کورونا بحران کے بعد سرمایہ داری

کورونا بحران کے بعد سرمایہ داری

تحریر: سرتاج خان

کورونا وائرس اوراس کے ساتھ آنے والے معاشی بحران سے نکلنے کیلئے ہرجگہ ریاستوں نے سرمایہ داروں اورکارپوریشنوں کوبڑی رقوم ایک یا دوسرے بہانے سے دی ہیں۔ پاکستان میں اس کی مالیت 2ٹریلین روپےکے قریب ہے، عمران خان کہتاہے موجودہ بحران میں امریکا نے 2200 ارب ڈالر اور جاپان نے ایک ہزار ارب ڈالر کا ریلیف پیکج دیا ہے، جبکہ ہم پوری کوشش کر رہے ہیں کہ 8 ارب ڈالر کا پیکج دے سکیں، ہمارے پاس زیادہ وسائل نہیں ہیں اور جو دستیاب ہیں انہیں بروئے کار لارہے ہیں۔ ریاستوں کی طرف سے وباسے سبسڈی کے ذریعے نمٹنے پر فنانشنل ٹائمز کے مضمون نگارمارٹن وولف کہتاہے یہ محض معاشی چیلنج نہیں ہے بلکہ ایک اخلاقی معاملہ بھی ہے۔ ‘وائرس کے بجائے انسان انتخاب کی صلاحیت رکھتے ہیں’۔ وبا توتاریخ میں گزرجائے گالیکن جس طریقے سے یہ گزرے گا، یہ اپنےپیچھے آنے والے دورکی شکل طے کرلےگا۔ اورآج میرا موضوع بھی یہی ہے کہ یہ کس قسم کی سرمایہ دارانہ دنیا ترتیب دیتانظرآرہاہے۔ مارکس، سرمایہ داری کے ڈائمنک کردارکوسامنے لایاتھا: یہ بدلتاہے، اوراپنے رنگ میں سماج جب ڈھالنے کی کوشش کرتاہے تویہ مزدورطبقہ کی شکل وہیت اوراس کی جدوجہد پراثراندازبھی ہوتاہے۔ اس لئے مارکسیوں کیلئے سرمایہ داری سے لڑنے کے ساتھ اس کی سمجھ بھی ضروری ہے۔

ایک لکھاری کے بقول ‘یہ واضح ہے کہ پرانا گلوبلائزڈ آرڈر میں دراڑیں پڑچکی ہیں’۔ ہم جنگ کی طرز پرقومی پیداوار{جی ڈی پی} میں کمی دیکھ رہے ہیں۔ یہ نیولبرل ورلڈ آرڈرتھاجو 1974-82 کے بحران کے ساتھ آیا اس کی بنیاد آزادی منڈی/فری مارکیٹ کے فلسفہ کوایک بارپھرسےسرمایہ داری میں حل کےطورپرپیش کرنا تھا۔ لیکن موجودہ حالات کے پیش نظر ڈوئچے بینک کا فارن ایکسچنج ریسرچ کا سربراہ کہتاہے کہ ‘ فری مارکیٹ نام کی کوئی چیزاب نہیں رہی’۔ عالمی مالیاتی اداروں نے اسٹیٹ بنک جیسے اداروں کوریاستی اثرسے آزاد کرنے پرزوردیاتھا۔ اب اس کے الٹ ہورہاہے۔ اب اسٹیٹ بینک کمانڈ اکانومی کا پھرسے ایجنٹ بنتانظرآرہاہے۔ میٹی گرسپین کیلئے ازاد معیشت کی موت سرمایہ داری کی موت سے کم نہیں: ‘ہم سرمایہ داری کی موت سے کم کچھ نہیں دیکھ رہے ہیں اورنئے کی پیدائش ہورہی ہے’۔ اس کامطلب ہے کہ بحران زدہ معیشتوں کوایک بارپھر ریاستی پشت پناہی سے کھڑکرنے میں ریاستی کردارکوتسلیم کیاجارہاہے۔ ایسا نہیں کہ ریاست نے نیولبرل دورمیں سرمایہ کوسبسڈیز اورمراعات نہ دیں، اہم یہ ہے کہ اب سیاستدانوں، معیشت دانوں اورلکھاریوں کی طرف سے اب اس کوبرملاتسلیم کیاجارہے۔

مارکس نے سرمایہ داری کی حرکیات کوسمجھنے کیلئےجو ابسٹریکٹ ماڈل پیش کیا ہےوہ آزادمنڈی کاتھاجس میں ریاست کاکردارنہ تھا۔ لیکن حقیقی دنیا میں سرمایہ داری اورریاست ہمیشہ جڑی رہی ہے۔ ریاست نے سرمایہ داری اورسرمایہ داری نے، ریاست کی بڑھتوری اورپیش رفت میں کرداراداکیاہے۔ سرمایہ داری کی بڑھتوری کے ساتھ ریاستی اداروں جیسے بیوروکریسی کاحجم اورکرداربڑھا۔ فلسفی ہیگل کویہ بہت پہلے نظرآگیاتھااوراس نے سرمایہ داری میں بیوروکریسی کو’یونیورسل کلاس’ قراردیا: ایک ایسا طبقہ جس کااپنا کوئی مفاد نہِیں بلکہ جوسب کی مفادات کی نگرانی کرتی ہے۔ یہ ریاست کی لبرل تھیوری کی بنیاد ہے کہ ریاست، طبقات کے درمیان غیرجانبدارہوتی ہے۔ ریاست کاوجود اس لئے ضروری ہے کہ ‘یہ ہرایک کی ہرایک کے خلاف جنگ’ کوروک کررکھےیعنی سماج میں ریاست کاوجود ناگزیرہے، جس کے بغیرانسانی سماج محفوظ نہیں اورانفرادی ترقی کی بنیاد پورے سماج کی ترقی اورپیش رفت سے وابستہ ہے۔ اینگزنے اس کورد کرتے ہوئے کہاکہ ریاست کی موجودگی طبقاتی تضاد کے حل کے بجائے اس کے ناقابل حل ہونے  کوظاہرکرتاہے۔ کرس ہارمن نے اپنے ایک مضمون ‘ریاست اورسرمایہ داری’ میں ریاست کاسرمایہ داری سے تعلق کاجائزہ لیاہے۔ کرس کہتاہے کہ دولت کے ارتکارکومدنظررکھ دیکھاجائے توچھوٹے بڑے سائز میں ہونے کے باوجود کموڈیٹی کی طرح ہر سرمایہ کی بھی دوخصوصیات ہوتی ہیں۔ ایک سرمایہ کا ‘قدراستعمال {یوز ویلیو}  ہے۔ یوں یہ ایک طرف یہ افراد کے درمیان سماجی تعلقات کامجموعہ ہے۔ اوراس کے ساتھ چیزیں بنانے کاعمل بھی سرانجام دیتاہے۔ ہرسرمایہ عمل پیداوارمیں مزدورکی قوت محنت، خام مال خریدنے اورذرائع پیداوار/فیکٹری/مشین کواکھٹے کرنے کے کام میں لایاجاتاہے۔ اس کے بعد بنائی گئی چیزیں بھیچنے اورتقسیم کرنے کاعمل آتا ہے۔ لیکن اس تمام عمل کوبروئے کارلانے کیلئے سرمایہ کوریاست پرانحصارکرناپڑتاہے۔

مارکس کے نزدیک ‘سرمایہ دارمتحارب بردارن’ ہیں۔ اول یہ ‘بردران ہیں’—ان کی ایسوایسی ایشنیں، ہوتی ہیں جہاں یہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں اورریاست پرزوردیتے ہیں کہ بطورطبقہ ان کی مشترکہ مفادات کوپوراکرے۔ یوں مزدورطبقہ کے استحصال اورمنافع کے حصول کیلئے مزدورطبقہ کودبائے رکھنا ان کی اجرت اورحقیقی امدنی میں کمی، خام مال کے سستے حصول، ذرائع پیداوار کااپنے علاوہ دیگرکے حصول کیلئے مشکل بنانا، خام مال اورمزدورکی آسان آمدورفت کیلئے ذرائع مواصلات جیسے سڑکوں، ٹیلی فون، تار، انٹرنیٹ کاحصول، پانی ، بجلی اور گیس کی ترجیحی بنیادوں پربلاتعطل فراہمی، قوانین اورضابطوں کیلئے ان کوریاست پرانحصارکرناپڑتاہے۔ سرمایہ داروں کے ہرگروہ کی کوشش ہوتی ہے کہ ان کوسبسڈی کابڑاحصہ ملےاوربجٹ میں اس شعبے کیلئے خصوصی مراعات کااعلان ہو۔ لیکن یہی سرمایہ دار’متحارب ‘ کے طورپرانفرادی سطح پرمارکیٹ میں زیادہ حصہ کیلئےآپس میں مقابلے پربھی ہوتے ہیں۔ یوں مقابلہ دراصل مزدورکوزیادہ نچوڑنے پرسرمایہ داروں کومجبورکرتاہے۔ پاکستان کے سرمایہ دارکہتے ہیں کہ بنگلہ دیش اورچین میں مزدورکی تنخواہ کم ہے، بجلی، گیس اورپانی سستاہے۔ یوں بنگلہ دیشی سرمایہ داروں کامقابلہ کرنے اورعالمی مارکیٹ میں پاکستانی حصہ بنانے کیلئے حکومت کپڑے کی صنعتکاروں کاساتھ دے۔ یوں عالمی منڈی میں مقابلہ پاکستانی مزدورکے استحصال کوبڑھانےکوممکن بناتاہے۔ اس پرسب سے بہترروشنی بلدیہ میں جلنے والی فیکٹری علی انٹرپرائززکے کیس سے پڑتی ہےکہ مزدورکن حالات میں ایکسپورٹ مال تیارکرتے ہیں۔ نجی سرمایہ داروں کی طرح ریاست بھی پیداوار اورخدمات سے جڑی ہوئی ہےیوں کھاد، پانی، بجلی، گیس، نہری نظام، مواصلات، اسٹیل، اسکول، کالج، یونیورسٹی، تکنیکی ادارے، اسپتال سے لے کرریلوے، ہوائی اوربحری جہازرانی وغیرہ کوچلاتی ہے۔ اوریہاں لاکھوں مزدوروں کااستحصال کیاجاتاہے۔ یوں ریاستی بیوروکریسی اورنجی سرمایہ دونوں میں یہاں بھی مشترکہ مفادقوانین اورانتظام کی سطح پرنظرآتاہے۔ کرس ہارمن کے نزدیک سرمایہ داروں کے گروہ اورریاست جس نظام میں کام کرتے ہیں، یہ ایک دوسرے پراثرڈالتے ہیں۔ ان کاایک دوسرے پرباہمی انحصارنظرآتاہے۔

اگرچہ ریاست کوسرمایہ کواندرونی تحفظ اوربیرونی حملوں سے بچانے اورچلن کیلِئے ریاستی بیوروکریسی، پولیس، فوج، عدلیہ پرانحصارکرناپڑتاہے پھربھی مختلف قسم کے سرمایہ کاتاریخی طورپرریاست سے مختلف قسم کاتعلق نظرآتاہے۔ سرمایہ تین شکلوں میں پایاجاتاہے: پیداواری سرمایہ یا پروڈکٹیوکیپٹل جیسے کارخانے، کموڈیٹی کی شکل میں سرمایہ یعنی فیکٹریوں میں  تیارکردہ اشیاء اور نقدی یاڈالرز، روپے پیسے کی شکل میں سرمایہ۔ سرمایہ ارتکازکے دوران شکلیں بدلتارہتاہے۔ اس میں سب سے اہم پیداواری سرمایہ ہے۔ اوراسی کا ریاست سے قریبی تعلق ہے، یعنی وہ جگہ جہاں مزدورکے استحصال سے منافع پیدا ہوتاہے اس سرمایہ کا ہی ریاست سے سب سے قریبی تعلق بھی ہے۔ کارخانوں کوچلانے کیلئے سرمایہ کوریاست پربہت زیادہ انحصارکرناپڑتاہے۔ ہنرمند مزدوروں، خام مال کی فراہمی، مزدورکے زیادہ سے زیادہ استحصال کیلئے انفراسٹکچریعنی پولیس، عدالتی نظام کے علاوہ بجلی، پانی، گیس کی فراہمی کانظام وغیرہ کیلئےسرمایہ، ریاست کی طرف دیکھتی ہے۔ اسی طرح کارخانوں میں تیارشدہ مال اوراشیاء کاایک جگہ سے دوسری جگہ تحفظ کے ساتھ بلاتعطل منتقلی اورفروخت کیلئے سازگارماحول فراہم کرنے کیلئےایک یا کئی ریاستوں کی طرف دیکھنا۔ کموڈیٹی کپٹیل ہرقسم سیاسی ڈھانچہ میں فروغ پاسکتاہے یعنی فیوڈل ازم تک میں۔ لیکن جدید سرمایہ دارانہ ریاست میں یہ بندھن میں زیادہ مضبوط بنا۔ پاکستانی سرمایہ داروں کی تیارکردہ مصنوعات کیلئے بیرونی ممالک منڈیاں تلاش کرنااوراس کی ترسیل اورفراہمی کابندوبست کرنا کئی ایک وزارتوں اورسفارتی عملہ کابنیادی کام ہوتاہے۔ منی کیپٹل یا نقدی سرمایہ کاریاست سے تعلق تمام شکلوں میں سب سے ڈھیلاہوتاہے کیونکہ کارخانوں اورمال کی بہ نسبت یہ آسانی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتاہے۔ پاکستان سے ڈالرز کی شکل میں بیرونی ممالک بھیجنایا منی لانڈرنگ اوربیرونی ممالک سے ہنڈی کے ذریعے سے رقم بھیجنا اس کی سب سے عام شکلیں ہیں۔

اس کےباوجود نہ ریاست اورنہ ہی سرمایہ اس باہمی تعلق سے باآسانی نکل سکتے ہیں۔ لیکن یہ محض بے جان ساتعلق نہیں ہےبلکہ مارکس کے نزدیک یہ افراد کی سطح پربھی ہے۔ یوں ریاست اورسرمایہ دونوں سے وابستہ افراد مزدورطبقہ کے استحصال پرانحصارکرتے ہیں۔ مزدورکے استحصال سے جومنافع حاصل ہوتاہے وہ سرمایہ داروں کے مختلف گروہوں کے پاس منافع، سود، کرایہ اورریاست کے پاس ٹیکس کی شکل میں جاتاہے۔ یہاں بھی جہاں سرمایہ داراورریاستی بیوروکریسی مزدورطبقہ کے استحصال پرمتفق ہیں وہاں اس سے حاصل ہونے والےمنافع پرجھگڑا بھی ہے۔ سرمایہ داروں کاہرگروہ کا اس پرآپس میں بھی مقابلہ ہےاورریاستی بیوروکریسی کے ساتھ بھی۔ ریاستی بیوروکریسی چاہتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس لگائے جبکہ سرمایہ داراس کے خلاف ہوتے ہیں۔ یہ امرخالی ازدلچسپی نہیں کہ اسمتھ اورمارکس کے زمانے کے برعکس جدید سرمایہ داری میں مزدوروں کے استحصال سے ہونے والے منافع کابڑاحصہ سرمایہ داروں کے بجائےریاست کے پاس جاتاہے۔ یوں کہ اب ریاست کے فرائض بھی بڑھ گئے ہیں۔ یہ ناصرف یہ کہ سرمایہ داروں کیلئے مزدورطبقہ اس کی تعلیم وتربیت، خام مال اورپیداوارکوممکن بنانے کیلئےامورکابندوبست کرتا ہےبلکہ بحران سے نکالنے کیلئے اہم کرداربھی اداکرتا ہے۔

اس  سے پتہ چلتاہے کہ نیولبرل یا آزادی منڈی کی معیشت کے دوران بھی ریاست اپنے بنیادی کردار سے دستبردارنہ ہوا۔ یہ پہلی بارنہیں کہ ریاست نے نیولبرل دورمیں سرمایہ داروں کوبحران سے نکالنے کیلئے بیل اوٹ اورپیکج دیئے ہیں بلکہ یہ 2007کے بحران میں بھی دیکھنے میں آیا۔ اسی لئےامریکی صدرکہتاہےکہ حکومتی مداخلت کا مطلب یہ نہیں کہ حکومت ہرچیزپرقبضہ کررہی ہے۔اس کامقصد آزادی منڈی کوکمزورکرنا نہیں بلکہ اس کوتحفظ دیناہے۔ آئی ایم ایف کہتاہے کہ حکومتیں جس طریقے کی ایکشن لے رہی ہیں اس کا پہلے نظیرنہیں ملتا۔ اکنامسٹ اس پس منظرکوسامنے رکھ کرکہتاہے کہ یہ 2007سے کہیں زیادہ عمل دخل ہے۔ حکومتوں کی 500سوسالہ تاریخ کودیکھنے سے پتہ چلتاہے ریاستوں کوناصرف یہ کہ بحران کے دوران کرداراداکرناپڑتاہے بلکہ اس کے بعد ایک طویل عرصہ تک معیشت کوسہارادیناپڑتاہے۔ یہ ہم کو 1914تا1945تک وبائی صورتحال، دوعالمی جنگوں، معاشی بحرانوں بلکہ اس کے بعد کے دورمیں 1970تک نظرآتاہے۔ مارکس کاخیال تھاکہ معاشی بحران گھلاسڑا اورخراب کارکردگی والے سرمایہ کوباہرپھینک کرصفائی کاعمل بھی کرتاہے لیکن اس کی قیمت زندہ انسانوں کوچکانی پڑتی ہے۔ اوریہی اس بحران میں بھی نظرآرہاہے۔

مورخ یووال نوحا ہریری کہتاہے کہ کورونا وائرس صحت کا نہیں، سیاسی مسئلہ ہے۔ اسکے خیال میں’سائنسی سوالات کا تو جواب ڈھونڈنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں لیکن سیاسی سوالات پر کیا رد عمل ہونا چاہیے اس بارے میں زیادہ غور نہیں کیا جا رہا’۔
سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ یہ وسائل کس طبقہ کے کنٹرول میں ہیں: ‘انسانیت کے پاس وہ تمام وسائل ہیں جن کی اس وباء سے نمٹنے کے لیے اس کو ضرورت ہے ۔‘ نوحا کونظرآرہاہے کہ ریاستوں نے صحت پرسرمایہ کاری ہی نہیں کہ اوراس وقت بحران کے دوران بھی عوام کے بجائے سرمایہ داروں کوفوقیت دی ہے۔ ایک اورجگہ وہ کہتاہے کہ ریاستوں کی عام لوگوں کی نگرانی کامعاملہ مزید بڑھ گیاہے۔ لاک ڈاون جیسی صورتحال کامطلب یہ ہے کہ عوام کی بڑی تعداد نے حکمرانوں کی منطق کوحل سمجھ لیا، یہ جنگوں جیسی صورتحال کوہمارے سامنے لاتاہے جب ہم عوام کوان کے بنیادی حقوق سے محروم کیاجاتاہے۔ حفیظ پاشا نے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن کے باعث ایک کڑوڑ 50 لاکھ افراد غربت کی لکیر سے نیچے چلے جائیں گے۔ اس کامطلب یہ کہ پہلے سے پانچ کروڑ میں مزید ڈیڑھ کروڑ کااضافہ ہوگا۔ جبکہ ملازمین اور روزمرہ اجرت پر کام کرنے والے ایک کروڑ پندرہ لاکھ افراد بے روز گار ہوجائیں گے۔ جبکہ  اس سال جی ڈی پی کی شرح نمو صفر رہے گی۔ اس کامطلب مزید ریاستی مداخلت کیلئے سرمایہ دار، ریاست کی طرف دیکھیں گے۔

پاکستان میں آٹا اورشوگراسکینڈل کی رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی جب ریاست وبا سے پیداشدہ بحران کی آڑمیں سرمایہ داروں کی تجوریاں اورکارپوریشنوں کے اکاونٹ بھررہے تھے۔ مرزاشتیاق بیگ جنگ میں لکھتاہے کہ ‘یہ بات لمحہ فکریہ ہے کہ پاکستان میں حالیہ برسوں میں سبسڈی کلچر میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور ملک کا امیر طبقہ اور صنعتکار مختلف حیلے بہانوں سے سبسڈی کی مد میں حکومت سے اربوں روپے بٹور رہا ہے جس کا بوجھ غریب عوام اٹھارہے ہیں۔ وقت آگیا ہے کہ حکومت ہمیشہ کیلئے ان کارٹلز کو سبسڈیز دینا بند کرے اور ماضی میں انہیں دی گئی سبسڈیز اُن سے سود سمیت واپس لی جائے کیونکہ اِسی طرح پاکستان میں معاشی ترقی ممکن ہے۔’ اسی کودیکھتے ہوئے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والے معاشی مسائل دنیا کے مختلف ملکوں میں مظاہروں اور سماجی بے چینی کا سبب بن سکتے ہیں اور حکومتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس بے چینی پر قابو پانے کیلئے اقدامات کریں۔ آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ کچھ ممالک میں بے چینی پھیلنے کا خطرہ ہے اور ان میں مظاہرے ہو سکتے ہیں خصوصاً اس وقت جب کورونا کے بحران سے نمٹنے کیلئے اختیار کی جانے والی پالیسی کو ناکافی سمجھا گیا یا عوام کی بجائے غیر منصفانہ انداز سے بڑے اداروں یا لوگوں کے مفادات کا خیال رکھا گیا۔’

پاکستانی ریاست کی طرف سے باربارعذرپیش کیاجارہاہے کہ نچلے طبقات، انفارمل سیکٹراوردیہاڑی دارمزدورکی رجسٹریشن نہیں ہے لہذاء ان تک امداد نہیں پہنچائی جاسکتی۔ پاکستان میں یونیورسل پے کاوجود نہیں ہے اورسوشل سیکورٹی کابرائے نام ڈھانچہ پایاجاتاہے۔ پاکستان اپنی قومی پیداوار کا اعشاریہ چھ فی صد اوربجٹ کا ڈھائی فیصد صحت پرخرچ کرتاہے۔ اس کے مقابلے میں بیرونی قرضوں، دفاع اورمختلف سرمایہ دارگروہوں کی سبسڈی پربجٹ کا 85فی صد کے قریب خرچ کیاجاتاہے۔ یوں عوامی بہبود کیلئے برائے نام رقم ہی بچتی ہے۔ ورلڈ بینک جیسے اداروں نے سماج کے کچھ سیکشن کاپہلے سروے کرایا اوراس کے بعد اس چھوٹے سے حصہ کیلئے وہ نظام وضع کیاجوہم کواحساس پروگرام، بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام اورصحت کارڈ کی شکل میں نظرآتاہے۔ جبکہ ضرورت مندوں کی تعدادکہیں زیادہ ہے۔ اب ریاست پردباو بڑھ گیاہے کہ وہ انفارمل سیکٹرکے مزدوروں کے اعدادشمارسامنے لاَئے۔

اگرعالمی سرمایہ دارمیڈیا پرنظردوڑایاجائے تواس سے یہی نتیجہ اخذکیاجاسکتاہے کہ نیولبرل یا آزادمعیشت کادوراپنے اختتام کوپہنچ گیاہے۔ بعدازوبااوربحران دورمیں خودسرمایہ داری کیلئے بہت سارے اصلاحات ناگزیرہوں گے۔ امریکی مصنف الیکس ڈی ٹاک ویل Alexis de Tocqueville نے انقلاب فرانس کے تناظرمیں لکھاہے کہ کسی خراب حکومت کیلئے عام طورپرسب سے خطرناک وقت وہ ہوتاہے جب وہ اصلاحات شروع کرتاہے۔ اس کے مطابق اصلاحات عوام کی توقعات کوبڑھادیتاہے۔ دراصل عوام یہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ اصلاحات پرمجبورحکومت کمزورہے اورہم مزید حاصل کرسکتے ہیں۔ لبرل لکھاریوں نے اس کوپولیٹکل اکانومی کاحصہ بنایا۔ وکی پیڈیا میں Tocqueville paradox کویوں بیان گیاہے کہ یہ ایسامظہرہےجس میں سماجی حالات اورمواقع کی بہتری میں سماجی فرسٹریشن زیادہ تیزی سے بڑھتا ہے۔ آکسفم کہتاہے کہ 400تا600ملین افراد غربت کے شکارہوں گےاورصحت کابہت بڑا بحران پیدا ہوگا۔ لیکن اکسفم کے نزدیک صحت سے کہیں بڑھ کرمعاشی بحران ہے۔ یوں عالمی اداروں کے نزدیک اس سے سرمایہ دار، مزدوراورریاست یکساں طورپرمتاثرہوں گے۔ ان حالات میں مارٹن وولف جیسے لکھاری کہتے ہیں کہ ریاستی سرمایہ کاری ہی موجودہ وبائی اورمعاشی بحران کاحل ہے۔

نیویارک ٹائمز کے ایڈیٹوریل بورڈ اوردیگرلکھاری جس صورتحال کودیکھ رہے ہیں اورجن خدشات کااظہارآئی ایم ایف نے کیاہے اس سے سرمایہ داری کے ممکنہ تصویرکشی ہوتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *