سوشل میڈیاپرسرگرم کارکنوں کو کون اٹھا رہے ہیں اور کیوں ؟

سوشل میڈیاپرسرگرم کارکنوں کو کون اٹھا رہے ہیں اور کیوں ؟

تحریر: عامرحسینی

سیاسی کارکنوں، طالب علموں ، دانشوروں ، ادیبوں ، مظلوم اقوام کے لوگوں کی جبری گمشدگیاں ذاتی یا خاندانی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سیاسی مسئلہ ہیں۔اور اس ایشو پہ تحریک چلانا وقت کا اہم تقاضا۔مین سٹریم میڈیا کو کنٹرول کرنے کے بعد سوشل میڈیا پہ ریاست سے اختلاف کرنے والوں کو ڈرائے، دھمکائے جانے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔تین دن میں چار سوشل میڈیا ایکٹوسٹ سنٹرل پنجاب اور اسلام آباد سے اٹھائے گئے اور مقصد صاف ظاہر ہے سوشل میڈیا میں اختلافی آوازوں کو خاموش کرنا۔
فاطمہ جناح یونیورسٹی راولپنڈی میں تعینات پروفیسر، شاعر، تھیٹر ڈرامے لکھنے والے اور سماجی کارکن سید سلمان حیدر 6جنوری بروز جمعہ شام کو بنی گالہ میں اپنے دوستوں کے ساتھ تھے اور وہاں سے واپسی پہ آتے ہوئے کورال چوک اسلام آباد پہ ان کی گاڑی کو ایک ہائی لکس ڈبل کبین ڈالے پہ سوار چند افراد نے روکا اور انہوں نے گن پوائنٹ پہ ڈبل کبین ڈالے میں ڈالا اور اس دوران سلمان حیدر نے تھوڑی مزاحمت کی اور گاڑی جہاں روکی گئی وہاں کچھ فاصلے پہ ایک کار ورکشاپ ہے وہاں سے کچھ میکنک لڑکوں نے پاس ہونے کی کوشش کی تو ان کو بھی مارا پیٹا گیا اور جو مار پیٹ کا نشانہ بنے ان کا کہنا ہے کہ ایک آدمی ان سلمان حیدر کو اٹھانے والوں میں مبینہ طور پہ فوجی وردی میں ملبوس تھا۔
سلمان حیدر کی اہلیہ کے ایک انتہائی قریبی عزیز پاکستان کی ایک انٹیلی جنس ایجنسی کے کسی زمانے میں ڈپٹی ہیڈ رہے ہیں اور وہ آج بھی سائبر سیکورٹی پہ کام کرتے ہیں نے اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پہ بتایا کہ ان کو اندازہ ہے کہ یہ کن لوگوں کا کام ہوسکتا ہے کیونکہ سلمان حیدر کافی ریڈیکل خیالات رکھتا تھا اور پاکستان کی اسٹبلشمنٹ میں ایسے لوگ موجود ہیں جو اختلاف رائے کو برداشت نہیں کرتے اور ان کا خیال یہ بھی ہے کہ سلمان حیدر کے ہاں بھی الفاظ کا چناو¿ اپنی بات رکھنے کے لئے مناسب نہ تھا۔وہ سلمان حیدر کے بھائی ذیشان حیدر جو کہ ایک غیر ملکی میڈیا آرگنائزیشن میں کام کرتے ہیں پہ خوش نہ تھے کہ اس نے سلمان حیدر کی گمشدگی کی خبر ان کے منع کرنے کے باوجود میڈیا کو فراہم کردی۔ان کا خیال یہ ہے کہ جب سلمان حیدر کے فون سے ہی ان کی اہلیہ کو میسج مل گیا تھا کہ ان کی گاڑی کورال چوک سے لے لیں تو معاملہ صاف ہوگیا تھا کہ یہ کن کا کام ہوسکتا ہے؟

ذیشان حیدر جن کے توسط سے یہ سلمان حیدر کے لاپتہ ہوجانے کی خبر سب سے پہلے جیو ٹی وی کو ملی اور پھر بعد ازاں دوسرے ٹی وی نیٹ ورک اور آن لائن نیوز ایجنسیز کو ملی اب خود بھی ریزور ہوگئے ہیں۔انہوں نے آخری مرتبہ جیو نیوز ٹی وی کو یہ بتایا تھا کہ ان کے بھائی سکن الرجی کی ایک ایسی بیماری کا شکار ہیں جس کی میڈیکیشن کے بغیر ان کی جان کو خطرہ ہوسکتا ہے۔اور یہ بھی بتایا تھا کہ حکام جوائنٹ انوسٹی گیشن کررہے ہیں تاکہ ان کی جلد سے جلد واپسی ممکن ہوسکے۔
سلمان حیدر کے خاندان پہ ان کے عزیز و اقارب اور خود نادیدہ حلقوں سے لگتا ہے کافی دباو¿ پڑا ہے جس کے سبب اب وہ نہ تو میڈیا سے بات کررہے ہیں اور نہ ہی وہ باہر آکر کوئی ایکشن لینے پہ تیار ہیں۔بلکہ سلمان حیدر کے قریبی دوستوں اور اسلام آباد میں لبرل لیفٹ کے کچھ لوگوں بشمول عوامی ورکرز پارٹی کے کامریڈز نے سوموار کو احتجاجی مظاہرے کا پروگرام ان کی فیملی کے کہنے پہ ہی موخر کردیا ہے۔
سلمان حیدر کے علاوہ وقاص احمد گورایا اورنصیر احمد رضا ، عاصم سعید کو بھی اٹھایا گیا ہے۔ڈیلی ڈان کی خبر کے مطابق نصیر احمد رضا جوکہ پولیو کے مریض ہیں ان کو ان کی آبائی دکان سے اٹھایا گیا اور ان کو ان کے بھائی کے بقول ان کی موجودگی میں اٹھایا گیا جبکہ اٹھانے والوں نے اپنے ادارے کا نام بتانے سے گریز کیا۔وقاص احمد گورایا جو نیدرلینڈ ہوتے ہیں اور عاصم سعید کو چار جنوری کو اٹھایا گیا جبکہ نصیر احمد رضا کو ہفتے کو 7 جنوری کو اٹھایا گیا۔یہ چاروں جبری گمشدگیاں تین دن کے اندر سنٹرل پنجاب اور وفاقی دارالحکومت سے ہوئی ہیں۔اور چاروں نوجوان سوشل میڈیا ایکٹوسٹ تھے۔چاروں نوجوانوں کے اندر ایک بات مشترک ہے کہ یہ پاکستان میں پھیلی مذہبی جنونیت، تواتر سے بڑھنے والی جبری گمشدگیوں،خاص طور پہ بلوچ جبری کمشدگیوں، مسخ شدہ لاشوں کے ملنے اور سی پیک کے نام پہ ہونے والے جبر اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام پاکستان کی غیر منتخب ہئیت مقتدرہ پہ رکھ رہے تھے۔جیسے ہی ان چار سوشل میڈیا ایکٹوسٹوں کو لاپتا کیا گیا ،اس کے ساتھ ہی کچھ معروف قسم کے سوشل میڈیا پیجز بھی ڈی ایکٹویٹ ہوگئے جن میں “بھینسا، روشنی” نام کے پیج بھی شامل ہیں۔سوشل م?ڈیا پہ یہ خبریں گردش کررہی ہیں کہ یہ پیجز چلانے میں ان غائب ہونے والے سوشل میڈیا ایکٹوسٹوں کا بھی ہاتھ تھا۔
پاکستان کے انسانی حقوق کے کارکنوں، دانشوروں ، سیاسی کارکنوں کی رائے میں جو لوگ اس طرح کی جبری گمشدگیوں ،اغوائ میں مصروف ہیں ان کا ایجنڈا بہت صاف ہے۔وہ سوشل میڈیا میں تنقیدی ڈسکورس کو تباہ کرنا اور اختلافی آوازوں کو خاموش کرانا چاہتے ہیں۔اور ایسے اقدامات اٹھائے جانے کا مقصد خوف اور دہشت پھیلانا ہے۔پہلے ایسے سندھی ، بلوج ، پشتون اٹھائے جاتے رہے جو کہ ریاست کے نام نہاد ترقی کے ایجنڈے سے اختلاف کررہے تھے اور اپنے خلاف قومی جبر اور ظلم کے خلاف آواز اٹھارہے تھے۔شیعہ نسل کشی کا راستہ بھی ریاست کی ڈھیل سے ہی ہموار ہوا ہے۔ڈرائے جانے کا یہ عمل جاری وساری ہے اور اب نوبت لبرل لیفٹ کے دانشوروں کو اٹھائے جانے تک آن پہنچی ہے۔
پاکستان میں بائیں بازو کے ایک حلقے کا خیال یہ ہے کہ ہمیں ریاستی دہشت کو استعمال کرنے والوں کو ایکسپوز کرنے کے لئے باہر آنے کی ضرورت ہے۔اور کھل کر اس کے خلاف کام کرنے کی ضرورت ہے۔ہمیں اس پہ اجلاس کرنے، احتجاج کرنے اور کانفرنسز کرنے کی ضرورت ہے۔اس حلقے کا کہنا ہے کہ ہماری تحریک کا مقصد ایجنسیوں اور ریاست سے مذاکرات کرنا نہیں ہونا چاہئیے جوکہ ان جبری گمشدگیوں میں ملوث ہے۔ہمیں حکومت ، ریاست کی سیاسی اکائی سے انسانی حقوق کی پامالی روکنے کا مطالبہ کرنا چاہیے۔اگر انسانی حقوق کی تنظیمیں ایجنسیوں اور عام شہریوں کے درمیان رابطہ کار کا کردار ادا کریں گی تو یہ ایک تباہی والا کام ہوگا۔یہ رابطہ کاری نہ صرف انسانی حقوق کی تنظیموں کا کردار ختم کردے گی بلکہ سیاست کا بھی خاتمہ کردے گی۔انسانی حقوق کی تنظیموں کا اغوائ کئے جانے والوں کی بازیابی کے لئے ایجنسیوں کے ساتھ مذاکرات میں آنا خود انسانی حقوق کی تنظیموں کو بدنام کرنا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *