کرونا جیسے بحران طبقاتی جنگ سے ہی ختم ہو سکتے ہیں!

!کرونا جیسے بحران طبقاتی جنگ سے ہی ختم ہو سکتے ہیں

تحریر: ریاض احمد

ہر بحران کی طرح کرونا وائرس کے بحران نے سرمایہ داری کا اصل چہرہ بے نقاب کیا ہے۔اربوں افراد لاک ڈاؤن میں بند ہیں لیکن چند درجن سرمایہ دار ہر ملک میں ریاست کے وسائل اپنے لیے بانٹنے میں مگن ہیں۔ ان کی جانب سے سیاسی لیڈران جوکروں کی طرح عوام کو کرتب دکھا کر یا شکست خوردہ کی طرح دعاؤں پر گزارا کرنے میں مگن رکھ رہے ہیں۔ امریکہ ہو یا یورپ، انڈیا ہو یا پاکستان، روس ہو یا چین، ترقی یافتہ ہو یا ترقی پزیر ہر ملک میں کورونا سرما ئے کی عالمگیریت پھیلا کر، ایک بحران پیدا کر کے، اس بحران میں مزدور طبقہ اور غریب عوام کو بھینٹ چڑھا کر اپنے منافعوں اپنی دولتوں کو بڑھائے جانا چاہتا ہے۔ سرمایہ داروں کے لیے ہر بحران ایک موقع ہے اور دنیا بھر کے مزدور طبقہ کے لیے یہی وہ موقع ہے کہ اپنے اتحاد اور اپنی تحریک سے سرمایہ داری کا چہرہ بے نقاب کر کے اصلاح پسند سیاست کو کرونا کے ساتھ غرق کر دیں۔
وباؤں سے تو انسانیت روز مرتی ہے۔دس سال قبل ۹۰۰۲ میں ایچ ون این ون نے چھ لاکھ کے قریب لوگوں کوپوری دنیا میں مار ڈالا، یہ صرف نو دن میں پھیلی۔ امریکہ میں اسی سال دو کروڑ افراد بیمار ہوئے ان میں سے ایک لاکھ اسی ہزار ہسپتال آئے اور دس ہزار کی موت واقع ہوئی۔ ۱۲ ویں صدی میں بڑی فلو کی وبائیں عام ہوتی جا رہی ہیں۔ ہم ایسی دنیا میں رہتے ہیں جہاں وباؤں کا راج ہوتا جا رہا ہے۔
سرمایہ داروں کے لیے کرونا خوفناک نہیں، یہ تو بہت معمولی بیماری پر کروڑوں خرچ کر سکتے ہیں۔ ان کے لیے خطرہ ان کے منافعوں میں کمی ہے۔ ہمارے لیے مسئلہ ہماری زندگیوں کا ہے۔ اور یہی فرق کہ سرمایہ داروں کو اپنی دولت کی پڑی ہے اور ہمیں اپنے جانوں کی فکر، زندگی کے ہر پہلو میں آج باربار ابھر کر سامنے آتا ہے۔ مالکان چاہتے ہیں کہ ہم کام کریں جبکہ ہمیں پتہ ہے کہ کام کی جگہ پر بیماری ہے۔ کیا ارب پتی مالکان آپ کی تنخواہ بند نہیں کر رہے؟ کیا مالک مکان کرایہ ادا نہ کرنے پر بے دخل نہیں کردیں گے؟ اور طبقاتی لڑائی یہیں نہیں رک جاتی۔ جبکہ سماج بھر میں نظر یہی آتا ہے کہ یہ تھم گئی ہے۔ہمارا کام یہ ہونا چاہئیے کہ سرمایہ داری کے تضادات سامنے لائیں، کرونا سے لڑائی میں مرکز عوام الناس پر خرچ کرنے کو بناتیں، نہ کہ سیلانی اور ایدھی کو جیسا کہ سندھ اور دیگر حکومتیں کرتی جا رہی ہیں۔کیونکہ خیرات کافی نہیں ہوتی۔ اگر کوئی طبقاتی لڑائی نہیں ابھرے گی تو یہ حکومت اور امیروں کو اپنی ذمہ داری سے خلاص کر دے گی۔ اور بدترین یہ ہو گا کہ لیفٹ کو سرمایہ داری طرح طرح سے اپنے اندر سمو لیں گے۔ اس لیے ہماری مانگ یہ ہونی چاہیے کہ ضروریات زندگی، ادویات، علاج معالجہ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ کرونا وائرس سماج میں تقسیم کو گہرا کرے گا، ہماری کوشش ہونی چاہئیے کہ سماج میں حقیقی تبدیلی کی مانگ کریں، اس تقسیم پر پردہ نہ ڈالیں۔
لاہور کے کامریڈ شہزاد ارشدنے موجودہ صورتحال کو یوں بیان کیا ہے: ” میڈیا پر بیٹھے ہوئے اشرافیہ کے چمچے یہ بتا رہے ہیں کہ حکومت کچھ نہیں کرسکتی اور عوام کو اپنی مدد آپ کے تحت اس وباء کا مقابلہ کرنا ہوگا اس لیے ڈیلی ویجرز کے لیے صرف اپیلیں ہی کی جارہی ہیں لیکن”قومی معیشت“ بہت لازمی ہے اور اسے ہر صورت میں بچانا ہوگا اور اسی وجہ سے سرمایہ دار طبقہ ریلیف(لوٹ کھسوٹ)کے لیے منہ کھولے کھڑا ہے۔لیکن یہ صرف پاکستان میں ہی نہیں ہے ہر طرف ہے جہاں سرمایہ کے لیے ریلیف کے مقابلہ میں محنت کشوں کے ساتھ مذاق کیا جارہاہے۔اس بحران نے واضح کردیا ہے کہ یہ نظام محنت کشوں اور مظلوم اقوام کے لیے موت کا ایک شکنجہ ہے۔پھر چاہیے وہ بلوچ ہو یا ایرانی قوم ان پر پابندیاں اور جنگ جاری ہے۔لیکن سب سے زیادہ اہم یہ سرمایہ دارانہ نظام کی سامراجی بالادستی کو واضح کرتا ہے کہ کیسے کچھ ممالک اس پوزیشن میں ہیں کہ وہ پابندیاں لگا کر دوسروں کو مار سکتے ہیں اسی طرح کچھ ممالک جب انسان کی زندگی پر بھی سوال ہے مگر وہ پھر بھی قرض پر سود کی ادائیگی پر مجبور ہیں اور یہ سود خون میں لتھرا ہوا ہے جس سے سامراجی نظام اور اس کے منافع برقرار ہیں۔“
گلگت کے کامریڈاحسان علی کہتے ہی کہ ریاست آئی ایم ایف سے بھیک مانگنے کے بجائے قرضے دینے سے ہی انکار کر دے:” الیکشن سے پہلے غریب ملکوں کو قرضوں کی جال میں پھنسا کر غربت کی دلدل میں دھکیلنے والے عالمی مالیاتی اداروں کی پالیسیز پہ تنقید کرنے والا عمران خان آج اقتدار میں آکر انہی سامراجی اداروں سے قرضہ معافی کی بھیک مانگ رہا ھے جرات اظہار،آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جرات سے بات کرنے والا اور بھرپور قوت فیصلہ رکھنے والا یہ سابق کپتان آج نہ صرف آئی ایم ایف بلکہ اندرونی طور پہ ملکی شوگر،گندم،پاور کمپنیز، ہاوسنگ، آئیل، ٹیکسٹائل، ایکسپورٹرز امپورٹرز لینڈ اور دوسرے متعدد مافیاز کے آگے بھیگی بلی بنا ھوا ھے نیز خود پی ٹی آئی کے اندر موجود مافیاز کے آگے بھی یرغمال ھے اور سب سے اہم بات یہ کہ یہ سابق کپتان سرمایہ دارانہ سوچ اور رجعت پسند فکر کا غلام ھے عمران خان اور اسکے دیگر کھلاڑی جس فکری پسماندگی کے دلدل میں پھنسے ھوئے ہیں اس کے ھوتے ھوئے یہ پاکستانی حکمران کبھی بھی ملکی عوام کے مفاد کو سامنے رکھ کر آزادانہ فیصلے کرتے ھوئے سامراجی اداروں کی قرضوں سے انکار نہیں کر سکتے بلکہ سابقہ فوجی و سویلین حکمرانوں کی طرح سامراج کی چوکھٹ پہ بھیک مانگتے رہیں گے اور سرمایہ سے جڑے ملکی مافیاز کے آگے بلیک میل ھوتے رہیں گے۔عالمی سرمایے کی بالادستی اور سرمایے سے جڑے ملکی مافیاز کے انسان دشمن نظام کو مسترد کرکے انسانوں کو عالمی سرمایے کی غلامی بدترین استحصال سے آزاد کرنے والی سوشلزم کی انسان دوست نظریے کو اپنا کر ہی موجودہ سنگین بحران سے ملک کو نکالا جا سکتا ھے۔دوسرا درمیان کا کوئی راستہ نہیں۔“
ؓبرنی سینڈرزکہتے ہیں کہ”امریکی کانگریس کو چاہئیے کہ وہ امریکی مزدور طبقہ کی اجرتوں کی سو فیصد ضمانت دے اور مالکان کو مجبور کرے کہ وہ ملازمین کو برطرف نہ کریں۔ ہمیں وال اسسٹریٹ کے بنکاروں اور دیوقامت کارپوریشنوں کے مالک سرمایہ داروں کو ٹیکس میں چھوٹ اور مکمل بیل آؤٹ دینے کی قطعا ضرورت نہیں۔“
کامریڈ تنویر حسین کہتے ہیں کہ ”: شہباز شریف عوام کی محبت میں نہیں بلکہ حکمران طبقہ کو ایک کرنے کے لئیے پہنچا ہے۔ اگر یہ سب ایک ہو گئے تو عوام کو ریلیف نہیں مل سکے گا۔ لاک ڈان کی صورت میں لوگوں کو گھروں میں کھانا پہنچایا جائے ہمارا مطالبہ ہونا چاہئیے۔ “
میرا ماننا یہ ہے کہ ٹیکسٹائل،میڈیا،فارما، بڑے سرمایہ دار حتہ کہ نجی یونیورسٹیوں کے اربوں پتی مالکان ہی کرونا بچاؤ پر خرچ کرنے سے ریاست کو روک رہے ہیں۔ ان لالچیوں کو روکنا ضروری ہے۔یہ سب کہتے ہیں کہ ہمیں اربوں روپے فراہم کرو ورنہ ہم اپنے مزدوروں اور ملازمین کو اجرتیں نہیں دیں۔ ددسری جانب یہ لاکھوں افراد کو پہلے ہی بے روزگار کر چکے ہیں۔ وزانہ کئی سو بار ہر چینل پر میڈیا مالکان اشتہار دیتے ہیں کہ ۶ ارب روپے کے واجبات ادا کرو۔ اسی کے بعد عوام کو صابن سے ہاتھ دھونے کی تلقین کا اشتہار چلاتے ہیں۔ ایسے ہی ٹیکسٹال مل مالکان ایکسپورٹ کے نام پر روزانہ کئی ارب روپے حکومتی سبسڈی لے کر اخبارات میں شکریہ کے اشتہار چھپواتے ہیں اور حکومتی بے روزگاری روکنے کے لیے انہیں یہ سبسڈی دینے کا بہانہ کرتی ہے، جبکہ یہ پہلے ہی ہزاروں لوگوں کو یومیہ بے روزگار کیے جا رہے ہیں۔ فارما کمپنیاں بھی اب ایکسپورٹ میں کمی کے نام پر منافع میں کمی کا بہانہ بنا کر ریاستی اربوں روپوں پر رال ٹپکا رہی ہیں۔ان کے نمائندے رزاق داؤد، اسعد عمر، سلیم مانڈوی والا، حفیظ شیخ، جیسے افراد ہیں جو ہر سیاسی پارٹی میں ہیں اسی لیے سیاسی پارٹیاں ان کی لوٹ مار پر چپ بھی ہیں۔ یہ تمام بڑے دراصل اس پورے ملک پر ایک جونک کی طرح لوٹ مار میں عین اس وقت مصروف ہیں جبکہ کروڑوں افراد کو لاک ڈاون کر کے بنیادی ضروریات سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے۔ اس لیے ان لالچی سرمایہ داروں کو روکنا، ان کی حوس کا پردہ چاک کرنا ضروری ہے۔ خدمت خلق کے رستے میں اس وقت پاکستانی سرمایہ دار سب میں بڑی رکاوٹ ہیں۔
کرونا سے بڑھتے ہوئے بحران کا نتیجہ اموات اور بیمار مریض ہیں جن کے علاج کے لیے صرف کاسمیٹک انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ کورانٹین کیے گئے افراد جس غلاظت اورعلاج معالجہ سے لے کر کھانے پینے کی عدم فراہمی کا شکار ہیں اس سے ایک اور بحران کھڑا ہو رہا ہے۔مثلا کوئٹہ کے کرونا کا ممکنہ شکار زائرین کوسکھرمیں بعض کیمپوں میں جس طرح رکھا جا رہا ہے انکا بے چین ہونا لازمی ہے۔ اس بے چینی کے نتیجے میں اہل تشیع کے مولوی اور این جی اوز آگے آئے تو انہیں میڈیا میں مجرم قرار دیا گیا۔یعنی جو حالات پر چپ رہے اور صبر کی تلقین کرے وہ مولوی محب وطن اور جو سوال اٹھائے وہ این جی او تک شر پسند۔اسی سے فرقہ پرستانہ فکر کو تقویت مل رہی ہے۔ہمیں مطالبہ کرنا چاہئے کہ کیمپوں کے حالات بہتر کیے جائیں، مریضوں کو انسان مانا جائے اور فرقہ واریت پھیلانے والوں کا سدباب کیا جائے.لبرل سوچ کے برخلاف معاملہ مذہب کا نہیں، وسائل سے محروم بے سہارا کا ہے جسے ریاست مولوی کے زریعے صرف دعا پر گزارا کرنے کو کہتی ہے. اس لیے وہ مولوی کنارے لگا دئیے جاتے ہیں جو ریاست پر انگلی اٹھاتے ہیں۔پاکستان کرونا شکار واحد ملک ہے جہاں حکومت غریب کے لیے سیلانی کو بلاتی ہے اوراسی دن ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کو ۹ ارب روپے دیتی ہے!
ایسے میں مزدور طبقہ کے کئی حصے اپنے حقوق کے لیے احتجاج بھی کررہے ہیں َ کوئٹہ: حفاظتی سامان، عملے اور سہولیات کے فقدان کیخلاف ینگ ڈاکٹرز کی ہنگامی پریس کانفرنس اور نرسز کا احتجاج ہوا۔ پریس کانفرنس میں ماسک، اورکوٹ، وینٹیلیٹر اور ادویات کی شدید قلت کی تفصیل سامنے لائی گئی۔ کراچی میں بھی ینگ ڈاکٹرز نے کئی بار سہولیات اور خطرناک وبائی ماحول میں کام کرنے کے خلاف احتجاج کیا۔
کامریڈ جوزف چورونا انٹرنیشنل سوشل ازم جرنل کی ویب سائٹ پر کرونا بحران پر ایک خصوصی تحریر میں لکھتے ہیں کہ اس وباء کو سرمایہ داری کی موجودہ شکل کو جانے بنا نہیں سمجھا جا سکتا۔ سب میں بڑھ کر یہ کہ یہ وباء جس پھیلاؤ کے ساتھ ابھری ہے اس نے سرمایہ داری کے اندر پہلے سے موجود فالٹ لائنوں کو مزید شدت کے ساتھ گہرا کر دیا ہے۔سب سے بنیادی سطح پر اس نے منافعوں کو بچانے اور جانوں کو بچانے کے بیچ ایک خط تقسیم کھینچ دیا ہے۔ اب تک یہی ہو رہا ہے کہ انہی لوگوں کی چل رہی ہے جو اس نظام کو چلا رہے ہیں، یعنی منافعوں کا دفاع کیا جا رہا ہے۔ شہری آبادی میں تیزی سے پھیلاؤ نے ایسے نئے شہر اور قصبات آباد ہوتے ہیں جب بہت بڑی تعداد میں آبادی کو کچی آبادیوں اور صحت و صفائی کی ابتر صورتحال میں رہنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔ غربت، ذہنی دباؤ اور کم جگہ پر زیادہ لوگ ہی بیماری کا شکار ہوتے ہیں اور اسی سے ممکن ہوتا ہے کہ بیماریاں تیزی سے پھیلیں بھی۔ ایک بار کوئی بیماری شہر پہنچ جائے تو یہ تیزی سے پھیلتے ہوئے تجارتی نیٹ ورک، لوگوں کے آنے جانے، جنگوں، ا ن سے جان بچانے والوں، غربت اور جبر کے ماحول جیسے نیٹورکوں میں پھیلتی جاتی ہے۔ انیسویں، بیسویں صدی میں وباؤں کی تاریخ اسی طرح یورپ، امریکہ، ایشیاء میں سرمایہ داری کے پھیلاؤ کی تاریخ ہے اور یہی وباؤں اور ان میں مرنے والے کروڑوں افراد کی بھی تاریخ ہے۔ آج نیولبرل سرمایہ داری چین میں ایک ساتھ چھ چھ کروڑ افراد کے شہر بسا ڈالتی ہے، ان کے لیے کھانے پینے کی فراہمی دیگر اشیاء کی طرح ایک بہت بڑے زرعی، لائیو اسٹاک سسٹم سے آتی ہے جو بدترین انداز میں صنعتی طور پر چلایا جاتا ہے۔ کرونا وائرس بھی ایسے ہی لائیو اسٹاک فارموں سے ابھرا ہے جہاں ایک ہی جنس کی اور ایک ہی ماحول میں روشنی، ہوا، چہل پہل سے محروم جانوروں کو صنعتی مشین کی پیداوار کی طرح چھ آٹھ ہفتوں میں مصنوعی خوراک میں تیار کر لیا جاتا ہے جن میں سے وائرس انسانوں میں منتقل ہونا بہت آسان ہو گیا ہے۔
ایسے میں ہم کیا کر سکتے ہیں؟ لی ہمبر سوشلسٹ ریویو مارچ کی اشاعت میں لکھتے ہیں کہ کیا مزید اینٹی وائرس ویکسن ہی حل ہے؟ یہ وہ غالب سوچ ہے جسے مارکسی ارتقائی حیاتیات داں ایڈورڈ والس کہتے ہیں کہ یہ ’خلیاتی بیانیہ‘ ہے جو یہ بتاتا ہے کہ بیماریاں اور صحت کی خرابیاں دراصل وائرس اور خوت مدافعت کے بیچ ایک لڑائی ہے، یعنی یہ کہ وائرس بھی ارتقاء سے گزر رہے ہیں اور انسان کی یہ صلاحیت کہ وہ ان سے لڑائی کے لیے ویکسین بھی تیار کرے یہ بھی ارتقاء کے مراحل میں ہے۔ ایسے جیسے فطرف اور سائنس کے بیچ کوئی جنگ یا لڑائی چل رہی ہو۔ یہ خلیاتی بیانیہ دراصل بڑی فارما کمپنیوں جیسے بائیر (جو کہ ایک مونسینٹو جیسی عالمگیر کمپنی کو خریدنے کے بعد اب دنیا کی سب میں بڑی بیج و ادویات کی کمپنی بن گئی ہے)کی جان سے چلایا جاتا ہے۔ پہلے یہ دنیا بھر کی خوراک پر کنٹرول کر کے ہمیں بیچتے ہیں، اس خوراک سے ہم بیمار پڑتے ہیں، پھر وائرل وبائیں پھیلتی ہیں، پھر یہ ہمیں ان وباؤں سے لڑنے کے لیے ویکسین دیتے ہیں۔ بقول لی ہمبر یہ کس قدر بکواس بات ہے۔
ہمیں پاکستان کو کرونا وائرس کے خلاف لڑائی کو جنگی صورتحال سے مشابہہ کرنے والوں سے ہوشیار رہنا ہو گا۔ یہ چاہتے ہیں کہ ہم ایک نام نہاد قومی یکجہتی میں سرمایہ داروں کے مفاد کے پیچھے متحد ہو جائیں۔ جن کی تعداد ایک فیصد بھی نہیں ان کے پیچھے ۹۹ فیصد لوگ کھڑے ہو جائیں۔ عوام کو یہ کہنا کہ وہ حکومت کے ساتھ تعاون کریں اس کا یہی مطلب ہے کہ عمران خان پر سے ذمہ داری ختم ہو جائے۔ بڑی سیاسی پارٹیاں اس بحران سے پہلے ہی ایک قومی حکومت کے خواب دیکھ رہی ہیں۔یہ آج بھی حکومت کی جانب سے سرمایہ داروں کو اربوں روپوں بانٹنے پر ایک لفظ نہیں کہتیں۔ ہر صوبے میں یہ حکومتیں وفاق کی طرح بڑے سرمایہ داروں اور اشرافیہ کے مفادات کی ترجمان ہیں اور ظاہری طور پر ان کے اقدامات بیماری کو بند کرنے کے ہیں نہ کہ مریضوں کے علاج اور کرونا کے سدباب کے۔
ہمارا مطالبہ ہونا چاہئیے کہ اگری بزنس کو سماجی پیداوار کے لیے استعمال کرنا بند کیا جائے۔ یہ صحت عامہ کے لیے خطرہ ہے۔ کھانے پینے کی پیداوار کو بہت زیادہ سرمایہ دارانہ انداز میں کرنے میں وہ عمل شامل ہوجاتا ہے جو پوری انسانیت کو خطرہ سے دوچار کر دیتا ہے۔کرونا کی صورت میں یہ ایک موذی وباء کے طور پر ابھرا ہے۔ خوراک کی پیداوار کے نظام کو سماجی بنیادوں پر استوار کیا جائے تا کہ وباؤں کی پیداوار کے امکانات کم ہو سکیں۔ اس کا مطلب ہو گا کہ خوراک کی پیداوار کو دیہی آبادی کی ضروریات کے نظام سے دوبارہ جوڑا جائے اور انہیں اولیت دی جائے۔ اس کے لیے ایسی زرعی اور ماحولیاتی طرح پیداوار کی ضرورت ہے جو ماحول اور کسانوں کا بھی تحفظ کر سکے۔ ایسی تبدیلی کے لیے اور ان سے وابستہ دنیا بھی میں طبقاتی تقسیم، نسلی پرستی، سامراجی تنازعات اور تباہ کن ماحولیاتی تبدیلی سے بھی نجات حاصل کرنی پڑے گی۔سوشل ازم اور بربریت پسندی کے بیچ ہمیں کیا چنا ہے آج سے زیادہ پہلے کبھی اتنی واضع نہ تھا۔کرونا صرف ایک وارننگ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *