جزوی لاک ڈائون کی سیاست

جزوی لاک ڈائون کی سیاست

تحریر: ریاض احمد

ابھی دو ہفتے قبل وزیراعظم عمران خان ٹی وی پر اعلان کر چکے کے لاک ڈائون کا کوئی فائدہ نہیں تو اس کے اگلے روز ڈی جی آئی ایس پی آر نے لاک ڈائون کا اعلان کردیا۔ اور لاک ڈائون شروع ہو گیا۔ ایک روز تک تو یہی رہا کہ شاید وزیراعظم اب مستعفی ہو جائیں گے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اور پھر جلد ہی روز عمران خان لاک ڈائون کے خلاف بیانات دیتے رہے۔ ایک دن بیان دیتے کہ عوام احتیاط کریں، دوسرے دن کہتے کہ سو میں سے ڈیڑھ مریں گے، پھر کہتے کہ بوڑھے لوگوں کی جان کو خطرہ ہے۔ مگر لاک ڈائون جاری رہا۔ پھر آگیا ۱۵ اپریل اور عمران خان نے ٹی وی پر آن کر کہا کہ لاک ڈائون کامیاب رہا، اموات ہمارے تخمینے سےکم ہوئیں، ۱۹۰ مرنے تھے مگر سو بھی نہ مرے۔ یوں اگلے روز سے کنسٹرکشن، ایکسپورٹ، چھوٹے ضروری کاروبار کو کھول دیا جائے گا مگر عوامی اجتماعات والا کوئی کام نہیں ہونے دیا جائے گا۔اس بار بھی عمران خان نے دیہاڑی مزدور کی غربت کا خوب رونا رویا کہ اس کا تو روزگار ہی بند ہے اور یوں لاک ڈائون کو رفتہ رفتہ ختم کرنا ہوگا۔ اس اعلان میں وزیراعظم کے ساتھ سندھ کے وزیر اعلیِ بھی شامل تھے جو اتنے دن سے سندھ میں لاک ڈائون کو موئثر رکھ کر اپنے مرکز گریزی کا تاثر دے رہے تھے۔ اگلے ہی روز قریب نصف کاروباری زندگی بحال ہونے لگی۔ بڑی سرمایہ داری کا نمائندہ عمران خان دراصل کاروباری اور دکاندار پرت کے ووٹ سے ہی اقتدار میں آیا ہے، یہ ان سے خوفزدہ ہے لیکن جیب بڑی سرمایہ داری کی بھر رہا ہے۔

لاک ڈائون کی مخالفت کرنے والے دائیں باز و کے پاپولسٹ حکمرانوں جیسے ٹرمپ، جونسن، میکرون، مودی، اردگان، عمران کی کھلے یا چھپے ایک دلیل یہ بھی رہی ہے کہ وائرس کی ویکسین نہیں اس لیے یہ ختم نہ ہو گا ۔ اس لیے ضروری ہےکہ آبادی کے ساٹھ فیصد کو وائرس سے متاثر ہونے دیا جائے تا کہ جومرنے سے بچ جائِیں ان میں مدافعت پیدا ہو جائے۔اس عمل کو ہرڈ امیونٹی یعنی بھیڑ کی مدافعت کہا جاتا ہے۔ انہیں اپنا کاروبار اور اس سے منافع عزیز ہے۔ یہ جانتے ہیں کہ دنیا میں لاکھوں افراد روزانہ غیر طبعی موت مرتے ہیں ت وائرس سے چند ہزار یا بیس پچیں لاکھ مر جائِیں گے تو کیا حرج ہے۔ اسی لیے یہ لاک ڈائون کے خلاف ہیں۔ البتہ کیونکہ جب لوگ ہسپتال میں علاج نہ ہونے کی وجہ سے ایک ساتھ مرتے نظر آتے ہیں اس لیے یہ سرمایہ داروں کے نمائندے گبھراتے ہیں اور یو ٹرن لیتے ہیں اور یوں مریضوں کو نہیں بلکہ اپنے طبقہ کو بچانے میں لگے رہتے ہیں۔

عمران ہو یا ٹرمپ نیو لبرل نظام انہیں بار بار اسی طرف لے جاتا ہے کہ ریاست کا کام صحت، تعلیم، بنیادی ضروریات فراہم کرنا نہیں۔ البتہ لاک ڈائون کی وجہ سے کاروبار بہت کم ہو گیا اور یوں سرمایہ داروں کا منافع بہت گٹھ گیا۔ دنیا بھر میں اسٹاک مارکیٹیں گر گئیں اور ۱۹۳۰ کے بعد شدید مندی کے اعداد و شمار آنے لگے۔ امریکہ، یورپ، چین، انڈیا، روس، سعودیہ سب میں اگلے سال معیشت پھیلنے کے بجائے گھٹ جائے گی۔ سرمایہ داروں کےلیے ایسا موت ہوتا ہے۔ انہیں فورا ریاست کی ضرورت پڑ جاتی ہے۔ یعنی جو خسارہ ہے وہ ریاست پورا کرے۔ اس لوٹ مار میں چھوٹے کاروباریوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ اس لیے ان میں بے چینی ہے۔ البتہ کارپوریٹ سرمایہ دار اور ان میں وہ جو عالمی تجارت کرتے ہیں یہ اس بات پر بہت زور دے رہے ہیں کہ سخت لاک ڈائون کر کے وباء کا تدارک کیا جائے اور عالمی سطح پر سرمایہ داری کو بحال کرنے کے لیے ریاست سرمایہ کاری کرے۔ یعنی وہ نیولبرل نظام جس کے یہ سب کل تک وکیل تھے اس کی جگہ بڑے پیمانےپر ریاستی سرمایہ کاری نے لینی ہے۔

کامریڈ سرتاج خان نے اپنے حالیہ ایک تحریر میں کہا ہے کہ ” بڑے سرمایہ داروں کو ملنے والی سبسڈی سے توجہ ہٹا کر نچلے درجے کے تاجر اور دکانداروں کو منافع خوری کے الزام میں نشانہ بنایا جارہا ہے۔ یہ عوام دشمنی ہے۔ اصل مسلہ بڑے سرمایہ دار اور کارپوریشنیں ہیں جو استحصال اور سبسڈی کا بڑا حصہ ہڑپ کرتے ہیں۔۔۔دیوبندی اور بریلوی مفتی صاحبان کو محض ائمہ مساجد کا ترجمان سمجھنا بہت بڑی غلطی ہوگی، یہ کاروباری، تاجر اور دکانداروں کے بھی ترجمان ہیں۔ خود مساجد/ مدارس کو ناصرف کاروباریوں سے چندہ آتا ہے بلکہ اکثر کے گرد مارکیٹیں اور دکان پھیلے ہوئے ہیں۔ کوئی سیاسی جماعت ان مارکیٹ/ دکانداروں کی ترجمانی کیلئے تیار نہیں، یہاں تک کہ جے یوائی، جماعت اسلامی اور جے یوپی تک بڑے سرمایہ کو ملنے والی سبسڈی اور کاروباری طبقہ کو ملنے والی ٹیکس اور قرضہ کو کافی سمجھ کر خاموش ہیں تو مفتی منیب اور مفتی عثمانی پر دباؤ بڑھا اور ان کو سامنے آنا پڑا۔”

جنگ اخبار میں مرزاشتیاق بیگ نے وبا کے دنوں میں سرمایہ داروں کوملنے والی دو ہزار ارب روپے کے لگ بھگ رقم پرایک لفظ بھی نہیں لکھا۔ لیکن ان کا  کہنا ہے کہ ‘ملک کا امیر طبقہ اور صنعتکار مختلف حیلے بہانوں سے سبسڈی کی مد میں حکومت سے اربوں روپے بٹور رہا ہے جس کا بوجھ غریب عوام اٹھارہے ہیں۔ وقت آگیا ہے کہ حکومت ہمیشہ کیلئے ان کارٹلز کو سبسڈیز دینا بند کرے اور ماضی میں انہیں دی گئی سبسڈیز اُن سے سود سمیت واپس لی جائے کیونکہ اِسی طرح پاکستان میں معاشی ترقی ممکن ہے۔’

    تین باتیں اہم ہیں۔ اول تو یہ کہ عمران خان پہلے ہی روز سے غریب کا نام لے کر لاک ڈائون کے خلاف رہے اس لیے انہوں نے جیسے ہی موقع ملا پندرہ دن کے اختتام پر ہی لاک ڈائون پر کاری وار کر دیا۔ دوئم یہ کہ لاک ڈائون میں مساجد اور مدارس کو بند کرنے، عبادات کو روکنے کے خلاف مولوی بھی رہے اور قریب دو بار انہوں نے کراچی میں پریس کانفرنس کر کے لاک ڈائون کو تسلیم کرنے سے انکار بھی کیا۔ سوئم یہ کہ تحریک انصاف کی حکومت اور عمران خان نے مولویوں اور تاجروں کی لاک ڈائون توڑنے کی کوششوں کی براہ راست مخالفت نہیں کی بلکہ اپریل کے دوسرے ہفتے میں چار پانچ اراکین قومی اسمبلی اور گورنر نے پریس کانفرنسیں کر کر کے یہی تاثر دیا کہ سندھ میں لاک ڈائون ناکام ہے، لوگ بھوکے مر رہے ہیں، پیپلز پارٹی حکومت نے امدادی رقم ہڑپ کر لی اس لیے عوام کا مطالبہ ہے کہ لاک ڈائون ختم کر دیا جائے۔ایسٹر کے موقع پر عمران خان نے اپنے پیغام میں مسیحیوں کو گھر میں عبادت کرنے کا تو کہا لیکن مسلمانوں کو جمعہ کا اجتماع کرنے سے باز رہنے کی اپیل نہیں کی۔ کیا وجہ ہے کہ عمران خان اور تحریک انصاف تاجروں، مولویوں کے لاک ڈائون ختم کرنے کے حامی ہیں اور ان سے خائف بھی۔

    وجہ طبقاتی ہے۔ پوری دنیا میں تمام سرمایہ دار ریاستوں نے کرونا بحران میں اپنے طبقہ یعنی بڑے نجی سرمایہ داروں کاساتھ دیا، کرونا کے ہاتھوں لاکھوں کے انفیکٹ ہونے اور ہزاروں کے ہلاک ہونے سے انکار کرتے رہے، پھر جب اموات بڑھتی گئیں اور انکی حکومت کو خطرات لاحق ہونے لگے تو انہوں نے اسٹیمولس پیکیج کے نام سے ہر ملک میں بڑے سرمایہ داروں کے تباہ حال کاروبار کو بچانے کے لیے کھربوں روپے لٹا دئِے۔ عمران خان نے بھی یہی کیا۔ پہلے کہا یہ فلو ہے، خود ٹھیک ہو جائے گا۔ پھر اموات بڑھیں تو کہا کہ کچھ لوگوں کو ہو گاباقی بچ جائیں گے۔ پھر جب روزانہ ہسپتالوں میں ڈاکٹر، نرسز، سینکڑوں مریض کرونا کا شکار ہونے لگے تو یہ چلے کبھی وینٹیلیٹر بنانے، کبھی ٹیسٹنگ کٹ منگوانے، کبھی علاج ڈھونڈنے۔ لیکن کیا یہ کہ ایک ہی ہفتے میں ۲۰۰۰ ارب روپے ٹیکسٹائل، بجلی کی کمپنیوں، فرٹیلائیزر کمپنیوں،شکر گندم کے بزنسمینوں، ایکسپورٹروں، اسٹاک مارکیٹ کے بروکروں، غرضیکہ ہر بڑے سرمایہ دار کو قرض معاف کیا، سود معاف کیا، سبسڈی دی اور یوں اپنے طبقہ کا ساتھ دیا اور عوام کو لا علاج، ہسپتال عملے کو فوج قرار دے کر نہتے مرنے کو چھوڑ دیا۔انہیں مزدور طبقہ سے خوف نہ تھا کہ یہ جانتے ہیں کہ سالہا سال کی پابندیوں، یونین مخالف قوانین اور سیٹھوں اور مالکان کو کھلی چھوٹ نے بطور طبقہ انہیں کمزور کر دیا ہے۔ جب ڈاکٹر کھڑے ہوئے جیسے کوئٹہ میں تو ان پر تشدد کر کے کچلنے کی کوشش کی، ناکام ہوئے تو مطالبات فورا تسلیم کر لیے۔

البتہ اپنی جیب بھرنے والے سرمایہ داروں کو ایسا کرنے میں انہیں معلوم تھا کہ تاجر دکانداروں کو مولویوں کا ساتھ موجود ہے۔ لاک ڈائون میں انہیں شدید نقصان ہو رہا ہے۔ اس کی آوازیں بھی بہت جلد بلند ہونے لگیں۔ کیبل آپریٹر ہوں یا کراچی میں ریٹیل دکانداروں کی سینکڑوں تنظیمیں یہ سب الاعلان لاک ڈائون توڑنے کی دھمکیاں دینے لگیں۔ البتہ ساتھ ہی ان کا مطالبہ ہوتا کہ انہیں بھی سستے قرض دئِے جائیں۔ وہی دکاندار اور تاجر جو اپنے اڈووں پر لاکھوں مزدوروں کو پہلے ہی برطرف کرچکے تھے یہ مطالبہ اسی غریب کے درد کی زبان میں کرنے لگے کہ ہمیں فی دکان ایک لاکھ رقم حکومت فراہم کرے تا کہ دکاندار ملازمین کو ماہانہ تنخواہ ادا کر سکیں۔ انہی کے ساتھ ساتھ مولویوں کا بھی زبانی احتجاج بڑھتا گیا کہ لاک ڈائون میں مساجد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے لیکن سپر مارکیٹیں کھلی ہیں جہاں کوئی سوشل ڈسٹینگ پر کاربند نہیں ۔ مولوی جو اپنے آپ کو ریاست سے جوڑتے ہیں یہ بڑے سرمایہ داروں کو اربوں لٹانے پرچپ رہے۔

مڈل کلاس دانشور جو سرمایہ داری کے حامی مگر انفرادی آزادی کے طلبگار ہیں یہ لبرل جو سرمایہ داروں کو ۲۰۰۰ ارب لٹانے پر چپ رہے اور اسے ناانصافی قرار نہیں دیا، البتہ انہیں کرونا کے پھیلائو میں سب سے اہم مولویوں کا جمعہ پر اسرار ہی نظر آیا۔ یوں طبقاتی اعتبار سے ملاں اور لبرلز سرمایہ داروں کی حمایت کی طبقاتی شکلیں ہیں۔ لبرل عالمی سرمایہ داری کے حامی ہیں اور سرمایہ داری سے ترقی کو جوڑتے ہیں اور مذہب کو تنزل پسندی سے وابستہ کر کے دیکھتے ہیں۔ مولوی یہ مقامی سرمایہ داری کے حامی ہیں اور بڑے شہروں میں انہوں نے گزشتہ چھ سالوں میں بارہا یہ ثابت بھی کیا ہے کہ یہ بڑھتی ہوئی بے چینی میں حکومت کا تختہ گرانے میں سڑک پر ہنگامہ بپاء کر کے شدید عدم استحکام پیدا کر سکتے ہیں۔ یہ ریاست پر تنقید کرنے والوں کو نشانہ بناتے ہِیں ، اقلیتوں کو موقع بموقع ہدف بنا لیتے ہیں ۔اور یوں تاجر دکانداروں کی سیاسی آواز بنتے ہیں۔ ایسا بحران جس میں ریاستی وسائل لٹا کر بڑی سرمایہ داری کو بچایا جا رہا ہے لیکن چھوٹی سرمایہ داری جیسے تاجر دکاندار کو غرق ہونے دیا جا رہا ہے۔

 ن لیگ کیونکہ سیاسی طور پر اقتدار سے محروم ہونے پر اپنی پرت کو سڑکوں پر نہیں لا سکی اور خاصی پسماندہ ہو گئی اس لیے تاجر اور دکاندار پنجاب میں اس کی طرف نہیں دیکھ رہے بلکہ یہ ایسے مولویوں کی طرف جھکائو رکھتے ہیں جو متشدد انداز میں آگے بڑھ کر اس خلاء کو پُر کرنا چاہتے ہیں جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پہلے سے حاوی فرقوں کے پسماندہ ہوجانے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ پیپلز پارٹی کی سیاست میں دکاندار، تاجر اور مقامی سرمایہ دار نہیں ہیں۔ یہ براہ راست عالمی سرمائے کی طرف دیکھتے ہیں یا پھر ٹیکس کی رقم کو ریاستی پروجیکٹوں میں ڈال کر ایک ایسی طفیلی پرت کی جیب بھرتے ہیں جو مقامی تاجروں بہت دور ہے۔ اس لیے سندھ میں لاک ڈائون میں نسبتا شدت بھی پیپلز پارٹی کی دکانداروں اور تاجروں سے فاصلے ہیں۔ البتہ یہاں بھی عوام کے لیے جو کچھ ہونا ہے یہ پیپلز پارٹی خیراتی اداروں جیسے ایدھی اور خیراتی ہسپتال جیسے انڈس ہسپتال کے مالکان کے زریعے کروانا چاہتی ہے۔ لوئر مڈل کلاس اور تاجروں پر سختی کرنے کےلیے یہ عالمی مستند اداروں جیسے مڈل کلاس کے لیے خیراتی ہسپتال جیسے آغا خان کے ایکسپرٹس کی رائے کے زریعے ان پر بالا دست ہو کر لاک ڈائون کروارہی ہے۔ البتہ کیونکہ سندھ میں لوئر مڈل کلاس کو قیادت ایم کیو ایم نے دی اور یہ سرمایہ داروں کے لیے کسی کام کے نہ رہے اس لیے لوئر مڈل کی اردو شہری پرت ابھی پسماندہ ہے جس کی وجہ سے مولویوں کی کچھ پرتوں کے آگے آنے کے امکانات ہیں۔

    اس لوٹ مار کودیکھتے ہوئے دنیا بھر میں سرمایہ داری کے دانشور وکیلوں کو نظر آیا کہ بحران تو کرونا سے پہلےہی تھا لیکن کرونا کو بہانہ بنا کر بڑے پیمانےپر سرمایہ داروں نے رہی سہی ریاستی دولت پر اپنا ہاتھ صاف کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی اور اسکی وجہ سے وہ کچرا سرمایہ جسے منافع میں کمی کی وجہ سے غرق ہو کر ختم ہونا تھا یہ پھر بچنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس طرح سرمایہ داری میں سے گند باہر نہ نکلے تو یہ نظام گلنے سڑنے لگتا ہے، اس کے اندرزیادہ سرمایہ ناکارہ اور کم سرمایہ منافع بخش ہوتا ہے۔ یوں بہت بڑے بحرانات کھڑے ہو جاتے ہیں۔ عالمی سرمایہ داروں کے اخبار فنانشل ٹائمز کے لیے مارٹن وولف کہتے ہیں: تین متبادل ہیں۔ لاک ڈائون اگر لمبا ہو گیا تو عالمی پیداوار میں تین فیصد کمی ہو گی۔ اگر کرونا کی دوسری لہر آگئی تو کمی پانچ فیصد تک چلی جائے گی اور مزید تباہی ہوئی تو ۸ فیصد کم پیداوار ہو گی۔ اس کے مطابق اگر ایسا ہوا تو ۲۰۲۱ میں حکومتوں کو اپنے اخراجات میں قومی پیداوار کا دس فیصد ڈالنا پڑے گا، حکومتوں کا قرض ۲۰ فیصد بڑھ جائے گا اور ہمیں نہیں پتہ کہ ہو گا کیا۔ ایک چھوٹا سا جرثومہ ہماری ساری اکڑفوں اکھاڑ پھینک چکا ہے۔

ہمارے حکمرانوں کو خطرہ ہے کہ انکی لوٹ مار سے تنگ آکر عوام الناس اٹھ نہ کھڑے ہوں۔مزدور طبقہ میں کئی پرتیں جیسے ڈاکٹر اور پیرامیڈیک بہت تیزی سے حفاظتی سامان کے مسئلے کو سامنے لائے ہیں اور ریاست کو مجبور بھی کیا ہے کہ وہ اس پہلو پر خرچ کرے۔ دیگر مزدور طبقہ کی پرتیں بھی بے روزگاری کا شکار ہو کر متحرک ہو سکتی ہیں۔ اس لیے سرمایہ داری کے متبادل یعنی زرائع پیداوار پر مزدور طبقہ کے کنٹرول کے لیے جدوجہد ضروری ہے۔البتہ سرمایہ داروں کی لوٹ مار اس نظام کو بدترین بحران میں دھکیل رہی ہے اور تاجر و کاروباری پرتیں ابھر رہی ہیں جو مزدور طبقہ کی غربت کو آواز دے کر بڑے سرمایہ داروں سے اپنا حصہ لینا چاہتی ہیں۔

 بھٹو دور میں ریاستی سرمایہ کاری کا آغاز ایک عالمگیر سطح پر ہونے والی سرمایہ داری میں تبدیلی کا حصہ تھا۔ سنہ ۱۹۶۰ کی دہائی میں دنیا بھر میں معاشی بحران کے ساتھ پاکستان میں بھی شدید بحران آیا۔ ٹیکسٹائل، صنعت، انشورنس، بنک، ملیں سب ٹھپ ہو گئیں، سرمایہ دار دیوالیہ ہو گئے۔تب قومیانے یعنی نیشنل آئیزیشن کا دور شروع ہوا۔مزدور طبقہ اور طلبہ اس بحران میں اپنا حق لینے کو نکلے۔ انہیں ابتدائی کامیابیاں بھی ملیں، بنگلہ دیش بنا اور جنگ کا بھی شکار ملک ہوا۔ پھر قومیانے کا عمل شروع ہوا اور سرمایہ داروں کی ڈوبی صنعتیں اور سروسز ریاستی تحویل میں گئیں۔ قومیانے کے عمل نے علاقائی ناہمواری کو بھی کم کرنے کی کوشش کی۔ البتہ قومیانے کا عمل ریاستی سرمائے کو لگاتے ہوئے ایک بہت وسیع بیوروکریسی کو بھی جنم دے گیا جس نے کنارہ لگتی ہوئی کاروباری اور تجارت کی پرتوں میں شدید بے چینی پیدا کر دی۔ دنیا بھرمیں ریاستی سرمایہ داری جس طرح پھیلی اس نے کئی ایک ممالک میں شدید ترین رجعت پسند و ردعمل پسند لوئیر مڈل کلاس پرتوں کو سیاسی میدان کے مرکز پر لا کھڑا کیا، ان میں بازار، دکاندار، تاجر، چھوٹے صنعت کار بھی تھے اور قومیانے کے عمل سے متاثرہ مڈل کلاس کے طالبعلم بھی تھے۔ان کی شکلیں مذہبی بھی تھیں اور قومی بھی۔ البتہ یہ وہ پرتیں تھیں جو چند برس پہلے مزدور طبقہ کے ابھارکے وقت خاموش رہی تھیں۔ یہ بیوروکریسی کے مارے ہوئے لوگ مزدور طبقہ میں مایوسی پر اپنی عمارت قائم کر کے برسراقتدار بھی آگئے جیسے ایران اور کئی جگہ بڑی سرمایہ داری نے انہیں روکنے کے لیے فوج کو بھی اقتدار تھما دیا۔

ایسا ہی خوف آج بھی ہے بڑے سرمایہ داروں اور انکی ریاستوں کو۔ایک جانب خاموش مزدور طبقہ اور اسکی جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی قوت ہے تو دوسری جانب تاجر اور دکانداروں کی پرتیں ہیں۔ یہ دونوں کو مطمئن کرنے کی کوشش میں ہیں۔ جزوی لاک ڈائون دراصل کاروباری پرت کے کچھ حصوں کو وقتی طور پر مطمئن کرنے کی ایک کوشش ہے۔

۱۷ اپریل، ۲۰۲۰

جزوی-لاک-ڈائون-کی-سیاست

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *