کرونا وباء پر انٹرنیشنل سوشلسٹ ٹینڈنسی کا موقف

انٹرنیشنل سوشلسٹ ٹینڈنسی

کورونا وباء پر جاری کردہ بیان

http://internationalsocialists.org

مترجم: تنویر حسین
کووڈ – 19 کورونا وائرس وبائی مرض کو عام طور پر ایک ”قدرتی آفت” کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ یہ وبا ایک بیرنی معمولی  جھٹکا ہے جس سے نظام کو کوئی خطرہ نہیں۔ یہ سفید جھوٹ ہے اس وباء نے سرمایہ دارانہ نظام کی فعلیت پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہےاوراس نظام کی قلعی کھول کے رکھ دی ہے۔ ہماری دنیا میں مختلف ناول کورونا وائرس اور انفلوئنزا پھیل چکے ہیں جیسے سارس،مرس،ایچ5 این1۔وبائی امراض کے ماہرین متنبہ کر رہے ہیں کہ سرمایہ داری نے ایسے حالات پیدا کر دیئے ہیں جسکی وجہ سے ان وباؤں کا پھوٹنا معمول کی بات بن جائے گی۔ مارکسی ماہرحیاتیات روب والیس کے مطابق بے تحاشہ فیکٹری فارمنگ جہاں جانوروں کو غیر فطری انداز میں رکھا جاتا ہے۔ اور عموما یہ فیکٹری فارمنگ شہر سے دور کے علاقوں میں کی جاتی ہے جہاں جنگلی جانوروں کی خریدوفروخت بھی کی جاتی ہے ایسے میں مارکیٹ اورمنافع کی بڑھوتری کے عمل میں نئے وائرس جانوروں سے انسانوں میں پھیل سکتے ہیں۔ اور یوں عالمی وباء کی صورت اختیار کر لینے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔یہ مارکس کے ”معاشرتی میٹابولیزم اور قدرتی میٹابولیزم کے درمیان ناقابل تلافی دراڑ” کے فلسفے کی اچھی مثال ہے جوکہ سرمایہ دارانہ نظام پیدا کرتا ہے۔ سماجی ضروریات پوری کرنے کے لیے غیر فطری طریقے یعنی سرمایہ دارانہ بنیادوں پرجب زرعی عمل کیا جاتا ہے تو فطرت میں موجود توازن بری طرح مفلوج ہو کر رہ جاتا ہےجس سے نا قابل تلافی نقصان ہوتا ہے۔ فطری توازن میں بڑے پیمانے پر بگاڑ کے نتیجے میں موسمیاتی تبدیلیاں بھی جنم لیتی ہیں۔ چونکہ سرمایہ دارانہ نظام غیر فطری بنیادوں پر استوار ہے لہذا  کرونا وائرس کی وباء خالصتاً ایک سرمایہ دارانہ وباء ہے۔ اگر اس کے تدارک اور روک تھام کی حقیقی کوشش نہ کی گئی تو امپیریل کالج لندن کے مطابق یہ وبا 40 ملین لوگوں کی جان لے لے گی۔(امپیریل کالج لندن کی جانب سے جاری کردہ پیش گوئی کے مطابق)۔

دنیا بھر میں تمام حکومتیں اس وباء سے لوگوں کو بچانے اور معیشت کو چلانے کے بیچ ڈگمگا رہی ہیں۔ ان کو انسانی جانوں سے زیادہ سرمایہ دار طبقہ کے منافع کی فکر لاحق ہے۔ یوں یہ معیشیت کو انسانی جانوں پر فوقیت دیتے ہوئے”ہرڈ ایمیونیٹی”کے مفروضے کہ پیش نظر حکمت عملی ترتیب دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ نیدرلینڈ اور سویڈن میں اس حکمت عملی پر عمل بھی کیا جارہا ہے۔ دراصل”ہرڈ ایمیونیٹی” کے مفروضے پر عمل پیرا ہونا انسانی جانوں سے جوا کھیلنے کے مترادف ہے۔ اس طرح کروڑوں لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کی سازش رچی جا رہی ہے۔ کیونکہ سرمایہ دارانہ نظام کی بنیاد منافع پر ہے نہ کہ انسانیت کی فلاح پر۔ صحیح وقت پر صحیح حکمت عملی اختیار نہ کرنے کی وجہ سے بہت سے ایشیائی ممالک کو علاج و معالجے میں ناکامی کا سامنا ہے جسکی قیمت ہزاروں لوگوں کو اپنی جانیں دے کر چکانی پڑ رہی ہے۔ان میں وہ ہیلتھ کیئر ورکرز بھی شامل ہیں جو اسپتالوں میں اس وباء کے خلاف جنگ میں مصروف عمل ہیں۔ریاستوں کو اس وبائی صورتحال میں بھی اپنے منافع کی پڑی ہے۔جدید سرمایہ دارانہ معیشت میں نیولبرل کفایت شعاری سے مراد ریاستی سطح  پر کم  سے کم ایمرجنسی پلاننگ اور ہیلتھ کیئر سسٹم پر انتہائی کم خرچ کرنا ہے۔

کرونا کی وباء ایک بڑے معاشی بحران کا بھی سبب بن رہی ہے جو شاید 9۔ 2008 میں آنے والے معاشی بحران سے بڑا ہوسکتا ہے۔ یہ معاشی بحران کوئی فطری بات نہیں ہے بلکہ یہ اس معاشی نظام کی عکاسی کرتا ہے جو منافع کی منطق پر چلتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام میں بحران کا مطلب ہے سرمایہ داروں کا منافع کم ہو جانا۔لاک ڈاون سے ناگزیر طور پر پیداوار میں خلل پڑتا ہے۔ سال کے آغاز میں ہی چینی معیشت نے عالمی سطح پر اپنی سپلائی چین بند کردی ہے اور کرونا وباء کے پھیلنے پر پوری دنیا بند ہو رہی ہے۔ لیکن دنیا کے مختلف معاشروں میں یہ وباء بڑھتی ہوئی بے روزگاری کی وجہ نہیں۔ اس وبا کی وجہ سے معاشی منڈیوں کے حوالے سے سرمایہ داروں کا خوف عالمی بحران کی طرف اشارہ کرتا ہے جو کہ پچھلے دس بروسوں میں اور زیادہ بڑھا ہے۔ جس کا ثبوت  سنٹرل بینک میں گرتی روپے کی قیمت اور قرضوں کی بڑھتی رقم ہے۔تیل کی قیمتوں کے بارے میں روس اور سعودی عرب کے درمیان چھڑی جنگ نے حالت اور بھی خستہ بنا رکھی ہے۔اسی طرح کا بحران ہمیں 09-2008میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ڈالر کے علاوہ تمام کرنسی ریٹ گرنے سے اثاثوں کی قیمتیں بھی گر گئیں۔ اس بحران میں ریاستوں نے آگے بڑھ کر بے شمار طریقوں سے ڈوبتے مالیاتی نظام کو سہارا دیااور خاص کر بڑی کارپوریشنز کو بیل آؤٹ بیکجز دئیے۔ اس کے علاوہ نکالے گئے ورکرز کی بھی انکم سپورٹ کی گئی مگر بڑے پیمانے پر موجود انفارمل ورکرز اور مہاجرین کے لئیے کسی قسم کے مالی معاونت کے اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔اس انکم سپورٹ سسٹم کو پرمننٹ ورکرز تک محدود رکھا گیا جبکہ کنٹریکٹ ورکز کی مالی معاونت نہیں کی گئی۔ یوں اٹھائے گئے اقدامات میں ترجیح سرمایہ داروں کے منافع کو دی گئی نہ کہ محنت کش طبقے کے لوگوں کی زندگی اور معاش کو۔

حکومتیں وبائی امراض کے دوران جنگی انداز میں بیان بازی کرتی ہیں اور اپیل کرتی ہیں کہ قومی مفاد کو مدنظر رکھا جائے۔ لیکن بحران کا سارا بوجھ محنت کش طبقہ کی کمر پر لادھ دیا جاتا ہے۔ ہیلتھ کئیر ورکرز کو حفاظتی کٹس، پرسنل پروٹیکٹو ایکوئپمنٹ (پی پی ای) دیئے بغیر اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اگرچہ ورکرز کے کچھ گروہ گھر سے آن لائن کام کرلیتے ہیں مگر خاص طور پر دیہاڑی دار مزدوروں کی بڑی تعداد کام کرنے پر مجبور ہو رہی ہے۔ یہ ایسے حالات میں کام کرتے ہیں جہاں عام طور پر معاشرتی فاصلے پر عمل کرنا ناممکن ہے جیسے فیکٹریوں، سپر مارکیٹوں، فارمیسیوں اور گوداموں میں کام کرنے والے محنت کش۔انفارمل سیکٹر کے مزدور جن کی تعداد شہری آبادیوں میں زیادہ ہے، لاک ڈاون سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور یوں فوری طور پر  ان کی آمدنی رک جاتی ہے جس سے ان میں نا امیدی کا احساس بڑھ جاتا ہے۔ ایشیائی ترقی پزیر ممالک میں دوسرے چھوٹے قصبوں سے آئے ہوئے مزدوروں میں یہ دیکھا جا سکتا ہے۔ کرونا وباء نے اس امر پر ایک پختہ مہر ثبت کر دی ہے کہ اکیسویں صدی کی ”گلوبلائزڈ کیپٹلزم”محنت کش طبقہ کے کندھوں پر کھڑی ہے اور اس محنت کش طبقے کو مزید کرونا جیسے نئے خطرات کا سامنا ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام اپنے دفاع میں پہلے سے آزمودہ آئیڈیالوجیکل میکنزم ”تقسم کرو اور حکومت کرو”پر عمل پیرا ہے۔ ٹرمپ مسلسل کرونا وائرس کو”چینی وائرس” کہتا ہے یوں مشرقی ایشیاء کے لوگوں پر نسل پرستانہ حملوں اور توہین آمیز راویوں کے متعدد واقعات کو جیسے قانونی حیثیت حاصل ہو گئی ہو۔ تارکین وطن اور پناہ گزین جو کہ خاص طور پر کمزور ہیں ترکی اور یونان کے درمیان سرحدی علاقے میں انہیں خوفناک مناظر کا سامنا ہے۔دنیا بھر میں ریاستیں مصروف ہیں خود کو مسلحہ کرنے اور شخصی آزادیاں چھیننے کی پالیسیاں بنانے میں تاکہ جیسے ہی یا بحران ختم ہو وہ مخالفین کو کچل سکیں۔امریکہ اور چین کا ایک دوسرے پر الزام لگانے کا کھیل اور یورپی یونین کا غیر فعال ہونا بین الاقوامی سامراجی رقابت کو مزید گہرا کرے گا۔

دوسرے الفاظ میں کہا جائے توکورونا وائرس کا بحران سرمایہ دارانہ نظام کی ہی پیداوار ہے۔ اس طرح کے بحران سرمایہ جمع کرنے کی مختلف حالتوں سے پیدا ہوتے ہیں سرمایہ دارانہ ریاسیں عوامی فلاح پر خرچ کرنے کہ بجائے سرمایہ داروں کے منافع کو فوقیت دیتی ہیں۔ یوں اس کے نتائج میں طبقاتی کشمکش جنم لیتی ہے جو سرمایہ دارانہ معاشرے کی تشکیل کرتی ہے۔لیکن بدقسمتی سے نام نہاد لیفٹ کے رہنما اور سیاسی کارکنان بھی حکومتی نیشنل یونیٹی کے نعرے کا پرچار کرتے نظرآتے ہیں۔سوشل ڈیموکریٹک سیاست دان اور ٹریڈ یونین رہنماؤں نے بڑے پیمانے پر سرکاری پالیسی کی حمایت کی ہے اور معیشت کو فروغ دینے کے اقدامات کا خیرمقدم کیا ہے۔ حالانکہ یہ پالیساں منافع کے دفاع کے لئے بنائی گئی ہیں نہ کہ انسانیت کے لئیے۔ لیکن حکومتی مؤقف کے غیر متحرک اثرات کے باوجود مزدوروں کے مختلف گروہوں نے ان حکومتی پالیسیوں کے برعکس اقدامات اٹھائے  خاص طور پر فرانس، اٹلی اور امریکہ میں، غیر ضروری کام کی جگہوں کو بند کرنے پر حکومتوں کو مجبور کیا ہے اورجہاں کام جاری رکھا گیا وہاں بھی ورکرز کی جانب سے حفاظتی سامان مہیا کرنیکا مطالبہ کیا گیا۔ محنت کش طبقے کے اس بنیادی ردعمل کو وسیع پیمانے پر پھیلانےاور منظم کرنے کی ضرورت ہےیوں محنت کش طبقہ کی جدوجہد ہی وہ محور ہے جو نئے سماج کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔

اس پروگرام میں محنت کشوں کے مطالبات کچھ یوں ہونے چاہییں:

ریاستوں کو ہیلتھ کئیر سسٹم کے بجٹ میں اضافہ کرنا چاہئیے مریضوں کی دیکھ بھال کرنے والے ہیلتھ کئیر ورکرز کے لئیے حفاظتی سامان کی فراہمی کو    یقینی بنایا جائے اور لوگوں کے لئیے بنیادی ضروریات کی فراہمی کا بندوست کیا جائے۔

عوام سے لئیے گئے ٹیکس کے پیسوں کو مناسب طریقے سے استعمال کرتے ہوئے ہیلتھ کیئر کی مستقل مفت فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

فوجی اخراجات میں فوری طور پر کمی کی جائے اور ان پیسوں کو عوامی صحت پر خرچ کرنے کے لئیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جائیں۔وہ تمام ورکرز جن کے لئیے واقعی کام پر جانا ضروری ہو تا کہ عوامی فلاح وبہبود کے کام متاثر نہ ہوں ان کے سفر کرنے اور کام کی جگہ پر ان کی حفاظت کے لئیے اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔

اور وہ تمام ورکرز جو گھروں سے آن لائن کام نہیں کر سکتے ان کی اجرت کے اجراء کو یقینی بنایا جائے۔

ضرورت مندوں کی ریاستی سطح پر مالی معاونت کی جائے اور اس مقصد کے لئیے مقامی عوامی نمائندوں سے مدد لی جائے تاکہ خوراک، ادویات اور دیگر ضروریات کی مناسب تقسیم کو یقینی بنایاجا سکے۔

منافع بخش کاروبار میں مصروف تمام فرموں کو معاوضہ دیئے بغیر قومی تحویل میں لیا جائے۔

نسل پرستانہ خیالات کی ترویج کا سلسلہ فوراً ترک کیا جائے، تارکین وطن کے مراکز بند کر کے ان کو گھر فراہم کئیے جائیں تا کہ وہ کرونا وباء سے خود کو محفوظ رکھنے کے لئیے خود ساختہ تنہائی اختیار کر سکیں۔ پرتگال کی مثال پر مزید بہتری کے ساتھ عمل کرتے ہوئے مہاجرین اور تارکین وطن کو رہنے کا حق دیا جائے۔

سول آزادیوں کا دفاع یقینی بنایا جائے اور پولیس کو اضافی اختیارات نہ دیئے جائیں۔

کرونا وبا نے سرمایہ دارانہ نظام کی فعالیت کی حدود کو بے نقاب کر دیا ہے کہ کس طرح یہ نظام سرمایہ کے تحفظ کے آگے انسانی جانوں کو قربان کرتا ہے۔ دائیں بازو کی حکومتیں جیسے ٹرمپ، مرکل، اور جانسن  نیو لبرل ازم کے تحت ریاست کے لئے ممنوع ڈومینز کے خلاف جانے پرمجبور ہوچکی ہیں۔ ان ریاستوں نے صحت کی ہنگامی صورتحال میں درکار سامان کی فراہمی کے لئے صنعتی پیداوار کا خود ہی آغاز کردیا ہے۔ ان ریاستوں کی یہ پالیسیاں ظاہر کرتی ہیں کہ نیو لبرل سرمایہ داری کی غالب شکل کا کوئی متبادل موجود ہے۔ کرونا وباء نے آتے ہی فوری طور پر سرمایہ دارانہ نظام کو بے نقاب کر دیا کہ یہ نظام کس طرح فطرت(نیچر) کو تباہ کر رہا ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ وبا اس بات کا اظہار ہے کہ حقیقی سوشلزم ضروری اور ممکن ہے جہاں محنت کش طبقہ جمہوری طور پر دنیا کا کنٹرول حاصل کر لے گا اور پیداوار برائے منافع کے بجائے پیداوار برائے انسانی ضرورت کی بنیادوں پر سماج تشکیل پائے گا۔ اس وباء کے بعد اب ہماری منزل سوشلزم ہونی چاہئے کیونکہ سرمایہ داری مزید وباؤں کو جنم دے گی۔ وبائی بیماری ایک خوفناک واقعہ ہے جو سرمایہ داری کی اصل تباہ کن طاقت کا ثبوت دیتا ہے۔لیکن لیفٹ کی طرف سے ایک طاقتور سیاسی ردعمل نئے سماج کی بنیاد رکھ سکتا ہے، جہاں انسانیت کا مستقبل ہے۔

The Coordination of the International Socialist Tendency

01.04.2020

  1. See, for example, Rob Wallace, Alex Liebman, Luiz Fernando Chaves, and Roderick Wallace,“Covid-19 and the Circuits of Capital”, Monthly Review (27 March 2020) https://monthlyreview.org/2020/03/27/covid-19-and-circuits-of-capital/?mc_cid=a45d929946&mc_eid=987128174a, Rob Wallace,“Coronavirus:‘Agribusiness would Risk Millions of Deaths’”(11 March 2020) https://www.marx21.de/coronavirus-agribusiness-would-risk-millions-of-deaths/ and Joseph Choonara,“Socialism in a Time of Pandemics”, International Socialism 166 (Spring 2020), http://isj.org.uk/socialism-in-a-time-of-pandemics/

 

پاکستان میں انقلابی سوشلسٹ پاکستان کی طرف سے جاری ہوا

۴،  اپریل ،  ۰۲۰۲

Download This in PDF Format: IST-Corona-Statement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *