ڈے اسکول :آج کا سماج اور روسی انقلاب

ڈے اسکول :آج کا سماج اور روسی انقلاب

رپورٹ: ریاض احمد

۱۹۱۷ء کے روسی انقلاب کی سو سالہ تقریبات کے سلسلے میں انقلابی سوشلسٹ گلگت بلتستان کی جانب سے ایک روزہ مارکس ازم ڈے اسکول کا اہتمام ۱۴ اگست بروز سوموار صبح گیارہ بجے سے شام ۴ بجے تک جوہر علی خان ہال میں منعقد کیا گیا۔ ڈے اسکول میں نوجوانوں، لیفٹ کے کارکنان، قوم پرست کارکنان، وکلاء اور اساتذہ نے شرکت کی۔ ڈے اسکول کے موضوعات میں انقلابی سوشلسٹ کا تعارف، ۱۹۱۷ء کا روسی انقلاب اور آج کی دنیا، گلگت بلتستا ن کا قومی مسئلہ اور ہمارا نکتہ نظر اور انقلابی پارٹی کی ضرورت شامل تھے۔ ڈے اسکول کا آغاز انقلابی سوشلسٹ کے تعارف سے ہوا جو کامریڈ احسان علی نے پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کیسے انقلابی سوشلسٹ کی کوشش ہے کہ محنت کش، مزدور اور مظلوم اقوام کے سرگرم کارکنان پر مشتمل ایک انقلابی پارٹی کی تعمیر کی جائے تا کہ سرمایہ دارانہ جبر و استحصال کا خاتمہ ہواور انسانی برابری، مساوات اور آزادی کا حصول ممکن ہو سکے۔ کراچی سے آئے کامریڈ ریاض احمد نے روسی انقلاب ۱۹۱۷ء کی تاریخی اہمیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ روس میں انقلاب اس لیے برپا ہوا کہ یہ وہ ملک تھا کہ جہاں خوفناک پیمانے پر ناہموار سرمایہ دارانہ ترقی ہو رہی تھی تو دوسری طرف لاکھوں کی تعداد میں دیہاتی آبادی شہری مزدور بنتی چلی جا رہی تھی۔مزدور منظم ہوئے، انقلابی پارٹی نے سرگرم مزدوروں میں اپنی جڑیں بنائیں اور یوں جب روس پہلی عالمی جنگ کا حصہ بنا تو زارشاہی کی ریاست کا خاتمہ مزدور انقلاب سے ممکن ہوا۔ انہوں نے کہا کہ آج ہر چھوٹے بڑے شہر میں سرمایہ داری کی گہری جڑیں ہیں۔ جدید دنیا میں سرمایہ داری فیکٹریوں کی شکل میں نہیں بلکہ کھیت پیداوار، سروس انڈسٹری، سرکاری دفاتر، اسکول ، کالج اور ہسپتال کی صورت میں ہے جہاں سرمایہ داری کا پہیہ چلانے والے مزدوروں کی نئی شکلیں ہیں جیسے کھیت مزدور، نرسیں، ڈاکٹر، اساتذہ، پانی بجلی گیس اور سرکاری و نجی ملازمین۔ پاکستان میں بھی سرمایہ داری اب ایک بڑے منصوبے سی پیک کے نام سے پھیلائی جا رہی ہے اور پاکستان بھی اس خطے میں جنگ کا بدترین حصہ بن چکا ہے۔ اسلیے روسی انقلاب کی طرح اگر یہاں بھی انقلابی پارٹی منظم کی جائے تو جبر و استحصال سے نجات ممکن ہو سکتی ہے۔ کامریڈ احسان علی نے اپنے لیکچر میں انقلابی پارٹی کی تعمیر پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ روس میں سوشلسٹوں نے مزدوروں، کسانوں، مظلوم عوام و محکوم اقوام کو منظم کیا اور یوں ایک انقلابی پارٹی کی قیادت میں بادشاہت اور سرمایہ دارانہ حکومت کا خاتمہ ہوا، کچلی ہوئے مذاہب اور غلام زدہ اقوام کو حق خودارادیت ملا۔ ڈے اسکول میں شرکاء نے قومی سوال، گلگت بلتستان میں مزدور طبقہ کی موجودگی، ریاستی جبر کے دور میں سیاست ، انقلابی سوشلسٹ کی کارکردگی جیسے سوالات اٹھائے۔ اس موقع پر ایک بک اسٹال بھی لگایا گیا تھا جس میں انقلابی سوشلسٹ کا لٹریچر بھی فروخت ہوا۔
۱۵ اگست کو ہنزو میں انقلابی سوشلسٹ کے کارکنان کی ایک نشست ہوئی۔ اس نشست میں انقلابی سوشلسٹ ہنزہ کے کارکنان کے علاوہ وکلاء، قوم پرست کارکنان اور طلبہ نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر کامریڈ ریاض نے انقلابی سوشلسٹ اور ۱۹۱۷ء کا روسی انقلاب کے عنوان سے ایک تعارف بھی پیش کیا۔ تعارف کے بعد گفتگو کا سلسلہ جاری رہا۔
گلگت اور ہنزہ میں انقلابی سوشلسٹ کے کارکنان کی جانب سے ڈے اسکول اور نشستوں کا اہتمام ایک ایسے دور میں ہوا ہے کہ جس میں اس علاقے میں ہر طرح کی سیاسی آزادیوں پر غیر اعلانیہ پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ نوجوانوں کو فیس بک پر پوسٹ کرنے پر دہشت گردی ایکٹ کے تحت قید و بند کا سامنا ہے۔ سماجی کارکن حسین رمل کو چند دن قبل ہی دہشت گرد مقدمات میں اس لیے گرفتار کیا گیا کہ اس نے سوشل میڈیا پر اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا۔ انقلابی سوشلسٹ گلگت اور ہنزہ کے کامریڈوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف علاقے کے عوام کو منظم کر کے ایک بڑی تحریک تعمیر کی جائے گی۔

گلگت بلتستان میں ضیاء دور سے بھی بدترین اظہار رائے پہ پابندی ہے۔آل پارٹیز کانفرنس کا اعلامیہ
رپورٹ: احسان علی ایڈوکیٹ رہنماء انقلابی سوشلسٹ
آج حسب پروگرام گلگت کے مقامی ھوٹل میں جی بی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے آل پارٹیز کانفرنس منعقد ھوئی جس میں اسٹیٹس کو کے حامی بڑی سیاسی و مزھبی پارٹیوں کے لیڈران نے باوجود دعوت نامہ ملنے کے نامعلوم وجوہ کی بنا پر اجلاس میں شرکت نہ کی مگر انسانی حقوق اور سماجی کارکنوں سمیت نوجوانوں نے بڑی تعداد میں اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس سے ممبر اسمبلی نواز ناجی امان اللہ انجینیر شبیر معیار نصرت حسین پریس کلب کے سیکریٹری قاسم شاہ ذوالفقار ایڈوکیٹ مشتاق احمد فداحسین ھیومن رائٹس کے فاروق احمد سلطان مدد علی جان ارشاد کاظمی اور احسان ایڈوکیٹ نے خطاب کیا مقررین نے حکمرانوں کی طرف سے گلگت بلتستان میں اسٹیٹسکو مخالف سیاسی سرگرمیوں پہ غیر اعلانیہ پابندیوں اظہار رائے تحریر و تقریر اور سوشل میڈیا پہ غیراعلانیہ بندشوں پہ سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔موجودہ حکمرانوں کی پالیسیوں کو ڈکٹیٹر ضیاالحق سے بھی زیادہ آمرانہ قرار دیا انسداد دھشت گردی ایکٹ اور شیڈول 4 کی سیاسی کارکنوں کے خلاف بیدریغ استعمال اور سیاسی کارکنوں کو جھوٹے مقدمات میں گرفتار کرکے انہیں بدترین جسمانی و ذہنی تشدد کا نشانہ بنانے پر سخت الفاظ میں حکومت اور ذمہ دار انتظامیہ کی مزمت کی گئی۔ اجلاس میں ایک قرارداد کے ذریعے سوشل ایکٹیوسٹ حسنین رمل سمیت تمام سیاسی و سماجی کارکنوں پہ قائم جھوٹے مقدمات خاتمم کرکے انہیں رہا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ایک اور قرارداد کے ذریعے انسداد دھشت گردی ایکٹ کی گلگت بلتستان میں سیاسی کارکنوں کے خلاف غلط استعمال اور اس کے ذریعے سینکڑوں کارکنوں پہ نام نہاد شیڈول 4 لاگو کرکے انکی سیاسی سرگرمیوں پہ قدغن لگانے کی پرزور مزمت کرتے ھوئے انسداد دھشت گردی ایکٹ کو گلگت بلتستان سے ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔اجلاس کے آخر میں انسانی حقوق کی دفاع کیلئے مشترکہ جدوجہد کرنے کا عہد کیا گیا اور اس سلسلے میں سیاسی جمہوری و انسانی حقوق کی دفاع کرنے کیلئے ہیومن رائٹس پروٹیکشن کمیٹی قایم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔اجلاس کے بعد شرکاء4 اجلاس نے ریلی کی شکل میں اتحاد چوک گلگت کی طرف مارچ کیا اور وھاں حاجی نائب خان اور احسان ایڈوکیٹ نے حسنین رمل پہ ھونے والی تشدد کی مزمت کرتے ھوئے انہیں فوری رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *