اسٹالینی ہیروازم

اسٹالینی ہیروازم

تبصرہ : کرس ہارمن، ترجمہ: ریاض احمد

کتاب:نازی جرمنی میں کمیونسٹ مزاحمت
(Communist Resistance in Nazi Germany)
مصنف: ایلن مرسن

1933ء جرمنی میں نازیوں (فسطائیوں) کی جیت محنت کش طبقے کی تحریک کی سب سے بڑی شکست تھی۔ دنیا کی سب سے پرانی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی، دوسری سب سے بڑی اور ایک کروڑ تیس لاکھ ووٹ لینے والی کمیونسٹ پارٹی سے لڑے بغیر ہٹلر اقتدار پر براجمان ہو گیا۔ وہ اس بنیادی معاشی اور سیاسی ڈھانچے کو ہفتوں کے اندر تباہ کرنے کے قابل ہوا جس کی تعمیر میں ساٹھ سال سے زیادہ کا عرصہ لگا تھا۔ لیکن اس شکست کا مطلب یہ نہیں تھا کہ بہت سے باصفا کارکنوں نے جدوجہد ترک کر دی۔یہ کتاب ان لاکھوں کمیونسٹوں کے بارے میں بتاتی ہے جنہوں نے مشکل ترین حالات میں اپنے نظریات پر قائم رہتے ہوئے جدوجہد جاری رکھی۔ یہ ششدر کر دینے والی شجاعتوں اور ذاتی قربانیوں کی داستان سناتی ہے۔
صرف اعدادوشمار ہی سے اندازہ ہو جاتا ہے۔ 1932ء میں جماعت کے تین لاکھ ارکان تھے، ایک اندازے کے مطابق ان میں سے ایک لاکھ پچاس گرفتار ہونے اور ان کے خلاف کارروائی ہوئی۔ نازیوں کے ہاتھوں قتل، پھانسیوں یا جبری مشقت کے کیمپوں میں روا رکھنے والے سلوک سے پچیس ہزار سے زائد جان سے گئے۔ جنگ شروع ہونے کے بعد ابتدائی سالوں میں زندہ رہ جانے والے تقریباً تمام کارکن کم از کم ایک بار جبری مشقت کے کیمپوں میں جا چکے تھے۔ اس کے باوجود انہوں نے منظم ہونے، احتجاج کرنے، خلاف قانون رسالوں کو تقسیم کرنے، مارکسی تدریس کا اہتمام کرنے، جنگ کی کوششوں کو سبوتاڑ کرنے اور ملکی سطح پر جماعت کو ازسرنو منظم کرنے کا کام جاری رکھا۔ یہ وہ وقت تھا جب سیاسی اختلاف کے خفیف سے اظہار پر بھی سزائے موت دینے کی کھلی چھوٹ تھی۔ 1944ء4 میں سویلین قید خانوں سے 5764 افراد کو موت کی سزائیں دی گئیں اور فوجی عدالتوں نے ہزاروں کو موت کی سزا سنائیں۔لیکن اتنے وسیع پیمانے پر جبر کی مزاحمت کرنے والوں کی جر?ت کو بیان کرنے سے بات مکمل نہیں ہوتی۔ حالات سے اس حقیقت کا انکشاف ہوتا ہے کہ نازیوں کے برسرِاقتدار آنے کو نظرانداز کردیا گیا تھا۔ یہ ایک سرمایہ دارانہ رجیم تھا۔ اسی لیے اسے ان محنت کشوں سے تشویش رہتی تھی کیونکہ وہ فیکٹریاں چلاتے تھے اور جنگوں کے لیے ضروری مواد تیار کرتے تھے۔ ٹم میسن کی تحقیقات کو بنیاد بناتے ہوئے مرسن بتاتا ہے کہ نازی رجیم کی عسکری حکمت عملیوں کو محنت کش طبقے کی بے چینی دیکھکر بنایا گیا تھا۔
1918ء میں محنت کشوں نے جنگ سے پیدا شدہ مشکلات کی وجہ سے مزدوروں نے بغاوت کی تھی، اسی بنا پر ہٹلر نے جنگ عظیم دوم میں ایک جارحانہ پالیسی اپنائی۔ اس کا مقصد مختصر اور تندوتیز جنگوں کی مدد سے دوسرے ممالک کے وسائل پر قبضہ کرنا تھا۔ اس طرح عوام کے معیار زندگی میں کمی کے اندیشے سے بَری ہو کر مزید جنگوں کے لیے مال اکٹھا کرنا تھا۔ اسی لیے سٹالن گراڈ میں 1942 میں ہونے والی شکست کے بعد ہی محنت کشوں کو حقیقی مادی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ جرمنی کے محنت کش طبقے نے ہٹلر رجیم کی حمایت کی۔ “سوشل ڈیموکریٹ”، کمیونسٹ یا گسٹاپو سے ملنے والے تمام شواہد عندیہ دیتے ہیں کہ مزدوروں کی اکثریت کا رویہ بھرپور مخالفت سے لے کر دست برداری، بیزاری، مخالفت اور روکھا رہا۔ مرسن شواہد کا خلاصہ بیان کرتا ہے:
“محنت کش طبقہ رجیم سے غیر مطمئن اور بے گانہ رہا۔ نازی دہشت اور انتقام کی مدد سے محنت کشوں کو خاموش کرانے میں کامیاب ہوئے۔”
شکست کے بعد محنت کش طبقے کی اکثریت سرگرم سیاسی شمولیت سے بیزار ہو چکی تھی۔نازیوں کے خلاف کسی انقلابی مزاحمت کو یہ مسئلہ درپیش تھا کہ مزدوروں کی اس کیفیت کے ہوتے ان سے کیسے ربط پیدا کیا جائے۔ مرسن کے خیال میں مزدوروں کی اکثریت کی حمایت حاصل کرنے کا حقیقی موقع اس وقت آیا جب رجیم فوجی مہمات کی شکست کے بعد اپاہج ہو گیا۔ ایسا گیارہویں یا بارہویں برس ہوا۔ لیکن رجیم کے اولین سالوں میں کمیونسٹ پارٹی اور کمنٹرن نے صورت حال کو تسلیم کرنے سے انکار کیا۔ہٹلر کے اقتدار میں آنے سے قبل ان کا اصرار تھا کہ ہٹلر کی حکومت قبل ازیں تھوڑے عرصے کے لیے آنے والی دائیں بازو کی حکومت سے مختلف نہیں ہو گی۔ اس لیے وہ انہیں “فسطائی” اور ایسی حکومتوں کو برداشت کرنے والی “سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کو “سوشل فسطائی” کہتے تھے۔
ہٹلر کے اقتدار میں آنے پر بھی کمیونسٹ پارٹی اور کومنٹرن کے رہنماؤں نے یہی مؤقف اپنائے رکھا۔ ان کے نزدیک ہٹلر کا محنت کشوں کی تنظیموں پر پابندی لگانا آمدہ انقلاب سے بے حد خوف زدہ ہونے کا عندیہ ہی تو تھا۔ ان کے خیال میں چند ماہ کے اندر انقلابی ابھار آنے والا تھا اور نازی ازم کو بہا لے جانے والا تھا۔ ایک کمیونسٹ رہنما نے کچھ ایسی بات ان الفاظ کی، “ہٹلر کے بعد ہماری باری ہے۔”کمیونسٹ کارکنوں کو اسی سوچ کے ساتھ سیاسی سرگرمیاں کرنے کی ہدایت کی گئی۔ البتہ اس کے بجائے کام کو وسیع کرتے ہوئے محنت کشوں کے مزید حصوں کو منظم کرنے کی ضرورت تھی۔ بڑے پیمانے پر لیفلٹ تقسیم کیے جاتے، خفیہ رسالے بڑی تعداد میں فروخت کیے جاتے، “ریڈ ایڈ” اور “ریوولوشنری ٹریڈ یونین” جیسی پارٹی کی فرنٹ تنظیموں کی مزاحمت کو بڑھایا جاتا، مظاہرے کیے جاتے اور پٹیشنز پیش کی جاتیں۔پارٹی کو خود غیرقانونی طور پر رہنا پڑنا تھا۔ لیکن اسے اپنے پرانے طریقے کو جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے تھی جس میں ایک انتہائی مرکزیت پسند تنظیمی ڈھانچہ قائم تھا۔ اس میں کا کلیدی کام چندہ جمع کرنا، ممبرشپ کارڈ پر مہریں لگانا، بڑے پیمانے پر تحریری مواد بیجنا اور انفرادی سیلز (یونٹس) کی کامیابیوں اور ناکامیوں کی تفصیلی خبر رکھنا تھا۔ یہ طریقہ کار تباہ کن رہا۔ یہ سیدھا گسٹاپو کے ہتھے چڑھا اور بلامبالغہ اس کے ذریعے ہزاروں کمیونسٹوں کو جیلوں میں ڈالا گیا، اذیت دیں گئیں اور بڑی تعداد میں مار ڈالا گیا۔ کتاب اس نکتے کی وضاحت کرنے سے معذور ہے کہ یہ طریقہ کار کیوں اپنایا گیا تھا۔
اس کے بعد مصنف کی سیاسی سمجھ بوجھ کی ایک اور کمزوری کا اظہار ہوتا ہے۔ اس نے یقیناً اس وقت کے مشرقی جرمنی اور مغرب نواز ذرائع سے حاصل شدہ بہت سے مواد کا مطالعہ کیا ہے۔ لیکن وہ غیر سٹالینی انقلابی دلائل سے بالکل لاعلم نظر آتا ہے۔ اس لیے مثال کے طور پر وہ لکھتا ہے کہ 1930۔32ء4 میں “تحریک کو درپیش مسائل کے لیے لینن کی سطح کے نظریہ دان کی ضرورت تھی، لیکن سوائے گرامچی کے، جو جیل میں تھا، “تیسری انٹرنیشنل” کے پاس اب ایسا نظریہ دان نہیں تھا۔”اس سے آپ کو اندازہ ہوتا ہے کہ مصنف نے جرمن نازی ازم پر ٹراٹسکی کی تحریروں کا مطالعہ نہیں کیا جس نے اس موضوع پر سیکڑوں صفحات لکھے۔ اسی طرح وہ سٹالینی تجزیے کے دیگر تنقید نگاروں سے بھی ناواقف ہے جیسا کہ جرمن کمیونسٹوں میں “دائیں بازو کی حزب اختلاف” کے نظریہ دان تھلہیمر سے۔اس سے مصنف کی ایک اور جزوی خامی کا اظہار ہوتا ہے۔ مرسن بظاہر یہ سمجھ ہی نہیں پایا کہ سٹالن ازم نے انفرادی کمیونسٹ پارٹیوں میں آزادانہ سوچ کی صلاحیت کو کیسے برباد کیا۔ ان جماعتوں میں جنہوں نے “سوشل فسطائیت” کے نکتہ نظر کی مخالفت کی انہیں پارٹی سے خارج کیا گیا اور انہیں سیاسی جلاوطن کا شکار بنایا گیا۔نہ مصنف یہ سمجھ پایا کہ چند وسط قابلیت کے افراد کو سٹالن نے قائدین کی صف میں کیوں لا کھڑا کیا۔ اس کی سب سے بڑی مثال جرمن کمیونسٹ پارٹی کا قائد تھائلمان ہے۔ اس کی ذاتی جرا?ت کا تقابل اس کی پست سیاسی بصیرت سے کسی طور نہیں کیا جاسکتا۔ (اس کے برخلاف جنہیں اس نے نکالا مثال کے طور پر برانڈلر، تھالہیمر، فلوریخ اور دیگر، وہ جنہوں نے “سوشل فسطائیت” کے نکتہ نظر کی حماقت کو سمجھ لیا تھا، کہیں زیادہ سیاسی بصیرت رکھتے تھے)۔
البتہ سٹالن ازم کی جانب نرم رویے کے باوجود کتاب مطالعہ کے لائق ہے۔
(کتاب کی پی ڈی ایف فائل marxists.orgپر دستیاب ہے)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *