کورونا وائرس وبا میں کیسے بدلا؟

کورونا وائرس وبا میں کیسے بدلا؟

لی ہمبر /مترجم عامر حسینی

وائرل وبائی امراض غیرمعمولی نہیں ہیں- امریکن مرکز برائے تدارک امراض کے مطابق اس سال فلو کا موسم گزشتہ سالوں سے بدترین تھا- تنہا امریکہ میں ا کروڑ 90 لاکھ افراد بیمار ہوئے، ایک لاکھ اسّی ہزار ہسپتال میں داخل ہوئے اور دس ہزار اموات ہوئیں

فروری 2019ء میں فلو وائرس کے سردی میں شدت کے سبب 200 افراد کی اموات ہوئیں- 2000 افراد کے کیس خاصے شدید تھے-  اس تفصیل سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وائرس اب زیادہ  وبائی ہوچکا ہے- ول لوگ جو پہلے فٹ نظر آتے تھے اب شدید بیمار پڑنے لگے ہیں-

 سال 2017-18 میں 160 سے زیادہ لوگ برطانیہ میں فلو وائرس سے ہلاک ہوئے اور بہت بڑی تعداد میں فلو وائرس کے شکار لوگوں کا آئی سی یو میں علاج کیا گیا- بہت سے کیسز میں طویل المدت پیچیدگیاں ابتدائی لگائے گئے اندازوں سے کہیں زیادہ تھی اور فلو وائرس نو دنوں سے بھی کم میں عالمی سطح پر پھیل گیا-  اب بڑی فلو وبائیں سارے  شمالی اور جنوبی امریکہ کے اندر 21 ویں صدی کا نمایاں پہلو ہیں- یہ وہ سیاق و سباق ہے جس کے اندر ہم کورونا وائرس کے پھوٹ پڑنے کو سمجھ سکتے ہیں، جس کا آغاز چین میں ہوا تھا

کورونا وائرس وائرسوں کے ایک بڑے خاندان ہیں جو عام سردی سے شدید ترین بیماریوں جیسے مڈل ایسٹ  ریزپائریٹوری سینڈروم(ایم ای آر ایس)، سیور ایکویٹ ریزپائریٹوری سینڈروم(ایس اے آر ایس) ہیں کا سبب بنتی ہیں- یہ بیماریاں زونوٹک ہیں- مطلب یہ جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتی ہیں- سارس مشکی رنگ کی بلیوں سے انسانوں میں منتقل ہوئی اور میرس ایک کوہان والی اونٹنی سے انسانوں کو منتقل ہوا- اور جانوروں میں بہت سارے نامعلوم کوروناوائرس ہیں جو گردش کرتے ہیں اور ابھی تک انہوں نے انسانوں کو متاثر نہیں کیا ہے۔

کورونا وائرس انفیکشن کی علامات میں تنفس سے جڑی بیماریاں جیسے بخار،کھانسی، سانس کا پھول جانا اور سانس لینے میں دشواریاں شامل ہیں- زیادہ شدید کیسز میں انفیکشن نمونیا اور انتہائی شدید تنفس کے نظام میں خرابی جیسے گردوں کا ناکارہ ہوجانا اور موت شامل ہیں

تادم تحریر، کورونا وائرس سے چین میں 81171 لوگ متاثر ہوئے جبکہ 3277 اموات ہوئیں جبکہ پوری دنیا میں ابتک 382108 لوگ اس وائرس کا شکار ہیں اور ان میں سے 16568 اموات ہوئی ہیں۔ پاکستان میں 887 کورونا وائرس کے مریض ہیں اور 6 کی اموات ہوئی ہے

چین میں وائرلوجی کے ممتاز ترین ماہر کوآن یو  نے ووہان شہر کا دورہ کرنے کے بعد کہا،’میرے اندازے کے مطابق یہ وبائی مرض سارس سے دس گنا زیادہ افراد کو  شکار بناکر ہی ختم ہوگی’ 2002-03 میں سارس کے پھوٹ پڑنے سے 800 دنیا بھر میں لوگ مرے تھے

اس ہلاکت انگیز وائرس کا سبب کیا ہے؟ اس بارے میں مسلسل قیاس آرائی جاری ہے- زیادہ تر نے اسے ووہان کی اس مارکیٹ سے جوڑا جہاں ہے جہاں پر جنگلی حیات سے بنی غذائی اشیا فروخت کی جاتی ہیں- اس بات کے کچھ شواہد تو ہیں- مارکس وادی انقلابی ماہر حیاتیات راب ولاس کا کہنا ہے کہ اس وبا کے ابتداء میں پھیلنے کا سبب وائلڈ لائے مارکیٹ ہوسکتی ہے- لیکن کچھ ہی ہو سکتی ہے-ووہان مارکیٹ سے لیے گئے 885 افراد کے خون کے نمونوں میں سے 33 افراد میں کورونا وائرس پازيٹو پایا گیا اور 31 ان میں سے وائلڈلائف ٹریڈنگ مارکیٹ سے جڑے تھے-41 فیصد ان پازیٹو کیسز میں سے مارکیٹ سے تھے-ان میں سے ایک چوتھائی ایسے افراد تھے جو کبھی ووہان مارکیٹ گئے ہی نہیں تھے- جبکہ ابتدائی کیس مارکیٹ کے اس وائرس کا شکار ہونے سے پہلے دریافت ہوچکا تھا

کورونا وائرس کا ایک خاص سبب وائلڈ لائف مارکیٹ ہوسکتی ہے- لیکن یہ سبب مختلف قسم کی وائرل بیماریوں کے عالمی سطح پر اور شدت سے پھیلنے کی وضاحت نہیں کرتا- یہ زیادہ شدید وبائی صورت میں کیوں پھیل رہی ہیں یا اب سے پہلے کی نسبت تیز اور زیادہ کیوں پھیل رہی ہیں؟ اس کا جواب تلاش کرنے کے لیے ہمیں سمجھنا ہوگا کہ کیسے سرمایہ داری نے وہ سیاق و سابق جنم دیا ہے جس نے ہلاکت انگیز وائرسوں کو پھیلا دیا ہے۔

چین سے شروعات کرنا ٹھیک رہے گا- گزشتہ 50 سالوں میں اور خاص طور پر 21ویں صدی میں انڈسٹریل فوڈ پروڈکشن چین میں جتنے بڑے پیمانے پر پھلی پھولی ہے، اتنے بڑے پیمانے پر کبھی نہیں پھلی پھولی

مثال کے طور پر،1997 سے،جب ایچ5این1 فلو کی ایک نئی وائرل بیماری شمالی چین میں صوبہ کوآن تونگ میں پھوٹی تھی تو اس صوبے میں 7 کروڑ مرغیاں تھیں- ان مرغیوں کو یہاں بریڈ کیا جاتا، پالا پوسا جاتا،ذبح کیا جاتا اور فیڈ ملوں اور پروسسنگ پلانٹس کے زریعے سے ان کو سپورٹ دیکر باہم مربوط کرکے صنعتی ماحول میں جوڑ دیا جاتا تھا- نوے کی دہائی میں پولٹری پروڈکشن 7 فیصد سالانہ کی نمایاں شرح سے بڑھی- پروسس پولٹری ایکسپورٹ جس میں بطخ اور ہنس راج کے پروسس گوشت کی ایکسپورٹ بھی شامل تھی 6 ملین ڈالر سے بڑھ کر 77 کروڑ 40 لاکھ ڈالر 1992-96 میں ہوگئی تھی

اتنے بڑے پیمانے پر پولٹری ایکسپورٹ کے  کاروبار کی یہ بڑھوتری دریائے پرل کے ڈیلٹا پر بہت بڑی عارضی آبادی کے ساتھ ساتھ ہوئی

ہانگ کانگ سے جڑا ہوا خطہ جہاں دریائے پرل ڈیلٹا سے بہت سارے زمینی سفری راستوں کے ساتھ دنیا کے ایکسپورٹ-امپورٹ کے بڑے مراکز میں سے ایک بن گیا- وہیں یہ بیرونی نقل و حمل کا بھی بڑا مرکز بن گیا- پولٹری کے کام کی شدت کے ساتھ کوان تونگ آبی علاقوں پر سرمایہ کاروں کی آبادی کے دباؤ  نے وائرل انفیکشن کی لہر کو پیدا کردیا جو ہر سال ایسے گردش کرتا ہے جسے ولاس وائرولینس راشیٹ/کھانچے دار پہیہ کہتا ہے

شدید صنعتی فوڈ پروڈکشن پولٹری کے میزبانوں میں وائرسوں کو داخل کرنے اور پھیلانے کا پورا موقعہ فراہم کرتی ہے- جبکہ مقامی انسانی آبادی کی قربت اور جسامت انسانی آبادیوں میں اسے داخل کرنے کے لیے گیٹ وے کا کام دیتی ہے۔

بڑے پیمانے پر ہونے والی صنعتی پروڈکشن زیادہ روایتی آبی منڈیوں اور غیرملکی کھانوں کی کھپت والی جگہوں کے ساتھ بیٹھتی ہے- ولاس کے مطابق،’جنگلات کی کٹائی کے زریعے زرعی پیداوار کے پھیلاؤ نے جنگلی خوراک کی تلاش کو آخری پرائمری لینڈاسکیپ تک دھکیل دیا اور اس نے وسیع اقسام کی انجانی اور پروٹو وبائی امراض پھیلانے والے وائرسوں کے جال کو پھیلادیا

زراعت اور لائیوسٹاک کی پروش کا صنعتی ماڈل وضاحت کرتا ہے کہ کیسے ہم ایسے مقام تک آن پہنچے ہیں جہاں ہر سال ایک نئی اور ہلاکت انگیز امکان رکھنے والی عالمی وائرس تھریٹ کا ہمیں سامنا ہے

کارل مارکس نے صنعتی زراعت سے انسان کی فلاح اور صحت کو لاحق بہت سے مختلف خطرات کو پہچان لیا تھا،جیسے اس کی کم جانی جانے والی نوٹ بکوں کے حالیہ تجزیہ سے پتا چلا ہے- اصل میں مارکس نے برطانیہ میں انیسویں صدی کے وسط میں صنعتی فوڈ پروڈکشن سسٹم کی انتہائی تفصیلی اور دقیق تنقید پر پیش رفت کی تھی- جبکہ اس زمانے کے مورخین اس دور کو ‘ زرعی انقلاب کا دوسرا دور’ قرار دے رہے تھے

مارکس نے نہ صرف  خوراک کی پیداوار، تقسیم اور کھپت کا مطالعہ کیا بلکہ وہ پہلا آدمی تھاجس نے ان کو بدلتے ہوئے فوڈ رجیموں کے بارے میں ایک مسئلے کا جنم داتا ہونے کا ادراک بھی کیا- یہ ایک ایسا تصور ہے جسے ابھی بھی سرمایہ دارانہ فوڈ سسٹم بارے بحث کا مرکزی خیال بننا ہے- مارکس نے اپنے مادیاتی تصور تاریخ کی بنیاد اس خیال پر رکھی کہ انسانی زندگی کا پہلا مقدمہ زندگی کو باقی رکھنے کے زرایع پیدا کرنا ہے۔ خوراک، پانی، رہائش ، کپڑے  کی پیداوار سے شروع کرکے اسے زندگی کے دوسرے سب زرایعوں تک پھیلانا ہے۔

اس نے ‘سرمایہ’ میں لکھا،”ساری محنت اصلی طور پر سب سے پہلے خوراک کی تخصیص اور پیداوار ہوا کرتی ہے۔” سب سے بنیادی اہمیت متناسب اور محفوظ خوراک کو یقینی بنانا ہے۔

انیسویں صدی کے وسط میں کارل مارکس  افزائش نسل کے نئے طریقوں کے ساتھ جانوروں سے بدسلوکی پر بہت بے باکی سے بات کی- بھیڑوں اور مویشیوں کی افزائش نسل میں ترقی کا عمل گھیردار اور وسیع تر تھا جس میں ہڈی پر گوشت اور چکنائی کا بھاری تر لدھان ہوتا اور یہ اس مقام تک چلا جاتا جہاں پر جانور خود اپنے بوجھ کو بہت مشکل سے سہار پاتے تھے

گوشت کی پیداوار میں تیزی لانے کے لیے جانوروں کی افزائش نسل کی شرح ترقی میں اضافہ ہوا- بھیڑ اور مویشی پانچ سال کی بجائے دو سال ميں کٹنے لگے- ڈیری پروڈکشن میں اضافے کے لیے بچھڑوں کو پہلے ہی دودھ پلایا جانے لگا- بیلوں کو تیزی سے سٹال کھلایا جاتا اور ان کو سختی سے ایک جگہ محصور رکھا جاتا- مویشیوں کو تیزی سے گروتھ کے عمل میں شامل رکھنے کے لیے ونڈا کھیلایا جاتا- اس میں درآمدی آئل کیک بھی شامل ہوتا جس سے زیادہ اچھی کھاد آتی- ہر ایک بیل کو دن میں دس پاؤنڈ آئل کیک کھلایا جاتا اور جیسے ہی وہ بلوغت کو پہنچتے تو ان کو ذبح کردیا جاتا

مارکس نے لکھا: ” ان قید خانوں میں، جانور پیدا ہوتے اور اس وقت تک رہتے ہیں جب تک ان کو ذبح نہیں کردیا جاتا- سوال ہے کیا اس سسٹم کو اس بریڈنگ سسٹم سے جوڑا جاتا یا نہیں جوڑا جاتا جس میں جانوروں کی پرورش ایک ایسے ابنارمل طریقے سے کی جاتی ہے جس میں ہڈیوں کو ختم کردیا جاتا ہے تاکہ ان کو محض گوشت اور چربی کے ڈھیر میں بدل دیا جائے جس کا آخری نتیجہ قوت حیات کی سنگین تباہی کی شکل میں نکلتا ہے- جبکہ پہلے جانور آزاد فضا میں جہاں تک ممکن ہوں چست و چالاک رہا کرتے تھے”

اس کا موازانہ جدید زمانے کی انڈسٹریل پولٹری پروڈکشن سے کریں- 1940ء میں، ہنری ولاس جونیئر نے پہلا ہائبرڈائزڈ چکن کی بریڈ ہائے لائن انٹرنیشنل میں تیار کی جوکہ اس کے باپ کی زرعی کمپنی کا ذیلی یونٹ تھا- امریکی سیکرٹری برائے زراعت اور امریکن نائب صدر ہنر؛ ولاس سینئر- دس سل کے اندر اندر، دنیا بھر کے کاروباری پولٹری بریڈرز نے انہی ہائبرڈز سے اسٹاک پیدا کیا

آج دنیا کی 75 فیصد پولٹری پروڈکشن چند کمپنیوں کے پاس ہے- 2006ء میں،چار بنیادی بریڈرز تھے جنھوں نے برائلرز لائن(گوشت کے لیے چکن) کی پہلی نسل پیدا کی تھی- اور 1989 میں یہ 11 ہوگئے تھے-جبکہ لئیر لائنز/ انڈے پیدا کرنے والے دس سے کم ہوکر محض دو رہ گئے تھے

ایرک ویسجوہان گروپ فارمی انڈوں کی کل پیداوار کا 70 فیصد تنہا کنٹرول کرتا ہے- ہینڈرکس جینٹکس براؤن انڈوں کی کل پیداوار کا 80 فیصد کنٹرول کرتا ہے- جبکہ نوٹریکو میں اس کے 50 فیصد سٹیک ہیں جو ٹرکی، برائلر اور سؤر کی بریڈنگ کرتا ہے- گریماؤڈ گروپ ایوی آن جینیٹکس میں دنیا کی دوسری بڑی کمپنی ہے-کوب وینٹریس آخری چار بڑے پولٹری پروڈیوسر میں سے ہے جس کی مالک ٹئی سن فوڈز ہے،جوکہ چکن میٹ/مرغی گوشت کے پروسسر اور مارکیٹر ہیں-

پروڈکشن/پیداوار سختی سے اور بے رحمی کے ساتھ پیداوار میں کسی بھی طرح کی منصوبہ بندی کے بغیر اور تنوع سے خالی پولٹری پروڈکشن کو ختم کرنے کے لیے سارا کنٹرول اپنے ہاتھ میں رکھتی ہے-2009 میں شگاگو کی جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ‘مرسی فار اینمل’ ہائے لائن انٹرنیشنل ہیچری میں میٹ گرائینڈر سے میل لئیر چکس کو فیڈ کیے جانے کی فوٹیج جاری کی- میل لئیر چکس جو کہ تعریف کی رو سے انڈے نہیں دیتے ان کی گرائنڈنگ انڈسٹری سٹینڈرڈ ہے-

ہائے لائن کے جین فولٹن کہتے ہیں:

“ہماری بڑی سخت فنانشل زمہ داریاں ہیں- لائنز جو درکار معاشی سطح پر کارکردگی نہیں دکھا پارہیں ختم کردی جائیں گی-” اس خاتمے کا ایک نتیجہ گلوبل پولٹری پیداوار  کی کردار نگاری مونوکلچر سے کرنا ہے- چکن بریڈنگ ان کو نئے وائرسوں کی مزاحمت کے قابل نہیں رہنے نہیں دیتی- ان میں بہت محدود تعداد میں ایسے جین ہوتے ہیں جو ان میں داخل ہونے والے امیون ری ایکشن/مدافعتی ردعمل کی ورائٹی کو محدود کردیتی ہے- اور اسی ليے پولٹری سے انسانوں کے اندر وائرس منتقل ہونے میں اضافہ ہوگیا ہے”

جانوروں کو بڑے فیکڑی فارم میں برے حالات میں رکھا جاتا ہے- برائلر کو دسیوں ہزار پرندوں کے ساتھ گوداموں میں بند رکھا جاتا ہے- چکن کو تیزی سے وزن بڑھانے اور ان کی چیسٹ کو حد سے بڑے ہوئے سائز کے ساتھ پالا جاتا ہے، اس سے وائٹ میٹ کی ترجیح ظاہر ہوتی ہے تاکہ تیزی سے ٹرن اوور بڑھے اور بلند شرح منافع حاصل ہو

وہ سست رہتے ہیں کیونکہ جو توانائی وہ جذب کرتے ہیں وہ تو گروتھ میں بدل جاتی ہے اور ان کی زیادہ زندگی تو فرش پر بیٹھے گزرجاتی ہے جس سے گروتھ سائیکل کے دوران ان کے اندر گوبر جمع ہوتا رہتا ہے- عام طور پر وہ بریسٹ کے قریب پروں سے محروم ہوجاتے ہیں اور گوبر سے مسلسل جڑے رہنے سے ان پر گھاؤ پڑجاتے ہیں

گوداموں کو صرف اسی وقت صاف کیا جاتا ہے جب چکن کو جہازوں پر لادھ دیا جاتا ہے لیکن نئی آنے والی مرغیوں کے گروپ کے لیے گوبر ایک پتلی سی تازہ گندگی کے ساتھ ایسے پڑی رہ جاتی ہے جیسے لکڑی کی پرانی چپ کے اوپر نئی چپ رکھ دی جاتی ہیں

کم روشنی میں زیادہ تر پہلنے والی مرغیاں چھے سے سات ہفتے کی ساری زندگی گودام میں گزارتی ہیں- ان کو ایسی خوراک کھھلائی جاتی ہے جس سے اینٹی بائیوٹکس چپکائی گئی ہوتی ہے تاکہ گروتھ میں استحکام رہے- لیکن بہت ساری مرغیاں ہجوم والی حالت میں ہونے کے سبب مرجاتی ہیں- اکثر کمرشل گریڈ پولٹری فیڈ آرسینک سے ملی ہوتی ہے تاکہ شپمنٹ اور فروخت کے دوران پرندے کا گوشت پنک/گلابی رہے۔

یہ وہ مثالی حالات ہیں جس میں نئے وائرسوں خاص طور پر فلو وائرسوں کی تصدیق کرنے والے چڑیا گھروں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے- وبا کے ارتقاء کی کلید مشکوک میزبانوں کی سپلائی ہے- جتنی دیر تک انفیکٹ ہونے کے لیے کافی میزبان رہتے ہیں، ایک وائرس کا نمودار ہونا ممکن ہوتا ہے- انڈسٹریل لائیو سٹاک اس لیے وبائی امراض کو مدد دینے کے آئیڈیل آبادی ہیں

جانوروں کا جینٹک مونوکلچر امیون فائربریکس کو ہٹادیتے ہیں ورنہ دوسری صورت میں یہ وائرس کی منتقلی کو آہستہ کردیتے ہیں- بڑی آبادی بلحاظ جسامت اور گنجانی کے منتقلی کی شرح کو زیادہ کرنے میں سہولت کار کا کام دیتی ہے- ہجومی حالات امیون رسپانس کو دبادیتے ہیں- لائیوسٹاک کا تیز تر ٹرن اوور مسلسل مشکوک میزبانوں کی نئی سپلائی فراہم کرتی ہے-

انفلوئنزا انفیکشن کسی بھی جانور میں ٹرانمیشن کی جگہ پر پہنچ جاتی ہے اس سے پہلے مرغی،بطخ یا سؤر کو ذبح کردیا جائے کیونکہ جتنی جلدی انڈسٹریل جانور مطلوبہ معیار ک پہنچتے ہیں ذبح کردیے جاتے ہیں- پیداوار میں جدت جیسے مرغیوں کی 40 سے 60 دنوں تک پروسس کرنے کی شرط کو کم کرنا نے وائرسوں پر دباؤ بڑھایا ہے کہ وہ زیادہ تیزی سے اپنے مطلوبہ مقام تک پہنچ جائیں

ایک بار جب وائرس انفیکشن جنم لے لیتی ہے تو بے ہنگم خاتمے کا طریقہ اس کا جواب نہیں ہے- بے ہنگم جانوروں کے ریوڑ یا باڑوں کو ختم کرنے کا عمل ان جانوروں کو بھی مار ڈالتا ہے جو وائرس کے خلاف مزاحمت کرنے والا امیون سسٹم رکھتے ہیں اور اس طرح سے سے وائرس کو روکنے میں ناکام ہوجاتے ہیں- ممکنہ امیون سسٹم رکھنے والے جانوروں کے قتل کرنے سے

ہم کیا کرسکتے ہیں؟ کیا زیادہ سے زیادہ اینٹی وائرس ویکسیئن اس کا جواب ہیں؟ یہ غالب پیراڈائم ہے، جسے ولاس ‘مالیکولر بیانیہ’ کہتا ہے جو بیماری اور خراب صحت کو وائرس اور مدافعتی/امیون سسٹم کے درمیان لڑائی ہے، وائرل ارتقا اور انسان کی ویکسیئن پیدا کرنے کی صلاحیت بارے جنگ ہے اور ایسے یہ فطرت بمقابلہ سائنس کی جنگ ہے

یہ ایک ایسا بیانیہ ہے جس سے بڑی فارماسیوٹکل کارپوریشنیں جیسے بائر ہے جو پیسٹی سائیڈز، ہرب سائیڈز، انسیکٹی سائیڈز مینوفیکچرنگ کی لیڈنگ کمپنی ہے اور اس کے پیچھے پیچھے اربوں ڈالر کمانےوالی مونسانتو جو دنیا کی سب سے بڑی سیڈ کمپنی ہے ۔۔۔ خوش ہیں

پہلے تو وہ ہمیں خوراک بیچتی ہیں جو ہمیں بیمار کرتی ہیں، جن کی پروڈکشن/ پیداوار ہلاکت وائرل وبائی خطرہ پیدا کرتی ہے- پھر وہ ہمیں ایسی دوائیں بیچتے ہیں جو دوبارہ ہمیں ٹھیک کردیں- یہ ذلت آمیز حماقت ہے- دوائیں عمومی صحت اور بہتری کے لیے موثر ہوتی ہیں جو انسانیت کی ضرورت ہیںکیونکہ عمل انگیزی پر مبنی کنورٹرز کرہ ارض کو آلودہ بناتے ہیں

ہم جواب جانتے ہیں- ہمیں فیکٹری فارمنگ اور انڈسٹری ايگری کلچرل کے ان طریقوں کے خاتمے کی ضرورت ہے جو کرہ ارض سے جنگلات، قدرتی غذائی اجزا سے ملی مٹی کو نیست و نابود کرتے ہیں اور ان طریقوں کو ہٹاکر منصوبہ بند، اجتماعی، محفوظ اور انسان دوست اجتماعی لائیوسٹاک اور زراعت بانی کے طریقوں کو لانے کی ضرورت ہے جو مستحکم ، پائیدار بھی ہیں اور ہمیں وہ غذائیت فراہم کرتے ہیں جن کی ہمیں ضرورت ہے

ہم ایسا کرنے سے روک اس لیے نہیں دیے جاتے کہ علم کی کمی ہے یا ان کی ضرورت نہیں ہے بلکہ فوڈ پروڈکشن کے جو زرایع ہے ان کی ملکیت ایک جھوٹی سے نہ دکھائی دینے والی سرمایہ دار مخلوق کے پاس ہوتی ہے جو ایسا کرنے سے ہمیں روکتے ہیں- وہ اور ان کا طبقاتی مفاد ان غیر صحتمندانہ اور بالقوہ طور پر ہلاکت انگیز فوڈ پروڈکشن سسٹم پر ہے- ان کے لیے ان کی ملکیت کو چھوڑدینے کا مطلب خود اپنے آپ کو چھوڑ دینا ہے- انسانیت کی بھلائی کے لیے ہمیں ان نظاموں سے دور ہونا ہوگا

 

http://socialistreview.org.uk/author/lee-humber

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *