جدید سرمایہ داری اور پیپلز پارٹی کی سیاست

جدید سرمایہ داری اور پیپلز پارٹی کی سیاست

تحریر: ولید احمد

پاکستان پیپلز پارٹی گزشتہ چھ ماہ سے قیادت میں دو بار تبدیلی لا چکی ہے۔ آصف زرداری کی خود ساختہ جلاءوطنی کے بعد جب عمران خان دوسرے دھرنے کی تیاری میں تھے تو بلاول زرداری کو میدان میں اتارا گیا۔ پھر دھرنے کے دوران پیپلز پارٹی نے ن لیگ کا ساتھ دیا اور پناما اسکینڈل کے خلاف کسی ملک گیر تحریک کے امکانات محدود ہو گئے۔ ایسے میں بلاول نے ۷۲ دسمبر کو لانگ مارچ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے عمران خان کو بھی جتایا کہ دیکھنا لانگ مارچ کیسا ہوتا ہے۔ بظاہر یہ اعلان حقیقی ہی تھا۔ کیونکہ پیپلز پارٹی ایک موئثر اپوزیشن کی حیثیت کھو چکی تھی اور یہی نظر آرہا تھا کہ اسے اگر کسی طور عوامی اعتماد مل سکتا ہے تو وہ عمران خان کی جگہ بہتر سیاسی اپوزیشن سے ہی مل سکتا ہے۔ مگر پھر جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ ہو گئی۔ مطلع صاف ہو گیا، نئے جنرل صاحب فل حال کسی سیاسی خلاءکو پر کرنے کا بھی نہیں سوچ رہے۔ عمران خان بھی جیسے چپ سادھ کر بیٹھ گئے کہ سپریم کورٹ نے پہلے نواز شریف کے خلاف بھڑک ماری اور چند ہی دنوں میں جج حضرات کرسی چھوڑ کر بھاگ نکلے۔ اب نیا بنچ اور نیا کیس اور نہ جانے کیا کیا۔ ریاستی اداروں کی جانب سے نواز شریف کی جانب پرخاش کا نہ ہونا دراصل یہی دکھا رہا تھا کہ اپوزیشن کی جماعتیں عوامی اوبال تیار کرنے میں ناکام رہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ حکمران طبقہ کے بیچ تضادات گھٹ چکے تھے۔ بڑے سرمایہ دار بہت کھل کر اب سی پیک اور اس سے وابستہ فوجی اقدامات کے حمایتی بن کر سامنے آنے لگے۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی روٹ جیسے مسائل اور سندھ کو ملنے والے حصے کی بابت جو ابہام تھا وہ کہیں کم ہو گیا۔ حال ہی میں جنگ اخبار کے پورے صفحہ پر شائع ہونے والے جعفر احمد کا ایک مضمون سی پیک کے جس طرح خوائص بیان کر رہا ہے اور جس طرح روٹس کے مسئلے اور مختلف صوبوں کو ملنے والے حصوں کی بابت صفائی پیش کرتا ہے اس سے یہی نظر آتا ہے کہ ابہام اب پس منظر میں چلا گیا ہے۔ جو طاقت اور زور آزمائی عمران خان کے دھرنے میں پختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے دکھائی اور جس طرح سرحد سے پنجاب کو اپنے حصے کےلیے للکارا اسی سے ظاہر تھا کہ حکمران طبقہ اب سی پیک کے معاملے پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔ اسی طرح جیسے بلاول بھٹو نے کراچی میں عاصم حسین کی عیادت اور پھر انہیں ہی کراچی پی پی کا صدر نامزد کر دیا اس سے بھی یہی ابھرا کہ پیپلز پارٹی سندھ کارڈ کو ایک بار پھر اپنے حصے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ جس طرح جنرل راحیل سی پیک کے معاملے پر فوج کو آگے لا کر سیاسی اپوزیشن کو موقع فراہم کر رہے تھے کہ وہ تنازعات کو سڑکوں پر لا کر حل کرے اس کا نتیجہ یہ نکلا کے سی پیک پر وضاحتیں آنا شروع ہو گئیں۔ اب
بظاہر سندھ اور پختونخوا میں عمران خان اور بلاول سی پیک کے اس طرح مخالفت نہیں کر رہے جس طرح یہ پہلے درپردہ کر رہے تھے۔ بڑے سرمایہ داروں کے درمیان جو تنازعہ تھا وہ وقتی طور پر ہی سہی دب گیا ہے۔
لیکن سی پیک ایک بڑا پروجیکٹ ہے۔ جیسے جیسے اس کی تفصیلات کھلیں گی تنازعات کے کئی نئے دور آئیں گے۔ مثلا تھر میں ہی جب اینگرو کمپنی نے سندھ حکومت کے مکمل تعاون سے کوئلہ کی کانکنی سے نکلنے والے زہریلے پانی کے لیے گوڑانو ڈیم بنانا شروع کیا تو اس سے ایک بڑا تنازعہ کھڑا ہو گیا۔ اسلام کوٹ پریس کلب پر چند درجن خاندانوں کا دھرنا ایک بڑی تحریک بننے جا رہا ہے۔ یہ گوڑانو ڈیم کی تعمیر کو موت کو حیات کا مسئلہ قرار دے رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کو اب اپنے ہی سندھ میں فوج کشی کی دھمکیاں دینی پڑ رہی ہیں۔ سرمایہ پرست نام نہاد عوامی پارٹی کا چہرہ بے نقاب ہو رہا ہے۔ لاکھوں تھری عوام کو جن کی بڑی تعداد ہندﺅں پر مشتمل ہے ان کو زبردستی اپنی آبائی زمین سے بے دخلی کو وزیر اعلیٰ سندھ ’فطری‘ قرار دے رہا ہے۔ تھر کول بھی سی پیک کا حصہ ہے۔ یوں عالمی سرمائے کی حامی پی پی کے سرمایہ داروں کو سی پیک میں اپنا حصہ مل گیا اب یہ عوام الناس پر جبر کر کے اس پروجیکٹ کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ اسی طرح پنجاب میں تیزی کے ساتھ چھوڑے صنعتی کاروباریوں میں سی پیک راہداری کے ساتھ بننے والی صنعتی زونز پر تحفظات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ گجرات چیمبر آف کامرس کی جانب سے حالیہ اجلاس میں ان صنعتی زونز میں چینی کمپنیوں کو مدمقابل لا کھڑا کرنے پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ اسی طرح کراچی میں بڑے شہری منصوبے جیسے کوڑا کرکٹ اٹھانے، سڑکوں کی تعمیر، سرکلر ریلوے جیسے منصوبوں میں چینی کمپنیوں کی آمد یہاں چھوٹے بڑے ٹھیکہ داروں اور کاروباریوں کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔ شہریوں کو سہولیات اس طرح غیر ملکی کمپنیوں کے ہاتھوں منتقل کرنے کا تجربہ ویسے بھی اچھا نہیں، اس کی بڑی مثال پہلے سعودی اور پھر دبئی کی کمپنی کو کراچی الیکٹرک کی نجکاری تھا۔
نیولبرل سرمایہ داری کا غلبہ سویت یونین کے انہدام سے پہلے شروع ہوا۔ مزدور طبقہ کے نام پر پیپلز پارٹی پہلے بھی ریاستی سرمائے سے چلنے والے اداروں کو سرکاری کنٹرول میں چلانے پر معمور تھی۔ سویت یونین کے انہدام نے دنیا بھر میں ریاستی عمل دخل پر مبنی سوشل ڈیموکریٹک پارٹیوں جیسے پاکستان میں پیپلز پارٹی کو یہ جواز فراہم کردیا کہ اب ریاست کا کام سرمایہ کاری کرنا نہیں بلکہ نجی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مزدور طبقہ اب پیپلز پارٹی کی طرف نہیں دیکھتا۔ نہ ہی مہنگی ہوئی ہوئی شہری سہولیات کے خلاف مڈل اور لوئیر مڈل کلاس کے لوگ پیپلز پارٹی کی طرف دیکھتے ہیں۔ ان کی توجہ اب ایم کیو ایم اور تحریک انصاف جیسی پارٹیوں نے لے لی ہے۔اور اب گلوبل سرمائے کے اس دور میں پیپلز پارٹی کو عوام کی توجہ حاصل کرنے کے لیے اسپیس موجود نہیں۔ جو مسائل عوام کے ہیں وہ از خود پیپلز پارٹی کی نجی سرمایہ حمایت پالیسیوں کا نتیجہ ہیں۔ مثلا پنجاب میں ناپید بجلی، نایاب پانی، گھٹتی ہوئی گیس، مہنگی ٹرانسپورٹ، تعلیم ، صحت یہ سب تو پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی حکومتوں کا تحفہ ہیں ۔ انہوں نے ہی بجلی کی کمپنیوں ، گیس نکالنے والی کمپنیوں، ٹرانسپورٹروں، نجی اسکولوں، نجی ہسپتالوں کے فروغ کے لیے کسی جتن میں کمی نہیں چھوڑی۔ پیپلز پارٹی میں پہلے مڈل کلاس دانشور اور ٹریڈ یونین رہنما مزدور طبقہ اور شہری مسائل پر آواز اٹھاتے تھے، اب ان کی باقیات رہ گئی ہیں جو انتہائی کرپٹ سرمایہ داروں کے جرائم کی صفائی پر معمور ہیں۔ طبقاتی اعتبار سے پیپلز پارٹی کی نوعیت اب بڑے جاگیرداروں کی نمائندگی سے ہٹ کر انوسٹر سرمایہ کاروں اور بڑے بیوروکریٹوں پر محیط ہے۔
تحریک انصاف کے لیے سی پیک کے منصوبوں کو فوجی زور و جبر سے پورا کرنے میں کوئی عار نہیں۔ یہ ویسے بھی ترقی میں شفافیت کے علم بردار ہیں، ترقی میں عوامی شراکت کے نہیں۔ اس لیے تھر کے عوام سے زمین چھننے کے بارے میں ہو یا کراچی کی یوٹلیٹی سہولیات کے ان کمپنیوں کو منتقلی کا معاملہ تحریک انصاف اور عمران خان نے اس پر چپ ہی رہنا ہے۔ ان کا طبقاتی مفاد بڑے سرمایہ دار کا ساتھ دیتے ہوئے مڈل کلاس کے مفادات ہیں اور یہ اسی لیے کرپشن اور شفافیت کی ڈھال کے پیچھے چھپے بیٹھے رہتے ہیں۔ ایم کیو ایم کئی حصوں میں تقسیم ہے، یہ مہاجر ، کراچی، قائد، بے قائد کے معاملے کو ہی سلجھانے کے عمل کو اتحاد اور یکجہتی کے نعرے دیتے رہیں گے۔ پاکستانی ریاست یعنی بڑے سرمایہ داروں سے اپنی وفاداری ثابت کرنے کے لیے پہلے مصطفیٰ کمال اور اب فاروق ستار دونوں نے ہی پاکستانی جھنڈا ساتھ لگا لیا ہے۔ یوں یہ کراچی کو چین کے حوالے کرنے پر اگر چین بہ چین ہوئے بھی تو اپنا نزلہ وفاقی حکومت کی کراچی دشمنی پر گراڈالیں گے۔
پیپلز پارٹی کی سیاست کیونکہ بڑی سرمایہ داری کے مفادات کی ترجمانی کرنے پر معمور ہے اسی لیے اسے تھر کول سے لے کر کراچی کی یوٹیلیٹیز تک میں اگر کچھ چاہیئیے تو اپنا کمیشن۔ نظریاتی طور پر پیپلز پارٹی کہنے کو بھی اب عوامی مفادات کی ترجمان نہیں رہی۔ اسی لیے یہ انتہائی بے ہودہ طریقے سے گورانو تھر کول ڈیم سے پیدا ہونے والی بے دخلیوں کو چیلنج کرنے کے بجائے اس کے مخالفین کو کچلنے کے لیے تیار ہے۔ یہ کراچی میں عوامی سہولیات جیسے ٹرانسپورٹ کو آج سے ۴۲ سال قبل ہی نجی شعبہ کے حوالے کر چکی تھی، اب تو یہ ہر دم سرمائے کے نام پر نجی شعبہ کو آگے لانے اور عوامی سہولیات کو ایک شوشا بنانے پر گامزن ہے۔ اس لیے سندھ ہو یا پنجاب پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی سیاست میں کوئی خاص فرق نہیں رہا۔ ن لیگ مشرقی سرمائے کو ویلکم کرتی ہے اور اب کیونکہ مغربی سرمایہ مشکلات کا شکار ہے تو پیپلز پارٹی بھی چین کو ویلکم کرنے میں ہی سرمایہ داروں کی عافیت سمجھتی ہے۔ پختونخوا پر فوجی آپریشن کا تمغہ بلاول خود سجاتا ہے کہ سوات کو ہم نے فوج سے خالی کرایا ورنہ عمران خان تو طالبان خان تھا اور نواز شریف تو مذاکرات شریف بنا ہوا تھا۔ اسی طرح وزیرستان آپریشن کا سہرا نواز شریف لیتا ہے۔ یوں ہزاروں عوام پر فوجی بمباری، لاکھوں کی چند دنوں میں بے دخلی کو پیپلز پارٹی عین ضرورت سمجھتی ہے۔ اسی طرح کراچی فوجی آپریشن ، اور اس سے قبل بلوچستان فوجی آپریشن اور پھر اور اب متوقع تھرکول فوجی آپریشن بھی پیپلز پارٹی کی سرمایہ دوستی کا بعین ثبوت ہیں۔ ایسے میں عوام سے کوسوں دور پیپلز پارٹی کی قیادت میں تبدیلی کسی طور اس کو اپوزیشن کا کردار نہیں دلا سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ آصف زرداری نے اپنی واپسی پر پھر سے رخ بدل دیا۔ پیپلز پارٹی سندھ میں حکومت قائم رکھنے پر متوجہ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *