گوری لنگیشن:وہ جو اپنے دماغ سے بولے تھی ماری گئی

گوری لنگیشن:وہ جو اپنے دماغ سے بولے تھی ماری گئی

تحریر: عامر حسینی

بھارت کی ریاست کرناٹک کے شہر بنگلورمیں جنوبی علاقے کے اندر راجیشور نگر کالونی میں عین اپنے گھر کے سامنے ہندو فاشزم کے خلاف سرگرم سنئیر صحافی اور کناڈا زبان کے اخبار’لنکیشن پتریکا‘کی مدیر گوری لنکیشن کو تین افراد نے سات گولیاں مارکر ہلاک کردیا۔
انڈیا میں ریشنلسٹ اور سیکولر خیالات کے مالک اور ہندا فاشزم کے سخت ناقدین میں سے ٹارگٹ کلنگ کی یہ تیسری بڑی ہائی پروفائل ہلاکت ہے۔اس سے پہلے ریاست کرناٹک میں ہی برہمن واد کے شدید ناقد پروفیسر کے کلبرگی کو ٹارگٹ کیا گیا اور مہاراشٹر ریاست میں نیندر ڈھبولکر کو قتل کر دیا گیا تھا۔گوری لنکیشن سمیت تینوں ہندوستانی دانشور، ایکٹوسٹ، برہمن واد،بی جے پی،راشٹریہ سیوک سنگھ،جات پات ،ہندوستانی سماج کو ہندویائے جانے کے سخت خلاف تھے۔تینوں سیکولر اور سوشلسٹ خیالات کے مالک تھے۔
گوری لنکیشن کا سارا خاندان ہی سوشلسٹ ایکٹوسٹ خاندان ہے۔گوری لنکیشن کے والد پی کے لنکیشن کناڈا زبان کے بڑے ادیب ،ناول نگار ، ڈرامہ نگار ، سوشلسٹ پارٹی کے انٹلیکچویل ایکٹوسٹ اور ترقی پسند ، ورکنگ کلاس دوست صحافت کے امین تھے۔انہوں نے اپنا ہفت روزہ ’لنکیشن پتریکا‘بنگلور کرناٹک سے شروع کیا۔یہ پتریکا برہمن واد، جات پات، سرمایہ دارانہ نظام ، کانگریس کی سرمایہ واد پالیسیوں ، ہندوستانی سماج میں پھیلی رجعت پسندی اور فرسودہ ریتوں اور رواجوں کے خلاف ایک موثر آواز تھا۔گوری لنکیشن جو 1962میں پیدا ہوئیں ، انہوں نے اسی ہفت روزہ رسالے سے صحافتی کرئیر کا آغاز کیا۔وہ سیکولر، ترقی پسند، روشن خیال ، سوشلسٹ اقدار کے زیر سایہ پروان چڑھیں اور اپنے والد کی لیگسی کو وہی آگے لیکر چلیں۔
گوری لنکیشن کے اندر بغاوت، مزاحمت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔وہ اصلاح پسندی سے کہیں زیادہ انقلاب کے راستے پہ چلنا پسند کرتی تھیں۔اپنے والد کی وفات کے بعد جب ’لنکیشن پتریکا‘کے پرنٹر و پبلشر ان کے بھائی جو فلم ڈائریکٹر بھی ہیں اندر جیت لنکیشن بن گئے تو انہوں نے اس ہفت روزہ اخبار کو ’نرم‘ راستے یہ چلانا چاہا۔وہ نیشنل کانگریس کے قریب ہوگئے اور سرکار دربار سے ان کی دوستی اس بات کے آڑے آتی تھی کہ وہ کرناٹک سمیت جنوبی ہندوستان کے اندر پھیلی ’نکسلائٹ تحریک‘ اور ’ماؤ واد‘ کی جانب ہمدرد انہ رویہ رکھنا بند کردیں۔ گوری لنکیشن اس کے برعکس تھیں۔انہوں نے کرناٹک پولیس کے جعلی ان کاؤنٹر ز کا پول کھولنا شروع کیا اور نکسلائٹ تحریک کے پس منظر پہ سچ لکھنا شروع کردیا ۔ ایک رپورٹ جب ’لنکیشن پتریکا‘ میں شائع ہوئی تو اس پہ اندر جیت نے اظہار لاتعلقی کیا اور گوری لنکیشن نے آخرکار اس ہفت روزہ سے علیحدگی اختیار کرلی اور اپنا ہفت روزہ ’لنکیشن پتریکا‘ نکالا۔
گوری لنکیشن نے بہت تفصیل سے بتایا کہ کیسے ان کا نام نہاد روشن خیال ، لبرل بھائی ان کے سماجی کام کے خلاف تھا اور وہ ان کی حریت فکر سے ایک طرف تو اپنی مصلحت باز کانگریس نواز سوچ اور دوسری طرف میل شاؤنزم کے سبب خوفزدہ تھا۔گوری لنکیشن کا کارنامہ یہ بھی ہے کہ اس نے کرناٹک میں ہندؤ، مسلم ، کرسچن سب میں یکساں مقبول اور مرکزعقیدت مزار حضرت حیات دادا قلندر کو ہندویانے کی سنگھ پریوار کی مہم کے خلاف بہت بڑا محاذ قائم کیا اور اس مزار کو ہندؤیائے جانے سے بچایا۔
گوری لنکیشن برہمن واد کے سخت خلاف تھی۔اس نے ہندؤ مت کو ایک مذہب ماننے سے انکار کیا اور اس کا کہنا تھا کہ ہندؤ ازم سوائے جات پات ایک سماجی نظام کے کچھ بھی نہیں ہے جو برہمنوں کی بالادستی اور ان کے جبر کو قائم رکھنے کا ایک میڈیم ہے۔انہوں نے نچلی جاتیوں کو لنگیات کے نام سے تعبیر کرنا شروع کیا۔ گوری لنکیشن کا صحافتی ایکٹوازم جہاں بی جے پی، راشٹریہ سیوک سنگھ، سنگھ پریوار کی زعفرانی سیاست کے خلاف تھا، وہیں وہ کانگریس کی منافقانہ ،سمجھوتہ باز اور مصلحت پسندانہ سیاست اور اس کے اندر چھپے برہمن واد کو بھی بے نقاب کرتی تھیں۔ وہ دلت ہندوؤں کے حقوق کے سب سے بڑے نظریہ ساز ڈاکٹر امبیدکر کی عاشق تھیں۔
روہنگیا پناہ گزین، ڈی مون ٹائزیشن کی مذہمت میں پوسٹ،’ہندوستانی والدین کی ہم جنس پرستوں کے حقوق پہ کونسلنگ‘،مرکز میں بی جے پی کی حکومت پہ ایک اور وار۔۔۔۔۔آخری 24گھنٹوں میں گوری لنکیشن نے فیس بُک پوسٹ اور ٹوئٹس کے باب میں یہی کچھ کیا تھا۔کناڈا زبان میں شائع ہونے والا ’گوری لنکیشن پتریکا‘ کے آخری تین ماہ کے شماروں میں انہوں نے مرکز میں بی جے پی کی مرکزی حکومت اور اس کے لیڈروں کے خلاف آٹھ تنقیدی نیوز سٹوریز شایع کیں تھیں۔اپنے آخری ہفت روزہ کالم میں لنکیشن نے بابا رگھو ڈاس میڈیکل کالج و ہسپتال گورکھپور میں بچوں کی اموات اور ڈاکٹرکفیل خان کو ہٹائے جانے کے خلاف سخت تنقید کی تھی۔
سوشل میڈیا پہ لنکیشن نے بی جے پی پہ تنقید کی جانے والی پوسٹوں کو شیئر کیا اور ری ٹوئٹ کیا ہوا تھا۔ان میں جیمس ولس کیرالا کے ایک سابق بیوکریٹ کا ٹوئٹ بھی شامل تھا جو کہ مرکز کی مختلف پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے رہتے ہیں خاص طور پہ بڑے نوٹو ں کو بند کرنے کی بی جے پی کی پالیسی۔ آخری 24گھنٹو ں میں ان کا سوشل میڈیا ایکٹوازم زیادہ تر ویب لنکس شیئر کرنے پہ مشتمل تھا جس میں سپریم کورٹ کا حکومت سے روہنگیا کو ڈی پورٹ کرنے بارے اقدام کی پوچھ تاچھ کی خبر ری ٹوئٹ کرنا بھی شامل تھی۔
“Why do I feel that some of ‘us’ are fighting between ourselves? We all know our “biggest enemy”. Can we all please concentrate on that.”

کا جشن مناتا ہے جو ان کی آئیڈیالوجی ، ان کی سیاسی جماعت اور ان کے سپریم لیڈر نریندر مودی کی مخالفت کرتے تھے۔میں ایسے لوگوں کا حوالہ اس لئے دے رہی ہوں کیونکہ مجھے آپ کو سمجھا نے دیں کہ وہ مجھے بھی چپ کرانا چاہتے ہیں۔ میرے لئے جیل سٹنٹ نے اصل میں ان کے جذبات اور تیز کردیا ہے۔بہرحال گزشتہ رات جب میں بنگلور واپس آنے کے لئے ٹرین میں سوار ہوئی تو کسی نے مجھے کال کی اور بتایا کہ میں ٹیوٹر پہ ’ٹرینڈ‘ بن گئی ہوں!(مجھے اس بارے میں پتہ نہیں تھا کیونکہ اس وقت میں انٹرنیٹ سے زیادہ جُڑی ہوئی نہیں تھی۔)میں شاک رہ گئی اس سارے چیز کے مضحکہ خیز ہونے کی وجہ سے۔ یعنی یہ کیا مذاق ہے کل ایک عزت ہتک کا کیس آپ کو ٹرینڈ بنا دے۔میں بے اختیار ہنسنے لگی تھی۔جب میں نے اپنے بارے میں ٹوئٹس اور کمنٹس پڑھے تو مجھے خطرہ محسوس ہوا۔کیونکہ یہ ٹوئٹس اور کمنٹس اس بے قابو نفرت کے پھیلانے کی مہم کا علس تھے جو ہندوتوابریگیڈ اور مودوی کے بھگت اپنے ناقدوں اور ان کو نہ کہنے والوں کے خلاف چلائی جارہی ہے۔ان میں سے اکثر ٹوئٹس لبرل ،لیفٹ صحافیوں اور صحافت کے خلاف تھے۔ان دونوں عوامل نے مجھے ہندوستان میں آزادی اظہار کے بارے میں خدشات میں مبتلا کردیا تھا۔‘
گوری لنکیشن کے نومبر ۲۰۱۶ء میں کہے الفاظ پیغمبرانہ پیش گوئی ثابت ہوئے۔آج اسے ہندوتوا بریگیڈ اور مودی بھگتوں نے ہی مار ڈالا۔گوری لنکیشن کو موت تک لے جانے والا ڈسکورس پاکستان میں پائی جانے والی صورت حال سے بہت مشابہہ ہے۔ پاکستان کے اندر آپ جب جہاد ازم ،تکفیر ازم،پولیٹیکل اسلام ازم کی سب سے ہلاکت انگیز ، اشتعال انگیز اور نفرت انگیز منظم اشکال کو بے نقاب کرتے ہیں تو کبھی آپ کو ’مسلم ہیٹر‘ تو کبھی آپ کو ’مذہب مخالف‘ اور کبھی آپ کو ’فرقہ پرست‘ کہہ دیا جاتا ہے۔یہاں کے جہادی دیوبندی -سلفی بریگیڈ اور ضیاء الحق ،مودودی ،حق نواز جھنگوی کے بھگتوں کا ٹڈی دل آپ پہ حملہ آور ہوجاتا ہے۔جیسے ہم نے شہباز بھٹی ،سلمان تاثیر ،مشعال اور خرم زکی کے کینسر میں دیکھ لیا۔ان سب کے قتل پہ جہادیوں تکفیر بریگیڈ نے جشن منایا اور ضیاء الحق کے بھگتوں نے اس کے جواز تلاش کئے۔نیوز لانڈری میں گوری لنکیشن نے اس سے ملتی جلتی صورت حال پہ ہندوستان میں ان خیالات کا اظہار کیا تھا:
بدقسمتی سے آج ہم جب انسانی حقوق کی حمایت اور سیکیورٹی فورسز کے جعلی ان کاؤنٹرز کے خلاف بولتے ہیں تو ہمیں ماؤسٹ نواز کہہ دیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہندوتوا سیاست اور جات پات سسٹم پہ میری تنقید ہے جسے آج ہندو دھرم کا حصہ مانا جانے لگا ہے، اس کے سبب مجھ پہ الزام لگتا ہے کہ میں ’ہندؤ ہیٹر‘ ہندؤ سے نفرت کرنے والی ہوں ۔ لیکن میں یہ اپنا آئینی فرض سمجھتی ہوں کہ اپنے طریقے سے ڈاکٹر امبید کر اور باسو کی مساوات پہ مبنی سماج کے قیام کے لئے جدوجہد جاری رکھوں۔
نوٹ:باسو بارہویں صدی کے ہندؤ فلاسفراور کناڈا زبان کے شاعر تھے جنہوں نے شیوا بھگتی تحریک کو آگے بڑھایا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *