چیف جسٹس کا فیصلہ: کرونا وباء نہیں یا ریاست کو اس وباء سے نمٹنے کے لیے سرمایہ کاری کرنی ہوگی؟

چیف جسٹس کا فیصلہ: کرونا وباء نہیں یا ریاست کو اس وباء سے نمٹنے کے لیے سرمایہ کاری کرنی ہوگی؟

تحریر: ریاض احمد، عاصم جان

 

چیف جسٹس گلزار احمد نے ۱۸ مئی کو اس وقت ایک دھماکہ خیز فیصلہ کر دیا۔ آڈر کیا کہ تمام شاپنگ مال کھول دو، دکانوں پر ایس او پی فالو نہ کرنے پر جرمانے اور سیل کرنا بند کردو۔ ساتھ ہی جب یہ بھی کہہ دیا کہ پاکستان میں کرونا کوئی وباء نہیں۔اس خبر نے سندھ و وفاقی حکومتوں کی گزشتہ دو ماہ سے جاری لاک ڈاون کی پالیسی اور اس میں رسہ کشی کا باب جیسے بند ہی کر دیا۔ عدالتی وار یقینا پارلیمانی جمہوریت پر ہی حملہ نہیں بلکہ ایک طرح کا کو ڈی ٹا یعنی آئین کو معطل کیے بغیر عدالتی اقدام ہے جس کا اختیار عدالتوں کو نہیں۔ اس ایکشن پر تمام جمہوریت پسندوں، آئین پرستوں نے شدید مزمت کی ہے۔ ہم بطور سوشلسٹ بھی اس کی مزمت کرتے ہیں کیونکہ یہ ایک شخص کی رائے ہے۔ شاپنگ مال، دکانیں کھولنا بہت بڑی آبادی کی آمد و رفت کا سبب بنے گا جو پورے ملک کو ایک ایسی وباء میں ڈبو دے گی جس سے دنیا بھر میں پہلے ہی تین لاکھ افراد مارے جا چکے ہیں اور پچاس لاکھ سے زیادہ اس کا شکار ہو چکے ہیں۔ یہ کہنا کہ کرونا پاکستان میں وباء نہیں یا پینڈیمک نہیں یہ تمام سائنسی جانکاری سے ہی انکار ہے۔ اس طرح کا رویہ وہ ریاستیں اپناتی ہیں جو قومی دفاع کے نام پر چین، شمالی کوریا کی طرح عوام کو نہ صرف بے خبر رکھتی ہیں بلکہ پراپیگنڈے سے ہر سچ کو جھوٹ بنانے میں سرگرم رہتی ہیں۔

البتہ چیف جسٹس پر ایک تنقید میں تاثر کچھ یوں ہے کہ جیسے یہ مسخرہ پن ہے. یعنی یہ سنجیدہ اقدام نہیں۔ یہ نکتہ نظر دراصل اس زیریں پس منظر کو نظر انداز کرتا ہے جس میں پاکستانی ریاست چل رہی ہے۔اس لیے ہمارے نزدیک اس فیصلے کے محرکات کا سنجیدگی سے جائزہ لینا ضروری ہے۔ پاکستانی ریاست میں بڑے سرمایہ دار، ملٹی نیشنل کمپنیاں، فوجی سرمایہ کاری، بڑے جاگیردار، امپورٹر ایکسپورٹرسے لے کر دسیوں لاکھوں کی تعداد میں چھوٹے بڑے کاروبار ہیں جن سے کروڑوں افراد کا روزی روزگار وابستہ ہے۔کرونا بحران میں وباء کو پھیلنے سے روکنے کے لیے جو اقدامات ریاست نے کیے چیف جسٹس ان اقدامات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ان اقدامات نے کرونا سے کتنے لوگوں کو بچایا، کتنی رقم لگی اور کہاں خرچ ہوئی اس کا حساب کتاب باربار مانگا اور پیش کیا جا رہا ہے۔ چیف جسٹس کی گفتگو ان ناکامیوں پر بھی ہے جو ریاستی اداروں کو دیکھنی  پڑیں ہیں۔ ایک چیز بہت واضع ہے کہ بنیادی حفاظتی سامان سے لے کر جدید ٹکنالوجی سے لیس سامان تک امپورٹ کرنا پڑ رہا ہے اور وباء کی صورت میں قیمتیں آسمان پر ہیں۔ پاکستانی ریاستی ادارے اور خاص کر فوج سے وابستہ ادارے جب مارچ میں وینٹیلیٹر سے لے کر کرونا کٹ تک بنانے کی کوششوں میں میں مصروف ہیں مگر خاطر خواہ نتائج نہیں نکل رہے.ظاہر ہے ملک میں سائنس اور ٹکنالوجی پر خرچ ہی کتنا ہو تا ہے کہ وباء میں یہ کوئی کردار ادا کرسکیں۔

 اس عدالت میں دو دن سے خاص زور اس بات پر ہے کہ ہم دو سو ارب خرچ کر کے سامان منگوا رہے ہیں اور وہ دو نمبر ہے کیونکہ سرکاری ٹیسٹ پازیٹو اور نجی نیگیٹو آتا ہے، یعنی یہ کہ ہمیں اب “سب کچھ خود بنانا ہوگا، کوئی نہیں دے گا”. یہ کوشش ہو رہی ہے کہ کسی طور ریاست منصوبہ بندی کے ساتھ اشیاء کی پیداوار کی ذمہ داری سنبھالے. یہی وجہ ہے کہ حوالہ اسٹیل ملز کا دیا کہ اسے ڈوبا دیا گیا، اسی وجہ سے حوالہ کارپوریٹ کمپنیوں کا دیا کہ انکی ترجیحات کچھ اور تھیں یعنی چوری کر کے مال بنانا. اب یہ سب اس نجکاری اور آوٹ سورسسنگ کی پالیسی کے خلاف ہے جس پر تمام سیاسی پارٹیاں متفق ہیں. یہی وجہ ہے کہ ڈان اخبار کے آج کے اداریہ میں کرونا اور شاپنگ مال کھولنے پر عدالت پر تنقید کرتے ہوئے حوالہ عدالتی مداخلت اور اسٹیل ملز کی نجکاری روکنے اور ریکو ڈک ڈیل ختم کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے کرونا کے متوقع بڑے ڈیزاسٹر کا خدشہ ظاہر کیا ہے. یعنی عدالتوں نے مشرف دور میں نجی سرمائے کا رستہ روکا اور اب پھر ریاستی سرمایہ کاری کی وکیل بنی ہوئی یے جو نجی سرمایہ کار جیسے ڈان کو منظور نہیں.

ایک دلچسپ کشمکش یے جس میں ریاستی ادارے دکاندار اور مڈل کاروباری کو ساتھ ملا کر ریاستی سرمایہ کاری کو آگے بڑھانا اور ملک کو عالمی سرمائے سے فاصلے پر لانا چاہتے ہیں.

ریاست ایک طرف وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے طبی و انتظامی اقدامات اور دوسری طرف ساتھ ساتھ نجی سرمایہ داری کو جاری رکھنے کے باہمی  تضاد میں کوئی واضع فیصلہ نہیں کر پارہی۔ تقریبا یہی کیفیت ساری دنیا میں ہے۔ اس بحرانی صورتحال میں جب ریاست کا ایک ادارہ یعنی سیاسی حکومت indecisiveness کا شکار ہورہی ہے ( یعنی ٹریڈنگ کاروبار کھولنا) تو دوسرا ادارہ یعنی عدلیہ اس کے ڈومین میں دخل اندازی کر رہی ہے۔

یہ ریاستی اداروں کا ایک دوسرے کی ڈومین میں گھسنا حکمران طبقہ کے بحران کی نشانی ہے، مگر یہ tendency پاکستان جیسے peripheral capitalist ملک میں نئی نہیں بلکہ شائد شروع سے رہی ہے۔ یعنی حکمران طبقہ کے ریاستی ڈھانچہ کے اداروں میں منافع کے نظام کو آگے چلانے اور عوام کو دبا کر رکھنے کے طریقہ کار پر  agreement نہیں رہتی، کیونکہadequate surplus  accumulation کا کوئی کامیاب ماڈل یہ آج تک بنا نہیں سکے ۔ اب ، بار بار، ایک ادارہ دوسرے کی domain میں intervene کرتا ہے، بحران سے نکلنے کی اپنی اپنی سوچ یا کلاس بیس کے مفادات کے دیکھتے ہوئے۔ کیونکہ surplus extraction کا پراسس جاری رکھنا پورے نظام کا بنیادی مقصد ہے، باقی سارے کام ضمنی ہیں اور اس حد تک اہم جس حد تک وہ اس بنیادی کام میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ اسی لئے  عوام کو صحت و تعلیم  کی فراہمی حکمران طبقہ کے نزدیک ثانوی اور بنیادی مقصد کے حصول میں supporting حیثیت ہی رکھتے ہیں۔ آپ نے سپریم کورٹ کے ڈرامائی proceedings سے جو 2 بنیادی نقاط  اخذ کیئے وہ بالکل revealing ہیں۔

1۔ چونکہ حکومت چھوٹے کاروبار و ٹریڈنگ کو کھولنے میں، عوامی و میڈیکل سرکلز کی backlash سے ہچکچا رہی تھی، تو یہ کام عدلیہ نے کر ڈالا۔

2۔ عدلیی نےسرکاری سرمایہ داری کی کمزوری کا بھی رونا رویا کہ وہ مضبوط ہوتی تو اتنا بڑا حال نا ہوتا۔ تو یہ حکمران طبقہ میں موجود ایک گروہ سوچ کی عکاسی کی کہ ایسے کرائسس میں نجی سرمایہ داری ناکام رہتی ہے کیونکہ وہ صرف منافع کے چکر میں ہوتی ہے اور 2 نمبری بھی کرتی ہے یعنی مخلص نہیں ہوتی۔

تو عدلیہ ریاست کے دوسرے اداروں، یعنی حکومت اور سول،  فوجی بیوروکریسی کو اشارہ کر رہی ہے کہ اپنے تحت قائم سرکاری فیکٹریوں میں یہ capability پیدا کریں۔

پر عدلیہ جن بھی خوش کن خواہشات کا اظہار کرے، اصلیت یہ ہے کہ حکمران طبقہ  کی dominant ideology اس کے برعکس ہے، یعنی پرائیوٹائزیشن اور نیو لبرزم۔

مئی ۲۰، ۲۰۲۰

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *