کیمیا گر

کیمیا گر

تبصرہ : روزا خان

اپنے دورمیں سب سے زیادہ شہرت پانے والی کتابوں میں سے ایک پولوکوہیلو کالکھا گیا یہ ناول ہے۔جسے آج بھی نوجوانوں میں کافی پسند کیا جاتا ہے اورجامعہ میں لگنے والے کتابی میلہ میں سب سے زیادہ تلاش کی جانے والی ناولوں میں سے ایک ہے۔
میں نے کچھ دن قبل اپنی ایک نوجوان استاد سے کوئی اچھی سی کتاب دینے کی فرمائش کی تو انہوں نے مجھے یہ ناول یہ کہہ کر دیا کہ تمہیں یہ ضرور پڑھناچاہئے۔
کہانی اسپین میں مقیم ایک لڑکے کے گرد گھومتی ہے جسے گھومنے پھرنے کا بہت شوق ہوتا ہے اس لئے وہ سارا دن اپنے ریوڑ لے کر ادھر اُدھر پھرتا رہتا ہے۔ ساتھ ہی مختلف کتابیں پڑھتا اور خود کو بہت ذہین تصور کرتا ہے۔پیسوں کی قلت کی وجہ سے وہ اپنے سیاحت کے اس شوق کو چونکہ پورانہیں کر سکتا لہذا وہ اس کو ذہانت خیال کرتا ہے کہ وہ اپنے جانوروں کی حرکات سے ان کی زبان سمجھ لیتا ہے اور وہ بہادرہے کیونکہ وہ اپنے والد سے اپنی مرضی کا کام کرنے کے لئے راضی کر پایا۔
اکثر و بیشتر ہمیں یہ الفاظ عموما سننے کو ملتے ہیں کہ پہلے اپنے گریبان میں تو جھانکو۔یہ بات دراصل تب کہی جاتی ہے جب کوئی کسی پر ایک ایسی بات کا الزام لگاتا ہے جو کہ اس میں خود بھی ہو۔مثلا اگر کوئی شخص جھوٹ بولتاہو اوروہ کسی دوسرے کو جھوٹ بولنے پر ٹوکے تب یہ کہاوت کہی جا سکتی ہے۔اسی کہاوت کا عملی نمونہ اس لڑکے کے تجربہ میں آتا ہے جب یہ ایک بوڑھے شخص سے ملتا ہے اور اسے شیخ چلی سمجھ لیتا ہے کیونکہ وہ شخص کہتا ہے کہ وہ بہت گھومتا رہا ہے جبکہ اسے وہ حُلیے سے کافی غریب دکھائی دیتاہے۔ لیکن اس کے اپنے متعلق اور لوگوں کے متعلق نظریات کوایک دھچکا لگتا ہے جب اسے معلوم پڑتا ہے کہ اس کا خیا ل غلط تھااور وہ مفلوق الحال نظر آنے والا بوڑھا شخص تو اصل میں بادشاہ ہے۔
اسی طرح اس کے ان نظریات کو جو اس نے صرف پڑھ پڑھ کر سیکھے ہوتے ہیں،کو قد م قدم پر دھچکے لگتے جاتے ہیں جب یہ عملی طور پر اسپین چھوڑ کر مصر کی طرف یہ سوچ کر نکل پڑتاہے کہ وہاں اسے کوئی چھُپا ہوا خزانہ ملے گااور یہی سے کہانی میں ایک نیا موڑ آتا ہے۔
بنیادی طور پر اس ناول کا مقصد عمل اور خوابوں کے درمیان فرق کو اُجاگر کرتا ہے۔ نظریہ بنا عمل اور عمل بنا نظریہ ادھورا ہے۔بہت خوبصورتی سے پولو کوہیلو نے اس لڑکے کا سفرنامہ بیان کیا ہے جس میں کہ قدم قدم پر اس کی کتابی علم کو چیلنجز کا سامنا ہوتا ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ اس کی ذہانت بھی اس کی ان چیلنجز سے نکلنے میں مدد کرتی ہے۔
اسپین میں رہتے ہوئے کتابوں کی مدد سے اس کے کچھ نظریات تو ہوتے ہیں لیکن ان میں عملی تجربات کی کمی ہوتی ہے۔ اس کا محبت ، ذبانت، بہادری کے متعلق چند خیالات ہوتے ہیں اور اپنے متعلق بھی یہ کچھ خوش فہمیوں کا شکار ہوتا ہے۔ مختصرا یہ کہ یہ کنویں کا وہ میڈک ہوتا ہے جس کی زندگی کنویں سے شروع ہوکر کنویں میں ختم ہوتی ہے اور وہ اسی کنویں کو ساری کائنات تصور کرتا ہے ۔ اس کائنات میں چند جانور اور وہ سیاح ہوتے ہیں جو کہ اس کی ذہانت کی تعریفیں کرتے ہیں۔ اُنہی سیاحوں میں سے ایک لڑکی ہوتی ہے جس کو کتاب پڑھنی نہیں آتی اور وہ اس لڑکے کی تعریف کرتی ہیں کیونکہ اسے کتاب پڑھنی آتی ہے۔دل ہی دل میں ان خوابوں میں جینا شروع کر دیتا ہے کہ اس لڑکی کو مجھ سے محبت ہوگئی ہوگی کیونکہ میں ذہین ہوں اور میری ذہانت کا ثبوت میرا کتاب پڑنا ہے۔ لیکن اپنے سفر میں اسے جب ایک اور لڑکی سے محبت ہوجاتی ہے تو تب اسے محبت کا ایک نیا نظریہ ملتا ہے ۔
جب یہ لڑکااس علاقے جس میں اس کی محبوبہ رہتی ہے،کو چھوڑتے ہوئے مصرکی جانب نکلنے لگتاہے تو یہ اپنی محبوبہ فاطمہ سے آخری ملاقات کرتا ہے اور اسے یقین دلانے کی کوشش کرتا ہے کہ مجھے تم سے محبت ہے اس لئے میں واپس آوٗں گا لیکن میرا ایک خواب ہے مجھے وہ پوراکرنے جانا ہے۔ تب وہ لڑکی اس کی کسی بات پر کان نہ دھر کر اس کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے اس کا انتظارکرنے کی بات کرتی ہے۔
“Don`t say anything,” Fatima interrupted.”One is loved because one is loved. No reason is needed for loving.”
177صفحات پر پھیلی ہوئی کتاب کو ایک صفحہ میں سمیٹا نہیں جا سکتا ۔اس لئے کتاب کے بہترین ہونے اورلکھاری کی سوچ کی گہرائی کی باریکی کا اندازہ تو کتاب پڑھنے سے ہی لگایا جاسکتا ہے۔یہ کتاب واقعی ایک بہترین کتاب ہے۔جسے بہت آسان الفاظ میں لکھا گیا ہے اور بہت مہارت کے ساتھ کائنا ت کو کوزے میں سمیٹا گیا ہے۔جیسے
We have to be prepared for change, he thought, and he was grateful for the jacket`s weight and warmth.
The jacket had the purpose, and so did the boy.
کتاب کے دیباچے میں پولوکوہیلو لکھتا ہے کہ میں نے یہ کتاب اس لئے لکھی ہے کہ گیارہ سالوں تک میں نے کیمیا پڑھا کہ کس طرح دھات کو سونے میں تبدیل کیا جاسکتا ہے مطلب اسے کارآمد بنایا جاسکتا ہے لیکن دوسری جانب اہرام مصرہے جو کہ کئی سال قبل بنائے گئے اور جو آج کے اس دور میں بھی ایک عجوبہ ہیں۔
مزید لکھتا ہے کہ ایک دن میں نے اپنے استاد سے پوچھاکہ آخرکیوں کیمیا دان پیچیدہ اورمشکل الفاظ اور باتوں کا چُناؤ کرتے ہیں تو میرے استاد نے کہا کہ تین قسم کے کیمیا دان ہوتے ہیں ۔ ایک وہ جو پیچیدہ ہوتے ہیں کیونکہ ان کے پاس علم کی کمی ہوتی ہے۔ دوسرے وہ جو نہیں جانتے کہ وہ کیا کر رہے ہیں اور تیسرے وہ جنہوں نے کبھی الکیمیا کا نام بھی نہیں سُنا ہوتا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *