تصویر، وزیر اور ڈاکٹر

تصویر، وزیر اور ڈاکٹر

ڈاکٹر عزیر سرویا

یہ تصویر ہر اُس چیز کی عکاس ہے جو ہمارے ملک میں اس وقت غلط ہو رہی ہے۔

 

اوپر سے دائیں جانب گجرانوالہ کے ڈی سی کو این 95 ماسک پہنے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ جن کو اصل میں اس ماسک کی ضرورت ہے وہ سرجیکل ماسک پہنے کھڑے ہیں۔ درمیان میں یہی کیفیت زرتاج گل صاحبہ کی ہے (ان کی ملازمہ نے بھی یہی این 95 ماسک پہن رکھا ہے)۔ اور بائیں جانب بزدار صاحب اس ماسک کو برباد کرتے دیکھے جا سکتے ہیں (اندر کے حصے پر ہاتھ لگا دیے تو ماسک اسٹیریلائز نہیں رہا پھر)۔

نچلے فریم میں میرا دوست ڈاکٹر عبید ہے۔ یہ بارہ بارہ چوبیس چوبیس گھنٹے کی بچہ وارڈ میں ایمرجنسی ڈیوٹیاں کر کے باقی وقت میں چندہ اکٹھا کر کے خود حفاظتی کِٹس اسیمبل کر کے ڈاکٹروں کو دینے میں مصروف رہتا ہے۔

میں اپنے وارڈ کے لیے سرجیکل ماسک کافی دن سے ڈھونڈ رہا ہوں (کیونکہ ہسپتال انتظامیہ کی طرف سے مکمل عدم تعاون کے بعد پلے سے خریدنے کے علاوہ چارہ نہیں تھا)۔ جو سرجیکل ماسک 50 یا سو روپے کا پورا ڈبہ ملتا تھا اب وہ آٹھ سو سے ہزار تک مل رہا ہے اور اس میں بھی لوگ فراڈ کر رہے ہیں۔ این 95 بلیک میں پندرہ سو کا ایک پِیس مل رہا ہے۔ یاد رہے کہ ماسک ورلڈ ہیلتھ آرگنائیزیشن کی گائیڈلائن کے مطابق بس ایک دفعہ استعمال کے لیے ہوتا ہے (مگر ہم جُگاڑ کر کر کے بار بار استعمال میں لانے پر مجبور ہیں)۔ اور یہ ابھی صرف ماسک کی بات کی ہے، ہیڈ کوور، گلووز، جسم ڈھانپنے والا سُوٹ سب اس کے علاوہ ہے۔

ہم اس ملک میں “مسیحا” ہیں جہاں چائنا اور دیگر ممالک کے چندے سے آئے حفاظتی سامان کا اب تک کوئی اتا پتا نہیں ہے۔ کل تک ہم قصائی اور پتا نہیں کیا کچھ تھے، اب راتوں رات سیلوٹ اور گانے چلنے لگے ہیں ہماری شان میں۔ شہداء پیکج اور ڈبل تنخواہ کی باتیں بھی سُن رہے ہیں۔

بھائی آپ کی بڑی مہربانی، ہمیں سیلوٹ یا گانے اور چار دن کی جعلی عزت نہیں چاہیے۔ حفاظتی کِٹس کے مطالبے پر جب سیلوٹ اور گانے ملیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ شہادت کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ آپ ڈبل تنخواہ اور شہداء پیکج بھی رہنے دیں، جو پیسے مرنے کے بعد دینے ہیں زحمت فرما کر وہ زندگی ہی میں حفاظتی سامان پر لگا کر ہمیں مہیا کر دیں!

اگر خود کرنے سے بے بس ہیں تو کم از کم مارکیٹ میں ان چیزوں کا ریٹ ہی ریگولیٹ کر دیں۔ چلیں ہم اپنے پلے سے خریدنے کے قابل تو ہو جائیں۔ جس ریٹ پر آپ نے ہمیں بے سروسامان محاذ پر چھوڑ دیا ہے اس میں ہمیں اندازہ لگانا مشکل ہو رہا ہے کہ ہماری معاشی موت پہلے واقع ہو گی یا وبائی/طبعی موت ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *