اصل کام دنیا بدلنا ہے

اصل کام دنیا بدلنا ہے

تحریر: جان مولینو ، مترجم: تنویر حسین

فلسفہ کیوں اہم ہے
یہ بات تویقینی ہے کہ کسی مظاہرے ،ہڑتال یا انقلابی اُبھار کا حصہ بننے کے لئے آپ کو فلسفے کی جانکاری کی ضرورت نہیں ہے یہاں تک کہ اچھی نوکری کے لئے بھی۔اگر آپ مزدوروں کی بڑی تعداد کے لئے مارکس اور ہیگل، مظاہروں ، ہڑتالوں یا ذیادہ سے ذیادہ انقلابات کو پڑھنے کے انتظار میں ہیں تو اس سے کچھ خاص فرق نہیں پڑے گا۔دنیا کو بدلنے کی جدوجہد محض ان براہ راست مقابلوں پر مشتمل نہیں ہے۔ان عظیم مقابلوں سے پہلے یا ان کے دوران ہمیں روزانہ حکمرانوں کے نظریات کے خلاف نظریاتی جنگ لڑنی پڑتی ہے اور اس نظریاتی جدوجہد کے ساتھ ساتھ مزدوروں کو منظم کرنا، ان کی یونینز بنانا اور اسے بحال رکھنا،کمپین اور سیاسی پارٹی بنانا بھی روزانہ کے کاموں میں شامل ہیں۔اپنے سیاسی کام کولمبے عرصے تک برقرار رکھنا مشکل ہے جب تک کے سماج پر غالب نظریات جن سے ہم روزانہ لڑرہے ہوتے ہیں، کے خلاف ہم ایک معقول متبادل دنیا کا تصور نہ پیش کریں۔اس متبادل تصور کو پیش کرنے میں فلسفے کا ایک اہم کردار ہے۔فلسفے کے عین مطابق تعریف ایک مشکل اور لمبا کام ہے لیکن اس کتاب میں انسانوں کے بارے میں ’عام‘ اور ’پیچیدہ‘ سوچ اور انسان کا فطرت اور سماج سے تعلق بتانا میرا مقصد ہے۔
میرے ایک دوست سے بحث کے دوران اُس نے کہا:’لیکن تم بھول رہے ہو کہ تم انسانی فطرت کو نہیں بدل سکتے یعنی امیر ہمیشہ امیر ہوتا رہے گا اور غریب ،غریب رہے گا۔ایسا ہمیشہ سے ہوتا رہا ہے اور ہمیشہ ہوتا رہے گا۔‘ایک تحریک میں کوئی بولا:’اصل مسئلہ تو ٹوریز ہیں۔ ہمیں ان سے چٹکارا پانے کے لئے متحد ہونا ہوگا اورکام کرتے رہنا ہوگا اسی طرح سے حالات بدلیں گے۔‘ایک یونیورسٹی کے سوشیولوجی کورس میں پروفیسر کہتا ہے:’یقیناًمارکس سمجھتا تھا کہ کمیونزم حتمی تھالیکن سوشل سائنٹسٹس کی حیثیت سے ہمیں ان خود رائے عقیدوں کو رد کرنا ہوگایا مارکسزم تمام چیزوں کو معاش اور کلاس پر تحلیل کر دیتا ہے لیکن آج کا سماج ذیادہ پیچیدہ اور خراب ہے۔‘اس طرح کے تمام بیانات معقول ہیں یعنی یہ عام فہم کے لئے پُرکشش ہیں کیونکہ یہ سب عام نظریات کی عین مطابق ہیں جسے حکمرانوں کی طرف سے فلسفیانہ اور منظم انداز میں قائم کیا گیا ہے۔یہ وہ نظریات ہیں جس کا پرچارسرمایہ دار طبقے اور اس کے دانشوروں (جو سماج کے ایک ایک کونے میں موجود ہے)نے کئی صدیوں سے مختلف طریقوں سے کیا ہے۔اس کے جواب میں ہمیں بھی اسی کے برابرمنطقی اور مضبوط فلسفے کی ضرورت ہوگی اور خوش قسمتی سے وہ موجود ہے یعنی مارکسزم۔ روزانہ کے بحث و مباحثے کے علاوہ ایک بڑا سوال جدوجہد میں قیادت کا ہوتا ہے جو کہ اخبار، جرنلز،کتابیں وغیرہ نکالے،مظاہرے اورہڑتال بلوائے،کمپین یا پارٹی کی حکمت عملی طے کرے۔جتنے ذیادہ سرگرم لوگ کمپین یا تحریک کی سربراہی یا قیادت میں شریک ہوں گے اور خاص کر نازک موقعوں پرتو ذیادہ مضبوط،جاندار اور گہرا متبادل سامنے آئے گا جس کے لئے فلسفے کے سوالات ذیادہ اہم ہوتے جائیں گے۔یہاں میں فلسفے کے تعلق کی ایک بہت ہی مضبوط اور مروج مثال دیتا ہوں۔فلسفہ ایک عالمگیر شکل میں مذہب کے طور پر موجود ہے جو کہ عام لوگوں کی بڑی تعداد میں اثر رکھتا ہے۔تمام مذاہب کے بنیادی عقائد میں فلسفے کے کچھ اہم سوال شامل ہیں جیسا کہ انسانی وجود کی ماہیت اورمقصداور انسان کی فطرت (جسے فلسفے کی زبان میں ontologyکہتے ہیں )،علم کا ماخذاور سچ کا معیار(Epistemology)اور اخلاقیات(Ethics)۔اس کے علاوہ جب دہشگردی کے خلاف جنگ کا معاملہ ہوتا ہے تو مذہب سیاست کا مرکز بن جاتا ہے۔
بنیاد پرست سرگرم کارکن کو دلیل کے ساتھ جواب دینے کے لئے اور اپنی بات پر قائم رہنے کے لئے فلسفیانہ فہم کی ضرورت ہوتی ہے۔اسے پتہ ہونا چاہیے کہ مذہب کا کس طرح تجزیہ کیا جائے اور کیسے مذہبی معاملے میں اور مذہبی قوتوں کے ساتھ پیش آیا جائے۔اس کے لئے مذہب کی ماہیت اور ارتقا کی نظریاتی فہم کی ضرورت ہوتی ہیں اور مارکسٹ فلسفہ اس فہم کا اہم ذریعہ ہے۔
ایک اور اہم مسئلہ جس کا سامنا کسی فرد یا تنظیم کو کرنا پڑسکتا ہے کہ مظاہرہ یا ہڑتال کیسے بلوائی جائے۔
اس مسئلے کا دارومدار اوبجیکٹو صورتحال (Objective situation)اورسبجیکٹو انیشیٹو(Subjective initiative)پر ہوتا ہے۔کوئی بھی کمپینر یا ٹریڈ یونین ماحول اور سیاسی صورتحال کو سمجھے بغیر اگر کوئی مظاہرہ یا ہڑتال بلوائے گی تو یقیناًبُری طرح ناکامی کا سامنا ہوگا۔اس کیساتھ ہی یونین میں موجود کچھ لوگ ایسے بھی ہوں گے جو ہمیشہ یہی بولیں گے کہ یہ سہی وقت نہیں ہے خاص کر یونین کے افسران۔یہ مسئلہ جوکہ کسی بھی مقامی کمپین کی جڑوں میں بسا ہوتا ہے، ہمیشہ رہتا ہے چاہے چھوٹی ہڑتال ہو یا انقلاب برپا ہوجائے۔اس طرح کے مسئلوں سے نمٹنے کی سیکھ عملی کام کرنے سے ملتی ہے لیکن مدد مارکسٹ فلسفے پر مضبوط گرفت سے ملتی ہے جس کا تعلق ہی اس امر سے ہے کہ لوگ اپنی تاریخ کیسے بناتے ہیں اوریہ وہ اپنی چاہت کے مطابق نہیں بناتے بلکہ حالات کے مطابق یہ تاریخ بنتی ہے۔مختصراً یہ کہ فلسفہ اور خاص کر مارکسٹ فلسفہ بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ دنیا بدلنے کی کسی بھی تحریک میں یہ ایک بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
(جاری ہے)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *