ہمیں کورونا وائرس سے پیدا اجتماعی المیہ کا جواب اجتماعی صورت ہی دینا ہو گا

ہمیں کورونا وائرس سے پیدا اجتماعی المیہ کا جواب اجتماعی صورت ہی دینا ہو گا!

تحریر :ڈیوڈ ہاروی، ترجمہ ریاض احمد

https://jacobinmag.com/2020/04/david-harvey-coronavirus-pandemic-capital-economy/

کوویڈ 19 وبائی بیماری کے ذریعہ پیدا ہونے والا بحران ہے۔یہ ہمیں مارکس کے انسانی آزادی کے نظریہ کے بارے میں پھر سے سوچنے کا ایک موقع دیتا ہے۔ جیسا کہ ڈیوڈ ہاروی نے جیکوبین کے لیے اس مضمون میں لکھا ہے  کہ بحران سے نمٹنے کے لئے ہنگامی اقدامات سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ہم کیسے ایک مختلف معاشرے کی تشکیل کر سکتے ہیں جو سرمایہ داری کے ہاتھوں یرغمال بھی نہ ہو۔ (اداریہ جیکوبین)۔

میں یہ باتیں نیویارک شہر میں کورونا وائرس کے بحران کے بیچ ہی تو لکھ رہا ہوں۔ جو کچھ ہو رہا ہے اس کا قطعی جواب کیا ہو، یہی تو اس وقت کا مشکل سوال بھی ہے۔ عام طور پر اس طرح کی صورتحال میں  تو ہم سرمایہ داری مخالف لوگ سڑکوں پر نکلتے ہیں، مظاہرے اور احتجاج کرتے ہیں۔

لیکن اس کے برعکس، میں ذاتی طور پر تنہائی کی مایوسی کن صورتحال سے دوچار ہوں۔ ایک ایسے لمحے میں کہ جب وقت اجتماعی طور پر کارروائی کا تقاضہ کررہا  ہے۔ لیکن جیسا کہ کارل مارکس کا مشہور جملہ ہے کہ ہم اپنی پسند کے حالات میں تاریخ نہیں بنا سکتے۔ لہذا ہمیں یہ جاننا ہوگا کہ ہمارے پاس موجود جو مواقع ہیں انہیں کس حد تک بہتر طور پر استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔

میرے اپنے حالات نسبتا مراعات یافتہ ہیں۔ میں کام جاری رکھ سکتا ہوں، لیکن گھر سے۔ میں اپنی ملازمت سے محروم نہیں ہوا ، اور مجھے اب بھی تنخواہ ملتی ہے۔ مجھے بس اتنا کرنا ہے کہ اس وائرس سے دور رہنا ہے۔

میری عمر اور میرے مرد ہونے نے مجھے کمزور افراد کے زمرے میں ڈال دیا ہے۔ لہذا کسی قسم کے بھی رابطے کا مشورہ نہیں دیا جاتا ہے۔ اس وجہ کر زوم سیشنوں  سے جو وقت بچتا ہےوہ پڑھنے لکھنے کے لئے کافی ہوتا ہے۔ لیکن یہاں نیویارک کی صورتحال کی خصوصیات پر غور کرنے کی بجائے، میں نے سوچا کی میں ممکنہ متبادلوں پر کچھ غور و فکر کروں۔ اور سوال اٹھائوں کہ سرمایہ داری کے مخالفین اس طرح کے حالات کے بارے میں کیا سوچ  سکتے ہیں؟

نئی سوسائٹی کے عناصر

میں اس تبصرے کے ساتھ  اپنی بات کچھ یوں رکھتا ہوں کہ جو مارکس نے 1871 میں پیرس کمیون کی ناکام انقلابی تحریک پر کہی تھی۔ مارکس لکھتا ہے:

“محنت کش طبقے کو کمیون سے معجزوں کی توقع نہیں تھی۔ ان کے پاس عوامی فرمان کے ذریعہ متعارف کرانے کیلئے کوئی ریڈی میڈ یوٹوپیاز(تخیلاتی تراکیب) نہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اپنی نجات حاصل کرنے کے لیے اور اس کے ساتھ ساتھ ان اعلی مدارج میں پہنچنے کے لیے کہ جن کی کشش میں موجودہ سماج اپنی معاشی ایجنسیوں کے ذریعہ کھنچا چلا جا رہا ہے، انہیں طویل جدوجہد سے گزرنا پڑے گا، اس تاریخ ساز عمل سےگزرنا ہوگا کہ جو انسان اور ماحول کو تبدیل کردیتے ہیں۔ ان کے پاس کوئی آئیڈیلز نہیں ہیں کہ جن کو تسخیر کر سکیں کہ بس اُن عناصر کو آزاد کرالیں کہ جس کے ساتھ پرانا بورژوا معاشرہ خود حاملہ بھی ہے اور تباہ بھی ہو رہا ہے۔”

مجھے اس حوالہ پر کچھ تبصرے کرنے دیں۔ اول تو یہ کہ یقینا مارکس کسی حد تک سوشلسٹ یوٹوپیئن سوچ کا مخالف تھا، اس نظریہ سے گرفتہ  1840 ، ’50 اور’ 60 کی دہائی کے فرانس میں بہت سارے تھے بھی۔ یوں جوزف فوئیر ، ہنری ڈی سینٹ سائمن ، ایٹینین کابیٹ ، لوئس آگسٹ بلانکوی ، پیری جوزف پراڈھون وغیرہ کی یہی روایات بھی تھیں۔

مارکس نے محسوس کیا کہ یوٹوپیائی سوشلسٹ خواب دیکھنے والی فکر سے ہیں ، اور یہ کہ وہ عملی طور پر کام کرنے والے کارکن نہ تھے کہ جو حقیقت میں تب کی دنیا میں مزدوروں کے حالات بدلنے کے لیے سرگرم ہوں۔ آج کی دنیا کے حالات بدلنے کے لیے آپ کو اس بات کی اچھی طرح گرفت کرنی  تھی کہ سرمایہ دارانہ معاشرے کی نوعیت کیا ہے۔

لیکن مارکس یہ بات بالکل واضح کر دیتا ہے کہ انقلابی منصوبے کو مزدوروں کی خودمختاری (emancipation)   پر توجہ دینی ہوگی۔یہ کہ مزدور اس تشکیل کا “خود” اہم حصہ ہے۔ دنیا کو تبدیل کرنے کے کسی بھی بڑے منصوبے میں اپنے آپ کی تبدیلی کی بھی ضرورت ہوگی۔ لہذا مزدوروں کو خود کو بھی بدلنا پڑے گا۔ یہ پیرس کمیون کے وقت مارکس کے ذہن میں جیسے رچی بسی سی بات تھی۔

تاہم ، مارکس نے یہ بھی نوٹ کیا کہ خود سرمایہ ہی حقیقت میں تبدیلی کے امکانات پیدا کر رہا ہے، اور طویل جدوجہد کے ذریعے ، ایک نئے معاشرے کے خطوط کو “آزاد” کرنا ممکن بھی ہوگا کہ جس میں مزدوروں کو بیگانہ مزدوری(alienated labor) سے آزاد کیا جاسکتا ہے۔ انقلابی کام اس نئے معاشرے کے عناصر کو آزاد کرنا تھا، جو پہلے سے بوسیدہ بورژوا معاشرتی نظام کے بطن میں ہی موجود ہے۔

امکانات کو آزاد کرنے کا عمل

اب، ہم اگر یہ مان کر چلیں کہ ہم ایک بوسیدہ اور تباہ ہوتے ہوئے بورژوا معاشرے کی صورتحال میں ہیں۔ واضح طور پر یہ بورژوا سماج ہر طرح کی بدصورت چیزوں سے حاملہ ہے – جیسے نسل پرستی اور زینوفوبیا – جنہیں میں خاص طور پر آزاد دیکھنا نہیں چاہتا۔ لیکن مارکس یہ نہیں کہہ رہا ہے کہ “اس پرانے اور خوفناک حد تک تباہ ہوتے ہوئے معاشرتی نظام کے اندر ہر چیز کو آزاد کرو۔” وہ یہ کہہ رہا ہے کہ ہمیں تباہ حال ہوتےبورژوا معاشرے کے ان پہلوؤں کو منتخب کرنے کی ضرورت ہے جو مزدوروں اور مزدور طبقہ کی نجات میں معاون ثابت ہوں گے۔

اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سے امکانات ہیں، اور وہ کہاں سے آرہے ہیں؟ مارکس نے اپنے پمفلٹ میں اس بات کی وضاحت نہیں کی ہے۔ لیکن مارکس کے ابتدائی نظریاتی کاموں میں زیادہ تر یہ بات ظاہر کرنے کے لئے وقف تھے کہ مزدور طبقات کے لئے تعمیری امکانات کیا ہوسکتے ہیں۔اسکی طویل تحریر یعنی گرنڈرائیز ہی ایک ایسی جگہ ہے کہ جہاں وہ یہ کام ایک بہت ہی بڑے ، پیچیدہ اور نامکمل متن میں چھوڑ گیاہے۔ گرنڈرائیز کو مارکس نے سن 1857–58 کے بحران کے دنوں میں تحریر کیا تھا۔

اس کام کے کچھ حصوں میں مارکس نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ پیرس کمیون کے دفاع میں اسکے ذہن میں کیا پہلو  تھے۔ “آزاد کرنے” کے خیال کا تعلق اس بات سے ہے کہ اس وقت بورژوا ، سرمایہ دارانہ معاشرے کے اندر ہو کیا رہا تھا۔ یہی سمجھنے کے لیے مارکس مستقل جدوجہد کر رہا تھا۔

گرنڈرائیز میں، مارکس تکنیکی تبدیلی اور سرمایہ داری کی موروثی تکنیکی ڈائینمکس (حرکیات) کے سوال پر تفصیل سے بات کرتا ہے۔ وہ جوپہلو سامنے لاتا ہے وہ یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ معاشرہ اپنی بنت میں ہی ایجادات میں مگن رہنے والا معاشرہ ہے۔ ساتھ ہی یہ کہ سرمایہ داری نئے تکنیکی اورتنظیمی امکانات کی تعمیر میں بھاری سرمایہ کاری کرنے والا نظام ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سرمایہ دار کی حیثیت میں ایک فرد  اگر دوسرے سرمایہ داروں کے ساتھ مقابلہ پر ہو تو اسے زیادہ منافع تب ہی ملے گا جب اسکی ٹکنالوجی اپنے حریفوں کے مقابلہ میں بہتر ہو۔ اس طرح، ہر انفرادی سرمایہ دار کے پاس یہ موٹیویشن ہوتی ہے کہ وہ دوسری کمپنیوں کے مقابلے میں زیادہ پیداواری ٹکنالوجی کی تلاش میں جتا رہے کیونکہ انہی کمپنیوں کے ساتھ اس کا مقابلہ بھی تو ہے۔

اسی وجہ سے، تکنیکی سرمایہ ایک سرمایہ دارانہ معاشرے کے دل میں سرائیت کرتا ہے۔ مارکس نے اس بات کو آگے جا کر کمیونسٹ مینیفیسٹو (جو 1848 میں لکھا گیا) میں تسلیم بھی کیا ہے۔تکنیکی سرمایہ اور اسکی جستجو ان اہم قوتوں میں سے ایک ہے جو سرمایہ داری کے مستقل انقلابی کردار کی وضاحت بھی کرتی رہتی ہے۔

ایک سرمایہ دار اپنی موجودہ ٹکنالوجی پرکبھی بھی مطمئن بیٹھا نہ رہے گا۔ یہ مستقل اس میں بہتری لانے کی کوشش کرے گا، کیوں کہ یہ نظام اس شخص، فرم ، یا معاشرے کو ہمیشہ انعام دیتا ہے کہ جو جدید ترین ٹکنالوجی متعارف کراتا ہے۔ انتہائی جدید اور متحرک ٹکنالوجی کی حامل ریاست، قوم یا پاور بلاک ہی اس جتھہ کی قیادت کر رہا ہوتاہے۔ لہذا تکنیکی حرکیات سرمایہ داری کے عالمی ڈھانچے میں بسی ہوئی ہے۔ اور ابتداء سے ہی ایسا ہی ہوتا رہا ہے۔

تکنیکی جدت

اس بارے میں مارکس کا نقطہ نظر واضع بھی ہے اور دلچسپ بھی۔ جب ہم تکنیکی جدت طرازی کے عمل کا تصور کرتے ہیں تو ہم عام طور پر کسی کے بارے میں سوچتے ہیں کہ کوئی نہ کوئی کچھ بنا رہاہے اور جو کچھ بھی وہ کر رہا ہے اس میں تکنیکی بہتری حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ یعنی، تکنیکی حرکیات کسی خاص فیکٹری،کسی خاص پیداواری نظام، ایک خاص صورتحال سے جڑی ہوئی ہیں۔

لیکن ہوتا یوں ہے کہ بہت سی ٹیکنالوجیز دراصل پیداوار کے ایک دائرے سے دوسرے میدان میں پھیل جاتی ہیں۔ یہ عام ہو جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر، کمپیوٹر ٹکنالوجی اب ہر ایک کے لئے دستیاب ہے جو اسے کسی بھی مقصد کے لئے استعمال کرنا چاہتا ہو۔ خودکار ٹیکنالوجیز ہر قسم کے لوگوں اور صنعتوں کو ویسے بھی دستیاب ہوتی ہیں۔

مارکس نے نوٹ کیا ہے کہ جب آپ برطانیہ میں 1820، 30 اور 40 کی دہائی تک پہنچیں گے، وہاں آپ دیکھیں گے کہ نئی ٹیکنالوجیز کی ایجاد پہلے ہی فیکٹریوں اور ملوں سے آزاد ہے۔یہ اب آزادانہ کاروبار بن چکی تھی۔ یعنی، اب یہ کوئی ٹیکسٹائل وغیرہ بنانے والوں تک محدود نہ رہا ہے کہ وہی نئی ٹکنالوجی میں دلچسپی لیں جس سے وہ ملازمین کی پیداواریت میں اضافہ کر نے کے خواہشمند ہوں ۔بات ان سے آگے نکل چکی تھی۔ بلکہ اب تو کاروباری افراد ایک نئی ٹکنالوجی لے آتے ہِیں جو ہر  جگہ استعمال ہوسکتی ہے۔

مارکس کے وقت میں ٹکنالوجی بطور کاروبار پھیلائو کی ابتدائی مثال اسٹیم انجن کی تھی۔ اس میں کوئلے کی کانوں سے پانی نکالنے سے لے کر بھاپ انجن بنانے اور ریل روڈ بنانے تک یہ سبھی مختلف ایپلی کیشنز موجود تھیں۔ جبکہ ٹیکسٹائل فیکٹریوں میں بجلی کے لومز پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ۔ لہذا اگر آپ ایجادات کے کاروبار میں جانا چاہتے ہیں تو اس کام کے آغاز کے لیے انجینئرنگ اور مشین ٹول انڈسٹری اچھی جگہیں تھیں۔

پوری معیشتیں،مثلا برمنگھم شہر کے آس پاس ابھر اٹھیں، جو مشین ٹول میکنگ میں ہی مہارت رکھتیں تھیں، یہ نہ صرف نئی ٹیکنالوجیز بلکہ نئی مصنوعات کی تیاری کی طرف چل نکلیں۔مارکس کے زمانے میں بھی تکنیکی جدت اپنے تئیں از خود ایک خودمختار کاروباربن چکی تھیں۔

دوڑ کر ٹھر جانا

گرنڈرائِز میں مارکس اس سوال پر تفصیل سے روشنی ڈالتا ہے کہ جب ٹیکنالوجی ایک کاروبار بن جاتی ہے تو کیا ہوتا ہے۔یعنی جب جدت طرازی نئی مارکیٹوں کی تخلیق کرتی ہے،کسی نئی ٹکنالوجی تک محدود رہنے کے بجائے  جب یہ پیشگی مارکیٹ کی طلب کے جواب کے طور پر کام کرنے لگتی ہے تو اس کے بعد نئی ٹیکنالوجیز سرمایہ دارانہ معاشرے کی حرکیات کا ایک اہم پہلو بن جاتی ہیں۔

اس تبدیلی کے نتائج وسیع پیمانے پر اثرات رکھتے ہیں۔ ایک واضح نتیجہ یہ ہے کہ ٹیکنالوجیز کبھی جامد نہیں ہوتیں: وہ کبھی جامد ہو کر بس نہیں سکتیں، لیکن پھر بھی جلد متروک ہوجاتی ہیں۔ جدید ترین ٹکنالوجی کی جستجو میں رہنا اور اس پر گرفت ڈالنا دباؤ بھی لاتا ہے اور مہنگا بھی پڑتا ہے۔ٹکنالوجی کی فرسودگی کو تیز کرنا، یعنی کسی ٹکنالوجی کو زیادہ عرصہ استعمال کرتے جانا، موجودہ فرموں کے لئے تباہ کن ہوسکتا ہے۔

بہر حال، معاشرے کے تمام ہی شعبے یعنی الیکٹرانکس ، دواسازی ، بائیو انجینیئرنگ اور اس جیسے کئی ایک شعبوں کو جدت کی خاطر جدت پیدا کرنے کے گرداب کے حوالے کردیا گیا ہے۔ جو بھی تکنیکی جدت پیدا کرسکتا ہے، جو سیل فون یا ٹیبلٹ کی طرح، تخیل پر قابو پانے والا ہے، یا کمپیوٹر چپ کی طرح سب سے مختلف ایپلی کیشنز رکھتا ہے، اس کے جیتنے کا امکان زیادہ ہے۔ لہذا یہ خیال کہ ٹیکنالوجی ہی ایک کاروبار بن جاتی ہے اس کا اندازہ مارکس کے جائزوں میں عین مرکزی حیثیت اختیار کر جاتا ہے۔

یہی وہ چیز ہے جو سرمایہ کاری کو دوسرے تمام پیداواری طریقوں سے ممتاز کرتی ہے۔ اختراع کرنے کی صلاحیت انسانی تاریخ میں جامع طور پر پائی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ جاگیرداری دور میں بھی ایسی ہی جدت طرازی موجود تھی۔مثلا قدیم چین میں تکنیکی تغیرات آئے تھے۔ لیکن پیداوار کے ایک سرمایہ دارانہ انداز میں جو چیز انوکھی ہوتی ہے وہ ایک سیدھی سی حقیقت ہے۔یہ کہ ٹیکنالوجی ایک ایسا کاروبار بن جاتی ہے جس میں ایک ایسی عام مصنوع سامنے آئے جو پروڈیوسروں اور صارفین دونوں کو یکساں فروخت کی جاتی ہے۔

یہ سرمایہ داری سے وابستہ بہت ہی خاص پہلو ہے۔ سرمایہ دارانہ معاشرے کے ارتقاء کی کلیدی پیش رفت میں اہم بن جاتا ہے۔ یہ وہی دنیا ہے جس میں ہم رہتے ہیں، چاہے ہم اسے پسند کریں یا نہ کریں۔

مشین کا  ضمنی پرزہ

مارکس اس ترقی سے وابستہ ایک بہت ہی اہم حقیقت بیان کرتا ہے۔ ٹکنالوجی کو کاروبار بننے کے لیے آپ کو مختلف طریقوں سے علم کی نئی شکلوں کو متحرک کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس میں سائنس اور ٹکنالوجی کو دنیا کی مخصوص تفہیم کے طور پر استعمال کرنا شامل ہے۔

زمین پر نئی ٹیکنالوجیز کی تخلیق فکری اور علمی مضامین کے طورپر سائنس اور ٹکنالوجی کے ابھار کے ساتھ مربوط ہوجاتی ہیں۔ مارکس نے نوٹ کیا کہ اس انقلابی تکنیکی جدت طرازی کے لئے سائنس اور ٹکنالوجی کے استعمال، اور علم کی نئی شکلوں کا تخلیق کرنا کیسے ضروری ہوتا ہے۔

اس سے سرمایہ داری کے پیداواری انداز کی نوعیت کے ایک اور پہلو کی وضاحت ہوتی ہے۔ تکنیکی حرکیات دنیا کے نئے سائنسی اور تکنیکی علم اور دنیا کے تصور سے متعلق نئے، اکثر انقلابی، ذہنی تصورات کی پیداوار کے طور پر ابھرتے ہیں۔ سائنس اور ٹکنالوجی کے شعبے نئے علوم اور تفہیم کی تیاری اور ان کے اجماع میں مدغم ہو جاتے ہیں ۔ آخر کار اس پیش رفت کو سہارا دینے کے لیے ایم آئی ٹی اور کال ٹیک جیسے مکمل طور پر نئے اداروں کی بنیاد رکھنا پڑتی ہے۔

اس کے بعد مارکس یہ سوال کرتا ہے کہ ٹکنالوجی کے کاروبار بننے کا سرمایہ داری کے اندر  پیداواری عمل پر کیا اثر پڑتا ہے؟ اور یوں جس طریقے سے محنت (اور مزدور) کو ایسے پیداواری عمل میں شامل کیا جاتا ہے ان پر کیسے اثر پڑتا ہے؟ اولین سرمایہ دارانہ دور ، یعنی پندرہویں اور سولہویں صدی میں، مزدور کے پاس عام طور پر پیداوار کے ذرائع یعنی ضروری اوزار کا کنٹرول تھا ۔اور وہ ان اوزاروں کے استعمال میں ہنر مند بن گیا تھا۔ ہنرمند مزدور ایک خاص قسم کے علم اور مخصوص قسم کی تفہیم کا اجارہ دار ہو جاتا ہے۔مارکس نے نوٹ کیا  کہ  اس پہلو(صلاحیت) کو ہمیشہ ایک فن (آرٹ) ہی سمجھا جاتا تھا۔

تاہم، جب آپ فیکٹری سسٹم میں آجائیں گے، اور اس سے بھی آگے چل کر جب آپ عصر حاضر کی دنیا میں پہنچیں گے، تو اب ایسا نہیں ملےگا۔مزدور اب ہنر پر اجارہ داری نہیں رکھتا۔ مزدوروں کی روایتی صلاحیتوں کو بے کار سمجھا جاتا ہے۔ کیوں کہ ٹیکنالوجی اور سائنس نے مزدور کی جگہ لے لی ہے۔ ٹیکنالوجی اور سائنس اور علم کی نئی شکلوں کو مشین میں شامل کرلیا گیا ہے۔ یوں فن پر اجارہ دای اور از خود فن بھی غائب ہو گیا۔

اور اسی طرح مارکس ، گرنڈرائیز کے ایک حیران کن حصے میں(اگر آپ دلچسپی رکھتے ہیں تو پینگوئن ایڈیشن کے صفحات 650 تا 710 دیکھیں ) اس صورتحال کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہتا ہے کہ جس طرح نئی ٹیکنالوجیز اور علم مشین میں سرائیت اختیار کرتے ہیں ویسے ہی مزدور کا دماغ، اور ازخود مزدور کو ایک طرف دھکیل دیا جاتا ہے۔اب مزدورمشین کا اپینڈج (ایک عضو) بن جاتا ہے۔ یعنی مزدور مشین  پر محض نظر رکھنے والا پرزہ بنا دیا جاتا ہے۔ تمام ذہانت اور سارے علوم، جو مزدوروں سے تعلق رکھتے تھے، اور جنہوں نے انھیں ہنرمندوں کو ایک خاص اجارہ داری کی صورتحال عطا کر رکھی تھی اب ختم ہو گئے تھے۔

مزدور کی جس مہارت کی ضرورت سرمایہ دار کو رہتی تھی وہ اب اس مجبوری سے آزاد ہوچکا ہے۔ اور مہارت مشین کا حصہ بن چکی ہے۔ سائنس اور ٹکنالوجی کے ذریعہ تیار کردہ علم مشین میں سمو جاتا ہے۔ اور مشین سرمایہ دارانہ حرکات کی “روح” بن جاتی ہے۔ یعنی یہی صورتحال مارکس بیان کررہا ہے۔

محنت کی آزادی

ایک سرمایہ دارانہ معاشرے کی متحرکیت دائمی جدت پسندی پر انحصار کرتی ہے۔یہ نظام سائنس اور ٹکنالوجی کے متحرک ہونے سے کارفرما ہے۔ اس پہلو کو اپنے دور میں مارکس نے واضح طور پر دیکھا تھا۔ وہ 1858 میں ان سب کے بارے میں لکھ رہا تھا! لیکن یقینا فی الحال ہم جس صورتحال  سے دوچار ہیں کہ یہاں یہ مسئلہ نازک اور اہمیت کا حامل ہوگیا ہے۔

مصنوعی ذہانت(آرٹیفیشل انٹیلیجنس،AI) ہمارے دور کا وہ سوال ہے جس طرف مارکس کا اشارہ تھا۔ اب ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ سائنس اور ٹکنالوجی کے ذریعہ کس حد تک مصنوعی ذہانت تیار کی جارہی ہے۔اور پیداوار میں اسے کس حد تک شامل کیا جارہا ہے (یا اس کا اطلاق ممکن ہے)۔ اس کا واضح اثر مزدور کو دربدر کرنا، در حقیقت مزدور کومہارت اور پیداواری عمل میں مہارت کے استعمال میں صلاحیت کو کم کرنا اور محنت کی قدر(ویلیو) کو گھٹانا ہے۔

اس پر مارکس گرنڈرائیز میں مندرجہ ذیل تفسیر پیش کرتا ہے۔ میں اسے یہاں اس لیے پیش کر رہا ہوں کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ یہ واقعی، واقعی دلکش تشریح ہے:

” پیداواری عمل کو سادہ محنت کےزریعے سائنسی عمل میں تبدیل کرنا، یہ فطرت کی قوتوں کی تسخیر کرتا ہے اور انسانی ضروریات کے لیے کام کرنے پر مجبور کرتا ہے، یہ محنت کی جیتی جاگتی شکل کے برعکس مستقل اور جامد سرمایہ کی خصوصیت کے طور پر سامنے آتی ہے۔ . . اس طرح محنت کی تمام قوتیں دراصل سرمائے کے کی قوت میں منتقل ہوجاتی ہیں۔”

علم اور سائنسی مہارت اب مشین میں شامل ہو گئی اور یہ سرمایہ دار کےماتحت ہے۔ محنت کی پیداواری طاقت کو مستقل سرمائے میں تبدیل کردیا جاتا ہے۔ یہ ایسی چیز ہے جو محنت سے جدا ہے۔ مزدور کو ایک طرف دھکیل دیا جاتا ہے۔ جب پیداوار اور کھپت کی بات آتی ہے تو مستقل سرمایہ ہمارے اجتماعی علم اور ذہانت کا علمبردار بن کر ابھرتا ہے۔

مزید یہ کہ، مارکس یہ نتیجہ نکالتا ہے کہ گرتے ہوا بورژوا نظام اپنے بطن میں  وہ رکھتا ہے جس کی وجہ سے مزدور کو فائدہ ہو سکتا ہے۔ اور یہ ہے: سرمایہ، “بالکل غیر ارادی طور پر” انسانی محنت کو گھٹاتا ہے اور توانائی کے اخراجات کو کم سے کم کردیتا ہے۔ اس پہلو سے نجات پانے والے مزدوروں کو فائدہ  ہوگا اور نجات  کی شرط بھی یہی ہے۔ مارکس کے خیال میں آٹومیشن یا مصنوعی ذہانت جیسی کسی چیز کا عروج محنت سے نجات کے لئے حالات اور امکانات پیدا کرتا ہے۔

آزادانہ ترقی

میں نے پیرس کمیون پر مارکس کے جس پمفلٹ سے حوالہ دیا ہے اس میں مزدوری کرنے والے اور مزدور کی خود آزادی کا معاملہ مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ وہ شرائط ہیں جنہیں اپنانے کی ضرورت ہے۔ لیکن اس شرط کے بارے میں ایسی کیا بات ہے جو اسے ممکنہ طور پر آزاد کرنے والا بننے کا باعث بنی ہے؟

جواب بہت آسان ہے۔ یہ سائنس اور ٹکنالوجی مزدوروں کی معاشی پیداوریت کو بڑھا رہی ہے۔ ایک مزدور، ان تمام مشینوں کی دیکھ بھال کر کے، بہت ہی کم وقت میں بہت سی اجناس تیار کرسکتا ہے۔ یہاں ایک بار پھر گرنڈرائیز میں مارکس کہتا ہےکہ :

“جس حد تک بڑی صنعت ترقی پاتی ہے اتنا ہی حقیقی دولت کی تخلیق کا انحصار محنت کے وقت اور محنت کی مقدار پر کم انحصار کرنے لگتا ہے اور ان قوتوں پر زیادہ انحصار کرتا ہے جو اس محنت کے دورانیہ میں بروئے کار آئے،اور جس کی “طاقت کی تاثیر” خودپیداوار پر صرف ہونے والی براہ راست محنت کے وقت کے تناسب سے کہیں زیادہ ہوتی ہے،بلکہ اس کا انحصار سائنس کی عمومی صورتحال اور ٹکنالوجی کی پیشرفت پر ہوتا ہے، یا پھر اس سائنس کو پیداوار پر لاگو کرنے پر منحصر ہوتاہے۔ . . اصلی دولت خود اپنا اظہار کرتی ہے اور جب محنت کے دورانیہ اور پیداوار کے درمیان ایک دیوقامت فرق سامنے آتا ہے تو بڑی صنعت ہی اس بات کو آشکار کررہی ہوتی ہے ۔ “

لیکن پھر مارکس اس دور کے ایک رکارڈین سوشلسٹ کے حوالےسے یہ باتیں شامل کرتا ہے کہ “جب واقعی قوم دولت مند ہو تو کام کا دورانیہ 12 گھنٹے کے بجائے 6 گھنٹے کا  ہونا چاہئیے۔ دولت یہ نہیں کہ فاضل محنت کے وقت پر بھی حاوی رہے . . بلکہ (دولت یہ ہے کہ )براہ راست پیداوار کے علاوہ جو فالتو وقت ہر فرد اور پورے معاشرے کے لئے میسر ہو ۔”

یہی وجہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام مزدوروں کے علاوہ “افراد کی آزادانہ ترقی” کے امکانات پیدا کرتا ہے۔ اور ، ویسےمیں نے پہلے بھی یہ کہا ہے، لیکن میں اسے دوبارہ کہنے جارہا ہوں کہ مارکس ہمیشہ، ہمیشہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ یہ فرد کی آزادانہ ترقی ہے جو ہر اجتماعی اقدام کو آگے بڑھانےاور اس کا اختتامی نقطہ ہوتاہے۔ جبکہ عام پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ مارکس اجتماعی ایکشن کا حامی ہے مگر انفرادیت کو کچلتا ہے، دراصل غلط تصورہے۔

بلکہ مارکس اس کے برعکس بات کر رہا ہے۔ مارکس انفرادی آزادی حاصل کرنے کے لئے اجتماعی اقدامات کو متحرک کرنے کے حق میں ہے۔ ہم کچھ دیر میں اسی بات پر واپس لوٹیں گے۔ لیکن یہ انفرادیت کی آزادانہ ترقی کی صلاحیت ہے جو یہاں پر ہمارا مرکزی مقصد ہے۔

ضروری اور غیر ضروری محنت

یہ تمام باتیں اس حقیقت پر منتج ہونی چاہئیں کہ “ضروری محنت کی مقدار میں عمومی کمی  ہوگی یعنی معاشرے کی روزمرہ زندگی کو چلانے کے لئے درکار محنت کی مقدار کم ہو گی۔ محنت کی بڑھتی ہوئی پیداوریت کا مطلب یہ ہے کہ معاشرے کی بنیادی ضروریات کا بہت آسانی سے خیال رکھا جاسکتا ہے۔ اس کے بعد افراد کی ممکنہ فنی اور سائنسی نشوونما کے لیے وافر ڈسپوزایبل وقت میسر آنے کا موقع ملے گا۔

 

پہلے پہل تو  یہ اضافی وقت مراعات یافتہ افراد کے لئےہی نکل پائےگا ، لیکن آخر کار  یہ سب کے لیے مفت ڈسپوزایبل وقت پیدا کردے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ  آزاد افراد کا اپنی مرضی کے مطابق کام کرنا ناگزیر ہے۔ کیونکہ آپ جدید ترین ٹیکنالوجی کے استعمال سے بنیادی ضروریات کا بندوبست کر سکتے ہیں۔

مارکس کا کہنا ہے کہ سرمایہ از خود ہی ایک “متحرک تضاد” ہے۔ اس نے ایک طرف “محنت کے وقت کو کم سے کم کرنے کے لئے دباؤ ڈالا ہے جب کہ دوسری طرف یہ محنت کے وقت کو ہی دولت کو ناپنے کا واحد ذریعہ بنا کرپیش کرتاہے۔” لہذا یہ محنت کے وقت کو ضروری شکل میں کم کرتا ہے، یعنی وہ وقت جو حقیقتا درکار ہے تاکہ ضرورت سے زائد وقت میں اضافہ کیا جا سکے۔

اب سمجھنے والی بات یہ ہے کہ ضرورت سے زائد وقت(superfluous) کو ہی مارکس قدر زائد(surplus value) یعنی قدر اضافی کہتا ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ اس زائد وقت پر قبضہ کون کرتاہے؟ جس مسئلے کی نشاندہی مارکس کرتا ہے وہ یہ نہیں ہے کہ قدر زائد دستیاب نہیں ہے، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ قدر زائد مزدور کے لئے دستیاب نہیں ہے۔ اگرچہ رجحان (سرمائے کا) یہ ہے کہ “ایک طرف ڈسپوز ایبل ٹائم پیدا کرنا ہے ،” لیکن دوسری طرف یہ ہے کہ سرمایہ دار طبقے کے مفاد کے لیے “اسے قدر زائد میں تبدیل کرنا” ہے۔

مزدور کی آزادی کے لئے اس کا اصل اطلاق نہیں کیا جارہا ہے۔ جبکہ ایسا ہوسکتا ہے۔ اس کا اطلاق بورژوازی کے گھونسلوں کو تعمیر کرنےکے لیے ہو رہا ہے اور اسی وجہ سے بورژوازی کے اندر روایتی طریقوں سے دولت جمع کرنے پر زور دیا جاتاہے۔

اب یہاں ایک مرکزی تضاد ہے۔ ​​مارکس کہتا ہے کہ “واقعتاکسی قوم کی دولت کو ہم کیسے جانچیں گے؟” ہاں، وہ کہتا ہے کہ” آپ اسے بڑے پیمانے پر دولت اور جس کسی کی حاکمیت قائم ہو اس کے باقی حصے کے لحاظ سے سمجھ سکتے ہیں۔” لیکن جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ مارکس کے لیے “واقعی ایک متمول قوم ایک ایسی قوم ہے جس میں بارہ کے بجائے کام کا دن چھ گھنٹے کا ہوتا ہے۔ دولت یہ نہیں کہ اضافی محنت کا وقت کسی کی حاکمیت میں ہو،  بلکہ براہ راست پیداوار میں درکار  وقت کے علاوہ ڈسپوزایبل وقت جو پورے معاشرے میں ہر فرد کو میسر ہو۔”

یعنی یہ کہ معاشرے کی دولت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہم سب کے پاس کتنا ڈسپوز ایبل فری ٹائم ہے۔جو بھی ہم کرنا چاہتے ہیں اور جو ہم بلا کسی رکاوٹ کے کر لیں اس کے لیے وقت کتنا ہے۔ کیوں کہ ہماری بنیادی ضروریات تو پہلے ہی پوری ہوجاتی ہیں۔ اور مارکس کی دلیل یہ ہے کہ  آپ کو اجتماعی تحریک چلانے کی ضرورت ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنا کر اسی قسم کے معاشرے کی تعمیر کی جاسکے۔ لیکن جو اس راہ میں حائل ہے وہ طبقاتی رشتوں کی غالب حقیقت ہے اور سرمایہ دار طبقہ کا طاقت کا استعمال ہے۔

لاک ڈاؤن میں

اب ، کورونا وائرس کے نتیجے میں ان سب باتوں کی ایک دلچسپ گونج موجود ہے (محنت کے وقت میں کمی، ٹکنالوجی کا کاروبار بننا، ٹکنالوجی کا بنیادی ضروریات پوری کرنا، قدر زائد کا سرمایہ دار کے ہاتھ قبضہ، ڈسپوزیبل ٹائم میں اضافہ، اضافی فری ٹائم کا نت نیا استعمال، لوگوں کا ایک دوسرے کا خیال رکھنا وغیرہ ) ۔یہ گونج ہمارے لاک ڈاؤن اور معاشی تباہ حالی کی موجودہ صورتحال میں ملتی ہے۔ ہم میں سے بہت سے افراد ایسی صورتحال میں ہیں کہ جہاں انفرادی طور پر ہمارے پاس کافی ڈسپوزایبل وقت ہے۔ ہم میں سے بیشتر گھر میں بند جو ہیں۔

ہم کام پر نہیں جا سکتے۔ ہم وہ کام نہیں کرسکتے جو ہم عام طور پر کرلیتے ہیں۔ ہم اپنے وقت کے ساتھ کیا کرنے جا رہے ہیں؟ اور اگر یقینا ہمارے بچے ہیں تو ہمارے پاس بہت کچھ کرنے کو ہے۔ لیکن ہم اس صورتحال پر پہنچ چکے ہیں کہ جس میں ہمارے پاس اہم ڈسپوزایبل وقت ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ یقینا اب ہمیں بڑے پیمانے پر بے روزگاری کا سامناہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ میں 26 ملین افراد کو ملازمت سے محروم کر دیا گیا ہے۔ اب عام طور پر کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ تو تباہی ہے۔ اور در حقیقت یہ ایک تباہی ہے۔کیونکہ جب آپ اپنی ملازمت سے محروم ہوجاتے ہیں تو آپ سپر مارکیٹ میں جاکر اپنی محنت مزدوری کی قوت کو دوبارہ حاصل کرنے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں، کیونکہ آپ کے پاس اس قوت کو خریدنے کے پیسے نہیں ہوتے۔

امریکہ میں بہت سے لوگوں کے پاس  میڈیکل انشورنس نہیں رہا اور بہت سے دوسرے لوگوں کو بے روزگاری الائونس تک رسائی حاصل کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کرایہ یا رہن کی ادائیگیوں نہ کر سکنے کی وجہ سے رہائشی یا مالکانہ حقوق خطرے میں پڑ گئے ہیں۔ امریکی آبادی کا بیشتر حصہ، شاید تمام گھرانوں میں سے زیادہ تر 50 فیصد، کے پاس کسی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بینک میں 400 ڈالر سے زیادہ کی رقم بھی نہیں ہے، کرونا جیسے بڑے بحران سے نمٹنے کی تو بات ہی چھوڑ دیں۔

ایک نئی ورکنگ کلاس

امکان یہی ہے کہ یہ تمام لوگ بہت جلد سڑکوں پر آنے جا رہے ہیں۔ بھوک ان کے اور ان کے بچوں کے چہروں پر سیاہ بادل کی طرح منڈلا رہی ہے۔ لیکن آئیے صورتحال کو مزید گہرائی سے دیکھیں۔

وہ افرادی قوت جس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ بیمار افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد کا خیال رکھے گی، یا کم سے کم خدمات فراہم کرے گی کہ جو روز مرہ کی زندگی کو بحال کرنے کی سہولت فراہم کرتی ہے،اس کی صورت کچھ یوں ہے کہ یہ بہت زیادہ ایک صنف پر مشتمل ہے، ریڈیکل آئیزڈ ہے اور نسلی طور پر مختلف لوگوں پر مشتمل ہے۔ یہ وہ “نیا محنت کش طبقہ” ہے جو ہمارے دور کی سرمایہ داری میں سب سے پیش پیش ہے۔ اس کے اراکین کو دو بوجھ اٹھانا پڑتے ہیں۔ ایک ہی وقت میں  یہ ملازمین ہیں جو اپنی ملازمتوں کے ذریعہ وائرس سے شکار ہونےکا سب سے زیادہ خطرہ رکھتے ہیں، اور وائرس کی وجہ سے معاشی بحالی میں انہی کو برطرف کر نا بھی آسان ہے۔ اور یوں مالی وسائل سے محروم بھی یہی مزدور ہیں۔

ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں  اس دور کا محنت کش طبقہ میں زیادہ تر افریقی نژاد ، لاطینی نژاد امریکی اور مزدور خواتین شامل ہےہیں۔انہی کواس خوفناک انتخاب کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ لوگوں کی دیکھ بھال کرنے اور اشیائے خورد ونوش کی کلیدی شکلوں (جیسے گروسری اسٹورز) کو کھلا رکھنے کے لیے محنت کریں یا پھر بے روزگار ہو کر صحت جیسی سہولت سے بھی محروم ہو جاویں۔

طویل عرصے سے اسی افرادی قوت کی پرورش ایک اچھے نیو لبرل شہری کی حیثیت سے ہوتی چلی آئی ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ اگر کچھ غلط ہو گیا ہے تو اپنے آپ کو یا خدا کو مورد الزام ٹھہرا لیا کرو۔ لیکن کبھی بھی یہ تجویز کرنے کی ہمت نہ کرو کہ سرمایہ داری بھی مسئلہ ہو سکتی ہے۔ البتہ اچھے نیو لبرل شہری بھی یہ دیکھ سکتے ہیں کہ اس وبائی بیماری کے ردعمل میں کچھ غلط تو ضرور ہو رہاہے۔ اور انہیں مجبور کیا جا رہا ہے کہ غیر متناسب بوجھ کے ساتھ معاشرتی نظم کو دوبارہ چلانے کے لیے انہیں ہی گھاٹ لگایا جا رہا ہے ۔

آئو اسے نیا بنائیں

COVID-19 سے نمٹنے اور اس سنگین بحران سے نکلنے میں اجتماعی طور پر عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ہمیں اس کے پھیلاؤ یعنی لاک ڈاون اورسماجی فاصلے جیسے طرز عمل سمیت ان تمام قسم کی چیزوں پر قابو پانے کے لئے اجتماعی کارروائی کی ضرورت ہے۔ یہ اجتماعی کارروائی ضروری ہے تاکہ ہم اپنی پسند کے مطابق زندگی گزارنے کے لئے اپنے آپ کو افراد کی حیثیت سے آزاد کرالیں ، کیوں کہ ہم ابھی وہ کام نہیں کرسکتے جو ہمیں کرنا پسند ہیں۔

یہ سمجھنے کے لئے کہ سرمایہ کیا ہے، اس کا ایک اچھا استعارہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جائے جس میں ہم میں سے بیشتر آزادانہ طور پر اپنی مرضی کے مطابق کام نہیں کرسکتے ہیں، کیونکہ ہم واقعتا سرمایہ دار طبقے کے لئے دولت پیدا کرنے  میں ہی وقت لگا رہے ہیں۔

مارکس شاید یہ کہے کہ ٹھیک ہے، شاید وہ 26 ملین بے روزگار لوگ اگر وہ واقعتا اپنی گزر بسر کے لیے کوئی زریعہ مل جائے تو زندہ رہنے کے لیے جن اشیاء کی ضرورت ہو وہ خرید سکیں گے۔یعنی وہ مکان کرایہ پر لے سکیں جس میں انہیں رہنے کی ضرورت ہے تو پھر وہ بے گانہ کردینے والے کام سے بڑے پیمانے پر آزادیوں  کے طلبگار نہیں بن جائیں گے؟

دوسرے الفاظ میں، کیا ہم صرف اتنا کہہ کر اس بحران سے نکلنا چاہتے ہیں کہ ان 26 ملین افراد کو دوبارہ کام پر واپس جانے کی ضرورت ہے، ان میں سے کچھ ایسی فضول ملازمتوں پر بھی جو وہ پہلے کر رہے ہوں گے؟ کیا ہم اسی طرح اس سے اس بحران سے نکلنا چاہتے ہیں؟ یا پھر ہم یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا بنیادی ضروریات اور خدمات کی تیاری کو منظم کرنے کا کوئی طریقہ ہے تاکہ ہر شخص کے پاس کچھ کھانے کے لئے بھی ہو، ہر ایک کے پاس رہنے کے لئے ایک مہذب مکان ہو، اور ہم مکانات سےبے دخلی پر پابندی لگا رکھیں، اور ہر شخص مفت رہ سکے بنا کرایہ دئیے؟ کیا یہ وہ لمحہ نہیں ہے جب ہم واقعی متبادل معاشرے کی تشکیل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچ سکتے ہیں؟

اگر ہم اس وائرس سے نمٹنے کے لئے کافی جاندار اور ماہر ہیں تو پھر وائرس سے نمٹتے ہوئےہی کیوں نہ سرمائے پر قبضہ کر لیں؟ یہ کہنے کے بجائے کہ ہم سب کام پر واپس جانا چاہتے ہیں اور ان ملازمتوں کو لوٹنا چاہتے ہیں اور اس بحران کے شروع ہونے سے پہلے کی ہر چیز کو اسی طرح بحال کرنا چاہتے ہیں، تو شاید ہمیں یہ کہنا چاہئے کہ بالکل مختلف قسم کا سماجی نظام تشکیل دے کر ہم اس بحران سے کیوں نہیں نکلتے؟

ہم ان عناصر کو کیوں نہیں حاصل کر رہے ہیں جن کے ساتھ موجودہ ٹوٹنے والا بورژوا معاشرہ حاملہ ہے ( یعنی وہ سرمایہ داری کے عناصر کہ جو اس بوسیدہ نظام کے بطن میں موجود ہیں اور انسانیت کے کام آسکتے ہیں) یعنی سرمایہ داری کی حیرت انگیز سائنس وٹیکنالوجی اور پیداواریت کی صلاحیت – اور ہم انھیں آزاد کریں، آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور تکنیکی تبدیلیوں اور تنظیمی اشکال کا استعمال کرتے ہوئے ہم درحقیقت موہ کچھ پیدا کرسکتے ہیں جو پہلے سے موجود ہر چیز سے مختلف ہو؟

ایک متبادل کی جھلک

بہرحال ، اس ہنگامی صورتحال کے بیچ ہم پہلے ہی غریب محلوں اور گروہوں کو بنیادی کھانے کی اشیاء کی مفت فراہمی سے لے کر ، مفت علاج معالجے ، انٹرنیٹ تک کے متبادل ڈھانچے ، وغیرہ کے لئے ہر طرح کے متبادل نظام کے ساتھ تجربہ توکر رہے ہیں نا۔ دراصل ، ایک نئے سوشلسٹ معاشرے کا نقشہ پہلے ہی کھل کر ہمارے سامنے آن پڑا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شاید دائیں بازو اور سرمایہ دار طبقہ اس متبادل کے آشکار ہو جانے پر اس قدر پریشان ہے کہ ہر دم ہمیں واپس لانے کے لئے بے چین ہے۔

یہ لمحہ ایک موقع ہے کہ جس میں متبادل کے بارے میں تفصیل سے سوچا جا سکتا ہے۔ یہ ایک ایسا لمحہ ہے جس میں حقیقی متبادل کے امکانات موجود ہیں۔ بجائے اس کے کہ ہم عام ردعمل کا اظہار کریں اور یہ کہتے جائیں کہ “اوہ، ہمیں وہ 26 ملین ملازمتیں فورا واپس مل جائیں،” شاید ہمیں کچھ کاموں کو وسعت دینے کی کوشش کرنی چاہئے جو پہلے ہی شروع ہو چکے ہیں۔ان میں سے ایک اجتماعی اشیاءے ضروریہ کی فراہمی ہے۔

یہ صحت کے میدان میں پہلے سے ہی ہو رہا ہے۔ لیکن فوڈ سپلائی اور یہاں تک کہ پکے ہوئے کھانوں کے سماجی بننے کا عمل بھی شروع ہوچکا ہے۔ نیو یارک سٹی میں ابھی، متعدد ریستوران سسٹم کھلے ہوئے ہیں۔ اور عطیات کی بدولت، وہ واقعتا بڑی تعداد میں آبادی کو مفت کھانا مہیا بھی کررہے ہیں۔ ان لوگوں کی مدد کررہے ہیں کہ جو اپنی ملازمتوں سے محروم ہوچکے ہیں اور انہیں قریبی ملازمتیں میسر بھی نہیں ۔

اب بجائے اس کے کہ کہیں کہ “ٹھیک ہے، ٹھیک ہے، یہ ہم صرف ایک ہنگامی صورتحال میں ہی ایسا کرتے ہیں،” ہم کیوں نہیں کہتے کہ یہ وہ لمحہ ہے جب ہم ان ریستورانوں کو بتانا شروع کر سکتے ہیں کہ  آپ کا مشن آبادی کو کھانا کھلانا ہے، تاکہ ہر ایک دن میں کم سے کم ایک یا دو بار معقول کھانا کھا سکے ۔

سوشلسٹ تخیل

اور ہمارے یہاں پہلے ہی اس معاشرے کے عناصر موجود ہیں: مثال کے طور پر بہت سارے اسکول ہیں جہاں دن کا کھانا بچوں کو فراہم کیا جاتاہے۔ تو اس عمل کو وسعت دے دیں، یا کم از کم سبق سیکھیں کہ اگر ہم ایک دوسرے کی فکر کریں تو کیا کچھ ممکن ہے۔ کیا یہ وہ لمحہ نہیں ہے جہاں ہم اس سوشلسٹ تخیل کو متبادل معاشرے کی تشکیل کے لئے استعمال کرسکیں؟

یہ خیالی تصورنہیں ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ ٹھیک ہے، (نیویارک کے) اپر ویسٹ سائیڈ کے ان تمام ریستورانوں کو دیکھو جو بند ہوچکے ہیں اور اب وہیں کام کرنے والے اور مشینیں فارغ ہیں، ایک طرح کے غیر فعال۔ آئیے لوگوں کو دوبارہ واپس لائیں اوروہ کھانا تیار کرنا شروع کریں تا کہ سڑکوں اور گھروں میں آبادی کو کھانا فراہم کیا جائے، اور بوڑھے لوگوں کوبھی دیا جائے۔ ہم سب کو انفرادی طور پر آزاد ہونے کے لیے اس قسم کی اجتماعی کارروائی کی ضرورت ہے۔

اگر اب بیروزگار 26 ملین افراد کو اپنے کام پر واپس جانا پڑتا ہے، تو شاید یہ دن میں بارہ گھنٹے کے بجائے چھ کے لئے ہونا چاہئے۔ لہذا ہم ایک مختلف سوچ کا جشن منا سکتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ اس امیر ترین ملک میں رہنے کا کیا مطلب ہے۔ شاید یہی وہ چیز ہے جو امریکہ کو واقعتا عظیم بنا دے گی۔

یہ وہ نکتہ ہے جو مارکس بار بار پیش کر رہا ہے۔یعنی یہ کہ اصلی انفرادیت اور آزادی اور نجات کی جڑ، اس جعلی نظام کے برخلاف جو مستقل بورژوا نظریہ تبلیغ کرتا رہتا ہے، یہ ایک ایسی صورتحال ہے جہاں ہماری تمام تر ضروریات کا خیال اجتماعی عمل کے ذریعےرکھا جاتا ہے۔ تاکہ ہمیں صرف ایک دن میں چھ گھنٹے کام کرنا پڑے، اور ہم باقی وقت کا استعمال ہم عین اپنی مرضی مطابق کرسکیں۔

آخری بات۔ کیا واقعی یہ وقت نہیں کہ ہم ان حرکیات اور امکانات کے بارے میں سوچیں جو ایک سوشلسٹ معاشرے کی تعمیر کے لیے درکار ہوں گی؟ لیکن اس طرح کے نجات پانے والے راستے پر جانے کے پہلے ہمیں خود کو یہ جاننے کے لئے آزاد کرنا ہوگا کہ ایک نئی حقیقت کے ساتھ ساتھ ایک خیالی تصور بھی ممکن ہے۔

https://www.marxists.org/archive/marx/works/1857/grundrisse/

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *