عمران خان اور مولانا طارق جمیل کے 23 اپریل ” احساس ٹیلیتھون” ڈرامے کے طبقاتی محرکات

عمران خان اور مولانا طارق جمیل کے 23 اپریل ” احساس ٹیلیتھون” ڈرامے کے طبقاتی محرکات
=======================================

کل23 اپریل  کو حکومت نے ” احساس ٹیلیتھون” نامی لائیو پروگرام  دیپ سٹیٹ کے پسندیدہ چینل اے ار وائی  سے لائیو نشر کیا۔

کرونا وائیریس وبا کی شروعات کو ۲ مہینے ہوچکے ہیں مگر حکمران طبقہ ابھی تک عوام کو اس سے بچانے کے صرف ابتدائی طبی اقدامات بھی کرنے میں پوری طرح ناکام رہی ہے۔ کیوں؟
کیونکہ یہ عوام کی صحت و زندگی پر بجٹ لگانے کو فضول خرچی سمجھتا ہے کہ اس خرچ سے اس کے اپنے طبقہ کو کیا فائدہ ہونا ہے؟ اسی لئے نہ ہی ڈاکٹروں کو حفاظتی سامان ملی ہیں، نہ کو وڈ-۱۹ ٹیسٹ کٹس مطلوبہ تعداد میں ہسپتالوں کو دیں ہیں، نہ ہی مطلوبہ بیڈز کا انتظام کیا ہے۔

دوسری طرف، عوامی و عالمی رائے عامہ کے پریشر میں آکر، بادل ناخواستہ، اس نے لاک ڈائوں تو کر دیا، مگر ایک تو بڑے پیمانے پر ٹیسٹ کئے بغیر لاک ڈائون کا کوئی فائدہ نہیں۔
دوسرے لاک ڈائون سے جو لاکھوں محنت کش بیروزگار ہوگئے ہیں اور ان کے پاس کھانے کو نہیں ہے۔۔۔تو حکمران طبقہ و حکومت ان کو کھانا دینے پر بھی بجٹ سے پیسہ لگانا نہیں چاہ رہا، کیونکہ اسے بھی یہ اپنے طبقہ کے پیسے کا ضیاع دکھائی دیتا ہے۔

مگر بات جب اپنے طبقہ کی آتی ہے تو عوام سے ٹیکسوں کے زریعہ چھینی کمائی میں سے اربوں روپے سرمایہ دار کمپنیوں کو بیل آوٹ پیکچ کے نام پر دے رہی ہے۔ یہاں بجٹ کی کمی، غریب ملک ہونا کا سارا روتا راگ بھول جاتے ہیں ۔

اس صورت حال میں جب حکمران طبقہ نہ مرض کو روکنے میں پیسہ خرچ کرنا چاہتا ہے اور نہ لاکھوں عوام کے بھوک سے مرنے کے مداوے میں خرچ کرنا چاہ رہا ہے، تو وہ ساتھ ساتھ اپنے اس عمل پر عوامی ردعمل کی پاسیبلیٹی سے بھی ڈر رہا ہے اور اسے کاونٹرکرنے کے لئے اپنے طبقہ کو ” اچھا اچھا” دکھا کر اپنے طبقہ کے گرد مینفیکچرر کنسنٹ کرنے کے اقدامات کرنے میں لگ گیا ہے۔

حکمران طبقہ کے پاس دو بنیادی نان کلاس آدیالوجیز ہوتی ہیں جن کو وہ اپنے ہر کرائیسس میں استعمال کرتے ہیں۔ ایک نیشنل سٹیٹ کا نیشنلزم اور دوسرا پاکستان کے مخصوص تناظر میں ‘ مزہب’۔

وزیر اعظم کا مذکورہ ” احساس ٹیلیتھون” بھی اسی مقصد کی ایک کڑی تھی۔
ذرا اس پروگرام کے شرکاء کے پس منظر پر نظر دوڑائیئے تو آپ کو حکمران طبقہ کی مختلف پرتیں ایک جگہ کھڑی نظر آئیں گیں۔

۱- پروگرام ڈیپ سٹیٹ یعنی فوج کے لے پالک چینل اے ار وائی پر نشر ہوا۔

۲- پروپگینڈہ پرت
شرکاء میں باقی 5 چینلز کے مشہور اینکرز موجود تھے۔ سب کی باتوں کا مرکزی تھیم یہ تھا کہ ” یہ وقت اختلاف رائے اور تنقید کا نہیں ہے بلکہ ایک قوم بن جانے کا ہے” ۔۔۔یعنی بٹوین دی لائینز یہ کہ رہے ہیں کہ چاہے حکومت ہمیں مرض اور بھوک سے ہزاروں کی تعداد میں مرنے تک لے جائے مگر ہم نے اس پر تنقید نہیں کرنے بلکہ حکمران طبقہ کے ” نیشنلزم ” کے نظریہ تلے چپ رہ کر مر جانا ہے۔

۳- سرمایہ دار پرت
پروگرام میں مختلف سرمائی دار کمپنیوں کے مالک فون کر کے حکومت کی تعریف اور پھر حکومتی امدادی فنڈ میں ایک دو کڑوڑ دینے کا فخریہ اعلان کرتے رہے۔ یوں حکمران طبقہ کی مختلف پرتیں، سرمایہ دار، انہیں کے سیاسی نمائندے ( یعنی حکومت ) اور اسی کے کی پراپگینڈہ پرت ( میڈیا اینکرز و مالک) آپس میں ایک دوسرے کی تعریف اور ایک دوسرے کی ہاں میں ہاں ملاتے رہے۔

۴- سیاسی پرت
اس کو وزیر اعظم عمران خان پروگرام میں شامل ہو کر ہاتھ میں تسبیح لئے خود ررپرزنٹ کر رہے تھے۔

۵- مذہبی پرت

عوام کو اس پرت سے حکومتی اقدامات کی تائیداد دکھانے کے لئےکورٹ پاپ کم چیست مولانا طارق جمیل کا لایا گیا تھا، جنہوں نے سارے کرونا کی وبا اور اس سے پیدا شدہ سوشل ڈیزاسٹر کا ذمہ عوام ہی کو مزہب پر عمل نہ کرنے کو قرار دے کر، اور حکومت کی تعریفیں کر کر کے سارا ملبہ حکمران طبقہ سے ہٹا کر اور محکوم طبقہ کو انفرادی سظح پر احساس کمتری و گناہ و خود احتسابی میں مبتلا کرنے کا صدیوں سے کامیاب نسخہ آزمایا ۔

یوں پاکستانی عوام کی محنت و خون پسینہ چوسنے والے حکمران گروہ کی ساری پرتوں، سیاسی اشرفیہ، سرمایہ دار، میڈیا اشرافیہ اور ان کے مذہبی شراکت دار
و قانونی شراکت دار نے، مل کر عوام کو چوتیہ بنانے کا اچھا ڈرامہ رچایا۔

نتیجتا اپنے آپ کو عوام کا نجات دھندہ ( امدادی اعلانات ) اور عوام کو خود ہی ان حالات کا مجرم ( مذہبی تشریح کے زریعہ) قرار دلوایا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *