کورونا وائرس اور سرمایہ داری کے جال

کورونا وائرس اور سرمایہ داری کے جال

راب ولاس، الیکس لیب مان، لوئس فرنانڈو شاویز، راڈرک ولاس

مترجم / عامر حسینی

 

بائیں سے پہلی قطار میں راب ولاس ،الیکس لیب مان ،دوسر قطار میں لوئس فرنانڈو اور راڈرک ولاس
راب ولاس ایک ایولوشنری ایپڈیمولوجسٹ ہیں جنھوں نے فوڈ اینڈ ايگری کلچر آرگنائزشن اور سنٹرز فار ڈییزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے کنسٹلنٹ رہے ہیں- الیکس لیب مان رٹجرز یونیورسٹی میں ہیومن جیوگرافی میں پی ایچ ڈی کے اسٹوڈنٹ ہیں اور ایم ایس سی اگرانومی میں مینسوٹا یونیورسٹی سے کی ہے- لوئس فرنانڈو شاویز ڈیزیز ایکلوجسٹ ہیں اور وہ ٹریس ریوز میں کوسٹا ری کین انسٹی ٹیوٹ فار ریسرچ اینڈ ایجوکیشن آن نیوٹریشن اینڈ ہیلتھ میں ریسرچر ہیں- راڑرک ولاس کولمبیا یونیورسٹی نیویارک اسٹیٹ سائیکٹرک انسٹی ٹیوٹ کے ڈیویژن آف ایپڈیمیولوجی کے ریسرچ سائنس دان ہیں۔

کوویڈ-19 جو کہ کورونا وائرس سارس –کویو-2 کے سبب ہونے والی بیماری ہے 2002ء سے ابتک دوسری انتہائی شدید سانس کی بیماری کا سینڈروم ہے جسے سرکاری طور پر ایک بڑی وبا قرار دیا جاچکا ہے- مارچ کے آخر تک تمام شہروں میں ‘قرنطینہ’ بنائی جارہی ہیں- ہسپتالوں میں مریضوں کے اژدھام کے سبب جگہ کم پڑتی جارہی ہے۔

تخمینے

چین جہاں ابتدا میں یہ وبا پھوٹ کر پھیلی تھی، وہاں اب سانس لینا آسان ہورہا ہے-1 جنوبی کوریا اور سنگاپور میں بھی ایسا ہی ہے۔ لیکن یورپ خاص طور پر اٹلی اور اسپین جن کے علاوہ اور ممالک بھی اس لسٹ میں شامل ہورہے ہیں وبا کے پھوٹنے پڑنے کے ابتداء میں ہی اموات کے بوجھ سے جھکے جاتے ہیں- لاطینی امریکہ اور افریقہ میں اب کورونا بیماری کے کیسز اکٹھے ہونے شروع ہوگئے ہیں، بعض ممالک دوسروں سے زیادہ اچھے سے تیار ہیں- امریکہ جو کہ دنیا کی تاریخ میں سب سے امیر ترین ملک ہے جس کا مستقبل بہت تاریک نظر آرہا ہے- مئی کے آغاز میں جاکر یہ وبا امریکہ میں کہیں عروج پر ہوگی لیکن ہیلتھ کئیر ورکرز، ہسپتال وزیٹرز پرسنل پروٹیکشن ایکوپمنٹ/ پی ای پی کی گھٹتی ہوئی سپلائی تک رسائی پر پہلے سے ہی لڑنا شروع ہوگئے ہیں-2 نرسیں جن کو بیماری کنٹرول کرنے کے مراکز- سی ڈی سی پہلے ہی سختی سے بندانہ/ریشمی رومال اور سکارف کو بطور ماسک کے استعمال کرنے کی سفارش کرچکے ہیں، پہلے کہہ چکی ہیں کہ نظام برباد ہوچکا ہے۔3 امریکہ نے جن ریاستوں سے پہلے طبی ساز و سامان خریدنے سے انکار کیا تھا،اب ان سے خریدنے کے لیے بولی دینے میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا ہے- امریکہ نے بڑے پیمانے پو پبلک ہیلتھ مداخلت کے طور پر بڑے سرحدی کریک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے جبکہ ملک کے اندر بیماری سے نمٹنے کے لیے ٹھیک کام نہ ہونے کے سبب وائرس بڑھتا جاتا ہے-4 امپریل کالج کے ماہرین وبائی امراض کی ایک ٹیم نے تخمینہ لگایا ہے کہ اگر پتاچلائے گئے کورونا کیسز سے قرنطین کے زریعے سے پوری منصوبہ بندی کے ساتھ نمٹ بھی لیا گیا اور بڑی عمر کے لوگوں کو سماجی میل جول سے دور بھی کرلیا گیا تب بھی امریکہ میں 11 لاکھ لوگ مریں گے اور اس ملک کی جو فی بستر مریضوں کو دیکھنے کی گنجائش ہے اس سے آٹھ گنا زیادہ کیسز کا امریکہ کو سامنا ہوگا-5 بیماری کا خاتمہ کرنے اور اس کے پھوٹ پڑنے کو ختم کرنے کے لیے پبلک ہیلتھ کو مزید چینی طرز کیس اختیار کرنا اور خاندانی ارکان کو قرنطینہ میں رکھنا اور کمیونٹی سطح تک سماجی میل جول کی دوری بشمول اداروں کو بند کرنے جیسے اقدامات اٹھانا پڑیں گے- اس سے امریکہ تخمینہ لگائی اموات سے دو لاکھ اموات کو کم کرسکے گا-

امپریل کالج گروپ نے اندازہ لگایا ہے کہ بیماری پر قابو پانے کی مہم کی کامیابی کے لیے کم از کم اٹھارہ ماہ درکار ہوں گے اور اس سے آگے معاشی سکڑاؤ اور کمیونٹی سروسز کی تباہی لازم آئے گی- ٹیم نے بیماری کو کنٹرول کرنے اور معشیت کو قابو میں رکھنے کے مطالبات میں توازن رکھنے کے لیے کمیونٹی قرنطینن سے باہر کرنے اور اندر لانے کے عمل کو ایک دوسرے سے بدلنے پر ضرور دیا ہے تاکہ جب انتہائی نگہداشت کے تمام بستروں پر مریض آجائیں تو اس سے پیدا صورت حال سے نمٹا جاسکے-

دوسرے ماڈلر( بیماری سے نمٹنے کے پیشگی نمونے بنانے والے) بھی سامنے آئے ہیں- بلیک سوان سے شہرت پانے والے نسیم طالب کی قیادت میں ایک گروپ نے اعلان کیا ہے کہ امپریل کالج ماڈل کانٹیکٹ ٹریسنگ اور ڈور ٹو ڈور مانیٹرنگ میں ناکام رہا ہے-6 ان کا کاؤنٹر پوائنٹ یہ دیکھنے میں ناکام رہا کہ ماضی میں ایسی وبا کے پھوٹ پڑنے نے اس طرح کے بیماری سے بچاؤ کے محاصرے کرنے پر رضامند حکومتوں کو ناکام کیا ہے- یہ اس وقت تک نہیں ہوگا جب وبا پھوٹ پڑنے کے بعد زوال پذیر ہوگی اور تب بہت سے ممالک بھی ایسے اقدامات اٹھائیں گے جن میں امید کی جاسکتی ہے کہ فعال اور بالکل ٹھیک اور مناسب ٹیسٹ ہوں گے۔ جیسے ایک مسخرا اسے یوں پیش کرتا ہے: ” کورونا وائرس بہت زیادہ بنیاد پرست/ریڈیکل ہے- امریکہ کو تو ایک اعتدال پسند/ماڈریٹ وائرس کی ضرورت ہے جس کا ہم بتدریج جواب دے سکتے ہیں- 7 – طالب گروپ نے دیکھا ہے کہ امپریل کالج کی ٹیم نے ان حالات کی تحقیق کرنے سے انکار کیا ہے جس میں یہ وائرس ختم ہوجاتا ہے۔ ایسی بیخ کنی کا مطلب کیسز کا صفر ہوجانا نہیں ہے، لیکن بہت زیادہ آئیسولیشن/ علیحدگی کے ہوتے ہوئے سنگل کیسز انفیکشن کا نیا سلسلہ پیدا نہیں کرتے- چین میں ایک مریض کے ساتھ رابطے میں آنے والے 5 فیصد لوگوں میں ہی کورونا کا شبہ پایا گیا- موثر ہونے کے اعتبار سے طالب کی ٹیم چین کے دباؤ پروگرام کی حمایت کرتی ہے جس کے مطابق بیماری کنٹرول کرنے اور لیبر کی کمی نہ ہو معشیت کے لیے اسے ممکن بنانے کے درمیان ٹوگلنگ کی میرا تھن ریس میں داخل ہوئے بغیر جس قدر تیزی سے ممکن ہو وبا کے خاتمے کو ممکن بنایا جاتا ہے- دوسرے لفظوں میں چین کی سخت گیر اپروچ اس کی آبادی کو مہینوں یا سالوں پر مشتمل ناکہ بندی اور محصوری سے آزاد کرتی ہے، جس میں امپریل ٹیم دوسروں ممالک کو حصّہ لینے کی سفارش کرتی ہے-
ریاضیاتی ماہر وبائی امراض راڑرک ولاس جو ہم میں سے ایک ہیں، سارے کے سارے ماڈلنگ ٹیبل کو بدل ڈالتے ہیں- ہنگامی صورت حال ات سے نمٹنے کی ماڈلنگ جو تاہم ضروری تو ہوتی ہے لیکن وہ یہ بتانے سے قاصر رہتی ہے کہ کب اور کہاں سے شروع کیا جائے- سٹرکچرل اسباب بھی ایمرجنسی/ ہنگامی حالت کے بہت زیادہ حصّہ ہوتے ہیں- ان کو شامل کرنے سے ہمیں محض معشیت کو دوبارہ شروع کرنے سے کہیں زیادہ آگے جاکر متحرک ردعمل دینے میں مدد ملتی ہے جس نے نقصان کو پیدا کیا تھا- ولاس کہتا ہے،” اگر فائر فائٹرز کو تشفی بخش وسائل کردیے جائیں تو”۔
نارمل حالات میں، اکثر آگ اکثر کم سے کم ہلاکتوں اور کم سے کم املاک کی تباہی تک محدود کی جاسکتی ہیں-
تاہم نقصان کو کم سے کم رکھنے کا انحصار بہت کم رومانوی اور بہت زیادہ سورما ادارے پر ہوتا ہے جو مستقل اور جاری رہنے والی ایسی ضابطہ جاتی کوششوں کو بروئے کار لاتی ہے جس سے کسی بھی عمارت کو کوڈ ڈویلپمنٹ اور انفورسمنٹ کے زریعے سے خطرے کا کم سے کم شکار ہونا ممکن بناتی ہے اور فائر فائٹنگ ، سینی ٹیشن اور عمارت کو محفوظ بنانے والے وساغل کی تمام ضروری سطحوں پر فراہمی کو ممکن بناتی ہے۔
یہ تناظر وبائی مرض کی انفیکشن اور موجودہ سیاسی ڈھانچوں کے لیے بھی کارآمد ہے جو ملٹی نیشنل ایگری کلچرل انٹرپرائز / کاروباری اداروں کو منافعوں کی نجکاری کرنے دیتے ہیں جبکہ اس کی لاگت کو باہر منتقل کرتے ہیں اور اسے سوشلائز کرڈالتے ہیں- یہ تناظر ان سب اداروں کے لیے ‘نافذ ہونے والا ضابطہ/ کوڈ انفورسمنٹ بن جاتا ہے- جو پھر سے مستقبل قریب میں کسی بھی بڑے پیمانے پر ہلاکتیں کرنے والی وبائی بیماری سے بچنے کے لیے ان لاگتوں کو انٹرنلائز( ملٹی نیشنل ایگری کلچرل انٹرپرائز کی ذمہ داری بناڈالتی ہے) کرڈالتی ہے-

وبا کے پھوٹ پڑنے کے سامنے تیار رہنے اور بروقت ردعمل دینے کی ناکامی محض دسمبر سے شروع نہیں ہوتی جب دنیا بھر کے ممالک کویڈ-19 وبا کا جواب دینے میں ناکام ہوئے جب یہ ووہان سے باہر آگئی تھی- مثال کے طور پر امریکہ میں اس کا آغاز اس وقت نہیں ہوا جب ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی قومی سلامتی کی ٹیم کی زیلی وبا سے نمٹنے کے لیے تیار کمیٹی کو تحلیل کردیا یا سات سو سی ڈی سی/مراکز برائے کنٹرول بیماری کی آسامیوں کو پر نہ کیا-9 نہ ہی یہ تب شروع ہوئی جب وفاقی ادارے 2017 وبائی سیمیولیشن کے نتائج پر عمل کرنے میں ناکام رہے جس نے یہ دکھا دیا تھا کہ ملک وبائی مرض کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار نہیں تھا-10 نہ ہی تب جب رائٹرز خبر رساں ایجنسی کی ہیڈ لائن تھی “امریکہ نے وائرس کے پھوٹ پڑنے سے کئی ماہ پہلے چین میں سی ڈی سی ماہر عہدہ پر کلہاڑا چلادیا تھا- اگرچہ وہآں چین کی سرزمین پر امریکی ماہر کے نہ ہونے سے براہ راست رابطے کے خلا نے یقینی طور پر امریکہ کے ردعمل کو کمزور کیا تھا- نہ ہی یہ پہلے سے دستیاب عالمی ادارہ صحت کی فراہم کردہ حفاظتی کٹس کے زریعے ٹیسٹ نہ کرنے کے بدقسمتی پر مبنی فیصلے سے شروع نہیں ہوئی-بہرحال ابتدائی معلومات ملنے میں تاخیر اور ٹیسٹ کرنے کے ابتدائی مواقع کا ضیاع ہزاروں جانوں کے کھونے کے ذمہ دار بنیں گے-11
ناکامیاں تو اصل میں عشروں پہلے ہی پروگرام کرلی گئی تھیں جب صحت عامہ کے مشترکہ کاز کو مستقل نظر انداز کیا گیا اور اسے قابل خرید و فروختنی جنس بنادیا گیا-12 ایک ایسا ملک جس میں فردیائے گئی رجمنٹ کا قبضہ ہو تو وہ وباؤں کے زمانے میں ایک کھلے تضاد کے ساتھ سامنے آئے جس میں معمول کے آپریشنوں کے لیے کافی بیڈ نہ ہوں تو وہاں قطعی طور پر چینی برانڈ جیسا دباؤ ماڈل نافذ کرنے کے لیے جو وسائل درکار ہوں گے وہ اکٹھے ہی نہیں ہوں پائیں گے۔

زیادہ واضح طور پر سیاسی اصطلاحات میں ماڈل کی حکمت عملی کے بارے میں طالب ٹیم کے نقطہ نظر کی پیروی کرتے ہوئے ،ماحولیاتی بیماریوں کے ماہر لوئس فرنانڈو شاویز، اس مضمون کے ایک اور ساتھی مصنف رچرڈ لیونس اور رچرڈ لیوٹون ماہرین جدلیاتی حیاتیات کے اتفاق کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ‘اعداد کو ہی بولنے کی اجازت دینا پہلے سے موجود مفروضات پر نقاب چڑھا دینا ہے۔”13 امپریل اسٹڈی جیسے ماڈل واضح طور پر غالب سوشل آڈر/سماجی ضابطے کے اندر انتہائی محدود طریقے سے وضع کئے گئے سوالوں کے تحزیے کے امکان کو محدود کرڈالتے ہیں- اپنے ڈیزائن کے اعتبار سے وہ ان وسیع تر مارکیٹ فورسز کو دیکھنے میں ناکام رہ جاتے ہیں جو وباؤں کے پھوٹ پڑنے اور ایسی مداخلتوں کے پیچھے سیاسی فیصلوں کی قوت متحرکہ ہوتی ہیں-
شعوری طور پر یا غیر شعوری طور پر ایسے منصوبوں کے نتیجے میں سب کی صحت کا تحفظ دوسرے درجے میں ہوتا ہے اور سب کی صحت کے تحفظ میں جو سب سے زیادہ کمزور ہوتے ہیں وہ بھی شامل ہوتے ہیں تو ان کا لاکھوں کی تعداد میں مارا جانا یقینی ہوتا ہے- تو ایسے منصوبوں میں ایک ملک کا بیماری کے کنٹرول اور معشیت کے درمیان ٹوگل کرنا ضروری ہے-
ایک ریاست کا فوکو وژن جو اس کی آبادی میں خود اس کے اپنے مفادات کے مطابق کام کرتے ہوئے ایک اپ ڈیٹ/ تازہ ترین کی نمائندگی کرتا ہے، حالانکہ اس سے بھی بہتر حل مالتھس کے ہاں موجود ہے جسے مالتھسی دھکا بھی کہتے ہیں یہ دھکا ریوڑ کا مدافعتی نظام ہے، اس حل کو برطانیہ کی ٹوری حکومت اور اب ہالینڈ نے پیش کیا ہے یعنی بے قابو آبادی کے زریعے وائرس کو جلنے دیا جائے-14 ایک نظریاتی امید سے ماورا کم ہی شواہد اس بات کے ہیں کہ ریوڑ کی مدافعت وبا کو پھوٹ پڑنے سے روکنے کی ضمانت دے گی-وائرس آبادی کے مدافعتی کمبل کے نیچے سے آسانی سے نکل سکتا ہے-
مداخلت
اس کی بجائے کیا کرنا چاہئیے؟ ایمرجنسی کا رسپانس ٹھیک طریقے سے دینے کے دوران ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ ہم اس وقت بھی ضرورت اور خطرے دونوں کے ساتھ ہی نبردآزما ہورہے ہوں گے-
ہمیں ہسپتالوں کو قومیانے/نیشنلائز کرنے کی ضرورت ہوگی جیسے وبا پھوٹ پڑنے پر اسپین نے کیا- 15ہمیں حجم اور بدلے کے اعتبار سے ٹیسٹنگ کو بہت زیادہ کرنا ہوگا، جیسا کہ سینگال نے کیا تھا-16 ہمیں فارماسیوٹکل کمپنیوں کو قومیانا ہوگا-17 ہمیں میڈیکل اسٹاف کی جتنی زیادہ ہوسکے تحفظ کو بڑھانا ہوگا تاکا سٹاف کی تباہی کے عمل کو آہستہ کیا جاسکے- ہمیں وینٹی لیٹرز اور دوسری میڈیکل میشنیری کی مرمت کے حق کو لازمی تحفظ دینا چاہئیے18 ہمیں بڑے بنانے پر اینٹی وائرل کاک ٹیل جیسے ریمیڈیسوائر اور قدیم اینٹی ملیریل کلوروقوائن ہیں کو بڑے پیمانے پر تیار کرنا ہوں گی-(اور کوئی بھی دوسری ادویات جو اس کو کمزور کرنے میں معاون ہوں ان کو بھی بڑے پیمانے پر تیار کرنا ہوگا)-جبکہ ہمیں کلینکل ٹرائلز ٹیسٹنگ کرنا ہوگی چاہے وہ لیبارٹری سے ماورا ہی کام کرتے ہوں-19ایسا پلاننگ سسٹم نافذ ہونا چاہئیے (1) جو کمپنیوں کو درکار وینٹی لیٹرز اور اور ہیلتھ کئیر ورکرز کو درکار پرسنل پروٹیکشن ایکوپمنٹ تیار کرنے پر مجبور کرے اور(2)وہ زیادہ سہولتوں سے آراستہ جگہوں کو مختص کرنے کو ترجیح دے-
ہمیں بڑے پیمانے انسداد وبا کور/ پینڈیمک کور قائم کرنے کی ضرورت ہے جو ریسرچ سے لیکر کئیر تک کی ماہر ایک ایسی افرادی قوت ہمیں مہیا کرے جو اس ڈیمانڈ آف آڈر تک پہنچے جو وائرس ہم پر رکھ رہا ہو یا کسی اور بیکٹریائی یا وائرل انفیکشن سے پیدا ہورہا ہو- وائرس کیسز کے لوڈ/وزن کا انتہائی نگہداشت کے بیڈز کی تعداد، اسٹاف ممبران کی تعداد اور ضروری آلات کی تعداد سے موازانہ کریں تاکہ تاکہ دباؤ پروگرام موجودہ تعداد کا جو فرق/ گیپ ہے اسے پاٹا جاسکے- دوسرے لفظوں میں، ہ کویڈ-19 کے جاری فضائی حملے میں بچ جانے کے تصور کو قبول نہیں کرسکتے تاکہ بعد میں ہم اس کے دہلیز سے نیچے پھیل جانے سے روکنے کے لیے کانٹیکٹ ٹریسنگ اور کیس آئسولیشن کی طرف جاسکیں- ہمیں ابھی گھر گھر جاکر کویڈ-19 کی تشخیص کے لیے درکار لوگوں کو ہائر کرنا ہوگا اور ان کو ضروری حفاظتی آلات سے لیس کرنا ہوگا جیسے ان کے لیے کافی رہنے والے ماسک کی فراہمی- ہمیں قبضہ کرنے کے گرد جمع اس منظم سوسائٹی کو معطل کرنے کی ضرورت ہوگی جو مالکان کی معطلی سے لیکر دوسرے ممالک پر پابندیوں تک پر مشتمل ہو تاکہ لوگ بیماری سے بھی بچیں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کوعلاج کی ضرورت ہی نہ پیش آئے-
جب تک ایسا پروگرام نافذ نہیں ہوسکتا، اس وقت تک ہم بڑی آبادی کو یونہی چھوڑ بیٹھیں گے- یہاں تک کہ ضدی اور سرکش حکومتوں دباؤ جاری رکھتے ہوئے ہمیں محنت کشوں/پرولتاریہ کی گمشدہ روایت جو ڈیڑھ سو سال کی تاریخ رکھتی ہے کو بروئے کار لاتے ہوئے، ہر شخص کو جو اہلیت رکھتا ہو اسے ابھرتے ہوئے امداد باہمی کے گروپوں اور پڑوسی بریگیڈز کے ساتھ شامل ہوجانا چاہئیے-20 پروفیشنل ہیلتھ سٹاف جن کو ٹریڈ یونینز مختص کرسکتی ہوں ان کو ان گروپوں کی تربیت کرنا چاہئیے تاکہ وہ اپنے مہربانی کے عمل اور وائرس سے لوگوں کو بچانے کی کوششیں جاری رکھیں-
یہ اصرار کہ ہم وائرس کی سٹرکچرل اصل کو ایمرجنسی پلاننگ کے ساتھ ملائیں، ہمیں منافعوں کے سامنے لوگوں کو بچانے میں ایک قدم آگے بڑھانے کی کلید پیش کرتا ہے-
بہت سے خطرات میں سے ایک خطرہ ‘بیٹ شٹ کریزی’ (پاگل پن کی انتہا) کو معمول پر لانے میں چھپا ہوا ہے- جو حال ہی یں موجود سینڈروم کی خصوصیت ہے جس کے مریض شکار ہوتے ہیں اور یہ محاورہ جاتی پاگل پن پھیپڑوں میں پایا جاتا ہے- ہمیں اس صدمے کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے جو ہمیں اس وقت ملا جب ہمیں معلوم ہوا کہ ایک اور سارس وائرس اپنی جنگلی حیات کی پناہ گاہ سے باہر نکل آیا اور آٹھ ہفتوں میں ساری انسانیت میں پھیل گیا ہے-21 وائرس غیرملکی کھانوں کی رسد کی ایک سمت سے نکلا اور کامیابی سے چین کے صوبے وہاں کے دوسرے سرے پر ایک سے دوسرے انسان میں انفیکشن کی صورت میں پھیلتا چلا گیا-22 وہاں سے یہ وبا مقامی اور عالمی سطح پر جہازوں، ٹرینوں کے زریعے سے سفری روابط کے رابطوں سے بنے جال کے زریعے پوری دنیا میں پھیل گیا اور بڑے شہروں سے چھوٹے شہروں میں جانے کی اس نے درجہ بندی قائم کی-23
روایتی اورئنٹلزم میں وائلڈ فوڈ مارکیٹ کو (اس وائرس کا سبب) بتانے کے سوا بہت کم کوشش بہت زیادہ واضح سوالوں کے جواب تلاش کرنے پر صرف کی گئی- غیر ملکی کھانے تیار کرنے کا سیکٹر کیسے اس مقام تی پہنچا جہاں وہ ووہان کی بہت بڑی مارکیٹ میں روایتی لائیوسٹاک کے ساتھ اپنا مال بھی بیچنے کے قابل ہوپایا؟ جانور کسی ٹرک میں یا کسی گلی میں بیجے نہیں جارہے تھے-اس میں شامل پرمٹ اور ادائيگیوں
( اور ڈی ريگولیشن) کے بارے میں سوچیے24 ماہی گیری سے پرے دنیا بھر میں پھیلی وائلڈ فوڈ تیزی سے فارملائزڈ سیکٹر ہے اور پہلے سے کہیں زیادہ ایسے ہی وسائل سے صنعتی پیداوار کی مدد کرتے ہوئے سب سے زیادہ سرمایہ داری کا شکار بھی ہے-25 اگرچہ پیداوار کی وسعت میں کہیں بھی اس کے قریب نہیں ہے لیکن امتیاز اب بھی مبہم اور دھندلا ہے-
ایک دوسرے پر چڑھا ہوا معاشی جغرافیہ ووہان مارکیٹ سے مشرقی علاقوں تک پھیلا ہوا ہے جہاں پر غیر ملکی اور روایتی کھانے آپریشنوں کے زریعے اس قدر بڑھائے گئے ہیں کہ ان کی سرحد ایک پھیلتی وحشت انگیزی سے جاملتی ہے-26 ایک صنعتی فوڈ پروڈکشن آخری جنگل تک پھیل جاتی ہے، وائلڈ فوڈ آپریشن کو اپنی نزاکتوں کو بڑھانے اور آخری مقام تک چھاپہ مارنے کی ضرورت ہوتی ہے- نتیجے کے طور پر جرثوموں کے بہت زیادہ اجنبی قسمیں جیسا کہ سارس-2 وائرس رکھنے والے کیس میں پائے گئے اپنا راستا ٹرک میں تلاش کرلیتے ہیں چاہے اس پر لدھی فوڈ اینمل ہوں یا وہ لیبر جو ان کی دیکھ بھال کررہی ہو، یا اس شاٹ گن میں جس کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک میں اپنا سرکٹ بناکر ورلڈ اسٹیج کو نشانہ بنائے اس میں یہ جا شامل ہوتے ہیں-27
دراندازی
ربط میں وسعت ہوتی ہے جتنا زیادہ ہماری مدد اس وبا کے پھوٹ پڑنے کے دوران پلان کو آگے بڑھانے میں کرتی ہے جیسے یہ ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کیسے انسانیت اپنے آپ کو ایسے جال میں پھنسایا۔
مرض پھیلانے والے کچھ جرثومے پروڈکشن کے مراکز میں جنم لیتے ہیں- فوڈ سے جنم لینے والے بیکٹریا جیسے سالمونا اور کیمپائیلوبیکٹر ذہن میں آتے ہیں- لیکن بہت سارے جیسے کویڈ-19 سرمایہ کی پیدائش / کیپٹل پروڈکشن کی سرحدوں پر جنم لیتے ہیں- اصل میں نئے اور انجان بیماری پھیلانے والے انسانی جرثوموں کے ساٹھ فیصد ایسے ہیں جو جنگلی جانوروں سے مقامی انسانی گروہوں پھیلنے سے نکلتے ہیں-( اس سے پہلے کہ ان میں سے سب سے کامیاب وہ ہیں جو باقی دنیا تک پھیل جاتے ہیں)-28
ایکوہیلتھ کے میدان میں بہت سے روشن ستاروں کو جزوی فنڈنگ کولگیٹ پامولیو اور جانسن اینڈ جانسن سے ملتی ہے-یہ کمپنیاں لہولہان کرنے والے ايگری بزنس کو چلاتی ہیں جنھوں نے جنگلات کو ختم کرنے کے خطرے تک کو جنم دیا ہے اور اس کاروبار نے ایک عالمی نقشہ ترتیب دیا ہے جس کی بنیاد 1940 سے پھیلنے والی گزشتہ وباؤں پر ہے جسے بیماری پھیلانے والے نئے جرثومے آگے کی طرف بڑھارہے ہیں-29 نقشے میں جسقدر کوئی گرم تر رنگ نظر آتا ہے اسی قدر زیادہ ایک نیا بیماری پھیلانے والا جرثومہ پیدا ہوجاتا ہے- لیکن اسقدر مطلق جغرافیوں میں الجھانے والی ٹیم کا نقشہ جو چین، ہندوستان، انڈویشیا، لاطینی امریکہ اور افریقہ کے کچھ علاقوں کو گرم سرخ دکھاتا ہے ایک اہم نکتہ نظر انداز کرجاتا ہے- جہاں سے بیماری پھوٹتی ہےان زونوں پر فوکس کرنا عالمی معاشی ایکٹروں سے پیدا ہونے والے رشتوں کو نظر انداز کردیتا ہے جو ایپی ڈی مالوجیز/ مہا بیماریوں کی صورت گری کرتے ہیں-30 سرمایہ دارانہ مفادات کی حمایت یافتہ ترقی/ڈویلمپمنٹ اور پیداوار کے ساتھ آنے والی زمین میں تبدیلیاں اور دنیا کے ترقی پذیر علاقون میں بیماریوں کا جنم ان کوششوں کا صلہ ہیں جو ان وباؤں کے پھوٹ پڑنے کی زمہ داری مقامی آبادیوں اور ان نام نہاد گندے ثقافتی طور طریقوں پر عائد کرتی ہیں-ریشنل جغرافیوں کی تقسیم اچانک نیویارا،لندن اور ہانگ گانگ جیسے عالمی سرمایہ کے سرچشموں کو دنیا کے تین بدترین وبائی مرکز میں بدل ڈالتی ہے-
وبا کا شکار علاقے اب روایتی سیاست کے تحت منظم نہیں رہے-غیر مساوی ماحولیاتی تبادلے نے ریاستی سامراجیت کی قیادت میں وسائل کے مقامی علاقوں کو بڑے پیمانے پر اور اجناس کے اعتبار سے نئے کمپلیکس رکھنے والی جگہ میں بدل دیا ہے- یہ جو غیر مساوی ماحولیاتی تبادلہ ہے یہ بدترین نقصان کو صنعتی ایگری کلچر سے گلوبل ساؤتھ/ترقی یافتہ ممالک کی طرف موڑ رہا ہے-32 ایگری بزنس اپنے غیر معمولی سرگرم آپریشنوں کو مختلف پیمانے کے علاقوں میں مکانی طور پر منقطع نیٹ ورک کی شکل دے رہا ہے-33 مثال کے طور پر ملٹی نیشنل کی بنیاد پر ایک ‘سویا بین ری پبلک بولیا،پیراگوئے، ارجنٹینا اور برازیل کو قطع کرتی ہے-نئے جغرافیہ کی تجسیم کمپنی منیجمنٹ سٹرکچرمیں ہونے والے بدلاؤ، سرمایہ کاری ، ست کانٹریکٹنگ، متبادل سپلائی چین، لیزنگ اور ٹرانس نیشنل لینڈ پولنگ کی مرہون منت ہے- قومی سرحدوں کو مضبوط بناتے ہوئے، یہ ” اجناسی ممالک/ کاموڈیٹی ممالک” لچک دار ہونے کے سبب ماحولیاتی اور سیاسی سرحدوں کو اپنے اندر سموتے ہوئے ساتھ ساتھ نئے وبائی بیماری بھی پیدا کررہے ہیں-35
مثال کےطور پر، اجناس زدگی/ کاموڈیٹائز دیہی علاقوں سے شہری کچی آبادیوں/ سلم میں تبدیل ہونے کے رجحان جو آج پوری دنیا میں جاری ہے کے باوجود وبائی بیماری بارے ابھرنے والی بحث میں دیہی-شہری تقسیم پر زیادہ فواس رکھتی ہے- یہ بحث دیہی علاقوں میں مرتکز لیبر اور دیہی قصبوں کے تیزی کے ساتھ ‘شہری گاؤں/ سٹی ویلج میں بدل جانے یا دوشہروں کے درمیان کا علاقہ بن جانے کو نظرانداز کردیتے ہیں-مائیک ڈیوس اور دیگر کئی نے پہچان کرائی ہے کہ کیسے یہ نئی اربنائزنگ لینڈ اسکیپ بطور مقامی مارکیٹ اور گلوبل ایگری کلچرل کاموڈیٹیز/ اجناس کے ذخیروں کے کام کرتی ہیں-36 کچھ ایسے خطے تو “پوسٹ ایگری کلچرل” ہوچکے ہیں-37نتیجہ یہ نکلا ہے کہ جنگلی بیماری کی حرکیات،بیماری پھیلانے والے جرثوموں کے ابتدائی سرچشے اب صرف مشرقی علاقوں تک محدود نہیں رہے- ان کی شراکت دار وبائی امراض نے اپنے آپ کو ایسے رشتے میں ڈھال لیا ہے جو ایسا لگتا ہے کہ زمان و مکان کو عبور کرنے لگے ہیں۔ ایک سارس اچانک سے اپنی غار سے باہر آنے کے چند دن بعد بڑے شہر میں انسانوں کے جسم میں خود کو داخل کرسکتا ہے-
ایکوسسٹم جن میں ایسے جنگلی وائرس ٹراپیکل فاریسٹ/باران خیز استوائی جنگل کی پیچیدگیوں کے سبب جزوی طور پر کنٹرول میں رہتے تھے کو سرمایہ کے زیر اثر ہونے والی جنگلات کی کٹائی نے بے قابو کردیا اور اس نے پبلک ہیلتھ اور ماحولیاتی صفائی ستھرائی کو نقصان پہنچاتے ہوئےدوسرے سرے پر پیری- اربن ڈویلپمنٹ بلندیوں پر پہنچادیا-38
نوٹ: پیری اربن علاقے دراصل دو اربن مراکز کے درمیان کے مضافاتی / دیہی علاقوں کی اربنائزڈ شکل کا نام ہے-
جبکہ بہت سارے جنگلی/سیلواٹک اپنی میزبان انواع کے ساتھ ہی مررہے ہیں، انفیکشن کا ایک حصّہ تیزی سے جنگلات میں جل جاتا تھا-اگر صرف ان کی روایتی میزبان انواع کے ساتھ انکاؤنٹر اب مشتبہ انسانی آبادیوں میں پھیل رہی ہیں جن کا انفیکشن سے متاثر ہونے کا خطرہ اکثر و بیشتر کٹوتی پروگرام اور کرپٹ ریگولیشن کے زریعے اور بڑھ جاتا ہے- حتیکہ موثر ویکسئین کے ہوتے ہوئے بھی پھوٹ پڑنے والی وبائیں بڑے پیمانے ، دورانیے اور بڑی تیز رفتاری سے پھیلتی ہے- اور جو کبھی انفیکشن مقامی لوگوں تک رہتی تھیں اب وہ سفر اور تجارت کے عالمی جال کے زریعے سے اپنا راستا دنیا بھر میں بنارہی ہیں-39
(باران خیز استوائی جنگل جنوبی امریکہ، وسطی امریکہ، کئیربیئن ، ساحلی مغربی امریکہ، ہندوستان برصغیر کے کچھ علاقوں اور بہت سارے انڈوچین علاقوں میں پائے جاتے ہیں-یہ پیچیدہ ترین علاقے ہیں اور نباتاتی اور حیوانی تنوع سے مالا مال ہیں اور سطح مرتفع پر قائم ہوتے ہیں)
اختلاف منظر کے اثر سے / پیرالیکس ایفیکٹ یعنی صرف ماحولیاتی پس منظر کے بدلنے سے پرانے معیارات جیسے ایبولا، زکا، ملیریا اور زرد بخار نسبتا کم ظاہر ہورہے ہیں اور وہ سب اب علاقائی خطرات میں بدل چکے ہیں-40 اب وہ اچانک بڑے شہروں میں ہزاروں میں ظاہر ہونے کے دور دراز کے دیہاتوں میں ظاہر ہوتے ہیں- کسی دوسری ماحولیاتی سمت کی کسی چیز کے اندر یہاں تک کہ جنگلی جانور جو عام طور پر کافی لمبے وقت تک بیماریوں کے جرثومے کا ذخیرہ رکھتے تھے(جو ان میں فعال نہیں ہوتا تھا) ان کو بھی شدید دھجگا لگا ہے، جیسے اب نئے عالمی بندروں میں جنگلی ٹائپ زرد بخار کا شبہ ہے جس سے وہ کم از کم سو سلوں سے واقف تھے وہ اپنی ریوڑ والی مدافعتی قوت کھورہے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں مررہے ہیں-41
پھیلاؤ
کاموڈیٹی ایگری کلچر صرف اپنے عالمی پھیلاؤ کے زریعے سے بطور ثابت قدم اور گٹھ جوڑ کے جو خدمت سرانجام دیتی ہے وہ یہ ہے کہ اس کے زریعے سے مختلف اصل رکھنے والے جرثومے بہت دورافتادہ ذخیروں سے ہجرت کرکے آبادی کے سب سے زیادہ بین الاقوامی مراکز کی طرف منتقل ہوتے ہیں-42 یہی وہ مقام ہے سفر کے ساتھ جہاں پر نت نئے ،انجان وبائی امراض پھیلانے والے جرثومے اگری کلچر کی چار دیواری میں بند کمیونٹیز میں درانداز ہوجاتے ہیں-جتنی لمبی شراکتی سپلائی چین ہوتی ہیں اور جتنا ساتھ ملحقہ جنگلات کی کٹائی کے ساتھ کمی ہوتی ہے اتنا ہی زیادہ متنوع حیوانی وبائی امرا پھیلانے والے جرثومے فوڈ چین میں داخل ہوجاتے ہیں- حال ہی میں نئے ابھرنے والے اور پھر سے ابھرنے والے زرعی فارموں اور فوڈ انڈسٹری سے پیدا ہونے والے جرثومےجو بشریاتی ڈومین سے نکلتے ہیں وہ افریقی سوائن فیور، کیمپائیلوبیکٹر، کرپٹوسوڈریم،سائیکلوسپورا، ایبولا ریسیٹون، ای کولی0157:ایچ7،منہ کھر بیماری، ہیپا ٹائٹس ای،لسٹیریا، نپاح وائرس، کیو فیور، سالمونیلا، وائبرو،یرسینیا اور انفلوئنزا کی مختلف شکلیہ بشمول ایچ ون این2 وی وغیرہ-43
تاہم نہ جاہتے ہوئے بھی، ساری پروڈکشن لائن ایسے اقدامات کے گرد منظم ہوتی ہے جو ہلاکت خیز زھریلے وبائی جرثوموں کا ارتقا اور ان کی دوسروں میں منتقلی کی شرح کو تیز کردیتے ہیں-44 جینٹک مونو کلچرز یعنی فوڈ اینمل اور پودوں کے یکساں جینوم کی تیز نشونما مدافعتی دیواروں کو ہٹادیتی ہیں جبکہ متنوع جینٹک کلچر کی صورت میں زیادہ متنوع آبادی کے اندر زھریلے جرثوموں کی منتقلی کی رفتار سست رکھتے ہیں-47 زھریلے جرثومے اب تیزی سے مشترکہ مقام پر میزبان مدافعتی جینو ٹائپ کے گرد نمودار ہوسکتے ہیں- اس دوران ہجومی حالات مدافعتی ردعمل کو اور دباؤ میں لے آتے ہیں-46 بڑے بڑے فارومن پر جانوروں کی آبادی کے سائز اور فیکٹری فارموں کی گنجانیت بڑے پیمانے پر جرثوموں کی منتقلی اور انفیکشن کو ممکن بناتے ہیں-48
ہائی تھروپٹ، جو کہ کسی بھی صعنتی پروڈکشن کا حصّہ ہوتی ہے،مشکوک اجزا کی مسلسل احیائی سپلائی کو پنجرے،فارم اور علاقائی سطحوں پر ممکن بناتی ہے اور جرٹوموں کی ہلاکت انگیزی پر لگی مہر کو ہٹادیتی ہے- بہت سارے جانوروں کو اکٹھے رکھنا ان دباؤ کا تحفہ دیتے ہیں جن کو دوسری صورت میں جانوروں کے زریعے سے ہی آسانی سے جلایا جاسکتا ہے-49 زبح کرنے کے لیے عمر میں کمی جیسے چکن کے لیے چھے ہفتے کرنا زھریلے جرثوموں کو جانوروں کے مضبوط مدافعتی سسٹم سے بچ کر نکلنے کے قابل بنانے کاانتخاب کرنے جیسا ہے-زندہ جانوروں کی تجارت اور برآمد کی جغرافیائی حد کو بڑھاتے جانے سے جینومک حصوں کا تنوع بڑھ جاتا ہے جو ان کے شریک زھریلے جرثوموں کا تبادلہ کی شرح بڑھا دیتا ہے جس شرح پر بیماری کے ایجنٹ اپنے ارتقائی ممکنات کو دریافت کرلیتے ہیں-50
جبکہ وبائی جرثوموں کا ارتقا راکٹ کی سی تیزی کے ساتھ ان تمام راستوں سے آگے بڑھتا ہے- انڈسٹری کی خود اپنی ڈیمانڈ کے طور پر بھی تاہم کوئی مداخلت نہیں ہوتی، بس کسی بھی چوتھائی مہینوں کے مالیاتی مارجن کو کسی بھی اچانک وبا کے پھوٹ پڑنے کی صورت میں بچایا جاتا ہے-51 جہاں رجحان فارموں اور پروسسینگ پلانٹ کی چند حکومتی انسپکشن کی طرف مڑتا ہےوہیں یہ حکومتی نگرانی اور ایکٹوسٹ کے سامنے بے نقابی کے خلاف قانون سازی اور یہاں تک کہ میڈیا آؤٹ لیٹس میں چند خاص تباہ کن وباؤں کے پھوٹ پڑنے کی رپورٹنگ کو روکنے کے لیے قانون سازی کی طرف بھی مڑتا ہے-
پیسٹی سائیڈز اور فوگ آلودگی کے خلاف حالیہ چند عدالتی فتوحات کے باوجود پروڈکشن/پیداوار کی پرائیویٹ کمانڈ ساری کی ساری منافع پر فوکس رہتی ہے- نقصانات جو وباؤںکے پھوٹ پڑنے سے ہوتے ہیں وہ لائیوسٹاک، وائلڈ لائف، ورکرز، لوکل اور نیشنل گورنمنٹ، پبلک ہیلتھ سسٹم اور متبادل ايکڑو سسٹم کو قومی ترجیح کے طور پر ایکسٹرنلائز کرنے کا نتیجہ ہیں- انسداد امراض سنٹرز /سی ڈی سی کی رپورٹ ہے کہ متعدد ریاستوں میں خوراک سے پھوٹ پڑنے والی وباؤں سے افراد زیادہ سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں-52
یہ ہے سرمائے کی تنہائی جو جرثوموں کے حق میں تجزیہ کرتی ہے-جبکہ عوام کا مفاد تو فارم اور فوڈ فیکڑی گیٹ کے باہر ہی رہ جاتا ہے-وبائی جرثوموے بائیو سیکورٹی کو ختم کرڈالتی ہے جس کی انڈسٹری تلافی کرنے اور عوام کو لوٹانے کو تیار ہوتی ہے- روز مرہ کی پیداوار ہمارے مشترکہ صحت کے زریعے ایک پرکشش خطرناک کھابے کی پیشکش کرتی ہے-
آزادی/ لبریشن
نیویارک جو دنیا کے بڑے شہروں میں سے ایک شہر ہے ميں ستم ظریفی ہے کہ وہاں پر کوویڈ-19 سے بچاؤ کی پناہ گاہ بنائی جارہی ہے جو کہ وائرس کی جو جنم بھومیاں ہیں ان سے بہت دور ہمپشائر ہے- لاکھوں نیویارکر ان گھروں میں سر چھپائے ہوئے ہیں جن کی نگرانی الیشیا گلین کرتا ہے جو کہ ہاؤسنگ و ڈویلپمنٹ کے لیے ڈپٹی مئیر ہے-53 گلین گولمین ساش کا سابق ايگزیگٹو ہے جو کمپنی کے اربن انوسمنٹ گروپ کی سرمایہ کاری کی نگرانی کرتا رہا تھااوریہ گروپ کمیونٹیز کی اقسام کے منصوبوں کو فنانس کرتا رہا ہے جو فرم کے دوسرے یونٹوں کی ریڈ لائن میں مدد دیتے ہیں-54
بہرحال گلین کو ذاتی طور پر وبا کے پھوٹ پڑنے کا الزام نہیں دیا جاسکتا، لیکن لیکن وہ ایک سمبل/علامت ضرور ہے اس ربط کی جو گھر کے زیادہ قریب سے ہٹ کرتا ہے- شہر کی طرف سے اسے ہائر کرنے سے تین سال پہلے، ایک ہاؤسنگ بحران اور ‏عظیم کساد بازاری پر جو اس کی اپنی لائی ہوئی تھی، اس کے سابقہ مالک نے جے پی مارگن، بینک آف امریکہ، سٹی گروپ، ویلز فارگو اینڈ کو اور مارگن سٹینلے کے ساتھ فیڈرل ایمرجنسی لان فنانسنگ کا 63 فیصد لیا تھا-55 گولڈمان ساش نے اپنے اوپر سے قرضوں کو صاف کیا اور بحران سے بچی ہوئی اپنی ہولڈنگ کو متنوع بنانے کی قدم بڑھا دیا- گولڈ مان ساش نے شنگھائی انوسمنٹ ایںڈ ڈویلپمنٹ میں 60 فیصد اسٹاک لیا جو کہ چینی ایگری بزنس جائنٹ کا ایک حصّہ ہے جس نے امریکی سمتھفیلڈ فوڈز کو خرید لیا- یہ دنیا کی سب سے بڑی خنزیر کے گوشت کی پیداوار کرنے والی کمپنی ہے-56
اس نے 300 ملین ڈالر کے عوض فیوجان اور ہنان میں دس پولٹری فارم خریدے اور ان کی ملکیت لی اور ہنان ان صوبوں میں سے ایک ہے جہاں ووہان صوبے سے وائلڈ فوڈز کے لیے سپلائی جاتی رہی-57 انہی صوبوں میں اس نے ڈویچے بینک کے ساتھ ملکر خنزیر کی پیداوار میں اضافے کے لیے مزید 300 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی-58
اوپر دریافت کی گئی باہم مربوط جغرافیے سارے کچھ کو واپس سرکولیٹ کردیا- حال میں پینڈیمک گلین کے حلقوں میں اپارٹمنٹ سے اپارٹمنٹ سے ہوتی ہوئی سارے نیویارک کو بیمار کررہی ہے-اور نیویارک امریکہ کی کورونا سے متاثر سب سے بڑی آبادی ہے-لیکن ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا چاہئیے کہ جزوی طور پر اس وبا کے پھوٹ پڑنے کے ڈھیلے ڈھالے اسباب کو نیویارک سے باہر تک بڑھانا ہوگا کیونکہ چین کے ایگری کلچر کے سائز جو سسٹم میں ہے اس اعتبار سے گولڈمان ساش کا حصّہ بہت ہی چھوٹا نظر آتا ہے-
قوم پرستانہ انگلی کے اشارے ‘ٹرمپ کے نسل پرستانہ’ طعنے ‘چینی وائرس’ سے لیکر لبرل کا تسلسل ریاست اور سرمایہ کے باہم ایک دوسرے کے ساتھ جڑے گلوبل ڈائریکٹرز کو صاف چھپالیتے ہیں-59 کارل مارکس نے ان کو ‘ دشمن بھائی’ کہا تھا-60
موت اور نقصان جو مزدور جنگ کے میدانوں اور معشیت میں برداشت کررہے ہیں اور اب اپنے تختوں میں اپنے سانس کو قابو کرنے کے لیے لڑتے ہوئے اشراف کی پینترے بازی کے درمیان مسابقت کی تجسیم کرتے ہیں- اور یہ جو پینترے بازی ہے یہ کمیاب قدرتی وسائل اور زرایع کی حصّہ داری اور ان مشینوں کے گئیر میں پھنسے انسانیت کے آیک بڑے حصّے کو فتح کرنے کے لیے ہے-
درحقیقت پینڈیمک/ وبائی تباہی سرمایہ دارانہ طریق پیداوار سے جنم لیتی ہے اور ریاست جس سے توقع کی جاتی ہے کہ ایک سرے پر وہ اسے مینج کرلے گی ایک موقعہ فراہم کرسکتی ہے جس سے سسٹم کے مینجرز اور بینفیشیرز/ فائدہ اٹھانے والے دوسرے سرے پر خوشحال ہوسکتے ہیں- فروری کے وسط میں پانچ امریکی سینٹرز اور 20 امریکی کانگریس ممبرز نے ان صنعتوں میں ملین ڈالر انویسٹ کیے جو آنے والی پینڈیمک سے تباہ ہونے والی تھیں-61 یہ ان کی سیاست پر استوار نان پبلک انٹیلی جنس انسائیڈر ٹریڈنگ تھی اور یہاں تک کہ ان میں سے کچھ امریکی نمائندگان تو پبلک میں امریکی حکومت کے غلط اندازوں کو بھی بار بار دوہراتے کہ پینڈیمک سے ان کو ایسا کوئی خطرہ درپیش نہیں ہوگا-
توڑنے اور پکڑنے کی ایسی حساسیت سے اوپر ریاستی سمت کی کرپشن ایک انتہائی منظم ارتکاز کے امريکی چکر کے خاتمے کی نشانی ہے جب سرمایہ کیش آؤٹ/ زر کی کمی کا شکار ہوجاتا ہے-
سرمائے کی بارش کرنے کی کوششوں میں کوئی چیز مقابلتا ازکار رفتہ ہے چاہے یہ پرائمری ایکوجیز کی حقیقت اور اس سے متعلقہ ایپڈیملوجیز (وباؤں کا علم) پر فنانس کی تجسیم کے گرد ہی منظم کیوں نہ ہوں جس پر اس کی بنیاد ہے- خود گولڈن ساش کے لیے پینڈیمک جیسا کہ اس نے بحران سے پہلے کہا تھا سرمائے کی بڑھوتری کے لیے جگہ بناتی ہیں-
(سرتاج احمد انٹرنشنل سوشلسٹ کے کامریڈ اس پیراگراف کو لیکر کہتے ہیں اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ سرمایہ داری حرکیاتی وصف رکھتی ہے- پھر جیسا کہ 1918، دو عالی جنگوں کی بربادی، 1929 اور 2007ء کے معاشی بحران سب کے دوران برباد سرمایہ داری ریاست کی مداخلت سے ہی کھڑے ہونے کے قابل ہوئی اور اس بحران میں بھی ریاست کی مداخلت سے سرمایہ داری بحال ہوگی مگر محنت کشوں کی قیمت پر- کچھ سرمایہ برباد ہوگا لیکن نئے شعبے پھلے پھولیں گے مگر ایسا تب ہی ہوگا جب عوام کا پیسہ ریاست خرچ کرے گی- امریکہ اور یورپ نئی تحقیق اور بحالی میں رقم ڈالیں گے)
ہم بایوٹیک کمپنیوں میں موجود مختلف ویکسین ماہرین اور محققین کی امیدوں کو اس اچھی پیشرفت کی بنیادماننے میں شریک ہیں ہیں جو اب تک مختلف علاج معالجے اور ویکسینوں پر کی جا چکی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ خوف اس طرح کی پیشرفت کے پہلے اہم شواہد سے کم ہوگا۔
ممکنہ حد تک نچلی سطح کے ہدف تک تجارت کرنا جبکہ سال کے آخر تک کا ہدف کافی حد تک ڈے ٹریڈرز، مومینٹم فالورز اور کچھ ہیج فنڈ مینجرز کے لیے فائدہ مند ہوگا لیکن لانگ ٹرم انویسٹرز کے لیے نہیں۔ مساوی اہمیت کے لیے کوئی ضمانت نہیں کہ مارکیٹ نچلی سطحوں تک پہنچ پائے گی جسے آج کی فروخت کے لیے بطور جواز کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہو- دوسری طرف ہم زیادہ پراعتماد ہیں کہ مارکیٹ بتدریج امریکی معشیت کی اپنی لچک اور استحکام کے سبب ہائر ٹارگٹ تک پہنچ ہی جائے گی-
اور آخر میں ہم اصل میں سوچتے ہیں کہ موجودہ سطحیں اہستگی سے پورٹ فولیو کے رسک لیول میں اضافہ کرنے کے لیے ایک موقعہ فراہم کرتی ہیں- ان کے لیے جو قابل رسائی کیش پر بیٹھے ہوسکتے ہیں اور رائٹ سٹریٹجک اثاثوں پر پاور کے ساتھ قیام کرتے ہیں ، یہ وقت ہے کہ وہ اایس اینڈ پی ایکویٹیز میں اضافہ کریں-62
جاری قتل عام سے پریشان دنیا بھر کے لوگ مختلف نتائج تک پہنچ رہے ہیں-63 سرمایہ کا سرکٹ/ چکر اور وبائی جرثوموں کی پیداوار جیسے ریڈیو ایکٹو ٹیگ ایک بعد دوسرا لاشعوری خیال ہیں-
ایسے نظاموں کی بے قاعدگی اور حادثاتی کرداری خصوصیت کو کیسے بیان کریں، جیسے ہم نے اوپر کیا؟ ہمارا گروپ ایک ایسے ماڈل کو بنانے کے درمیان میں ہے جو ایکو ہیلتھ میں اور ون ہیلتھ میں جدید کالونیل میڈیسن کی طرف سے کی جانے والی کوششوں کو ننگا کرتا ہے جو مقامی اور لوکل سمال ہولڈرز جنگلات کے خاتمے کا الزام دیتی ہیں جو ہلاکت انگیز بیماریوں کا سبب بنتی ہے-64
نیو لبرل بیماری کے جنم ،جی ہاں بشمول چین کے بارے ہمارا عمومی نظریہ:
سرمائے کے عالمی سرکٹ، علاقائی ماحولیاتی تنوع جو تباہ کن بے قابو وبائی جرثوموں پر چیک رکھتی کو تباہ کرنے والے سرمائے کی تعیناتی، نتیجے میں پھوٹ پڑنے والے وبائی واقعات کی شرح اور اصول صف بندی میں اضافہ، پیری اربن کاموڈیٹی سرکٹ کا پھیلاؤ جو لائیو سٹاک اور لیبر میں ابل پڑنے والے وبائی جرثوموں کو گہرے مشرقی علاقوں سے علاقائی شہروں تک شپنگ کرتے ہیں،بڑھتا ہوا گلبل ٹریول(اور لائیو سٹاک ٹریڈ) نیٹ ورک جو وبائ جرثوموں کو مخصوص شہروں سے باقی دنیا میں ریکارڈ ٹائم میں منتقل کرتے ہیں، وہ طریقے جن کے زریعے سے یہ نیٹ ورک ٹرانسمشن/منتقلی کی مزاحمت کو کم کرتے ہیں، لائیو سٹاک اور لوگوں میں بڑے ہلاکت انگیز جرثوموں کے ارتقا کے لیے سلیکشن/ انتخاب، دوسرے اطلاقات کے درمیان، انڈسٹریل لائیو سٹاک میں آن سائٹ ری پروڈکشن کی کمی، قدرتی انتخاب بطور ایک ایکوسسٹم کے ہٹانے کو جو بروقت اور قریب قریب مفت بیماری سے تحفظ دیتا ہے کو شامل کرتا ہے-
زیر غور فعال مقدمہ یہ ہے کہ کوویڈ-19 اور اس جیسے دوسرے وبائی جرثومے صرف کسی ایک انفیکشن کرنے والے ایجنٹ والی شئے میں نہیں پائے جاتے یا یہ محض کلینکل راستے سے نہیں آتے بلیہ ان کی جڑین ایکوسسٹم کے اس میدان میں ہیں جن کو سرمایہ اور دوسرے سٹرکچرل اسباب اپنے فائدے کے لیے دوبارہ کام میں لاتے ہیں-65وبائی جرثومے، مختلف انواع کی نمائندگی کرنے والے، سورس ہوسٹس، منتقلی / ٹرانسمشن کے طریقوں، کلینکل راستے اور ایپڈیمولوجیکل /وبائی نتائج وہ تمام نشان ہیں جب وبا پھوٹ پڑتی ہے تو ہمیں وحشت ناک آنکھوں کے ساتھ ہمارے سرچ انجنوں تک لیجاتے ہیں- اور ایسے مختلف حصوں اور راستوں کو نشان زد کرتے ہیں جن کے ساتھ ایک ہی قسم کے زمین کے استعمال اور ارتکاز کی قدر ہوتے ہیں۔
مداخلت کا ایک عام پروگرام ايک خاص وائرس سے ماورا متوازی طور پر چلتا رہتا ہے-
بدترین نتائج و عواقب سے بچنے کے لیے، صفائی کا عمل عظیم انسانی سفر کا اگلا پڑاؤ ہے: پہلے سے قآئم آئیڈیالوجیز/ نظریات کو ترک کرنا، انسانیت کی دریافت نو کرکے کرہ ارض کی گردشوں کی طرف پلٹانا اور سرمائے اور ریاست سے ماورا ہجوم میں ہمارے احساس انفرادیت کو دوبارہ سے پانا-66 تاہم معشیت پسندی/ اکنامک ازم یعنی یہ عقیدہ رکھنا کہ سارے اسباب کی جڑ تنہا معشیت ہے ناکافی آزادی ہے- عالمی سرمایہ داری نظام ، تقویت پکڑتا ہوا، اندر تک سرایت کرتا ہوا اور سماجی تعلقات کی ملٹی پل تہوں منضبط کرنے والا کئی منہ والا سانپ ہے۔ علاقائی اہمیت کی حکمرانی کو عملی شکل دینے کے دوران سرمایہ داری نسل ، طبقہ اور صنف کے پیچیدہ اور باہم مربوط علاقوں میں کام کرتی ہے۔
ہم ان ادراک کو قبول کرنے کے خطرے کو مول لیکر جن کو ماہر تاریچ ڈونا ہاروے نے ‘ نجات کی تاریخ ‘ کہہ کر رد کردیا تھا –” کیا ہم بروقت بم کو ڈی فیوز کرسکتے ہیں؟”— صفائی کے عمل کو جبر کی تہہ دار درجہ بندیوں اور مقامی خاصیت رکھنے والے طریقوں کو ختم کرنا ہوگا جو ارتکاز سرمایہ سے انٹریکٹ کرتے ہیں-68
اس کے ساتھ ساتھ ہمیں سرمائے کی پیداواری، سماجی اور علامتی مادیت پرستیوں کے پرے تقویت نو سے باہر نکلنا چاہئیے-69مطلق العنانیت کا جو خلاصہ بنتا ہے یہ اس سے باہر کی چیز ہے- سرمایہ داری ہر شئے کو جنس خریدنی و فروختنی بناڈالتی ہے-(کاموڈوفیکشن) جیسے یہاں مریخ کی دریافت ۔ وہاں سونا، یہاں لتھیم لگون،وینٹی لیٹر کی مرمت یہاں تک کہ پائیداری و استحکام کو بھی یہ کاموڈیٹی/ جنس بنا ڈالتی ہے-یہ پرمیوٹیشن تو کارخانوں اور فارموں کے باہر پائے جاتے ہیں- سارے طریقوں سے ہر کوئی اور ہر جگہ سب کے سب منڈی کی چیز بن جاتے ہیں، جو کہ ایک زمانے کے دوران جیسے یہ ہے کو صاف نہیں کیا جاسکتا اور اس عمل کو تیز سیاست دان کرتے ہیں-70
المختصر، ایک کامیاب مداخلت جو ایگرواکنامک سرکٹ میں سے گزرنے والے بہت سارے جرثوموں میں سےکسی ایک کو بھی پرے رکھتے ہو ایک ارب لوگوں کو مرنے سے روکتی ہو اسے سرمائے اور اس کے مقامی نمائندوں سے عالمی تصادم کے دروازے سے ضرور گزرنی چاہئیے- تاہم سرمایہ داروں / بورژوازی کا پیدل سپاہی جیسے گلین ہے وہ نقصان کو کم کرکے دکھانے کی لازمی کوششیں کرتا ہے-جیسا کہ ہمارے گروپ نے اپنے تازہ ترین ریسرچ ورک میں دکھایا ہے کہ ايگری بزنس پبلک ہیلتھ سے حالت جنگ میں ہے-71 اور پبلک ہیلتھ یہ جنگ ہار رہی ہے-
تاہم عظیم انسانیت کو ایسے نسلیاتی تصادم میں جیتنا چاہیے، ہم اپنے آپ کو واپس کرہ ارض کے میٹابولزم سے واپس جوڑ سکتے ہیں، تاہم اس کا اظہار مقام بہ مقام مختلف ہوگا، ہم اپنی ایکولوجیز/ ماحولیات اور معاشیات کو دوبارہ سے باہم مربوط بناسکتے ہیں-72 ایسے آدرش یوٹوپیا سے کہیں زیادہ حقیقی ہیں- ایسا کرنے سے ہم فوری حل قریب لاسکتے ہیں- ہم جنگل کے تنوع کی حفاظت کرتے ہیں تو وہ تباہ کن وبائی جرثوموں ان کو میزبانوں کی صف کرکے دنیا کے سفری نیٹ ورک کے زریعے پھیلنے سے روکے رکھے گا-73 اگر ہم لائیوسٹاک اور فصلوں کے تنوع کو دوبارہ متعارف کراتے ہیں اور اینمل و کراپ فارمنگ کو ان سطحوں پر ایک دوسرے سےے مربوط رکھتے ہیں جن سے وبائی جرثومے بے قابو ہوکر جغرافیائی حدود کو پار نہ کرسکیں- ہم آن سائٹ ہی فوڈاینمل کو ری پروڈیوس کرنے کی اجازت دیں اس طرح کہ قدرتی انتخاب کو دوبارہ شروع کردیں جو مدافعتی نظام کے ارتقا کو بروقت جرثوموں کو ٹریک کرنے کی اجازت دیتا ہے-بڑے منظرنامے میں، ہمیں فطرت اور کمیونٹی سے کھیلواڑ کرنا ترک کردینا ہوگا تو ہمیں سب سے زیادہ ضررورت اپنی بقا کی ہے تو اس کے لیے ہمیں ویسا کرنا ہوگا جیسے ہم مسابقتی منڈی میں کڑتے ہیں کہ ایک دوسرے مدمقابل کو مارکیٹ سے بھگانا ہوگا-
دنیا کی تخلیق نو یا شاید زمین کی طرف واپس پلٹنے کے خطوط کے ساتھ جانے کا راستا مختصر نہیں ہے- کام کے لیے تیاری مکمل ہے اور ممکنہ راستا ہمارے سب سے سے زیادہ اہم مسائل کو بھی حل کرنے میں ہماری مدد کرے گا- ہم سے کوئی بھی بیجنگ سے نیویارک تک اپنے لیونگ رومز میں پھنسا بیٹھا نہیں رہ سکتا یا وہ بس بیٹھ کر اپنے مرنے والوں کا ماتم نہیں کرتے رہنا چاہتا اور نہیں ایسی وبائی تباہی سے پھر گزرنا چاہتا ہے- ہاں، انفیکشن والی بیماری جو انسانی تاریخ میں زیادہ تر وقت سے پہلے موت کا عظیم ترین سرچشمہ رہی ہے، ایک خطرہ بنی رہے گی-لیکن اب جبکہ وبائی جرثوموں کے حیوانی قصّے گردش میں ہیں، بدترین وبائیں قریب قریب ہر سال ہی پھوٹ رہی ہیں، اور 1918ء کے بعد محض سو سال بعد ہی ہم بہت بڑی تباہ کن وبا /پینڈیمک کا سامنا کررہے ہیں تو کیا ہم ایسے طریقے ایڈجسٹ کرسکتے ہیں جن کے زریعے ہم فطرت سے مناسبت پیدا کرسکیں اور ان وبائی بيماریوں سے ہماری جنگ بندی ہوجائے؟

Notes

 

↩ Max Roser, Hannah Ritchie, and Esteban Ortiz-Ospina, “Coronavirus Disease (COVID-19)—Statistics and Research,” Our World in Data, accessed March 22, 2020.
↩ Brian M. Rosenthal, Joseph Goldstein, and Michael Rothfeld, “Coronavirus in N.Y.: ‘Deluge’ of Cases Begins Hitting Hospitals,” New York Times, March 20, 2020.
↩ Hannah Rappleye, Andrew W. Lehren, Laura Stricklet, and Sarah Fitzpatrick, “’The System Is Doomed’: Doctors, Nurses, Sound off in NBC News Coronavirus Survey,” NBC News, March 20, 2020.
↩ Eliza Relman, “The Federal Government Outbid States on Critical Coronavirus Supplies After Trump Told Governors to Get Their Own Medical Equipment,” Business Insider, March 20, 2020; David Oliver, “Trump Announces U.S.-Mexico Border Closure to Stem Spread of Coronavirus,” USA Today, March 19, 2020.
↩ Neil M. Ferguson et al. on behalf of the Imperial College COVID-19 Response Team, “Impact of Non-Pharmaceutical Interventions (NPIs) to Reduce COVID-19 Mortality and Healthcare Demand,” March 16, 2020.
↩ Nassim Nicholas Taleb, The Black Swan (New York: Random House, 2007); Chen Shen, Nassim Nicholas Taleb, and Yaneer Bar-Yam, “Review of Ferguson et al. ‘Impact of Non-Pharmaceutical Interventions,’” New England Complex Systems Institute, March 17, 2020.
↩ NewTmrw, Twitter post, March 21, 2020.
↩ Rodrick Wallace, “Pandemic Firefighting vs. Pandemic Fire Prevention” (unpublished manuscript, March 20, 2020). Available upon request.
↩ Jonathan Allen, “Trump’s Not Worried About Coronavirus: But His Scientists Are,” NBC News, February 26, 2020; Deb Riechmann, “Trump Disbanded NSC Pandemic Unit That Experts Had Praised,” AP News, March 14, 2020.
↩ David E. Sanger, Eric Lipton, Eileen Sullivan, and Michael Crowley, “Before Virus Outbreak, a Cascade of Warnings Went Unheeded,” New York Times, March 19, 2020.
↩ Marisa Taylor, “Exclusive: U.S. Axed CDC Expert Job in China Months Before Virus Outbreak,” Reuters, March 22, 2020.
↩ Howard Waitzkin, ed., Health Care Under the Knife: Moving Beyond Capitalism for Our Health (New York: Monthly Review Press, 2018).
↩ Richard Lewontin and Richard Levins, “Let the Numbers Speak,” International Journal of Health Services 30, no. 4 (2000): 873–77.
↩ Owen Matthews, “Britain Drops Its Go-It-Alone Approach to Coronavirus,” Foreign Policy, March 17, 2020; Rob Wallace, “Pandemic Strike,” Uneven Earth, March 16, 2020; Isabel Frey, “‘Herd Immunity’ Is Epidemiological Neoliberalism,” Quarantimes, March 19, 2020.
↩ Adam Payne, “Spain Has Nationalized All of Its Private Hospitals as the Country Goes into Coronavirus Lockdown,” Business Insider, March 16, 2020.
↩ Jeva Lange, “Senegal Is Reportedly Turning Coronavirus Tests Around ‘within 4 Hours’ While Americans Might Wait a Week,” Yahoo News, March 12, 2020.
↩ Steph Sterling and Julie Margetta Morgan, New Rules for the 21st Century: Corporate Power, Public Power, and the Future of Prescription Drug Policy in the United States (New York: Roosevelt Institute, 2019).
↩ Jason Koebler, “Hospitals Need to Repair Ventilators: Manufacturers Are Making That Impossible,” Vice, March 18, 2020.
↩ Manli Wang et al., “Remdesivir and Chloroquine Effectively Inhibit the Recently Emerged Novel Coronavirus (2019-nCoV) In Vitro,” Cell Research 30 (2020): 269–71.
↩ “Autonomous Groups Are Mobilizing Mutual Aid Initiatives to Combat the Coronavirus,” It’s Going Down, March 20, 2020.
↩ Kristian G. Andersen, Andrew Rambaut, W. Ian Lipkin, Edward C. Holmes, and Robert F. Garry, “The Proximal Origin of SARS-CoV-2,” Nature Medicine (2020).
↩ Rob Wallace, “Notes on a Novel Coronavirus,” MR Online, January 29, 2020.
↩ Marius Gilbert et al., “Preparedness and Vulnerability of African Countries Against Importations of COVID-19: A Modelling Study,” Lancet 395, no. 10227 (2020): 871–77.
↩ Juanjuan Sun, “The Regulation of ‘Novel Food’ in China: The Tendency of Deregulation,” European Food and Feed Law Review 10, no. 6 (2015): 442–48.
↩ Emma G. E. Brooks, Scott I. Robertson, and Diana J. Bell, “The Conservation Impact of Commercial Wildlife Farming of Porcupines in Vietnam,” Biological Conservation 143, no. 11 (2010): 2808–14.
↩ Mindi Schneider, “Wasting the Rural: Meat, Manure, and the Politics of Agro-Industrialization in Contemporary China,” Geoforum 78 (2017): 89–97.
↩ Robert G. Wallace, Luke Bergmann, Lenny Hogerwerf, Marius Gilbert, “Are Influenzas in Southern China Byproducts of the Region’s Globalising Historical Present?,” in Influenza and Public Health: Learning from Past Pandemics, ed. Jennifer Gunn, Tamara Giles-Vernick, and Susan Craddock (London: Routledge, 2010); Alessandro Broglia and Christian Kapel, “Changing Dietary Habits in a Changing World: Emerging Drivers for the Transmission of Foodborne Parasitic Zoonoses,” Veterinary Parasitology 182, no. 1 (2011): 2–13.
↩ David Molyneux et al., “Zoonoses and Marginalised Infectious Diseases of Poverty: Where Do We Stand?,” Parasites & Vectors 4, no. 106 (2011).
↩ Stephen S. Morse et al., “Prediction and Prevention of the Next Pandemic Zoonosis,” Lancet 380, no. 9857 (2012): 1956–65; Rob Wallace, Big Farms Make Big Flu: Dispatches on Infectious Disease, Agribusiness, and the Nature of Science (New York: Monthly Review Press, 2016).
↩ Robert G. Wallace et al., “The Dawn of Structural One Health: A New Science Tracking Disease Emergence Along Circuits of Capital,” Social Science & Medicine 129 (2015): 68–77; Wallace, Big Farms Make Big Flu.
↩ Steven Cummins, Sarah Curtis, Ana V. Diez-Roux, and Sally Macintyre, “Understanding and Representing ‘Place’ in Health Research: A Relational Approach,” Social Science & Medicine 65, no. 9 (2007): 1825–38; Luke Bergmann and Mollie Holmberg, “Land in Motion,” Annals of the American Association of Geographer, 106, no. 4 (2016): 932–56; Luke Bergmann, “Towards Economic Geographies Beyond the Nature-Society Divide,” Geoforum 85 (2017): 324–35.
↩ Andrew K. Jorgenson, “Unequal Ecological Exchange and Environmental Degradation: A Theoretical Proposition and Cross-National Study of Deforestation, 1990–2000,” Rural Sociology 71, no. 4 (2006): 685–712; Becky Mansfield, Darla K. Munroe, and Kendra McSweeney, “Does Economic Growth Cause Environmental Recovery? Geographical Explanations of Forest Regrowth,” Geography Compass 4, no. 5 (2010): 416–27; Susanna B. Hecht, “Forests Lost and Found in Tropical Latin America: The Woodland ‘Green Revolution,’” Journal of Peasant Studies 41, no. 5 (2014): 877–909; Gustavo de L. T. Oliveira, “The Geopolitics of Brazilian Soybeans,” Journal of Peasant Studies 43, no. 2 (2016): 348–72.
↩ Mariano Turzi, “The Soybean Republic,” Yale Journal of International Affairs 6, no. 2 (2011); Rogério Haesbaert, El Mito de la Desterritorialización: Del ‘Fin de Los Territorios’ a la Multiterritorialidad (Mexico City: Siglo Veintiuno, 2011); Clara Craviotti, “Which Territorial Embeddedness? Territorial Relationships of Recently Internationalized Firms of the Soybean Chain,” Journal of Peasant Studies 43, no. 2 (2016): 331–47.
↩ Wendy Jepson, Christian Brannstrom, and Anthony Filippi, “Access Regimes and Regional Land Change in the Brazilian Cerrado, 1972–2002,” Annals of the Association of American Geographers 100, no. 1 (2010): 87–111; Patrick Meyfroidt et al., “Multiple Pathways of Commodity Crop Expansion in Tropical Forest Landscapes,” Environmental Research Letters 9, no 7 (2014); Oliveira, “The Geopolitics of Brazilian Soybeans”; Javier Godar, “Balancing Detail and Scale in Assessing Transparency to Improve the Governance of Agricultural Commodity Supply Chains,” Environmental Research Letters 11, no. 3 (2016).
↩ Rodrick Wallace et al., Clear-Cutting Disease Control: Capital-Led Deforestation, Public Health Austerity, and Vector-Borne Infection (Basel: Springer, 2018).
↩ Mike Davis, Planet of Slums (New York: Verso, 2016); Marcus Moench & Dipak Gyawali, Desakota: Reinterpreting the Urban-Rural Continuum (Kathmandu: Institute for Social and Environmental Transition, 2008); Hecht, “Forests Lost and Found in Tropical Latin America.”
↩ Ariel E. Lugo, “The Emerging Era of Novel Tropical Forests,” Biotropica 41, no. 5 (2009): 589–91.
↩ Robert G. Wallace and Rodrick Wallace, eds., Neoliberal Ebola: Modeling Disease Emergence from Finance to Forest and Farm (Basel: Springer, 2016); Wallace et al., Clear-Cutting Disease Control; Giorgos Kallis and Erik Swyngedouw, “Do Bees Produce Value? A Conversation Between an Ecological Economist and a Marxist Geographer,” Capitalism Nature Socialism 29, no. 3 (2018): 36–50.
↩ Robert G. Wallace et al., “Did Neoliberalizing West African Forests Produce a New Niche for Ebola?,” International Journal of Health Services 46, no. 1 (2016): 149–65.
↩ Wallace and Wallace, Neoliberal Ebola.
↩ . Júlio César Bicca-Marques and David Santos de Freitas, “The Role of Monkeys, Mosquitoes, and Humans in the Occurrence of a Yellow Fever Outbreak in a Fragmented Landscape in South Brazil: Protecting Howler Monkeys Is a Matter of Public Health,” Tropical Conservation Science 3, no. 1 (2010): 78–89; Júlio César Bicca-Marques et al., “Yellow Fever Threatens Atlantic Forest Primates,” Science Advances e-letter, May 25, 2017; Luciana Inés Oklander et al., “Genetic Structure in the Southernmost Populations of Black-and-Gold Howler Monkeys (Alouatta caraya) and Its Conservation Implications,” PLoS ONE 12, no. 10 (2017); Natália Coelho Couto de Azevedo Fernandes et al., “Outbreak of Yellow Fever Among Nonhuman Primates, Espirito Santo, Brazil, 2017,” Emerging Infectious Diseases 23, no. 12 (2017): 2038–41; Daiana Mir, “Phylodynamics of Yellow Fever Virus in the Americas: New Insights into the Origin of the 2017 Brazilian Outbreak,” Scientific Reports 7, no. 1 (2017).
↩ Mike Davis, The Monster at Our Door: The Global Threat of Avian Flu (New York: New Press, 2005); Jay P. Graham et al., “The Animal-Human Interface and Infectious Disease in Industrial Food Animal Production: Rethinking Biosecurity and Biocontainment,” Public Health Reports 123, no. 3 (2008): 282–99; Bryony A. Jones et al., “Zoonosis Emergence Linked to Agricultural Intensification and Environmental Change,” PNAS110, no. 21 (2013): 8399–404; Marco Liverani et al., “Understanding and Managing Zoonotic Risk in the New Livestock Industries,” Environmental Health Perspectives 121, no, 8 (2013); Anneke Engering, Lenny Hogerwerf, and Jan Slingenbergh, “Pathogen-Host-Environment Interplay and Disease Emergence,” Emerging Microbes and Infections 2, no. 1 (2013); World Livestock 2013: Changing Disease Landscapes (Rome: Food and Agriculture Organization of the United Nations, 2013).
↩ Robert V. Tauxe, “Emerging Foodborne Diseases: An Evolving Public Health Challenge,” Emerging Infectious Diseases 3, no. 4 (1997): 425–34; Wallace and Wallace, Neoliberal Ebola; Ellyn P. Marder et al., “Preliminary Incidence and Trends of Infections with Pathogens Transmitted Commonly Through Food—Foodborne Diseases Active Surveillance Network, 10 U.S. Sites, 2006–2017,” Morbidity and Mortality Weekly Report 67, no. 11 (2018): 324–28.
↩ Robert G. Wallace, “Breeding Influenza: The Political Virology of Offshore Farming,” Antipode 41, no. 5 (2009): 916–51; Robert G. Wallace et al., “Industrial Agricultural Environments,” in The Routledge Handbook of Biosecurity and Invasive Species, ed. Juliet Fall, Robert Francis, Martin A. Schlaepfer, and Kezia Barker (New York: Routledge, forthcoming).
↩ John H. Vandermeer, The Ecology of Agroecosystems (Sudbury, MA: Jones and Bartlett, 2011); Peter H. Thrall et al., “Evolution in Agriculture: The Application of Evolutionary Approaches to the Management of Biotic Interactions in Agro-Ecosystems,” Evolutionary Applications 4, no. 2 (2011): 200–15; R. Ford Denison, Darwinian Agriculture: How Understanding Evolution Can Improve Agriculture (Princeton: Princeton University Press, 2012); Marius Gilbert, Xiangming Xiao, and Timothy Paul Robinson, “Intensifying Poultry Production Systems and the Emergence of Avian Influenza in China: A ‘One Health/Ecohealth’ Epitome,” Archives of Public Health 75 (2017).
↩ Mohammad Houshmar et al., “Effects of Prebiotic, Protein Level, and Stocking Density on Performance, Immunity, and Stress Indicators of Broilers,” Poultry Science 91, no. 2 (2012): 393–401; A. V. S. Gomes et al., “Overcrowding Stress Decreases Macrophage Activity and Increases Salmonella Enteritidis Invasion in Broiler Chickens,” Avian Pathology 43, no. 1 (2014): 82–90; Peyman Yarahmadi , Hamed Kolangi Miandare, Sahel Fayaz, and Christopher Marlowe A. Caipang, “Increased Stocking Density Causes Changes in Expression of Selected Stress- and Immune-Related Genes, Humoral Innate Immune Parameters and Stress Responses of Rainbow Trout (Oncorhynchus mykiss),” Fish & Shellfish Immunology 48 (2016): 43–53; Wenjia Li et al., “Effect of Stocking Density and Alpha-Lipoic Acid on the Growth Performance, Physiological and Oxidative Stress and Immune Response of Broilers,” Asian-Australasian Journal of Animal Studies 32, no, 12 (2019).
↩ Virginia E. Pitzer et al., “High Turnover Drives Prolonged Persistence of Influenza in Managed Pig Herds,” Journal of the Royal Society Interface 13, no. 119 (2016); Richard K. Gast et al., “Frequency and Duration of Fecal Shedding of Salmonella Enteritidis by Experimentally Infected Laying Hens Housed in Enriched Colony Cages at Different Stocking Densities,” Frontiers in Veterinary Science (2017); Andres Diaz et al., “Multiple Genome Constellations of Similar and Distinct Influenza A Viruses Co-Circulate in Pigs During Epidemic Events,” Scientific Reports 7 (2017).
↩ Katherine E. Atkins et al., “Modelling Marek’s Disease Virus (MDV) Infection: Parameter Estimates for Mortality Rate and Infectiousness,” BMC Veterinary Research 7, no. 70 (2011); John Allen and Stephanie Lavau, “‘Just-in-Time’ Disease: Biosecurity, Poultry and Power,” Journal of Cultural Economy 8, no. 3 (2015): 342–60; Pitzer et al., “High Turnover Drives Prolonged Persistence of Influenza in Managed Pig Herds”; Mary A. Rogalski, “Human Drivers of Ecological and Evolutionary Dynamics in Emerging and Disappearing Infectious Disease Systems,” Philosophical Transactions of the Royal Society B 372, no. 1712 (2017).
↩ Wallace, “Breeding Influenza”; Katherine E. Atkins et al., “Vaccination and Reduced Cohort Duration Can Drive Virulence Evolution: Marek’s Disease Virus and Industrialized Agriculture,” Evolution 67, no. 3 (2013): 851–60; Adèle Mennerat, Mathias Stølen Ugelvik, Camilla Håkonsrud Jensen, and Arne Skorping, “Invest More and Die Faster: The Life History of a Parasite on Intensive Farms,” Evolutionary Applications10, no. 9 (2017): 890–96.
↩ Martha I. Nelson et al., “Spatial Dynamics of Human-Origin H1 Influenza A Virus in North American Swine,” PLoS Pathogens 7, no. 6 (2011); Trevon L. Fuller et al., “Predicting Hotspots for Influenza Virus Reassortment,” Emerging Infectious Diseases 19, no. 4 (2013): 581–88; Rodrick Wallace and Robert G. Wallace, “Blowback: New Formal Perspectives on Agriculturally-Driven Pathogen Evolution and Spread,” Epidemiology and Infection 143, no. 10 (2014): 2068–80; Ignacio Mena et al., “Origins of the 2009 H1N1 Influenza Pandemic in Swine in Mexico,” eLife 5 (2016); Martha I. Nelson et al., “Human-Origin Influenza A(H3N2) Reassortant Viruses in Swine, Southeast Mexico,” Emerging Infectious Diseases 25, no. 4 (2019): 691–700.
↩ Wallace, Big Farms Make Big Flu, 192–201.
↩ “Safer Food Saves Lives,” Centers for Disease Control and Prevention, November 3, 2015; Lena H. Sun, “Big and Deadly: Major Foodborne Outbreaks Spike Sharply,” Washington Post, November 3, 2015; Mike Stobbe, “CDC: More Food Poisoning Outbreaks Cross State Lines,” KSL, November 3, 2015.
↩ Sally Goldenberg, “Alicia Glen, Who Oversaw de Blasio’s Affordable Housing Plan and Embattled NYCHA, to Depart City Hall,” Politico, December 19, 2018.
↩ Gary A. Dymski, “Racial Exclusion and the Political Economy of the Subprime Crisis,” Historical Materialism 17 (2009): 149–79; Harold C. Barnett, “The Securitization of Mortgage Fraud,” Sociology of Crime, Law and Deviance 16 (2011): 65–84.
↩ Bob Ivry, Bradley Keoun, and Phil Kuntz, “Secret Fed Loans Gave Banks $13 Billion Undisclosed to Congress,” Bloomberg, November 21, 2011.
↩ Michael J. de la Merced and David Barboza, “Needing Pork, China Is to Buy a U.S. Supplier,” New York Times, May 29, 2013.
↩ “Goldman Sachs Pays US$300m for Poultry Farms,” South China Morning Post, August 4, 2008.
↩ “Goldman Sachs Invests in Chinese Pig Farming,” Pig Site, August 5, 2008.
↩ Katie Rogers, Lara Jakes, Ana Swanson, “Trump Defends Using ‘Chinese Virus’ Label, Ignoring Growing Criticism,” New York Times, March 18, 2020.
↩ Karl Marx, Capital: A Critique of Political Economy, vol. 3 (New York: Penguin, 1993), 362.
↩ Eric Lipton, Nicholas Fandos, Sharon LaFraniere, and Julian E. Barnes, “Stock Sales by Senator Richard Burr Ignite Political Uproar,” New York Times, March 20, 2020.
↩ Sharmin Mossavar-Rahmani et al., “ISG Insight: From Room to Grow to Room to Fall,” Goldman Sachs’ Investment Strategy Group.
↩ “Corona Crisis: Resistance in a Time of Pandemic,” Marx21, March 21, 2020; International Assembly of the Peoples and Tricontinental Institute for Social Research, “In Light of the Global Pandemic, Focus Attention on the People,” Tricontinental, March 21, 2020.
↩ Wallace et al., “The Dawn of Structural One Health.”
↩ Wallace et al., “Did Neoliberalizing West African Forests Produce a New Niche for Ebola?”; Wallace et al., Clear-Cutting Disease Control.
↩ Ernest Mandel, “Progressive Disalienation Through the Building of Socialist Society, or the Inevitable Alienation in Industrial Society?,” in The Marxist Theory of Alienation (New York: Pathfinder, 1970); Paolo Virno, A Grammar of the Multitude (Los Angeles: Semiotext(e), 2004); Del Weston, The Political Economy of Global Warming: The Terminal Crisis (London: Routledge, 2014); McKenzie Wark, General Intellects: Twenty-One Thinkers for the Twenty-First Century (New York: Verso, 2017); John Bellamy Foster, “Marx, Value, and Nature,” Monthly Review 70, no. 3 (July–August 2018): 122–36); Silvia Federici, Re-enchanting the World: Feminism and the Politics of the Commons (Oakland: PM, 2018).
↩ Butch Lee and Red Rover, Night-Vision: Illuminating War and Class on the Neo-Colonial Terrain (New York: Vagabond, 1993); Silvia Federici, Caliban and the Witch: Women, the Body and Primitive Accumulation(New York: Autonomedia, 2004); Anna Tsing, “Supply Chains and the Human Condition,” Rethinking Marxism 21, no. 2 (2009): 148–76; Glen Sean Coulthard, Red Skin, White Masks: Rejecting the Colonial Politics of Recognition (Minneapolis: University of Minnesota Press, 2014); Leandro Vergara-Camus, Land and Freedom: The MST, the Zapatistas and Peasant Alternatives to Neoliberalism (London: Zed, 2014); Jackie Wang, Carceral Capitalism (Los Angeles: Semiotext(e), 2018).
↩ Donna Haraway, “A Cyborg Manifesto: Science, Technology, and Socialist-Feminism in the Late Twentieth Century,” in Simians, Cyborgs and Women: The Reinvention of Nature (New York: Routledge, 1991); Keeanga-Yamahtta Taylor, ed., How We Get Free: Black Feminism and the Combahee River Collective (Chicago: Haymarket, 2017).
↩ Joseph Fracchia, “Organisms and Objectifications: A Historical-Materialist Inquiry into the ‘Human and the Animal,’” Monthly Review 68, no. 10 (March 2017): 1–17; Omar Felipe Giraldo, Political Ecology of Agriculture: Agroecology and Post-Development (Basel: Springer, 2019).
↩ Franco Berardi, The Soul at Work: From Alienation to Autonomy (Los Angeles: Semiotext(e), 2009); Maurizio Lazzarato, Signs and Machines: Capitalism and the Production of Subjectivity (Los Angeles: Semiotext(e), 2014); Wark, General Intellects.
↩ Rodrick Wallace, Alex Liebman, Luke Bergmann, and Robert G. Wallace, “Agribusiness vs. Public Health: Disease Control in Resource-Asymmetric Conflict,” submitted for publication, 2020, available at https://hal.archives-ouvertes.fr.
↩ Robert G. Wallace, Kenichi Okamoto, and Alex Liebman, “Earth, the Alien Planet,” in Between Catastrophe and Revolution: Essays in Honor of Mike Davis, ed. Daniel Bertrand Monk and Michael Sorkin (New York: UR, forthcoming).
↩ Wallace et al., Clear-Cutting Disease Control.
↩ Wallace et al., “Industrial Agricultural Environments.”
FacebookTwitterPrintFriendlyRedditEmailShare
2020, Volume 72, Issue 01 (May 2020)
Connect
Subscribe to the Monthly Review e-newsletter (max of 1-3 per month).

E-mail

Coronavirus

April 2020 (Volume 71, Number 11)
Also in this issue
Subjects
Ecology
History
Imperialism
Inequality
Marxism
Media
Movements
Political Economy
New from Monthly Review Press!
The Robbery of Nature: Capitalism and the Ecological Rift
Radical Seattle: The General Strike of 1919
How the World Works: The Story of Human Labor from Prehistory to the Modern Day
Monthly Review | Tel: 212-691-2555
134 W 29th St Rm 706, New York, NY 10001

© 2020 MONTHLY REVIEW FOUNDATION ALL RIGHTS RESERVED

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *