نظریہِ محبت

نظریہِ محبت

تحریر: ایرک فرام ، مترجم: روزاخان، قسط ۳

انسان کی شدید خواہش ہوتی ہے کہ اپنے ساتھی انسانوں سے اپنے علیحدہ ہونے کے احساس کو کسی طرح کم کر کے تنہائی کی قید سے آزاد ہو جائے۔اگرکوئی انسان اس احساس کو کم کرنے کی کوشش میں مکمل طور پر ناکام ہوجاتاہے تو اس پر دیوانگی یا جنونیت طاری ہوجاتی ہے۔انسان کے لئے یہ بہتر ہے کہ وہ روحانی اور جسمانی طور پر دوسرے لوگوں سے اپنی علیحدگی کی وجہ سے پیدا کونے والے تنہائی کے احساس کو کسی طرح کم کر پائے۔انسان کہ یہ تنہائی نظروں سے اوجھل لیکن موجود ہوتی ہے۔
ہر دور اور ثقافت کا انسان اس ایک سوال کے جواب کا متلاشی رہا ہے۔کیسے اپنی تنہائی کو کم کیا جائے؟کیسے وصل کی راہیں طے کی جائیں؟کیسے دوعلیحدہ وجود اس مقام تک پہنچے کہ یک جان ہو جائے؟چاہے تہذیب سے بے خبر غاروں میں رہنے والا انسان ہو یا اپنے ریوڑوں کو سنبھالتے خانہ بدوش،مصر کے کسان ہوں یا فیونیشین تاجر،رومی سپاہی ہو یا قرون وسطی کا جوگی،جاپان کا سامورائی ہو یاجدید زمانے کا کلرک یا مزدور،سب نے ہی اپنے سامنے اس سوال کو کھڑا پایا ہے۔جسکا جواب وقت کے ساتھ ساتھ ہر دور میں بدلتا رہا ہے۔جانوروں کی پوجا،انسانوں کی طرف سے دی جانے والی قربانیاں،فوجی قبضے،نفس پرستی ، صوفیانہ طرززندگی،حکمرانی،تخلیقی عمل،عشق حقیقی یا عشق مجازی، ان سب پہلووں سے اس ایک سوال کا جواب پیش کیا جاتا رہاہے۔اسطرح انسانی تاریخ میں ہی اس کے بے شمار جوابات موجود ہیں۔لیکن جوشخص اس مرکزی مسئلے کو چھوڑ دوسرے چھوٹے موٹے مسائل کی طرف متوجہ ہوتا ہے اُسے اس کے مختلف ثقافتوں سے وابستہ انسانوں کے پیش کردہ چند آدھ حل ہی مل پاتے ہیں۔حالانکہ فلسفے اور مذہب کی تاریخ اس ہی ایک سوال کے جواب، اس کے تنوع اور حدودکی تاریخ ہے۔
اس سوال کے جوابات کا انحصار کسی طور فرد کے اپنے بدلتے درجات پر ہوتا ہے۔شیر خوار بچے میں انفرادیت کا احساس ماں سے یگانگت کی وجہ سے قدرے کم ہوتاہے۔اس کی ماں ہمیشہ اس کے ساتھ موجود ہوتی ہے جو اس میں تنہائی کے احساس کو پیدا نہیں ہونے دیتی۔اس کے ساتھ ماں کی جسمانی موجودگی جیساکہ اُس کی چھاتیاں، اُس کا لمس تنہائی کے احساس کو ختم کرتا رہتا ہے۔جب بچہ بڑا ہوجاتا ہے تو اسے یہ بات محسوس ہونے لگ جاتی ہے کہ وہ تنہا ہے کیونکہ اب وہ اپنی ماں سے جدا ہو جاتا ہے اور یہ جدائی اسے اب تنہائی کو کم کرنے کے لئے مختلف طریقوں کی تلاش کی جانب بڑھاوا دینا شروع کر دیتی ہے۔
اسی طرح بچپن میں انسان قدرت کے ساتھ بھی یگانگت محسوس کرتا ہے۔مٹی،جانور،پودے وغیرہ اس کی دنیا کا حصہ ہوتے ہیں۔انسان خود کو ایک جانور کی طرح ہی دیکھتا ہے جس کا اظہاروہ جانوروں کے ماسک پہن کر،ٹوٹم جانوروں کی پوجا سے یاجانوروں کی شکل کے خُدا بنا کر کرتا ہے۔ انسان جتنا خود کو جتنا ان بندھنوں(مذہب، خدا کے بُت وغیرہ)سے باندھتاگیا اُتنا ہی فطرت سے دور ہوتاگیا اور اس میں اپنی تنہائی سے چٹکارا حاصل کرنے کا احساس مزید شدید ہوتا گیا۔
نتہائی کے اس احساس سے چٹکارا پانے کا ایک طریقہ توبیخودی کی حالت ہے جو نشہ آور چیزوں کے استعمال کے نتیجے میں ہوتی ہے۔بہت سے قدیم قبائل کے رسوم میں اس طریقہ کار کی واضح صورت ملتی ہے۔وجدانی حالت میں بیرونی دنیا اوجھل ہوجاتی ہے اور اس کے ساتھ ہی تنہائی کا احساس بھی۔جیسے جیسے یہ دینی رسمیں عام ہونے لگیں ،تو اس تجربے کو کرنے والوں کے گروہ بنتے گئے جس کی وجہ سے اس حل کو ذیادہ مؤ ثرسمجھا جانے لگا۔اسی سے ملتا جلتا یا مستی کی ایک اور حالت جنسی تجربہ ہے۔جنسی عمل یا منشیات بھی فرد پر اسی طرح بیخودی کی کیفیت طاری کر دیتا ہے ۔کئی قدیم روایات میں اجتماعی جنسی عمل کی رسمیں ملتی ہیں۔ اس عمل کے بعد انسان اپنی تنہائی سے وقتی طور پر چٹکارا پا لیتا ہے۔دھیرے دھیرے جب دوبارہ ذہنی اُلجھن بڑھ جاتی ہے تو اس روایتی عمل کو دُہرایا جاتا ہے۔جیسے جیسے مشترکہ جنسی عمل کاطریقہ کار قبیلے یا گروہ میں عام ہوتا گیا ، اُلجھن اوراس عمل سے جُڑا خطا کا احساس جاتا رہا۔ اس فعل کو ناصرف صحیح بلکہ نیک مانا جانے لگا کیونکہ یہ پادریوں کے لئے بھی اور عام لوگوں کے لئے بھی دوا کے طور پر ایک اجتماعی،مقبول اور مطلوب طریقہ کار تھا جس میں اب کسی قسم کی شرم یا گناہ کا احساس باقی نہ رہا۔لیکن اگر کو ئی انفرادی طور پر یہ عمل کرتا تو ٹھیک نہ سمجھا جاتا کیونکہ یہ ثقافت کی خلاف ورزی تھی۔شراب نوشی اور نشہ انسان تب چُنتا ہے جب ثقافت میں اس قسم کی رنگ رلیوں کی اجازت نہ ہو۔ بعد میں سماج کی طرف سے پیش کئے گئے اس اجتماعی جنسی عمل جیسے حل سے کچھ لوگوں میں احساس جرم اور ندامت جیسے احساسات نے جنم لینا شروع کئے۔تب اُنہوں نے اپنی تنہائی سے نجات پانے کے لئے شراب یا نشے کا سہارا لیا جس سے اُن میں جنسی عمل کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ندامت کا احساس کم ہوتا گیااور اس طرح نشے کے اس عمل میں تیزی اورشدت آ گئی اور اس نے جنسی عمل کی جگہ لے لی۔جنسی عمل کچھ حد تک قدرتی اورعام تھا اور تنہائی کے مسئلے کا آدھا آھورا حل بھی ۔لیکن بہت سے لوگوں کے مطابق شراب نوشی اور نشے کی عادت اس عمل سے زیادہ مختلف نہیں ۔جنسی عمل تنہائی کے احساس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اُلجھن سے نجات کا ایک طریقہ تو ہے لیکن اس کے بعد تنہائی اور بڑھ جاتی ہے کیونکہ پیار بناء یہ عمل ما سوائے وقتی طورپر کبھی بھی دوانسانوں کے بیچ خلاء کو پُر نہیں کرسکتا۔

ہر قسم کی عیاشی کے اثرات کی تین خصوصیات ہوتی ہیں :اس میں شدت ہوتی ہے، یہ پوری شخصیت کو متاثر کرتی ہے یعنی جسم
اور دماغ ،یہ عارضی اورمعیادی ہوتی ہے۔تنہائی سے نجات کے اس طرح کے حل جسے ماضی اور حال کا انسان چنتا آیاہے،کو گروہ، اس کے رسم و رواج اور عقائد سے تصدیق کی ضرورت ہوتی ہے۔یہا ں ایک اور قابل غور بات سامنے آتی ہے۔قدیم سماج میں گروہ چھوٹے ہوتے تھے جس میں وہ لوگ شامل تھے جن سے خون اور وطن کا رشتہ ہولیکن بدلتے دور کے ساتھ گروہ کا سائزبھی بڑا ہوتا گیا۔اب اس میں شہر کی شہریت،ملکی شہریت، کسی فرقے کا ممبر سب شامل ہے یہا ں تک کہ غربت بھی ۔رومی لوگ خور پر بہت فخر محسوس کرتے تھے کیونکہ وہ یہ کہہ سکتے تھے کہ اُن کا تعلق روم اور اس کی سرزمین سے ہے۔موجودہ مغربی معاشرے میں کسی گروہ کا حصہ بننا بھی تنہا ئی کے احساس کوکم کرتا ہے۔اس کا حصہ بن کر انسان کی ’میں ‘ ختم ہو جاتی ہے اور اس کا مقصد حیات ایک بڑے گروہ سے جڑ جاتا ہے۔اگر میں ویسا ہی ہوں جیسے سب ہیں،اگر میرے ایسے کوئی احساسات اور جذبات نہیں ہیں جو مجھے اوروں سے جُدا کرتیں ہیں،اگر میں اپنے گروہ کے رسم ورواج، لباس، نظریات کا ساتھی ہوں تو میں محفوظ ہوں۔محفوظ ہوں تنہائی کے خوفناک احساس سے۔جاگیرداری اس طریق کے لئے خطرہ تھی، جمہوریت نے یہی حل بتایا اور اسے پھیلایا۔یہاں دونوں سسٹمز میں ایک بڑا فرق ہے۔جمہوریت میں بغاوت ممکن ہے لیکن جابرانہ نظام میں ایسا چند آدھ ہیروز یا شہداء ہی کر پائے تھے کہ انہوں نے پیروی کرنے سے انکا ر کیا۔لیکن اس کے باوجود جمہوری معاشرے میں حد سے زیادہ فرمانبرداری نظر آتی ہے۔اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ سماج کے نظم و ضبط کامسئلہ کھڑا ہوگا اور بھلائی اسی میں ہے کہ جیسا سماج چل رہا ہے چلنے دیا جائے۔صرف وہی انسان جدائی کی اہمیت سمجھ سکتا ہے(یہاں جدائی سے مراد سما ج سے علیحدگی ہے)جسے تنہائی کی گہرائی کا احساس ہو۔بعض اوقات بغاوت نہ کرنے کا فیصلہ عقلمندی لگتا ہے کیونکہ باغیوں کے خوفناک انجام کی مثالیں کم نہیں۔جس کی وجہ سے لوگ طاقت کے استعمال کے بناء ہی فرمانبرداری کرتے رہتے ہیں جیسا کہ مغربی معاشروں میں ہے ۔
بیشمار لوگ اپنی فرمابرداری کی ضرورت سے انجان ہوتے ہیں۔ وہ اس دھوکے میں ہی جیتے رہتے ہیں کہ ان کے اپنے علیحدہ نظریات اور رحجانات ہیں۔ان کی اپنی ایک علیحدہ حیثیت ہے۔انہوں نے اپنی تمام آراء اپنی پُختہ سوچ کی بناء پر بنائے ہیں اور یہ بھی ہوتا رہتا ہے کہ ان کے نظریات لوگوں کی اکثریت سے ملتے جُلتے ہیں اورباقی لوگوں کی یہ ہم آہنگی ان کے نظریات کے صحیح ہونے کی دلیل ہے۔یہاں تک پُہنچ کر بھی انسان کی انفرادیت باقی رہتی ہے اوراس کو تُختگی ہینڈبیگ یا سویئٹر میں ان کاعلیحدہ چُناؤ،ان کے نام کی نمبر پلیٹ،ریپبلیکن پارٹی کے بجائے ڈیموکریٹک پارٹی میں ان ہوناوغیرہ جیسے تجربات سے ملتی ہے۔مارکیٹ میں یہ نعرہ’یہ الگ ہے‘ علیحدگی کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے جبکہ اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
تفرقات کا خاتمہ کرنے کے پیچھے ایک سوچ کا عمل دخل ہے اور اس سوچ کی بنیاد برابری ہے جوکہ آج کل کے جدید صنعتی ممالک میں مانابھی جاتا ہے۔اگر مذہبی تناظر میں دیکھا جائے تو تمام انسان ایک خدا کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔تمام انسان خدا کی اولاد ہیں۔ایک خدا کے پیدا کرنے کی وجہ سے سب ایک ہیں ۔اس سے مراد یہ بھی ہے کہ ایک دوسرے کی تفرقات کی عزت بھی لازم ہے۔بیشک یہ ایک حقیقت ہے کہ تمام بنی نوح انسان ’ایک‘ ہیں لیکن ساتھ ہی سب کی اپنی ایک انفرادی حیثیت بھی ہے یعنی ہر انسان کا اپنا ایک علیحدہ وجود ہے۔مذہب میں انسان کی انفرادی حیثیت اور اس کا کُل کے ساتھ ایک ہونے کا ثبوت اس تالمودی جملے میں واضح ہے:’جس نے ایک زندگی کی حفاظت کی اس نے پوری کائنات کی حفاظت کی اور جس نے ایک زندگی تباہ کی اس نے پوری کائنات تباہ کی۔‘برابری لیکن ایسی کہ جس میں انفرادیت بھی ہو ،جیسی سوچ کا فلسفے میں مغربی روشن خیالی میں بھی ملتی ہے۔اس کا مطلب ہے(جیسا کہ کانٹ کہتا ہے)کسی بھی انسان کی نیت دوسرے انسان کا خاتمہ نہیں ہونا چاہیئے۔تمام انسان برابر ہیں ۔ روشن خیالی کے ان نظریات کے تناظر میں سوشلسٹ مفکرین برابری کی بنیاد استحصال کے خاتمے کو گردانتے ہیں۔استحصال کہ جس میں انسان انسان کو استعمال کرتا ہے اس بات کی پرواہ کئے بغیر کہ اس استعمال کی بنیاد’انسانیت ‘ ہے یا نہیں۔
موجودہ سرمایہ دارانہ سماج میں برابری کے معنی تبدیل ہوگئے ہیں۔ برابری سے کسی بھی شخص کی مراداب خودمختاری ہے۔آج برابری سے مراد ’ایک جیسا ہونا‘ کے ہیں نہ کہ ’ایک ہونا‘۔’ایک جیسا‘ ہونے سے مراد تجریدیت ہے۔وہ سب لوگ جو ایک جیسا کام کرتے ہیں ، ایک جیسے اشیاء استعمال کرتے ہیں،ایک جیسا اخبار پڑھتے ہیں،ایک جیسے احساسات اور نظریات رکھتے ہیں۔برابری کی تعریف کی اس تبدیل ہوئی شکل کی وجہ سے کوئی بھی انسانی تاریخ کی کچھ کارنمایاں کو شک کی نگاہ سے دیکھ سکتا ہے جیسے عورت کی برابری۔میں عورت کی آزادی کے خلاف نہیں ہوں لیکن آزادی کا مثبت پہلو کسی کو بہکا نہیں سکتا۔یہ بہکاوا اس روش کا نتیجہ ہے کہ کیسے انسانی تفرقات ختم کی جائیں۔برابری اسی شرط پر ممکن ہے۔عورت برابر ہے کیونکہ وہ اب مختلف نہیں۔روشن خیال فلسفے کا یہ دعوی ’I’ame n’a pas de sexe‘روح کی کوئی جنس نہیں ہوتی، اب عمل کا حصہ بن گیا ہے۔جنسی قُطبیت اب ختم ہوتی جارہی ہے اور اس کے ساتھ ہی پُر شہوت محبت بھی جس کی بنیاد یہ قُطبیت تھی۔مرد اور عورت اپنی انفرادی حیثیت کی بناء پر برابر ہونے کے بجائے اب ایک جیسے ہوگئے۔موجودہ معاشرے کا آئیڈیل انفرادیت کونظر انداز کرکے برابرسماج ہے کیونکہ اسے انسان اکائیوں کی ضرورت ہے۔ ہر ایک ،ایک جیسا ہے تاکہ لوگوں کی بڑی تعداد کو بناء کسی رُکارٹ اور امزاحمت کے فعال بنایا جا سکے۔سب ایک طرح کی ہدایات پر عمل کریں۔سب کو یقین دلایا جا سکے کہ وہ ایک جیسی خواہشات رکھتا یا رکھتی ہے۔ چونکہ جدید صنعتوں کو پیداوار کرنے لے لئے اپنی ایک معیاربندی کی ضرورت ہے اس لئے سماج بھی اس معیار بندی کا شکار ہے جسے ’برابری‘ کہا جاتا ہے۔
یکسانیت کی بنیاد پر فرمانبرداری میں شدت اور سنگینی کا پہلو نمایاں نہیں ہوتا۔اس میں سکون کا پہلو زیادہ نمایاں ہوتا ہے ۔یہ فرمانبرداری روزمرہ کی ہوتی ہے جس کی وجہ سے انسان تنہا ہونے کے اُلجھاؤ سے آزادی پا کر امن و سکون محسوس کرنے لگتا ہے۔مغربی سماج میں بڑھتی شراب نوشی،عادت منشیات،جبری جنسیات اور خودکُشیاں اس اجتماعی فرمانبرداری کے ناکام ہونے کی علامات ہیں۔اس کے علاوہ اس طرح کے حل کا تعلق دماغ سے ہے جسم سے نہیں۔اور اسی وجہ سے اس حل میں منشتات کے ساتھ موازنے کی کمی ہے۔ اجتماعی فرمانبرداری کا صرف ایک فائدہ ہے اور وہ یہ کہ یہ وقتی نہیں ایک مستقل حل ہے۔ایک فرد تین یا چار سال کی عمر میں ہی ایک جھُنڈ میں متعارف ہوجاتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس کا ان کے ساتھ ایک تعلق بن جاتا ہے۔یہاں تک کہ جب اس کی موت ہوجاتی ہے تب بھی اس کا کسی نہ کسی انداز میں جنازہ پڑھاکر اسے دفنایا جاتا ہے۔
فرمانبرداری بھی ذہنی اُلجھاؤ سے چُٹکارا پانے کا ایک راستہ ہے۔موجودہ طرز زندگی میں اسے روزکام اور روز خوشی سے منسلک کر کے دیکھا جاتا ہے۔آدمی ’نو سے پانچ‘ کی مزدوری سے جُڑ گیا ہے یا اس کے پاس کلرک یامینیجر ہونے کی حیثیت سے بیوروکریٹک طاقت ہے۔اس کے پاس ابتدائیہ قدم لینے کا بھی اختیار ہے۔اس کے سُپرد محنت یا کام کے انضمام کا کام ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ پہلی سیڑھی اور آخری سیڑھی پر کھڑے مزدور میں فرق بھی ہے۔سب اپنا کام ایک خاص ساخت ،رفتار اور طے شدہ انداز میں ایک تنظیم کی صورت میں کرتے ہیں۔یہاں تک کہ ان کے احساسات بھی پہلے سے طے شدہ ہوتے ہیں جیسے بیماری کو خیرمقدم کرنا،برداشت،اعتماد پسندی،بلند نظری اور دوسروں کے ساتھ بناء کسی تناؤ کے لمبے عرصے تک گزارا۔شوخی کو روزمرہ کی زندگی سے جوڑ دیا گیا ہے جس کی وجہ سے زندگی میں تلخی کا احساس کم ہو کر نرمی کا احساس زیادہ ہونے لگتا ہے۔کُتب گھروں میں کتابیں منتخب شدہ ہیں۔فلم یا تھیٹر کے مالکان ایسی فلموں کا انتخاب کرتے ہیں جس سے زیادہ سے زیادہ پیسہ کمایا جا سکے۔سب چیزیں ہمواری میں گردش کر رہی ہیں۔اتوار والے دن گاڑی میں سیر کو نکلنا ہے،ٹی وی دیکھنی ہے،تاش کھیلی جائے گی یا کوئی پارٹی کی جائے گی۔زندگی سے موت تک،پیر سے پیر،صبح سے شام تک کی تمام سرگرمیاں ایک ضابطہ کار اور طے شدہ انداز میں ہوتی رہتی ہیں۔ایک انسان جس کے سامنے زندگی گُزرانے کا ایک ڈھنگ رکھ دیا گیا ہو وہ اپنے نرالے پن کو کیسے محسوس کرے گا؟ایک انسان جس کے سامنے اُمیدی اور نااُمیدی،غم اور ڈر،دراز مُحبت کی داستانوں اور تنہائی کے ڈر کے گرد گھومتی زندگی کے ایک ہی ڈھنگ کی مثال ہو وہ زندگی کو کسی دوسرے انداز میں کیسے دیکھ سکتا ہے۔
(جاری ہے)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *