گڈانی شپ یارڈپرآگ

گڈانی شپ یارڈپرآگ

تحریر:تحریرعلی ارقم، ترجمہ ریاض احمد، بشکریہ نیوزلائن

کامران علی کراچی کے اورنگی ٹاﺅن میں الطاف نگر کا رہنے والا ہے۔ اسے یاد نہیں کہ وہ کس عمر میں اپنے باپ کے ساتھ گڈانی شپ بریکنگ یارڈ لایا گیا اور یہاں کئی ایک بنگالی تارکین وطن کی طرح تیل صاف کرنے کے کام سے وابستہ ہو گیا۔ ’میرا باپ یہاں کوئی دو سال سے کام کر رہا تھا، اور پھر وہ اپنی پرانی ملازمت پر واپس چلا گیا۔ میں یہیں رہ گیا اور گزشتہ ۸۱ سال سے یہیں کام کررہا ہوں“۔ علی کہتا ہے کہ ’میری قوم کے لڑکوں کے پاس دو رستے ہیں، یا توگہرے سمندر میں فش ٹرالروں پر کام کریں یا پھر گڈانی آن کر یہاں تیل صاف کرنے کا کام کریں‘۔ تیل صاف کرنے کے کام میں بڑے اسٹوریج کنٹینروں میں جمے ہوئے تیل کی صفائی ہے، ان کنٹینروں میں جلانے کا تیل لایا جاتا ہے جو پہلے ہی نکال لیا گیا ہوتا ہے۔ ایک بار باقی ماندہ جما ہوا تیل صاف ہو جائے تو پھر ان کنٹینروں کو توڑنے کا عمل شروع ہوتا ہے۔
علی بتاتا ہے کہ یہ بہت خطرناک کام ہے۔ ’تمام تیل کے ٹینکروں اور کارگو جہازوں میں تیل کی ترسیل کے ساتھ بہ بڑی مقدار میں کچرا آئیل یعنی سلج ہو تا ہے۔ یہ گاڑھا مائع کی شکل کا تیل اور لوبریکنٹ کا بچا کچا حصہ ہوتا ہے‘۔ یہ باقی ماندہ حصہ نہ صرف خطرناک دھوو¾ان خارج کر تا ہے بلکہ یہ بہت زیادہ آتش گیر مادہ بھی ہوتا ہے۔ یوں اس تیل کی صفائی کا عمل بہت زیادہ احتیاط اور سیفٹی مانگتا ہے۔
ایم ٹی ایس از ، وہ جہاز تھا جس پر گڈانی میں آگ لگی اور اب تک نامعلوم افراد کی جانیں اس آگ میں ضائع ہوئیں۔ اس جہاز کو تیل کے اسٹوریج اور خام تیل کی ترسیل کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ ایک بار تیل باہر نکال لیا جاتا تو پھر کچرا تیل یعنی سلج کو کنٹینروں سے صاف کر کے اسے ری سائکلنگ کے کاموں میں استعمال کے لیے فروخت کیاجاتا یا پھر اس تیل کو بھٹیوں میں جلایا جاتا۔ علی کے مطابق ’ایم ٹی ایس از کے اوپر ۵۲ ہزار ڈرم موجود تھے جن میں کچرا تیل یعنی سلج موجود تھا۔ اور اسی کے ساتھ ساتھ بہت بڑی مقدار میں کھلا تیل جہاز کے ٹینکوں میں موجود تھا۔
رابن ڈی بوائس، ایک فرانسیسی تنظیم ہے جو کہ عوام اور ماحولیات کے تحفظ پر کام کرتی ہے۔ یہ ہر سہ ماہی شپ بریکنگ سرگرمیوں پر عالمی رپورٹ پیش کرتی ہے۔ ۲ نومبر کے شمارے میںانہوں نے گڈانی کا حادثہ کو رپورٹ بھی کیا اور یہ کنفرم بھی کیا کہ جہاز پر بہت بڑی مقدار میں سلج موجود تھا۔
وزارت پورٹ وشپنگکی ایک رپورٹ میں یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ گڈانی آنے اور جانے والے جہازوں سے تیل کی اسمگلنگ کی جاتی ہے۔ لیکن گڈانی شپ یارڈ پر لگنے والی آگ کے تحقیقاتی افسر زوالفقار جنجوعہ نے اس رپورٹ کے دعوﺅں سے انکار کیا ہے۔
ایران بلوچستان سرحد سے غیر قانونی تیل کی درآمد پر کافی شواہد موجود ہیں۔ اور یہی تیل ایک روٹین کے مطابق کراچی اور سندھ کے دیگر ضلعوں میں ٹرانسپورٹ کیا جاتا ہے ۔ البتہ شپنگ کو بطور روٹ استعمال کرکے اس غیرقانونی کاروبار کو منافع بخش نہیں سمجھا جاتا اور یہ خطرناک کام بھی بن جا تا ہے۔ ایک کسٹم افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’کسٹم افسران کو بہت اچھی طرح پتہ ہے کہ کیا ہو رہا ہے، لیکن ان کے ذاتی مفادات ہیں کہ یہ شپ بریکروں کے ساتھ گٹھ جوڑ کر تے ہیں اور شپ بریکر جہازوں کا تیل بیچتے ہیں اور ان کے کچرا تیل یعنی سلج کو اپنی ملوں میں استعمال کرتے ہیں یا پھر کراچی میں بھٹیوں کو فروخت کرتے ہیں‘۔ اس افسر کا ماننا ہے کہ ایم ٹی ایس از کا یقینی طورپر کسٹم افسران نے معائنہ کیا تھا لیکن وہ اس بات کو تسلیم اس لیے نہیں کریں گے کیونکہ اسی طرح وہ اس المناک حادثے کی ذمہ داری سے عہدہ براہو سکتے ہیں۔
بلوچستان ڈولپمنٹ اتھارٹی کے مینجر نصر اللہ زہری کہتے ہیں کہ ’نو آبجیکشن سرٹیفیکیٹ، یعنی این اوسی کسٹم و لیبرڈپارٹمنٹیا انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی سے حاصل کرنا شپ بریکنگ یارڈ مالکان کے لیے بہت آسان کام ہے۔ این او سی حاصل کرنے کا عمل ایک ہفتہ سے ایک ماہ میں مکمل ہو جاتا ہے، تب تک جہاز لنگر انداز ہو چکا ہوتا ہے۔ کئی سالوں سے یہ کام محض کاغذی کاروائی بن گیا ہے۔ زیادہ تر جہازوں کے توڑنے کا کام بلوچستان ڈولپمنٹ اتھارٹی کو کوئی فائل جمع کرائے بغیر ہی شروع کر دیا جاتا ہے۔ جب تک ہمیں این او سی دیا جاتا ہے تب تک جہاز کا بڑا حصہ ویسے ہی گرایا جا چکا ہوتا ہے‘۔
جہازوں سے لکڑی کا سامان نکالنے پر مامور ایک ٹھیکہ دار کا کہنا ہے کہ جن جہازوں کو توڑنا ہوتا ہے تو ’کسٹم افسران اور دیگر ڈپارٹمنٹ کے لوگوں کی دلچسپی ان اشیاءسے ہوتی ہے جیسے فرنیچر کا اچھا حصہ ، شراب کی بوتلیں وغیرہ جو مالکان انہیں فراہم کر دیتے ہیں۔ یہی رشوت اس بات کو یقینی بنا دیتی ہے کہ جہاز بناءکسی روک ٹوک اور معائنہ عمل کے نکل جائے گا اور انہیں بناءکسی تاخیر کے متعلقہ این او سیز بھی مل جائیں گے‘۔
ویسے بھی پاکستان میں سرٹیفیکشن کی نوعیت سیفٹی کی ضروریات سے کہیں کم ہیں۔ رابن دی بوائس کی رپورٹ کہتی ہے کہ ’پاکستان آنے والے جہاز کے لیے گیس سے پاک سرٹیفیکشن کا تعلق خطرناک علاقے میں مزدوروں کی سیفٹی تک محدود ہے، اسے ہاٹ ورکس (گرمائش زدہ کام) سے کوئی سروکار نہیں ۔۔۔ہاٹ ورکس کےلیے کسی کلیرنس کی ضرورت نہیں‘۔ ہاٹ ورک کے لیے ایسیٹائلین گیس اور اسی طرح کی گیسوں کے ویلڈنگ ٹارچ استعمال کیے جاتے ہیں جن سے ہی سلج کو آئل ٹینک کی دیواروں سے الگ کیا جاتا ہے۔
کامران علی تیل کی صفائی کا کام کرتا ہے۔ یہ کہتا ہے کہ تیل کا ٹھیکہ دار فاروق بنگالی اس کا دوست ہے، اسی کو ایم ٹی ایس از کی صفائی کا ٹھیکہ ملا تھا۔علی کہتا ہے کہ ’جب جہاز آیا تو ہم سے فاروق نے کہا کہ جا کر دیکھو اور بتاﺅ کے تم یہ کام کر سکتے ہو کہ نہیں۔ جب ہم وہاں پہنچے تو دیکھا کہ ٹینکوں میں موجود پانی اور سلج سے خطرناک دھوﺅاں اٹھ رہا تھا۔ خطرہ یوں بھی اور زیادہ تھا کہ ٹینک سورج کی روشنی کی وجہ سے بہت گرم تھے‘۔علی کے مطابق کوئی بھی ان ٹینکوں کے قریب پندرہ سے زیادہ منٹ نہیں ٹھر سکتا تھا ۔ اور جو کوئی ایسا کرتا وہ یا تو بے ہوش ہوتا یا پھر اس کا دم گھٹنے لگتا۔ یوں کامران علی نے یہ کام لینے سے انکار کردیا۔ لیکن جہاز کے مالک کو جلدی تھی، وہ چاہتا تھا کہ ٹینکوں کو جلدصاف کیا جائے اور اسی لیے ٹھیکہ بنگالی کو ۰۹ لاکھ روپے میں دیا بھی تھا اور ساتھ ہی یہ ہدایت بھی کہ جتنے لوگ چاہو بھرتی کرو اور اس کام کو جلد مکمل کرو۔ اور یہی کچھ اس نے کیا۔علی کہتا ہے کہ ’میرے علاوہ درجنوں دیگر تیل صاف کرنے والے مزدوروں نے کام کے خطرناک حالات کے سبب انکار کر دیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ جہاز کو پہلے کھلے سمندر میں لے جایا جائے تا کہ زہریلا دھوﺅاں خارج ہو اور اس کے بعد ہی جہاز کی صفائی شروع ہو ۔ایک اور صفائی کا ٹھیکہ دار سلیم جو کہ کام کے خطرات کو بخوبی سمجھتا ہے ۔اس نے ایک اور جہاز پر تیل صفائی کا کام اُس وقت روک دیا جب ماکان چاہتے تھے کہ ’ہاٹ‘ ورک کے ساتھ ساتھ سلج کی پمپنگ کا کام بھی چالو کر دیں، سلیم کا سوال تھا کہ اگر اس دوران کوئی حادثہ ہوتا ہے تو ذمہ دار کون ہو گا۔ بنگالی البتہ کسی طور یہ کام نمٹانا چاہتا تھا۔ اس نے نئے اور ناتجربہ کار افراد کراچی سے بلا کر رکھ ہے اور تیل کی صفائی کا کام شروع کر ا دیا‘۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *