے فیصلہ کیا کہ اور ساتھی ہوٹل مالک اور میں نے اپنی سوزوکی پک اپ وین فراہم کیں اور یوں زخمیوں کو ہسپتال پہنچایا گیا۔ کسی نے اپنی ٹرک دی اور یوں ہم نے زخمیوں کو قریبی رورل ہیلتھ سینٹر پہنچایا۔ ‘
وارث شاہ ، ایک ویلڈر ایک اور پلاٹ پر کام کرتا ہے۔ یہ ان لوگوں میں سے تھا جو جائے حادثہ پر دھماکے کی آواز سن کر پہنچے۔ وہ بتاتا ہے کہ اس نے جو دیکھا وہ لرزہ خیز تھا۔ ’زخمیوں اور ہلاک افراد کو فورک لفٹ سے اٹھایا جا رہا تھا اور انہیں فوم کے میٹرس پر ڈالا جا رہا تھا جو سوزوکی پک اپ اور ٹرک پر رکھے ہوئے تھے۔ پھر انہیں قریبی ہسپتال لے جایا گیا‘۔ ایک گھنٹے بعد ایدھی ایمبولینس حب اور کراچی سے پہنچیں۔ پھر نیوی اور دیگر فورسز کی میڈیکل ٹیمیں آئیں۔ حب میں واقع جام قادر ہسپتال تک میں ضروری علاج کی سہولیات نہ تھیںنہ ہی کوئی برنس وارڈ۔ یوں قریب ۰۶ زخمیوں کو کراچی پہنچایا گیا۔
ٍ پولیس کی تحقیقات کے مطابق فاروق بنگالی نے ۴۲ مزدور ٹھیکہ پر لیے اور چھ مزید مزدور ٹھیکہ دار تبسم اور خالد کے زریعے لیے۔ البتہ فاروق دھماکہ ہوتے ہی جہاز سے چھلانگ لگا کر بھاگ نکلا اور بعد ازاں گرفتار ہوا۔ دیگر دو ٹھیکہ دار ہنوز فرار ہیں۔فاروق کی بتائی مزدوروں کی تعداد پر مقامی مزدوروں کو کوئی بھروسہ نہیں۔ ایک مزدور جو تیل صاف کرنے کا کام کرتا ہے وہ بتاتا ہے کہ ایک ٹینک کی صفائی کےلیے ۰۳ سے ۰۴ مزدور درکار ہوتے ہیں جبکہ وہاں تو دو ٹینک صاف ہو رہے تھے، یوں فاروق کی بات قابل بھروسہ نہیں۔جہاز پر کام کرنے والوں کی تعداد گھٹتی بڑھتی رہتی ہے۔ یارڈ مالک کو روزانہ جہاز پرچڑھنے والوں کے نام دینا ٹھیکہ دار کا کام ہے۔ علی بتاتا ہے کہ ’جب میں نے جہاز پر چائے فراہم کرنے والے سے پوچھا کہ آج کتنے لوگوں کے لیے چائے بنانی تھی تو اس کا جواب تھا ۰۶‘۔مرنے والوں میں کچھ تو یکسر جل کر خاکستر ہو گئے۔ اسی لیے بعض روپورٹوں کے مطابق کل ہلاکتیں سو سے زائد تھیں۔
جو بچ گئے انہیں جان بچانے کی سہولیات میسر نہ تھیں۔ بلوچستان ڈولپمنٹ اتھارٹی سہولیات کے فقدان کا ذمہ دار معاشی مسائل کر ٹھراتی ہے۔ یہ کہتے ہیں کہ جہاز پر اسکریپ کی فروخت ۸ ہزار روپے فی ٹن ہوتی ہے جبکہ اتھارٹی کو صرف ۰۵ روپے ٹن دئیے جاتے ہیں۔ نصر اللہ زہری کہتے ہیں کہ ۸۷۹۱ءکے ایک معاہدے کے مطابق وفاق کو بلوچستان کو ریونیو میں سے آدھا ادا کرنا ہوتا ہے مگر ابتدائی سالوں کے بعد ایسا ہونا بند ہو گیا۔ رورل ہیلتھ سینٹر اور پرائمری ہیلتھ کیئر کے ملازمین بھی کہتے ہیں کہ دھماکہ کے زخمیوں کا علاج ان کے ہاں ممکن ہی نہ تھا۔ نہ ادویات ہیں اور نہ ہی بنیادی سامان ۔ماضی میں حادثات ہوئے تو انہوںنے شپ بریکرز اور یونین والوں سے رابطہ کیا مگر کسی نے لفٹ نہ کرائی۔ مزدوروں کی تکالیف پر یہ سب بالکل بے گانہ اور لاپرواہ ہیں جبکہ یہ یارڈ سرکاری سرپرستی میں چلائے جا رہے ہیں۔ میڈیا پر معاملے کو انڈین سازش بھی قرار دیا گیا۔ مگر یہ سب لاعلمی پر محیط تھاکیونکہ جب جہاز پاکستانی حدود میں داخل ہوتا ہے تو اسے پاکستانی میرین کا عملہ اپنے قبضہ میں لے لیتا ہے۔جیسے ہی جہاز لنگر انداز ہوتا ہے تو غیر ملکی عملے کو ائیرپورٹ روانہ کر دیا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں بڑی شپنگ کمپنیاں ہی شب پریکنگ کے لیے جہازوں کو پاکستان، انڈیا ، بنگلہ دیش جیسے ملکوں میں بھیج رہی ہیں۔ حال ہی میں ڈنمارک کی مرسک لائن جس کے ۰۰۶ جہاز ہیں اس پر اس وقت تنقید ہوئی جب اس نے انڈیا اور بنگلہ دیش کے غیر محفوظ شپ بریکنگ یارڈوں میں جہاز بھیجے۔ ایک رپورٹ میں ان یارڈوں میں گیس کے کھلے کیبل، غیر مناسب اخراج کا نظام اور سیفٹی کے سامان کی عدم دستیابی کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ میرسک نے اپنی ایک رپورٹ میں اس بات کا اقرار کیا ہے کہ پاکستان جیسے ملکوں میں اسٹیل کے اچھے دام ملتے ہیں اور اسی لیے وہاں خطرناک کام کی صورتحال کو نظر انداز کر کے جہاز بھیجے جا رہے ہیں۔ ۵۱۰۲ءمیں پاکستان، انڈیا اور بنگلہ دیش میں دنیا بھر کے ۴۷ فیصد جہاز شپ بریکنگ کےلیے بھیجے گئے۔ جہاں منافع وہاں سرمایہ۔ گڈانی حادثہ پر میرین پروفیشنلز کے آن لائن فورم پر ایک کینڈین انجنئیر کہتا ہے کہ گڈانی جیسے حادثہ کی ذمہ دار وہ جہاز مالکان ہیں جو ری سائکلنگ کرنے کے لیے سستی جگہ تلاش کرتے ہیں اور یوں لوگ مرتے اور زخمی ہوتے ہیں۔
پاکستان ، بنگلہ دیش اور انڈیا میں جہازوں کی زیادہ قیمت اس طرح ادا ہوتی ہے کہ مالکان بنکوں سے قرض لیتے ہیں اور پھر اخراجات کم کرنے کے لیے کم ہنر مند مزدور سستی اجرت پر رکھتے ہیں اور سیفٹی کے لیے کوئی اقدامات نہیں کرتے۔ یوں بڑے حادثات بھی انہی ممالک کے شپ یارڈوں میں ہو رہے ہیں۔ گزشتہ ۰۳ سالوں میں پلاٹ ۴۵ کا مالک غفور کمبوہ نے کروڑوں روپے شپ بریکنگ سے ہی کمائے۔ اب ان کی اسٹیل ری رولنگ ملز ہیں، تجارتی پراپرٹیاں ہیں جو سائٹ کراچی میں کروڑوں کی مالیت رکھتی ہیں۔ ان کے شپ بریکنگ یارڈ پر البتہ بنکوں کا بہت بڑا قرضہ چڑھا ہوا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی سرکار نے ماحولیاتی سیفٹی پر کئی ایک عالمی کنونشنوں میں دستخط کیے ہوئے ہیں لیکن ان پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔ پوری شپ ریسائکلنگ صنعت کو ایک بہت بڑی تبدیلی کی ضرورت ہے تا کہ جواس صنعت میں کام کر رہے ہیں ان کو تحفظ فراہم کیا جا سکے اور انکی زندگی کی کوالٹی میں بہتری لائی جا سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *