دہشت کے خلاف جنگ ،کس کی ہے؟

دہشت کے خلاف جنگ ،کس کی ہے؟

تحریر:سرتاج خان

کامریڈفاروق طارق ،عوامی ورکرزپارٹی کے اہم رکن ہیں اوراپنی عوام دوستی کی وجہ سے اکثرپارٹی میں کنارے لگے ہوتے ہیں، وہ عوامی مظاہروں اوراحتجاجات میں پیش پیش رہتے ہیں۔ لیکن پاکستان میں دہشت کے خلاف جنگ پران کاموقف ،ایک طرح سے جنگ کے مزیدپھیلاوکے اقدامات کی طرف لے جانے کااشارہ ہے۔
اپنی ایک حالیہ تحریر میں فاروق طارق کااستدلال ہے کہ دہشت کے خلاف جنگ ہماری اپنی ہے۔ یہ جنگ ہم امریکی ڈالرزیاسامراج کے اشارے پرنہیں لڑرہے ہیں۔ ان کے اس موقف میں تقریباتسلسل پایاجاتاہے ۔ دہشت گردی کے ہربڑے واقعہ کے بعد لبرلزکالم نویس ہمیںیہی باورکرارہے ہوتے ہیں،کہ اب یہ جنگ ہماری ہے۔ ان کی دلیل ہوتی ہے کہ اگرچہ یہ جنگ ہم نے امریکی مفادات کی خاطرکی ہے لیکن اب اس کے نشانہ پرہم ہیں، یوں یہ جنگ ہماری بنتی ہے۔
فاروق نے عمران خان کی اس دلیل کوچیلنج کیاکہ یہ جنگ ہماری نہیں بلکہ امریکہ کی ہے۔ اوراس نے اس کے پس منظرمیں طالبان سے مذاکرات کی طرف اشارہ کیا،جس پرعمران خان زوردیتاآیاہے۔
یہ زورہے کہ اس جنگ کی وجہ سے عوام کوبہت نقصان پہنچاہے۔ سترہزارسے زائد مارے گئے ہیں اوراس سے زائد لاکھوں کی تعدادمیں زبردستی اپنے علاقوں سے بدل گئے ہیں۔اس نے ریاست اورسیاست کے رویوں پرفرق بھی ڈالاہے۔لیکن اس کایہ مطلب نہیں کہ ہم اس جنگ کواپنالیں جیساکہ ہماراحکمران طبقہ کامطالبہ ہے۔ مصیبت یہ ہے کہ ایک وقت میں جب یہ فوجی آپریشن کرتے ہیں توہم سے مطالبہ کیاجاتاہے کہ ہم ان کے جنگی پالیسیوں کواپنالیں، دوسری طرف جب یہ طالبان سے مذاکرات کرتے ہیں توتب بھی ہم سے توقع کی جاتی ہے کہ ہم اس کومسئلہ کاحل سمجھیں، اوریہی پرتضاد چھپاہواہے۔
سامراج اورحکمران طبقہ جنگ اپنے مفادمیں لڑررہاہے۔ اس کاجمہوریت، روشن خیالی، انسانی وخواتین کے حقوق اورہماری حفاظت سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ ان کی جنگ ہے۔ لینن ’جنگ اورانقلاب‘میں ایک جگہ کہتاہے کہ ’ہمیں یہ دیکھناچاہئے کہ کونسے تاریخی حالات نے جنگ کوجنم دیاہے اورکونسے طبقات جنگ کولاگوکررہے ہیں اورکس مقصدکے لئے۔جب تک ہم یہ نہ سمجھیں جنگ کے بارے ہماری تمام باتیں فضول ہیں‘۔
اورہم دیکھ رہے ہیں کہ سامراجی جنگ اورحکمران طبقہ کے مقاصد واضح ہیں:سرمایہ کے پھیلاواوراسٹرٹیجک مقاصد کاحصول ۔
گزشتہ ۱۶سال سے امریکہ اوراس کی حاشیہ بردارافغان اورپاکستانی ریاست اپنے مخالفین سے جنگ جیتنے میں کامیاب نہیں رہی۔ امریکہ مشرقی وسطی سے لے کرافغانستان تک جنگ ہاررہاہے۔ یہ خودبھی سازش اورمخالفین اسی طرح مذاکرات کی تلاش میں رہتاہے جس طرح پاکستانی ریاست طالبان اورایم کیوایم سے لے کرلیاری گینگ اوربلوچ علیحدگی پسندوں سے مذاکرات کی تلاش میں رہتاہے۔
پاکستانی ریاست اشرافیہ اورمڈل کلاس کے ساتھ مل کراس وقت دیہی غریب اورشہری غریب کی مارلگارہی ہے۔ یہ ہمیں پاکستان کے طول وعرض میں نظرآرہاہے، یوں یہ جنگ ان کی اپنی ہے۔ اسی جنگ میں جب یہ مخالفین کوزیرکرنے میں ناکام رہتاہے تومذاکرات کرتاہے۔ مذاکرات کامقصداب انہی افرادکومراعات دینی ہوتی ہیں جن کویہ ماضی میں دہشت گردگردانتاہے۔ یوں ایک طرح سے طبقاتی معاہدہ ہوتاہے۔ یہ ہمیں دکھاتاہے کہ اس خاص علاقہ میں موجودبالادست طبقات اورطبقاتی پرتیں اب معاشی، سماجی اورسیاسی لحاظ اس قدرطاقتورنہیں رہیں کہ وہ ریاستی علمداری کوقائم رکھ سکیں۔ اس لئے نئے طبقات کوجگہ دینی پڑتی ہے اورپرانے کی جگہ کم کرنی ہوتی ہے۔ کامریڈفاروق طارق نے جنگ اورمذاکرات میں ان تمام نکات کویکسرنظراندازکیاہے۔ البتہ اس میں کوئی شک نہیں کہ عابدمنٹواورعاصمہ جہانگیرامریکہ سامراج کی طرح جنگ کے پھیلاوکوہی حل سمجھتے ہیں اوراس کے اٹھنے والے تضاد پرانسانی حقوق واویلابھی۔
فاروق کویہ غلطی فہمی بھی لاحق ہے کہ جب وہ کہتاہے کہ ’مگرحکمران طبقات کوحالات کے تھپڑوں نے کہیں کاکہیں پہنچادیاہے۔ یہی آرمی جرنیل ان مذہبی قوتوں کواپناکہتے تھے، سیکنڈلائن دفاع سمجھتے تھے، پاکستان کے دفاع میں انہیں خاص اہمیت دیتے تھے۔ ان کوہرطرح کی ریاستی سرپرستی حاصل تھی۔‘اس سے فاروق کے کہنے کامطلب یہ ہے کہ اب ریاست اوراس کے فوجی جنتاکواپنی غلطی کااحساس ہوگیاہے۔وہ مزید کہتاہے کہ امریکہ کی طرح پاکستانی جرنیلوں کی اکثریت بھی اس نتیجہ پرپہنچ گئی ہے کہ ان کومارناہی دینابہترہے۔
اس طرح کی دلیل ایک طرح سے سامراج اورریاست کی جنگی پالیسیوں کی حمایت کاپہلونکالناہے:چونکہ سامراج اورریاست کو’اپنی غلطی ‘کااحساس ہوگیاہے لہذاء اب ہمیں کھل کران کاساتھ دیناچاہئے۔ لبرل اورپوسٹ ماڈرنسٹ دانشوروں گزشتہ ایک دہائی سے کم وبیش انہی خطوط پرکام کرتے آئے ہیں۔ اوراس کابہانہ کرکے جنگ کے پھیلاوکے خلاف کوئی مزاحمتی تحریک کومستردکرتے آئے ہیں۔لیکن یہی سامراج اورریاست جب انہی دہشت گردوں سے مذاکرات کرتے ہیں توان کوبیچ منجدھارمیں چھوڑدیتے ہیں۔ جن طاقتوں کی طرف یہ کی یہ حمایت کاپہلونکالتے ہیں وہی قوتیں عوامی قتل عام اورمزدوروں ،کسانوں، انسانی حقوق کے کارکنوں کے اغواء اورماورائے عدالت کاروائیوں میں ملوث ہیں۔ جن انسداد دہشت گردی کے قوانین کویہ عذرکرکے قبول کرتے ہیں انہی کی بنیادپراکاڑہ کے کسان، فیصل آبادکے مزدور، اورنرسوں، ینگ ڈاکٹرزاوراساتذہ کوجیلوں کے اندربند کردیاجاتاہے۔ جس جنگ کویہ ناگزیربرائی کے طورپرقبول کرتے ہیں وہ فاٹاکے ساتھ ساتھ اب ہماری چوکھٹ پرلڑی جارہی ہے۔یہ جنگ محض طالبان، لیاری گینگ واراورایم کیوایم لندن کے خلاف نہیں بلکہ ہرسیاسی تنظیم کے خلاف ہے۔ اس کادائرہ وسیع ترہوتاجارہاہے۔ گلگت بلتستان سے لے کربلوچستان کے گوادرتک اس کادائرہ پھیل گیاہے۔ اس نے سندھ اوربلوچستان کے ہرروشن خیال اورترقی پسند قوم پرست تک کومتاثرکیاہے۔ یہ بہت بڑی غلط فہمی ہوگی کہ ہم جنگ کومحض اس خیال پرسپورٹ کرے کہ یہ دیکھ بھال کرلڑی جائے گی، انسانی حقو ق اورائین اورقانون کے اندرلڑی جائے گی۔ فوجی بجٹ پرسال شورمچانے والوں کی یہ اولین ذمہ داری ہے کہ وہ جنگ کے پھیلاو کے خلاف بھی آوازاٹھائیں۔ فوجی بجٹ انہی حیلوں بہانوں سے بڑائی جاتی ہے۔انسانی حقوق کاواویلاکرنے والوں کوجنگ کی ہرشکل کی مزاحمت کرنی ہوگی۔طالبان کے ساتھ مذاکرات اوران کے خلاف جنگ مسائل کاحل نہیں۔بلکہ پاکستان، بھارت اورافغانستان کے عوام کی سطح پرایک بھرپورسامراج اورجنگ مخالف تحریک کی ضرورت ہے۔سامراجی افواج کاافغانستان سے انخلاء اس کامرکزہو۔ جنگ اورجنگی پالیسیوں کی مخالفت اورامن کے لئے آوازبلند کرنے کی ضرورت ہے۔ تمام فوجی آپریشنوں کوفوری بندکرنے اورانسانی حقوق کی بحالی کے لئے آوازاٹھانے کی ضرورت ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *