کورونا وائرس بحران اورسوشلسٹ متبادل

کورونا وائرس بحران اورسوشلسٹ متبادل

تحریر: سرتاج خان

کوروناوائرس نے پاکستان سمیت دنیا کی 110معیشتوں کومتاثرکیاہے۔ اوراس کوموجودہ تاریخ کا the most brutal recession in living memory. قراردیاگیاہے۔ عالمی سرمایہ داری کی متوقع شرح نمو جوسال کے شروع میں تین فی صد کے قریب تھی اب ڈھائی فیصد پرآگئی ہے۔ کوروناوائرس کے ساتھ ہی عالمی تیل کی قیمتوں میں کمی ہے۔ ان کاعالمی معیشت کے ساتھ پاکستانی معیشت اورسماج پربھی خاطرخواہ اثرات مرتب ہوں گے۔ عالمی سرمایہ داری میں جنگیں اوربحرانات نئے راہیں ضرورکھولتے ہیں۔ مثال کے طورپرکہاجاتاہے کہ دوجنگوں کے دوران ممالک کے درمیان آمد ورفت خراب ہوئے توقدرتی چیزوں کامتبادل ڈھونڈا گیااورکیمکلزکی صنعت نےبہت ترقی کی۔ اگرلاک ڈاون طوالت اختیارکرگیا اورتجارت میں وقفہ طول کھنچ گیا تواس کااثرسپلائی چینز پرپڑنے کے امکانات کورد نہیں کیاجاسکتا۔ چین کے عالمی معیشت کے لیڈرکی حیثیت کودھچکہ پہنچنے کے امکانات کوپہلے ہی ظاہرکیاگیالیکن چین کے کورونا بحران پرقابوہونے کی قوت نے بھی سب کوحیران کردیا۔ لیکن اکنامسٹ کہتاہے کہ تاریخ سے پتہ چلتاہے کہ اس طرح کے بحران سے نمٹنے میں اوسطا اس میں پانچ سال تولگ ہی جاتے ہیں۔ سرمایہ داری میں ریاستوں کیلئے عوام اوریہاں تک کہ معیشت میں فنڈز انڈیلنا کوئی زیادہ قبول عمل کے طورپرنہیں دیکھاجاتا۔ یول نواح ہاریری کہتاہے کہ طوفان تو گزرجائے گا لیکن اس دوران ہم جس طرح کی رویہ اختیارکریں گے وہ ہماری زندگیوں کوآنے والے سالوں میں متاثرکرے گا۔

گلوبلائزیشن کے دورمیں کئی ایک رحجانات سامنے آئے ہیں۔ محض سرمایہ اورتجارت کی گلوبلائزیشن نہیں ہوئی بلکہ جنگوں، معاشی بحرانات اوربیماریاں اوران کے اثرات بھی پہلے سے کہیں زیادہ گلوبلائزڈ ہوئی ہیں۔ شہروں کاحجم اوران کے اندرانٹریکشن بھی بڑھاہے۔ کچی اورتنگ آبادیوں اورماحولیات کی تباہی اب بیماریوں کوبڑے پیمانے پرپھیلانے کاذریعہ ہیں۔ نیویارک ٹائمز کے مضمون نگارکے مطابق 1918میں اسپینش فلو سے دنیا بھر میں پھیلا اوراس سے 50لاکھ سے زائد مرے۔ وہ کہتاہے کہ اس بارعالمی وبا یا پینڈمک زیادہ تیزی اوروسیع پیمانے پرپھیلا۔ البتہ اس پراتفاق نہیں کہ موجودہ وائرس کابحران 1929کے بحران کی طرح ایک بہت بڑے معاشی بحران کوجنم دے گا۔ کہاجارہاہے کہ یہ سرمایہ داری کی پیچیدگی اورباہمی انحصار کاایک اظہارہے، لیکن اس کے ساتھ ہی یہ سیاستدانوں کی ناکامی ہےخاص کر2008کے مالیاتی بحران کے بعد یہ ماحولیاتی تبدیلی اوردیگررسکس کے خلاف غیرموثرثابت ہوئے۔ اس بحران کے دورمیں بھی امریکی نے ایران اورآئی ایم ایف نے وینزویلا پراقتصادی پابندیاں برقراررکھ کروہاں کی عوام کی زندگیوں کوبربادکرنے کی راہیں کھلی چھوڑدیں۔ ایرانی حکومت نے وبا کوامریکی اقتصادی پابندیوں سے جوڑکرخود کوبری الزمہ کرنے کی کوشش کی۔

اکنامسٹ نے کوروناکی وجہ سے پیدا ہونے والے معاشی بحران کو covid-19 slump کہاہے اورکہاکہ معیشتوں کو تحفظ اوربحالی کیلئے حکومتوں کوچاہیئے کہ وہ لوگوں اورفرمز کیلئے مالیاتی سپورٹ کرے۔ اسی لئے اکنامسٹ نے گلوبلائزیشن مخالف ‘بڑی ریاست کی واپسی کانعرہ لگایاہے’۔ اکسفورڈ یونیورسٹی کے ریسرچرنے سرمایہ دارانہ ذہنیت کی درست نمائندگی کرتے ہوئے کہاکہ ‘معاشی نقطہ نظرسے دیکھیں تو اہم مسلہ کووڈ 19 کے کیسز کی تعدادنہیں بلکہ اس کوروکنے کیلئے اٹھائے گئے اقدامات سے معیشتوں کو جس سطح کی خلل کاسامنا کرناپڑاوہ ہے۔’ لیکن دیکھنے میں آیاہے کہ گلوبلائزیشن کے ساتھ ساتھ بھی ریاستیں سرمایہ داروں کی نقصانات کوپوراکرتی ہیں جس طرح 2007کے بحران میں امریکی حکومت نے بینکوں اورمالیاتی اداروں کوڈوبنے سے بچانے کیلئے کوئی ایک ٹریلین کی رقم دی۔

کورونا وائرس کوئی آخری وبا نہیں ہے۔ بلکہ چان اسکول آف پبلک ہیلتھ ہارورڈ کے سربراہ مطابق اگلے سالوں میں 40تا 70فی صد لوگ دنیا بھرمیں infected ہونے کے امکانات ہیں۔ فنانشنل ٹائمز کہتاہے کہ پبلک ہیلتھ ایمرجنسی اورگلوبل ریسریشن مل کردنیا بھر میں سیاست کوتبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اوراس بات کاامکان ہے کہ یہ ہمارا ریاست اوربین الاقوامی پولیٹکل اکانومی سے نئے تعلق اوررحجانات کومتعارف کرائے۔ اس کااظہار پولٹیکو میگزین کے ایک مضمون میں کیاگیاہے کہ عام طورپرممالک کے درمیان حب وطنی کوفوج کے ساتھ برابرکیاجاتاہے۔ لیکن ایک وائرس کوشوٹ نہیں کیاجاسکتا۔ اس کیلئے فوج یا مسلح جھتوں کے بجائے ڈاکٹرز، نرسز، فارمسسٹ، ٹیچرز، دیکھبال کرنے والے، اسٹورکے کلرک، یوٹلیٹی کے ورکرز، چھوٹے کاروباری، اورملازمین۔ اس میں ہمارے ہیرو ڈاکٹراسامہ جیسے لوگ ہیں۔

یول نواح ہاریری Yuval Noah Harariکہتاہے کہ نوع انسانی کوایک عالمی بحران کاسامناہے۔ یہ ہمارے جنریشن کاشائد سب سے بڑا بحران ہے۔ آنے والے چندہفتوں میں عوام اورحکومتیں اس دوران جوفیصلے کریں گے وہ آنے والے برسوں میں دنیا پراثراندازہوں گے۔ اس کااثرنہ صرف یہ کہ ہمارے صحت کے نظام پرپڑے گا بلکہ ہماری معیشت، سیاست اورکلچرپرپڑیں گے۔ ہمیں جلدی اورفیصلہ کن سرگرمی دکھانی ہے۔ ہم کواپنے ایکشن کے دیرپا اورطویل المدت مضمرات کودیکھناہے۔

کورونا کے ساتھ معاشی مسائل کابحران ہے۔ ایک طرف صحت کامعاملہ ہے اوردوسری طرف اس کے اثرات خاص کرمعاشی اثرات کا۔ اگربحران ہے توکس طبقہ کو اسکی قیمت چکانی ہے۔ یہ واضح ہے کہ دنیا کے دیگرحکومتوں کی طرح پاکستان بھی سرمایہ داروں کوسبسڈی اورمراعات دیںے پرکاربند ہے۔ ایسے میں لبرل کے دومطالبے ہیں ایک کہ حکومت ڈیم فنڈزکی رقم صحت میں لگائے اوردفاعی بجٹ کم کرکے صحت کے بجٹ میں اضافہ کیاجائے۔ البتہ یہ سرمایہ داروں کوملنے والی سبسڈیز اورمراعات پرخاموش ہیں۔ ان کے نشانے پرپورے حکمران طبقہ کے بجائے طارق جمیل اورجہالت زیادہ ہے۔ بعض لبرلز عمران سرکاری پرپی پی پی کی سندھ حکومت کے پیچھے کھڑے ہیں، حالانکہ اس نے نچلے کلاس کیلئے کچھ نہیں کیا۔ خود پیپلزپارٹی والے بھی حکومت کے اقدامات کونمائشی زیادہ قراردیتے ہیں۔ ابھی جبکہ لوگ مررہے ہیں سرمایہ داروں کے مختلف گروہ رقم کے مطالبے کے ساتھ میدان میں ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ طاقتورتو ایکسپورٹرزہیں جوکہتے ہیں کہ ہماری ایکسپورٹ بند ہوگئی ہے اس میں بھی طاقتور ٹیکسٹائل اورگارمنٹس کی صنعت ہے۔ اس کے بعد دیگرہیں۔ سندھ حکومت کے بجلی پررعائت کے اعلان کونجی ادارے نے ماننے سے انکارکردیاہے۔

تجارت اورمزدوروں کی نقل وحمل میں اگررکاوٹ کی دلیل دینے والے جیسے امریکہ میں پروٹیکشن ازم کی وکالت کرنے والے اس کابہانہ کرکے اوازبلندکریں گے۔ یہ غیرملکیوں اورمہاجرین کے خلاف نسلی تعصب کوہوادیں گے، جس طرح ہمارے ملک میں پہلے ہی ایران جانے والے زائرین اورشیعہ کے خلاف نفرت کوہوادینے کیلئے استعمال کیاجارہاہے۔ اسی طرح ایران میں کورونا وائرس سے متاثرہ افغانوں کواسپتالوں میں داخل کرنے پرپابندی عائد کی گئی اوربعض اطلاعات کے مطابق گولی ماری گئی۔ یوں معاشی ڈپریشن سے فرقہ ورانہ اورنسلی تعصب کوہواملے گی۔ لیکن لاک ڈآون سے تنگ عوام اورصحت کی کم سہولتوں اورخود صحت کے شعبہ سے وابستہ ملازمین کی وجہ سے کوئی تحریک بھی شروع کی جاسکتی ہے۔ وائرس اورمعاشی بحرن نے تمام سیاسی جنتا کوایک پیج لانے میں کرداراداکیا ہے۔ اس کی ابتداء بلاول نے کی، مسلم لیگ ن، اے این پی، پی ٹی آئی اورجماعت اسلامی کھل کرایک دوسرے کے ساتھ تعاون پرآمادہ ہیں۔ یہ پریشردراصل موجودہ حالات میں انارکی جنم لینے اورعوام کی طرف سے ممکنہ احتجاج کاخوف ہے۔ ان میں ایکادراصل سرمایہ دارانہ ریاست اورنظام کاتحفظ ہے۔ جماعت اسلامی نے حکومت کی حمایت کی توقاسم تیلی نے سرمایہ داروں کیلئے مراعات کی مانگ کی۔

بظاہر دہشت کے خلاف جنگ کی طرح وبا کو بھی سماج کے تمام طبقات کیلئے یکساں خطرہ پیش کرنا اوربھی آسان ہے۔ پیش آمدہ خطرہ سے پورے سماج کوخطرہ کیلئے قراردے طبقاتی ہم آہنگی پرزوردیاجاتاہے۔ ہربحران سیاست کوبھی متاثرکرتاہے۔ اوریہی کورونا اوراس سے پیدا ہونے والے بحران کے ساتھ ہے۔ بحرانات حکمران طبقہ کوتقسیم اوریکجابھی کرتی ہے۔ پاکستان میں پہلے مرحلے پرتقسیم سے زیادہ یکجائی کارحجان نظرآیاہے۔ سیاسی جنتا ایک ہوگئی ہے۔ ان کے نزدیک بحران کاحل آپ کی سماجی محدودیت میں پنہاں ہے۔ یوں الزام عام آدمی کے سرپرتھوپنا آسان ہوجاتاہے۔ یہ اس حقیقت کوچھپادیتاہے کہ ریاست نے صحت کے شعبہ میں کوئی اقدام کیاہی نہیں ہے۔ اس لئے لبرل کے نشانے پروہ لوگ ہیں جو اجتماعات اورمذہبی فرائض پرزوردے رہےہیں۔ اس طرح ہماری نظریں ریاست اورحکومت سے ہٹاکر دقیانوسیت اورجاہلیت پرکردی گئی ہیں۔ بڑے بحرانات اپنے ساتھ لیڈرشپ کابحران بھی لاتے ہیں اورسرمایہ داروں کے عالمی بیانیہ کوبھی چیلنج درپیش کرتاہے۔ امریکی صدرٹرمپ سے لے کرعمران خان تنقید کی زد میں ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ کہتاہے کہ ٹرمپ کی بریفنگ کا میڈیا بائیکاٹ کیاجائے۔ لیکن اس تمام بحران میں بھی بورژوا لیڈرشپ نااہل اورنالائق قراردئے جانے والے عمران خان کوہاتھ مضبوط کرنے کیلئے اس کے پیچھے جمع بھی ہیں اورجیسے شہبازشریف کسی بھی قسم کے سمجھوتے کیلئے اسٹبلشمنٹ کیلئے اپنے کوقابل قبول اندازمیں پیش بھی کررہےہیں۔

وبا کوکراس کلاس پیش کرناجتناآسان ہے بظاہراتناہی اس کےخلاف جنگ کرنا مشکل ہوجاتاہے۔ لیکن روزاول ہی سے غیرمحفوظ اوردیہاڑی کے مزدوروں کے لاک ڈاون سے متاثرہونے کی حقیقت کوسب ہی نے تسلیم کیااگرچہ یہاں خیال یہی ہے کہ سماجی دوری اختیارنہ کرکے یہ لوگ اپنی موت کاخود ہی بندوبست کررہےہیں۔ دراصل سماجی دوری پرزوراس لئے زیادہ ہے کہ ایک توچین کی مثال ہے۔ دوسرایہ کہ طبقہ اشرافیہ سمجھتا ہے کہ اس سے کچھ بچت ممکن بھی ہے۔ یوں مڈل کلاس کابڑا حصہ اسی کوسب سے بہترنسخہ قراردے رہےہیں۔ اورپوری دنیا کاحکمران طبقہ صحت کے حوالے سے اپنے ناکامی چھپانے کیلئے اس کے پیچھے چپ گئے ہیں۔ لیکن بحران کے گھمبیرہونے اورحکمرانوں کی طرف سے ناکافی اقدامات حکمرانوں میں تقسیم بھی پیداکرسکتی ہے۔ اس تقسیم میں کوگہراکرناہی کسی عوامی تحریک کے منظم ہونے اورسہولیات کے حصول میں کارگرہوسکتاہے۔ صحت کے شعبہ سے وابستہ افرادمیں بے چینی بہت ہے۔ یہ غیرمحفوظ ہیں اورفرنٹ لائن پرہیں۔ پھرمتاثرہ مریضوں کے لواحقین کوپتہ ہےکہ مریضوں کیلئے ریاست کے اقدامات ناکافی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی دیہاڑی کے مزدوروں کے حالات ہیں۔ اگرہم اس کاپروپگنڈہ کرسکیں تومڈل کلاس نوجوانوں اورطالبعلموں کی ایک اچھی تعداد کوایڈریس کرسکتے ہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ جہاں کورونا کی وبا کو ازخود طبقاتی بناکرپیش کرنا مشکل ہے وہاں اس کے سماج کے نچلے طبقات پراثرات پرپیش کرنااسی قدرآسان ہے۔ سرمایہ داراورمڈل کلاس کے بعض ارکان بھی اس کے شکارہوسکتے ہیں جسیا کہ جرمنی کی انجیلامارکل، برطانیہ کے شہزادہ چارلس اورہمارے شاہ محمودقریشی اورسندھ کے وزیرسعید غنی اس کے شکارہوئے۔ یوں یہ خوف پھیلادیتاہے۔ لاک ڈاون کا اس صورت میں ساتھ دیاجائے جب ساتھ میں تمام افراد کواجرت بھی دینے اوراشیائے صرف اورخوراک کی پہنچ کابندوبست کیاجائے۔ خوف اورعوامی بے بسی نوجوانوں اور دانشوروں کوزورمتاثربھی کرتاہے۔ یہ ہم نے 2005کے زلزلہ میں دیکھاتھا۔ یہی موقع ہے کہ ہم ان کوصحت کے معاملہ پرمخاطب کرنے والے بن جائیں۔ ایسانہیں کہ عالمی اورمقامی سطح پرحکمرانوں پردباو نہیں ہوگا: ہمارا کام اس حقیقت کوزیادہ واضح کرنے والا اوردباوبڑھانے والانظرآنا والوں میں سے ہوناچاہئے۔ سرمایہ داروں کی جیبیں بھرنے کے ساتھ عمران خان کو سترلاکھ افراد کیلئے تین ہزارروپے دینے پڑے ہم کوبتانا چاہیئے کہ یہ ناکافی ہے اورمحدودہے۔ عالمی سطح پربرٹینی اسپئرجیسے فنکاربھی آگے ارہےہیں جو نچلے طبقات پراس بحران کے اثرات کودیکھ کر ہڑتال اورامریکہ میں دولت کی ازسرنو تقیسم کی بات کرہے ہیں۔

میرے خیال میں دونعروں کیلئے ماحول سازگارہے اورمیں نے اپنے طورپراس کی قبولیت بھی دیکھی ہے۔ پہلے توتمام متاثرہ افراد کیلئے پورے ملک میں مفت علاج کا مطالبہ ہے۔ آغاخان، لیاقت نیشنل، الشفاء اورفوجی اسپتالوں میں بھی یہ مفت کیاجائے۔ اس کے ساتھ ہی صحت عامہ کامطالبہ ہے یعنی تمام شہریوں کیلئے صحت کی سہولیات کی فراہمی کامطالبہ، صحت کے بجٹ میں اضافہ، ڈیم فنڈز کااس طرف چینلائزڈ کرنا اوردفاعی بجٹ میں کمی ہے۔ حکومت کی صحت کے شعبہ میں نجکاری کی پالیسی پرتنقید کی جائے اورپبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ اوراین جی اوز کوپورے اسپتال یا اس کے چند شعبے حوالے کرنے کے خلاف مہم چلائی جائے۔ بڑے نجی اسپتالوں اوربڑی فارما انڈسٹری کوقومیانے کی پرزورمہم بھی چلائیں۔ صحت کے شعبہ سے وابستہ افراد کے مطالبوں جیسے ینگ ڈاکٹرزکے مطالبات کوآگے بڑھایاجائے۔ ملک میں صحت کے حوالے سے ایمرجنسی کا اعلان کیاجائے۔

دوسرا اہم مطالبہ یونیورسل پے کاہے: یعنی تمام بالغ شہریوں کیلئے کم ازکم بیروزگاری الاونس کامطالبہ۔ یہ کم ازکم ماہانہ تنخواہ یعنی 16000 ہی کانعرہ لگانابہترہوگاحالانکہ ہم سےاکثرکی خواہش ہوگی کہ اس کوایک تولہ سونے کے برابرقراردیاجائے مگر30،000روپے کامطالبہ بھی دانشوروں کوزیادہ لگتاہے۔ لہذآء سولہ ہزارماہانہ کامطالبہ تمام شہریوں کیلئے بیروزگاری الاونس کے مطالبہ سے شروع کیاجائے۔ میرے خیال میں اس بحران کے دورمیں سرمایہ داروں کوملنے والی سبسڈی کے ایشوپرتنقید بڑھائی جائے۔ حکومت پردباوبھی ہے۔ آج سندھ حکومت کی طرف سے ایک بیان میں سرمایہ داروں کوہدایت کی گئی ہےکہ مزدوروں کوبحران کے دوران کام سے نہ نکالاجائے۔ حکومت کوپتہ ہے کہ اس پرعمل نہیں ہوگامگروہ عوامی دباومیں ایساحکم جاری کرکے اپنے پرسے دباوہٹاناچاہتی ہے۔ مزدوروں کی اکثریت ٹھیکیداری نظام سے وابستہ ہے یا انفارمل سیکٹرکاحصہ ہے۔ دیہاڑی کے مزدوراورمزدورطبقہ کے بکھرے حصہ کوایڈریس کرنا آسان نہیں مگرتجارت اورکاروبارجیسے سیلزو سروس، انفارمیشن ٹکنالوجی سے وابستہ نوجوان مزدوروں کوضرورایڈریس کیاجاسکتاہے۔

اس وبائی صورتحال میں مزدورطبقہ کے اتحاد اوراس کی انٹرنیشنل ازم کوہرگزنظراندازنہ کیاجائے۔ اولین فرقوں جیسے شیعہ کے خلاف پروپگنڈہ کوکاونٹرکیاجائے۔ دوسرایہ کہ عالمی سطح پرسامراجی ممالک اوراداروں کی طرف سے ممالک جیسے ایران اوروینزویلا کے خلاف پابندیوں کی مخالفت کی جائے۔ اس کی وجہ سے عام لوگوں کومرنے دینا جیسی پالیسیوں پرتنقید کی جائے مگرایرانی ریاست کے اندرجبرکونظراندازنہ کیاجائے۔

تیسراکام حکمرانوں کوایکسپوز کرناہے اوران کے درمیان اگرکوئی خلیج ہے تواس کووسیع کرناہے۔ مارکس، گرامچی وغیرہ پڑھنے سے واضح ہوتاہے کہ ہمارا سوشل میڈیا پربحث کسی سرمایہ دار یا اس نمائندے یا بلاول اورعمران خان سے نہیں ہوتی بلکہ ہمارا مقابلہ اپنے ہی جیسے افراد، دوستوں اوررشتہ داروں سے بحث میں ہوتے ہیں جن کے سرمیں حکمران طبقہ کے خیالات کسی نہ کسی طرح سے سمائے ہوئے ہوتے ہیں، چاہے یہ لبرلز کی شکل میں ہوں یامذہبی۔ مارکس کہتاہے کہ حکمران طبقہ کے خیالات سماج پرحاوی ہوتے ہیں اورآج بھی کسی نہ کسی شکل میں ہیں۔ لیکن حقیقی زندگی کے حالات ان خیالات سے ٹکراتے ہیں۔ یوں ایک اصلاح پسندانہ خیالات سامنے آتے ہیں۔ جس میں حکمرانوں کی نیت پرشک وشبہیہ کے ساتھ ساتھ ان ہی میں سے کسی بہترسے حالات کی بہتری کی گنجائش بھی موجودہوتی ہے۔ لیکن بحرانات میں حالات تیزی سے بدلتے ہیں۔ ہمیں ایسے میں اپنا انقلابی متبادل  پیش کرنے میں کم دقت کاسامنا کرناپڑتاہے۔ اس بحران کے اثرات جلد زائل ہونے نہیں لگتے۔ اس کی ناصرف یہ کہ معیشت اورتجارت سے لے کرریاستی منصوبہ بندی پراثرات پڑیں گے بلکہ سیاست، سماجیت اورثقافت پربھی گہرے اثرات مرتب ہوسکتےہیں۔ حالات زیادہ خراب ہوِئے توحکمرانوں کےدرمیان خلیج بڑھ بھی سکتی ہے جس میں پرانی لیڈرشپ بہہ بھی سکتی ہے۔ نئے فن کاراورثقافتی شکلیں سامنے آئیں گی اس میں کس قسم کاادب بنتاہے یہ سماجی تحریک سے ہی ممکن ہوگا، مایوسی اوریڈیکل کے درمیان ہمیں ایک الگ متبادل پیش کرناہے جوعوامی اورطبقاتی ہو۔

اس بحران میں بھی سرمایہ داربطورطبقہ اپنے منافع جات اوراستحصال سے دستبردارنہیں ہوئی۔ ایک طرف لوگ مررہے ہیں جن کوعلاج اورخوراک کی ضرورت ہے اوردوسری سرمایہ دارکے گروہ کے گروہ سبسڈی اورنقصانات کے ازالے کیلئے کھڑے ہیں۔ اگرطرف حکمران کہتے ہیں کہ سماجی دوری ہی حل ہے تودوسری طرف کارخانے چلائے جارہے ہیں۔ ہمیں اس کے برعکس عوامی مطالبوں کوآگےبڑھاناہے۔ وبا نے حکمران طبقہ کوننگاکردیاہے۔ ہربحران نئے امکانات بھِی سامنے لاتاہے جب حکمران طبقہ اوربنانیہ، سرمایہ دار پارٹیاں سماج پراپنی گرفت قائم کرنے میں زیادہ کارگرنہیں رہتیں۔ کیونکہ سب کولگتاہے کہ سرپرچھت نہیں رہی جس کی گارنٹی حکمراں مہیاکرتے تھے۔ ہمیں اس موقع سے فائدہ اٹھاناچاہیے۔ میرے خیال میں اسٹرٹیجی کے لحاظ سے اول تواپنی تنظیم نو کی طرف توجہ دیناہے۔ ایک ایسا نیٹ ورک بناناہے جو مواد کوسامنے لاسکے۔ اس مِیں خیالات کوجامع اندازمیں پیش کرنے والے اورکچھ ٹیکنکل قسم کے نوجوانوں کی ورکنگ ریلشن شپ ہےتاکہ ہم بدلتے حالات میں ایک مربوط، مختصر اورجامع موقف سامنے لاسکیں اوردیگرتمام ساتھی اس کیلئے سوشل میڈیا پرلڑسکیں۔ دوسرا سوشل میڈیا اورصحت کے شعبہ حوالے ملازمین کوٹارگٹ کیاجاسکتاہے۔ تیسرا یہ کہ ملک کے ہم خیال افراد، دانشوروں، نوجوانوں، گروپوں سے رابطہ کاری کی جائے اورایک وسیع ترفرنٹ بنانے کی کوشش کی جائے جو اصلاحات سے بڑھ کرانقلاب کیلئے لڑے تاکہ ہم ریاست پرایک دباوڈالنے موثرنظرآئیں یہ ہمارے اندرمایوسی کوختم کرے گی جب ہم اپنے ہی جیسے انقلابیوں سے رابطہ کریں گے۔ یہ ملک گیرانقلابی پارٹی بنانے میں معاون ہوسکتاہے جوکسی ابھارمیں کوئی کردار اداکرنے کے قابل ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *