سی پیک:مقامی سرمایہ داروں کے خدشات اورتحفظات میں اضافہ

سی پیک:مقامی سرمایہ داروں کے خدشات اورتحفظات میں اضافہ

تحریر: سرتاج خان

جوں جوں سی پیک کے منصوبہ سے متعلق تفصیلات منظرعام پرآرہی ہیں۔اس سے پاکستانی سرمایہ داروں میں بے چینی بڑھتی جارہی ہے۔پاکستانی ریاست سی پیک کوپورے ملک کی تقدیربدلنے والے منصوبہ کے طورپرپیش کرتاہے ۔ لیکن تفصیلات کے سامنے آنے کے بعدسرمایہ داروں کے مختلف گروہوں میں اپنے خدشات وتحفظات کوسامنے لانے کاسلسلہ شروع ہوچکاہے۔اس معاملہ میں تین امورقابل غورہیں۔ اول یہ کہ پاکستانی ریاست نے چین سے درآمدہونے والے مشینری ، آلات اورمٹریل تک پرٹیکسوں اورڈیوٹی کی چھوٹ ہے۔ ایک سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق سی پیک کے لئے پلانٹ، مشنری ،سامان جس میں ڈمپراورخاص مقاصد جیسے کراچی پشاورموٹروے پروجیکٹ کے سکھرملتان سیکشن اورقرقرم ہائی وے فیز۲تھاکوٹ تاحویلیاں سیکشن کے لئے موٹروہیکلز منگوانے پرٹیکس اورڈیوٹی سے چھوٹ دی ہے۔اس میں چین کی دوکمپنیوں کاذکرہے۔ایک اورخبرکے مطابق ٹیکس اورچھوٹ کی رعائت کے ہفتوں کے اندراندربلڈوزر،موٹرگریڈرز،روڈرولر، وہیل لوڈر، ایکسیوٹرز،ڈمپرٹرک، کنکریٹ میکسچراوردیگرسامان منگوایا۔دوئم یہ کہ چین سے کام کرنے والے بھی ساتھ لائے جارہے ہیں۔ سوئم یہ کہ چین کے موجوزہ اکنامک زونزمیں فیکٹریوں اورگوداموں کے قیام کے امکانات کی بات ہورہی ہے۔ اس سے مقامی سرمایہ داروں ، ٹھیکیداروں اورپروفیشنل کلاس میں بے چینی بڑھ گئی ہے۔ پاکستان اکنامک واچ (پی ای ڈبلیو)کے مطابق بزنس کمیونٹی نے سی پیک اوراس کے مقامی انڈسٹری پراثرات کے حوالے سے سوالات اٹھانے شروع کردئیے۔ پی ای ڈبلیوکے صدرڈاکٹرمرتضی مغل نے کہاکہ حکومت نے چین سے مشینری اوردیگرآلات درآمدپرٹیکس اورڈیوٹی سے مستثنی دے کرمقامی انڈسٹری کونقصان پہنچایاہے کیونکہ یہ مقامی انڈسٹری کے فائدے اورقومی مفادمیں نہیں۔ان کے خیال میں پاکستان میں کاروبارکرنے کی لاگت بہت زیادہ ہے۔جس کی وجہ سے مقامی طورپرپیداکردہ چیزیں ،درآمدشدہ اشیاءکامقابلہ نہیں کرسکتیں۔ڈاکٹرمرتضی کے مطابق اس سے کاٹیج انڈسٹری سے لے کرہیوی انڈسٹری تک ۶۴بلین ڈالرزسے مستفید نہیں ہوسکتے۔اس سے صنعتوں کی ترقی متاثرہوں گی اورمحصولات اورنوکریوں میں اضافہ میں رکاوٹ پیداہوگی۔ان کااستدلاال ہے کہ حکومت کوسی پیک کے تحت ایسے انتظامات کرنے چاہئے کہ سی پیک پاکستان ی صنعتوں کے پھیلاو میں کرداراداکرے۔
پاکستانی سرمایہ داروں کی فکرمندی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اس وقت ۰۰۷سے زیادہ مختلف سطح کی چینی کمپنیاں پاکستان میں مختلف سیکٹرزجس میں سی پیک شامل ہے ،کام کررہی ہیں جبکہ اس میں اضافہ کی توقع کی جارہی ہے۔چینی کمپنیاں جن شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے ان میں الیکٹرونیکس، آٹوموٹیوز،انشورنس،ایگری کلچر،ٹیکسٹائل،جوتاسازی،کیمکلز،بیٹری کودوبارہ استعمال کرنے کے پلانٹ اوررئیل اسٹیٹ شامل ہیں۔
آرگنائزیشن برائے ایڈوانسمنٹ اینڈ سیف گارڈ آف انڈسٹریل سیکٹر(اوسز)کی قیادت میں وزارت صنعت کے حکام سے ملاقات میں مقامی صنعتکاروں نے کہا کہ سی پیک سے پاکستان میں مقامی صنعتوں کو بھی نئے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔وسز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عاطف اقبال نے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’چینی انڈسٹری نے کئی سالوں کے دوران پیداواری لاگت میں نمایاں کمی حاصل کی ہے کیوں کہ مقامی سطح پر اسے بڑی مارکیٹ دستیاب ہے جبکہ ان کے لیے انڈسٹری دوست پالیسیاں اور حکومت کی جانب سے متعدد مراعات بھی موجود ہیں‘۔انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ سی پیک اسی صورت میں پاکستان کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے جب اس میگا تجارتی راہدراری کے ذریعے ملکی برآمدات میں اضافہ ہو۔عاطف اقبال نے سرکاری اداروں جیسے فیڈرل بورڈ آف ریوینیو اور نیشنل ٹیرف کمیشن(این ٹی ایف) سے بھی کہاکہ ہ وہ ملکی صنعت کے مفادات کے تحفظ کے لیے غیر منصفانہ تجارت کے خلاف اقدامات کریں۔انہوں نے کہا کہ چین سے درآمدات کے حوالے سے ایک مسئلہ انڈر انوائسنگ ہے اور دونوں جانب حکام کو چاہیے کہ جتنی جلدی ممکن ہو ڈیٹا کے تبادلے کا آن لائن نظام مرتب کیا جائے۔پاکستانی سرمایہ دارکوشکایت ہے کہ چین کامال پاکستان میں ڈمپ کیاجارہے اورخدشہ ہے کہ سی پیک کے ساتھ اس میں مزیداضافہ ہوگااس لئے ان کازور ایسے اقدامات کرنے پرہے جس سے اس پرنظررکھی جاسکے ’اوسز نے این ٹی سی سے درخواست کی ہے کہ وہ غیر منصفانہ تجارتی سرگرمیوں جیسے ڈمپنگ کا فوری طور پر نوٹس لے اور مقامی صنعت کے مفادات کو مد نظر رکھ کر ترجیحات کا تعین کیا جانا چاہیے جس کے بعد بعد آزادانہ تجارت کے لیے سرحد کو کھولا جاسکتا ہے‘۔
پاکستان بھرکے سرمایہ داروں اورتاجروں کی سب سے بڑی تنظیم فیڈریشن آف چمبرزآف کامرس اینڈاسٹریز (ایف پی سی سی ای)نے اپنے خدشات اورمعترضات ایک رپورٹ سی پیک اور کی شکل میں سامنے لائے ہیں۔ اس رپورٹ میں سی پیک کو’بین الاقوامی پاورگریٹ گیم‘کے حصہ کے طورپردیکھاہے۔اورکہاکہ یہ اس خطے کے ممالک سے لے کروسطی ایشیاءاورامریکہ تک جائے گا۔ رپورٹ کی دوسری اہم بات یہ ہے کہ اس میں حکومت پرتنقید کرتے ہوئے مقامی سرمایہ داروں کی طرف فکرمندی ظاہرکی ہے۔اس میں کہاگیاہے کہ اس کے پاکستانی بزنس کمیونٹی پرمنفی اثرات پڑیں گے۔ان کے مطابق فری ٹریڈایگری منٹ جوکہ ۶۰۰۲میں ہواجس سے پاکستان میں چینی مصنوعات کاسیلاب آیا۔
ا ب چینی سرمایہ اورمزدورآئیں گے۔تنظیم نے سی پیک میں شفافیت کامطالبہ کیاہے۔تنظیم کے مطابق پاکستانی سرمایہ دار،چینی سرمایہ داروں سے اس لئے مقابلے نہیں کرسکتے کیونکہ پاکستان ٹیکس، کرپشن اورافراط زرسب سے زیادہ اہم مسائل میں سے ہیں۔ان کے بقول پاکستان میں مسائل اس وجہ سے ہیں کہ پالیسی بنانے عوامی فنڈزکاغلط استعمال کرتے ہیں، من پسندی اوررشوت بین الاقوامی معاہدوں اورغیرملکی پروجیکٹوں پرعدم اعتمادبڑھاتے ہیں۔‘ اپنے مفادات پروارکودیکھتے ہوئے سرمایہ داروں نے حکومت کاکچھاچھٹاالٹ دیاہے۔چونکہ چین کے ساتھ معاملات میں بیوروکریسی بھی ملوث اس لئے سرمایہ داروں کی تنظیم ان پربھی حملہ کیاہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں بیوروکریسی ناکارہ ہے جس کی وجہ سے کاروباری برداری کوچین کے ساتھ بزنس کرنے میں رکاوٹ ہے۔لیکن سی پیک میں فوج کے کردارکے بارے میں تنظیم خاموش ہے۔
سرمایہ داروں کی وفاقی تنظیم نے ڈاکٹرایوب کی سرکردگی میں سی پیک پررپورٹ بنائی۔ رپورٹ میں چینی سرمایہ کاروں کوفوقیت دینے پراعتراض کرتے ہوئے کہاگیاکہ حکومت کوچینی فرمزکومراعات دیتے ہوئے وقت مقامی سرمایہ داروں کے مفادات کوپیش نظررکھناچاہئے۔رپورٹ میں ایف پی سی سی آئی کوپاکستان کے سرمایہ داروں اورکاروباریوں کے مشترکہ مفادات کی ترجمان کے طورپرپیش کرتے ہوئے معیشت میں سب سے بڑا،اسٹک ہولڈرقراردیاگیاہے۔رپورٹ میں مزیدکہاگیاہے کہ تنطیم کوپاکستانی سرمایہ کاروں اورانٹرپرائززکے مفادات کی سمجھ ہے۔اس لئے اس کی رائے یہ ہے کہ مقامی سرمایہ کاروں کے مفادات کولازمی تحفظ دیاجائے۔اورچینی سرمایہ کاروں کوجومراعات دی جارہی ہیں کم ازکم یہ مقامی سرمایہ کاروں کوبھی دی جائیں۔چین کے ساتھ فری ٹریڈ ایگری منٹ (ایف ٹی اے)کے بعدسے چینی برآمدات میں اضافہ کی طرف بھی اشارہ کیاگیاہے جو۲۰۔۳۰۰۲میں ایک بلین ڈالرزتھی جواب (۵۱۰۲میں ۱۱بلین سے زائد) بڑھ گئی ہے جس کی وجہ پاکستان کاتجارتی ۹بلین ڈالرزکاخسارہ ہے۔اس طرح پاکستان کاتجارت میں حصہ کچھ بنتاہے کہ پاکستانی برآمدات ۱۱فی صداوردرآمدات ۷۳فی صدہیں۔اوراس میں ۷۰۰۲کے بعدسے تیزی میں اضافہ نوٹ کیاگیاہے۔
رپورٹ کے مطابق آنے والے وقت میں پاکستان کی آبادی کی جہت تبدیل ہوسکتی ہے، بلوچستان میں غیرملکیوں کی تعدادبڑھنے سے مقامی آبادی اقلیت میں تبدیل ہوسکتی ہے۔یہ بھی کہا گیا کہ آنے والے وقت میں پاکستان کی آبادی کی جہت تبدیل ہو سکتی ہے، بلوچستان میں غیر ملکیوں اور مقامی افراد کی ہجرت بڑھے گی، چین سے بھی بڑی تعداد میں تارکین وطن کی آمد متوقع ہے ایف پی سی سی آئی کی رپورٹ میں سی پیک کے ثمرات کا بھی تذکرہ کیا گیا اور بتایا گیا کہ اقتصادی راہدری سے آنے والے وقتوں میں توانائی بحران کا خاتمہ،انفرااسٹرکچر کی بہتری، علاقائی ربط، کاروباری مسابقت میں اضافہ، بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ، بے روزگاری میں کمی اور مجموعی قومی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔ڈان نیوزن کے مطابق صدر ایف پی سی سی آئی عبدالروف عالم نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ ملک میں اکثریت نے سی پیک کوسراہاہے لیکن اس حوالے سے خدشات بھی پائے جاتے ہیں۔

صنعتی زون کے اختیارکامطالبہ
پاکستان نے ۶۰۰۲میں چین کے ساتھ فری ٹریڈاگریمنٹ کیا۔ جس پرپاکستانی سرمایہ داروں نے شورمچایاتواس معاہدے کے اگلے مرحلے میں وزارت تجارت کو سرمایہ داروں کے مطالبوں
کوآوازدیتے ہوئے چین کے ساتھ معاملات میں ان کے تحفظات کوجگہ دینی پڑی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ۵۱۰۲میں چینی درآمدات ۱۱بلین سے زائدہیں جبکہ پاکستانی برآمدات ۲بلین سے بھی کم ہیں۔ پاکستان کے بہت سارے صنعتوں نے چینی مصنوعات کی طرف اپنے رحجان میں تبدیلی پیداکی ۔بہت سارے کاروباری چین سے پرزے اورآلات منگواتے ہیں اوران کی پاکستان میں اسمبلنگ کرتے ہیں۔کیونکہ پاکستان سرمایہ داروں کے بقول توانائی،لیبر اوردیگرمعاملات جیسے حکومت کی طرف سے پشت پناہی کی کمی کی وجہ سے پیداواری لاگت چین کے مقابلے میں زیادہ ہے جہاں سرمایہ دوست ماحول پایاجاتاہے۔ اب ان کوخدشہ ہے کہ اگرچینی سرمایہ کارسی پیک کے ساتھ تعمیرہونے والے صنعتی زونزمیں آکرخودبیٹھ گئے اورمصنوعات تیارکرنے لگے توان کی کاروباربندہوسکتاہے ۔اس لئے ڈان کے مطابق’ تینوں چیمبرز کے رہنماو¿ں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ چین کی جانب سے صنعتی مراکز کے منصوبوں کے پلان پر ان صنعتی شہروں کی کاروباری کمیونٹی کو بھی اعتماد میں لیں۔وفاقی حکومت کو مقامی صنعتوں پر ہونے والے منفی اثرات سے بھی خبردار کیا گیا کہ ایسا ہونے کی صورت میں پاکستان مکمل طور پر ایک صارفی مارکیٹ میں تبدیل ہوجائے گا جس سے مصنوعات سازی کا شعبہ مزید کمزور پڑے گا۔‘سی پیک کے ساتھ صنعتی زونز میں حکومتی مراعات ،سبسڈی اورپشت پناہی سے یہ سرمایہ کاری کرکے چینی صنعت کاروں کارستہ روکناہی ان کااولین مقصدہے۔
’اجلاس کی میزبانی گجرات چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سربراہ ابرار سعید شیخ نے کی، جس میں سیالکوٹ چیمبر(ایس سی سی آئی) کے صدر ماجد رضا بھٹہ اور گجرانوالہ چیمبر آف کامرس (جی سی سی آئی) کے صدر سعید احمد تاج بھی شریک تھے ‘۔ اجلاس میں تینوں چمبرزنے مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لئے مشترکہ لائحہ عمل اختیارکرنے کااعلان کیا۔
سرمایہ داروں کی وفاقی تنظیم فیڈریشن آف پاکستان چمبرزآف کامرس اینڈانڈسٹریزکے صدر عبدالروف عالم نے وفاقی حکومت پرزوردیاہے کہ ایسے طریقے کارکووضع کیاجائے کہ مقامی سرمایہ داروں کے مفادات اورتحفظ کوسی پیک میں یقینی بنائی جائے۔انھوں نے کہاکہ اکنامک زونزکاانتظام نجی شعبہ اور مقامی سرمایہ داروں کے ہاتھ میں دیاجائے۔سرمایہ دارچین اورپاکستانی بیوروکریسی سے اقتصادی زونز کامکمل تصرف کاخاتمہ چاہتے ہیں۔ پاکستان چین اقتصادی راہداری پرپہلے سویلین حکومت اورفوج میں اختیارات کی کش مکش ہے۔چین نے فوج کوسیاسی حکومت پرفوقیت دی ہے۔کیونکہ چینی سمجھتے ہیں کہ فوج پاکستان میں زیادہ اثرورسوخ کی حامل ہے اوراپوزیشن سیاسی جماعتوں سے لے کرسماجی بے چینی کوزیادہ بہترطریقے سے کنٹرول کرنے کے قابل ہے۔ ڈان نیوزکے مطابق ایک سرکاری عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ چین نے پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کو اس منصوبے کی کامیاب تکمیل کے لیے ملٹری کی خدمات حاصل کرنے کی تجویز پیش کی تاہم وزیراعظم چین کی اس تجویز سے ناخوش ہیںانہوں نے بتایا کہ میرے خیال میں سی پیک منصوبے کو ملٹری کے سپرد کرنے سے سیاسی تنظیموں کے تحفظات اور تکمیل میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے میں مدد ملے گی، کیونکہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کو افرادی قوت اور مطلوبہ مہارت حاصل ہے۔اب سرمایہ داربھی سیاستدانوں، بیوروکریسی اورچینی عمل دخل کوکم ازکم اقتصادی زونزمیں ختم کرنے کے درپے ہیں اوراس کی ایک ہی وجہ ہے۔ایف پی سی سی آئی کے صدرکے بقول اس نے کہاکہ حکومت نجی شعبہ اورمین اسٹک ہولڈرزکوسی پیک کے حوالے سے ہونے والی معاشی فیصلے سازی سے الگ نہیں کرسکتے۔
رپورٹ کاسب سے اہم مدعاکوبیان کرتے ہوئے کہاگیاہے کہ سی پیک سے محلقہ اقتصادی زونزکی تعمیرپرسب سے بڑی تشویش اورفکرمندی ظاہرکی گئی ہے۔ایف پی سی سی ائی کہتی ہے کہ وہ ان زونز کے بھرپورحق میں ہیں۔مگرجومراعات ان زونزمیں دی جارہی ہیں وہ مقامی صنعتوں کے مفافع جات کوپراثرندازنہ ہوں۔تنظیم نے خدشہ ظاہرکیاہے کہ جومالیاتی رعائتیں چینی سرمایہ کاروں کوان زونزمیں دی جائیں گی اس میں اس امرکوملحوظ خاطررکھاجائے کہ اس سے دوسرے شہروں میں سرمایہ کاری متاثرنہ ہو۔مقامی سرمایہ داروںکوخطرہ ہے کہ اگرسی پیک سے متعلقہ اقتصادی زونزمیں براہ راست ٹیکسوں سے چھوٹ دی گئی تواس سے مقامی صنعتیں متاثرہوئے بغیرنہ رہ سکیں گی۔تنظیم نے حکومت سے کہاہے کہ اول تووہ ڈائریکٹ ٹیکسوں کی وکالت کے حق میں نہیں ۔مگرایساگیاتواس میں نئے اورپرانے تمام یونٹ کوشامل کیاجائے۔
اس کے بعدرپورٹ میں حکومت سے کہاگیاہے کہ سی پیک سے متعلقہ تمام اقتصادی زونزکامکمل انتظام مقامی نجی شعبہ کے ہاتھ میں دیاجائے۔ان کاکہناہے کہ اس پرتمام صنعتی ممالک میں عمل ہورہاہے۔
پنجاب کے سرمایہ داروں کی بے چینی
پنجاب کے تین صنعتی شہروں گجرات، گجرانوالہ اور سیالکوٹ کے تین چیمبرز آف کامرس نے مل کرسی پیک کے حوالے اپنے تحفظات اورخدشات کااظہارکیا۔ اس علاقہ کو ‘گولڈن انڈسٹریل ٹرائی اینگل’ بھی قرار دیا جاتا ہے۔ ڈان نیوزکے مطابق ان شہروں کے سرمایہ داروں کی تنظیموں نے’ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے روٹ پر چین کی جانب سے صنعتی مراکز اور گودام تیار کرنے کے منصوبے پر تحفظات کا اظہار کردیا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں الیکٹرک،الیکٹرونکس، بجلی کے سامان ،موٹرز،آلات ودیگرسامان تیارہوتاہے۔
روزنامہ ڈان ۷۱جنوری کواداریہ ’مرکزدل میں درد‘کے عنوان سے لکھتاہے کہ تین درمیانے درجے(میڈیم سائز)چمبرزآف کامرس کی طرف سے جن خدشات اورتحفظات کااظہارسی پیک کے حوالے سے کیاگیاہے اس پرتوجہ دینے کی ضرورت ہے۔ڈان کہتاہے کہ یہ علاقہ مسلم لیگ ن کے ووٹرزہیں جوآنے والے انتخابات میں اہم ہیں۔ اس لئے حکومت کوان کی طرف توجہ دینی چاہئے۔ ڈان کہتاہے کہ حکومت کوچینی اورپاکستانی سرمایہ داروں کوایک نظرسے دیکھنے ہوگا۔ ڈان کہتاہے کہ اس علاقہ میں چھوٹے اوردرمیانے درجے کے انٹرپرائززہیں،جہاں مزدوربہت ہنرمندہیں۔اس لئے حکومت کوان کی آوازپرکان دھرناہوگا۔اس کی اہم وجہ ڈان کے مطابق یہ ہے کہ اس طرح کے خدشات دیگرعلاقوںکے بزنس کرنے والوں کے بھی ہیں،جویہ محسوس کرتے ہیں کہ حکومت ان کی آوازسننے کوتیارنہیں اورچینی سرمایہ کاروں کوہی فوقیت دی جارہی ہے۔ ڈان نے اگرچہ چین کے سرمایہ کاروں کی آمد اوران کوسہولیات دینے کومثبت اقدام قراردیالیکن دوسری اس نے مقامی صنعت پراس حوالے پڑنے والے اثرات کی طرف توجہ دینے پرزوردیا۔ ڈان کے بقول ان علاقوں کے سرمایہ دارگلہ کرتے ہیں ان کوچین صنعتوں کے پاکستان میں قیام کے حوالے سے اعتمادمیں نہیں لیاگیا۔ڈان نے اس حوالے سے تین سوالات اٹھائے۔ اول یہ کیابہترنہ ہوتاکہ یہ دیکھاجاتاکہ اس کے ذریعے ٹکنالوجی منتقل ہوتی جس سے مقامی صنعتوں کی پیداواریت میں اضافہ ہوتا؟دوسرایہ کہ کیاان سے مشورہ کیاگیاہے کہ چین کے مغربی خطوں میں انڈسٹریلائزیشن میں ان کومواقع مل سکتے ہیں؟ کیاپاکستان میں سرمایہ کاری یک طرفہ معاملہ ہے؟
(جاری ہے ،باقی اگلے شمارے میں )

ڈان کہتاہے کہ پنجاب کے صنعتی مرکز سے اٹھنے والی آوازدراصل ان آوازوں کاحصہ ہے جس میں حکومت کے ملکی صنعت کونظراندازکرنے کے بڑھتے ہوئے خدشہ کے رحجان کوظاہرکرتاہے۔اخبارکہتاہے کہ سیالکوٹ کی برآمدات بری طرح متاثرہوئی ہیں ۔اس لئے پاکستان کاچین میں کاروبارکے بدلے میں سیالکوٹ کے لئے چین سے معاملہ کرنے سے اس کے مخفی قوت میں اضافہ ممکن ہے۔اخبارکہتاہے کہ اگرحکومت کوشش کرے توگجرات،گجرانوالہ اورسیالکوٹ کی مصنوعات کوچین کے مغربی خطوں میں ان کوجگہ مل سکتی ہے کیونکہ یہ جغرافیائی طورپرچین کے ساحلی علاقوں سے زیادہ پاکستان سے قریب ہیں۔ اخبارآخرمیں کہتاہے کہ اگرسی پیک دوطرفہ معاملہ ہے توحکومت کوان آوازوں پرکرنادھرناہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *