ایم کیوایم اورکراچی آپریشن: شہری مسائل کی سیاست

ایم کیوایم اورکراچی آپریشن: شہری مسائل کی سیاست

تحریر: سرتاج خان

کراچی آپریشن میں شدت کے ساتھ ہی ایم کیوایم پردباوبڑھا۔ جس کااظہار۲۲اگست ۲۰۱۶کوالطاف حسین کی تقریرمیں ہوا۔ جس کے بعد ایم کیوایم پاکستان کے لیڈران نے ریاستی دباومیں قائدتحریک اورا س کی لندن کی تنظیم اوررابطہ کمیٹی سے قطعہ تعلق کرلیاتھا۔اس سے قبل مصطفی کمال اورانیس قائم خانی پاکستان سرزمین پارٹی قائم کی تھی جبکہ آفاق احمد کی ایم کیوایم (حقیقی ) پہلے ہی آپریشن کے ساتھ منظرعام پرآگئی تھی۔
جب بھی کوئی بڑی طاقت نمودارہوتی ہے ،اس کے طرف رویہ کی وجہ سے تحریکوں اورپارٹیوں میں تقسیم واقع ہوتی ہے۔ امریکہ جیسی بڑی طاقت جب افغانستان میں ۲۰۰۱میں حملہ آورہوااورقبضہ کیاتواس کی طرف رویہ پرافغان معاشرے میں ہی نہیں بلکہ پڑوسی پاکستان میں بھی حکمران طبقہ اورادارے تقسیم ہوئے اوریہ ہنوزجاری ہے۔ اسی طرح جب پاکستانی فوج وزیرستان سمیت دیگرقبائلی علاقہ جات اورسوات میں گئی تواس کے خلاف ردعمل کے طورپرتقسیم پیداہوئی۔ مختلف طبقاتی پرتوں کے ردعمل کوواضح طورپرنوٹ کیاجاسکتاہے۔ کچھ اسی طرح کاردعمل ہمیں بلوچستان میں فوجی آپریشن کے موقع پردیکھنے میں آتاکچھ جھتے ہتھیاربند جدوجہد پرکمربستہ ہیں، جبکہ مڈل کلاس اوراشرافیہ جمیوری طریقے سے اورکچھ دھمکی دے کرکام چلارہے ہیں، دیگران کے بیچ میں ہیں۔ کہنے کامطلب یہ ہے کہ ایک بڑی طاقت کی آمد کے بعدسے طبقات میں لرزش پیدا ہوتی ہے۔ ایک طبقہ ، جس کی بربادی ہوتی وہ مزاحمت پرآمادہ ہوسکتاہے، کچھ طبقات زراسی مزاحمت اورکچھ مفاہمت سے کام لیتے ہیں، کچھ کھل کرحمایتی کے طورپرسامنے آتے ہیں،دیگرشش وپنج کے شکاررہتے اورکھبی ایک طرف اورکبھی دوسری طرف ہوتے رہتے ہیں۔ یہی کچھ ہمیں سندھ میں مہاجرکے نام پرسرگرم پارٹیوں اورتحریک میں نظرآرہاہے۔
کراچی اوردیگرشہروں میں مہاجرسیاست محض فوجی آپریشن کی طرف رویہ نہیں اپنارہے ہیں بلکہ یہ سندھی اورپشتونوں کی نمائندہ سمجھی جانے والی سیاسی پارٹیوں کی طرف بھی متوجہ ہیں۔ اب الطاف گروپ کوکسی طورپرریاست جگہ دیتی نظرنہیں آرہی ۔ یوں ان کے لئے معمولی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھنابھی ناممکن بنادیاگیاہے۔ اگرچہ اس کے اسیررہنمااب رہاکردئے گئے ہیں لیکن ان کی سیاست نظرنہیں آرہی۔
ایم کیوایم پاکستان، پی ایس پی اورایم کیوایم حقیقی نے فوجی آپریشن کوناگزیرسمجھ کرقبول کرلیاہے۔ اب ان کی سیاست اس دائرے کے اندرترتیب دی جارہی ہے۔
ایم کیوایم کی تمام گروپوں پرریاست کی طرف سے دباوڈال کرپرانی تنظیمی ڈھانچہ کوتبدیل کردیاگیاہے۔ پہلے ایم کیوایم پس پردہ سیکٹرانچارج اوریونٹ انچارج کنٹرول کرتے تھے۔ یہ سیکٹراوریونٹ انہوں نے اپنے طریقے سے بنائے تھے۔ اب ریاست نے دباو ڈال کران سے دیگرسیاسی پارٹیوں کے طرزپرتنظیمی ڈھانچہ بنوالیاہے۔ اس طرح ریاست کی کوشش ہے کہ ایم کیوایم کو دیگرسیاسی پارٹیوں کی طرز پرلایاجائے اورریاست کے اندرریاست بنانے کی کوششوں کی بیخ کنی کی جائے۔مہاجرسیاست اسی وجہ سے توڑمروڑ کی شکارہے۔ ایم کیوایم کے اسمبلی اراکین اوراہم رہنمافاروق ستاراورمصطفی کمال کی پارٹیوں میں تقسیم ہوچکے ہیں۔ اب یہ پاکستانی سیاست کے دائرے میں رہ کرکام کرنے پرمجبورہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیایہ ماضی کی الطاف کی زیرقیادت ایم کیوایم کی طرح ایک ایسی سیاسی طاقت بن سکتی ہے جوشہر، صوبہ اورپاکستان کی سیاست پرماضی کی طرح اثراندازبھی ہوسکے؟
ایم کیوایم کی طاقت مہاجروں کی لوئرمڈل کلاس رہی ہے۔ اس کلاس کوالطاف حسین ودیگرنے منظم کرکے ایک قوت بنائی تواس نے ریاست کی نیولبرل پالیسی اوربڑے سرمایہ کے مفاد میں تشکیل پانے والی پالیسیوں کے زیرسایہ پروان چڑھناشروع کیاتویہ ’ریاست کے اندرریاست‘ بھی بنی۔لیکن ہربارریاست اس کے سائزکوکم کرنے کے لئے فوجی آپریشن بھی کرتی رہی۔ یوں ریاست اورایم کیوایم کے درمیان کئی دہائیوں سے یہی کھیل جاری ہے۔ ریاست شہروں پرکچھ خرچ کرنے پرتیارنہیں اورنہ ہی شہری مسائل کوحل کرنااس کے ترجیحات میں شامل ہے۔ اوریہی سے ایم کیوایم جیسی جماعت کی ضرورت کی وجہ بنتی ہے۔ آمرانہ اورجمہوری حکومتوں کوبھی ان کی ضرورت پڑتی ہے اس لئے ایم کیوایم استعمال بھی ہوتی رہی اوریہ ریاستی وسائل کواستعمال بھی کرتی رہی۔ یوں یہ مشترکہ باہمی تعاون اس کواس شہر، صوبہ اورملک کی سیاست کی ضرورت بناتی ہے۔ شہری مسائل کاحل ایم کیوایم یوں پیش کرتی ہے کہ یہ ایک طرف سرمایہ کے پھیلاوکے لئے اقدامات کرتی ہے اوردوسری طرف یہ دیگرآبادیوں کونظراندازکرکے دستیاب فنڈزاوروسائل کوایک یادوسرے طریقے سے مہاجرآبادیوں میں مرتکزکرنے کی کوشش کرتی ہے۔ یوں شہرکے بعض حصے دیگرکی قیمت پرآگے بڑھتے ہیں۔ ایک اہم عنصرمڈل کلاس اورلوئرمڈل کلاس کے اندریہ احساس ہے کہ ایم کیوایم کی چھتری تلے یہ کچھ محفوظ ہے۔ ریاستی اداروں جیسے پولیس، بجلی ،پانی اورصفائی پراس کاکنٹرول ہوجاتاہے اوریہ دیگرقومیتوں کوایم کیوایم کی بھوت سے بھی ڈراتی ہے۔ اس طرح یہ ایم کیوایم کراچی سندھ کے دیگرشہروں میں مہاجروں کوتحفظ کا ایک احساس دلاتی ہے۔اوراس احساس کاسب سے بڑاچمپئین الطاف حسین رہاہے۔ الطاف حسین پرپابندی کے بعداس سے ناطہ توڑنے کے بعدباقی ماندہ مہاجرسیاست کیااس احساس کوقائم رکھ پائے گی؟
گزشتہ ایک سال میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں ایم کیوایم شکست ہوئی ہے۔ اگرچہ ریاستی اداروں کی کوشش رہی ہے کہ ایم کیوایم کوئی بھی گروپ ہو،وہ ووٹ حاصل کرلے تاکہ یہ نظرآئے کہ الطاف کااثراب مزید نہیں رہامگراس تاثرکوزائل کرنے میں ابھی تک ایم کیوایم کامیاب نظرنہیں آتی۔
مہاجرآبادیوں میں خاموشی ہے۔ لیکن ایک عام خیال یہی ہے کہ الطاف حسین ایک علامتی کردارکے طورپراب بھی موجودہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شہرکے حالات خراب ہیں۔ شہرکے کچرے کوہی ٹھکانے لگانا، سیوریج کانظام، پانی کی فراہمی کامسئلہ، شہری اداروں کابراحال ، شہری سہولیات کی کمی، شہرمیں ٹرانسپورٹ کاناہونا، سڑکوں کابراحال ۔ یہ وہ مسائل ہیں جس سے شہرکے بشترعلاقے اب بھی بری طرح متاثرہیں۔ خالد مقبول صدیقی کہتاہے کہ اگرانہیں جگہ نہ ملی تواس کامطلب ہے کہ سندھ کے شہری علاقوں کواہمیت نہیں دی گئی اورشہری علاقوں کے بغیراکثریتی حکومت تولائی جاسکتی ہے لیکن وہ نمائندہ حکومت تصورنہیں کی جاسکتی۔ اس کامطلب یہ ہے کہ اگرایم کیوایم کوصوبہ اورشہرکی سیاست میں جگہ نہیں دی گئی تواس سے توازن متاثرہوگا۔ اورظاہرہے اگرماضی کی طرح پاکستان کی ایم کیوایم کومہاجروں کی حمایت ملتی ہے توپھرعدم توازن سے فساد بھی پھیلے گا۔
مسائل کی موجودگی کے ساتھ ریاستی فوجی آپریشن یہ ایم کیوایم پردھرا دباوکاکام کرتی ہے۔ مسائل کادباوایم کیوایم اورپیپلزپارٹی کی پالیسیاں جہاں مہاجرقیادت کوایک کرنے کی طرف لے جاتی ہے ،وہاں فوجی آپریشن کی وجہ سے ان میں تقسیم بھی نظرآتی ہے۔ اس دوطرفہ دباومیں مہاجرقیادت کس طرح رستہ بناتی ہے، یہ دیکھناباقی ہے۔ابھی تک مہاجرسیاست کوریاست دبانے میں کامیا ب ہے۔ الطاف حسین کاجونام لیتاہے وہ غائب کردیاجاتاہے۔ لیکن اس کایہ مطلب نہیں کہ الطاف کامکمل طورپرخاتمہ ہوگیاہے۔ الطاف کابھوت اب بھی مخالفین کوڈراتاہے۔ الطاف کابھوت دراصل ایک استعارہ ہے جومہاجرلوئرمڈل کلاس کے منظم ہونے کی شکل میں نظرآتاہے۔ اورریاست شہری لوئیرمڈل کلاس کوکچلنے پرآمادہ ہے۔ اس لئے ایم کیوایم پاکستان اورپی ایس پی میں اس کلاس کی نمائندگی اب کس سطح پرہے ، اس کاکوناپنے کاکوئی پیمانہ نہیں رہا۔ کیونکہ سیکٹرانچارجزکے اختیارکوریاست نے ختم کردیاہے۔ ان کی علمداری کانام ہی دراصل ایم کیوایم تھا۔ یہ درپردہ اورپس پردہ کردارہی دراصل اس تنظیم کے سب سے اہم اورفعال کردارتھے۔ اب اگریہ نہیں رہی تویہ اس کامطلب یہ ہے کہ یہ تنظیم اپنی اساس سے محروم ہوگئی ہے۔ اب یہ کچھ دوسری ہی چیزہے جوہمارے سامنے ہے۔ یہ کم ازکم ، ماضی کی ایم کیوایم نہیں رہی۔ اب یہ کس طرح سیاست کرتی ہے ، یہ ابھی طے ہوناباقی ہے۔کیونکہ ایم کیوایم کی سیاست ، احتجاج اوردہشت اوراس دہشت پرمبنی سیاست پردیگرپرتوں جیسے اپرمڈل کلاس ہی نہیں بلکہ دیگرقومیتوں جیسے پشتون، سندھی اوربلوچ کوکنارے لگانایہ سب شائد ممکن نہ رہے۔ اگرایساہی مقصدہے توپھرالطاف ، سیکٹرانچاجزاورتنظیم پروارنہیں کیاجاتا۔ یہ وہ مشکلات ہیں جس سے پاکستان میں سیاست کرنے والے مہاجرسیاست دوچارہیں۔

پاکستان میں سیاست کرنے والے فی الحال اپنی کھال اسی میں محفوظ سمجھتے ہیں کہ وہ فی الحال ریاستی آپریشن کوسہہ لیں۔ ریاست کوبھی اس سے غرض ہے کہ ایم کیوایم ریاست کے اندرریاست تعمیرکرنے سے بازرہے۔ فیصل سبزواری کہتاہے کہ ’حکومتیں اورریاستیں ہم جیسی جماعتوں کوہمیشہ چھوٹے نعروں پرلے کرآتی ہیں۔ آج بھی ۷۰فی صد آمدنی یہ شہردے رہاہے ۔ہمیں توبہت کچھ مانگناچاہیے تھالیکن ہمارے نعرے لاپتہ کارکنوں کی بازیابی ، بے گناہ ساتھیوں کی رہائی اورجوجائزدفاترہیں ان کوکھولنے پرآگئے ہیں‘۔ اس کامطلب یہی ہے کہ پارٹی اپنے آپ بچانے میں لگی ہوئی ، باقی مسائل بعدمیں آتے ہیں۔
ایم کیوایم کومتحدہ قوت کے طورپردیکھنے کے پیچھے یہ کراچی وحیدرآبادسمیت دیگرشہروں کونظراندازکرنے کی پالیسی بھی ہے۔پیپلزپارٹی کی حکومت نے اٹھارویں ترمیم کی آڑلے کراورصو بائی اسمبلی میں اپنی عددی اوردیہی اکثریت کافائدہ اٹھاکرایسے ترمیم کئے ہیں جس گورنرسندھ اورکراچی کے مئیرکے اختیارت گھٹادئے گئے ہیں۔ یوں بہت سارے اخیتارات وزیراعلی اوروزیروں کی طرف منتقل کردئے گئے ہیں۔ اس کااثریہ پڑاہے کہ کراچی سمیت دیگرشہروں کونظراندازکیاجارہاہے۔ اس سے پورے شہرکاحال مزید ا بترنظرآرہاہے۔ پیپلزپارٹی جب سے پاکستان سے محدودہوکرسندھ تک سمٹ گئی ہے، یہ سندھی قوم پرستی کی طرف جھکتی جارہی ہے۔اس نے دیگرقومیتوں میں تناوپیداکردیاہے۔ یہ قومیتیں زیادہ شہروں میں مرتکزہیں۔ ریاست کی کوشش ہے کہ کسی طرح سے شہری لوئرمڈل کلاس اوردیہی غریب کواس حدتک دبایاجائے کہ مڈل کلاس اوپرآجائے۔ یہ مڈل کلاس شہروں میں ایک مشترکہ کلچرکی بنیادپرپروان چڑھ بھی رہاہے اوراس میں تمام قومیتوں کے افرادشامل ہیں۔ کراچی میں تحریک انصاف اس کی بہترنمائندگی بھی کرتی ہے۔
یوں ایم کیوایم کے سامنے مسائل کئی ہیں۔ اگریہ اپنی بنیادوں سے ہٹ کرمڈل کلاس کی سیاست کرتی ہے تواس کوشہروں کے اندرتحریک انصاف سے مقا بلہ درپیش ہے۔ دوسری یہ اربن اوردیہی سیاست میں پیپلزپارٹی سے مقابلہ پرہے۔ یوں لوئرمڈل کلاس کوفوجی آپریشن کے ذریعے سے دباکرمڈل کلاس اورسندھی دیہی اشرافیہ کواوپرلایاجارہاہے۔ کراچی کے علاوہ سندھ کے دیگرشہروں میں پروفیشنل مڈل کلاس اس طرح منظم نہیں کہ یہ دیہی اشرافیہ کوکوئی منظم چیلنج بھی دے سکے۔ فی الحال ایسانظرنہیں آتا۔ دوسری طرف لوئرمڈل کلاس کی شکل میں جوشہری چیلنج تھااسے فوجی آپریشن کے ذریعے سے کچلاگیا۔ پیپلزپارٹی اس میں کامیاب رہی کہ اس نے رینجرزکے آپریشن کوشہروں تک محدودرکھا۔ یوں اس نے ایک طرف دیہی اشرافیہ کواس آپریشن سے بچایااوراس کودرپیش شہری چیلنج بھی ختم کردیا۔ اسی وجہ سے پیپلزپارٹی سندھ بھرمیں زمین مالکان اورشہری کاروباری سندھی طبقہ میں جگہ بناسکی۔ لیکن پیپلزپارٹی کی پالیسی اورفوجی آپریشن کی قیمت بڑے شہروں کی پسماندگی اوربدحالی کی صورت میں نکلاہے۔اس سے پروفیشنل مڈل کلاس اورلوئرمڈل کلاس دونوں بری طرح متاثرہورہے ہیں۔ سندھ حکومت نے کراچی کے لئے بجٹ میں محض دس ارب روپے رکھے ہیں۔ اورکسی اسپیشل پیکج سے شہرکومحروم رکھا۔ کراچی کے مقابلے میں دیگراضلاع کے نسبتاچھوٹے شہروں کے لئے زیادہ رقم مختص کی گئی ۔
ایم کیوایم کوشہروں میں عمران خان کی تحریک انصاف کاسامناہے جوایک مشترکہ شہری کلچرکی پیداوارکی نمائندگی کی دعویدارہے۔ اس طرح تحریک انصاف اورایم کیوایم کے گروپ دیہی پیپلزپارٹی سے مقابلہ پرہیں۔ اگرچہ پیپلزپارٹی نے کراچی جیسے شہرمیں اپنے حکومتی اثرورسوخ کے بل بوتے پرشہری علاقوں کودیہی کراچی ڈسٹرکٹ کونسل میں شامل کردئے اورانتخابی حلقوں کے حدودکومتاثرکرنے کی کوشش کی ہے ۔ اسی طرح مردم شماری میں کراچی کی آبادی توقع سے کم سامنے آئی ہے جس سے دیہی آبادی سندھ کی اشرافیہ کوکچھ سانس لینے کاموقع ملا۔ مگریہ حقیقی سیاست کااظہارنہ ہوں گے۔ شہری حجم بڑھتاجارہاہے۔ اوریہی مہاجرسیاست کے لئے بھی لمحہ فکریہ ہے۔ شہراب اپنے حدودسے پھیل کرباہرنکل گیاہے، جبکہ ایم کیوایم کوفوجی آپریشن سے دباکرکئی حصوں میں تقسیم کیاگیاہے۔ اس سے بظاہرکاروباری اورتاجرطبقہ بھی مطمین ہے۔ لیکن اس کانتیجہ یہ نکلاہے کہ شہری سہولیات کی عدم موجودگی کے باوجود کسی قسم کے احتجاج کوریاست سختی سے کچل رہی ہے۔ حقوق کی جدوجہد مشکل ہوگئی ہے۔ اوراس کی قیمت محض مہاجرنہیں بلکہ سندھی، بلوچ اورپشتون بھی بھگت رہے ہیں۔ مزدورکارخانوں میں کسی قسم کے احتجاج کاسوچ بھی نہیں سکتے۔
ایم کیوایم میں تقسیم اورتفہیم کی بنیاد یہ تضادات ہیں۔ لیکن ریاست کی ایک مجبوری ہے کہ وہ ایک حدتک ہی جاسکتی ہے۔ فوج خودبھی ہروقت اورملک کے طول وعرض میںآپریشن نہیں کرسکتی۔ ایم کیوایم کے خلاف یہ پہلافوجی آپریشن نہیں ہے۔ اس سے پہلے ۱۹۹۲میں فوجی آپریشن کیاگیا۔ ایم کیوایم کے اس وقت بھی گروپ بنے۔ بعض نے ریاستی آپریشن سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اگے بڑھنے کی کوشش کی لیکن لوئرمڈل کلاس کوایم کیوایم حقیقی میں منظم نہ کیاجاسکا۔ اس کوہمیشہ ریاستی اداروں کی پشت پناہ تنظیم تصورکیاگیا۔اب پی ایس پی کوبھی ایساہی پیش کیاجارہاہے۔ لیکن ایم کیوایم پاکستان کس طرح ایک ایسی پارٹی بن سکتی ہے جس کوکم ازکم مڈل اورلوئرمڈل شہری مہاجرآبادی کے نمائندے کے طورپرسامنے لایاجاسکے ، اس کے لئے کوششیں جارہی ہیں۔ ایم کیوایم کے زیرسایہ بھی ایک مڈل کلاس بن گئی ہے۔ اوریہ مڈل کلاس شائد اب ریاست کے ساتھ کسی تضاد سے دوربھی رہناچاہتی ہے۔ لیکن کیاایک سیاسی قوت کے طورپرسامنے آسکتی ہے؟
اگریہ سیاسی طورپرمنظم ہوتی ہے توکیایہ لوئیرمڈل کلاس کواپنے پیچھے لانے میں کامیاب ہوتی ہے؟ یہی سب سے بڑاٹاسک ہے۔
ماضی میں لوئیرمڈل کلاس ، مڈل کلاس کی جماعت اسلامی اورجے یوپی کے پیچھے منظم رہی مگرنیولبرل دورمیں یہ ایک علیحدہ قوت کے طورپرایم کیوایم میں منظم ہوئی توپشتون اورسندھی چیلنج کے ساتھ مڈل کلاس کی بھی مارلگادی۔ اب یہی مڈل کلاس ایک طرف فوجی آپریشن پربغلیں بجارہی ہیں اوردوسری طرف یہ لوئیرمڈل کلاس کوسیاسی طورپراس قدرکمزورکرنے کی خواہاں ہے جہاں یہ اپنی سیاست کوخیرآباد کہہہ کرمڈل کلاس کی سیاست قبول کرلے۔ اب پروفیشنل اورمڈل کلاس کی چمپئین، تحریک انصاف ہے۔
سرمایہ داری میں سیاست ،ریاست پالیسی اورمقامی اوربین الاقوامی سرمایہ واستعماری قوتوں کے زیراثرمتاثرہوتی ہے۔ ایم کیوایم کی سیاست بھی ریاست اورعالمی پیش رفت کے تناظرمیں متاثرہوئی ہے۔ پاکستانی ریاست، عالمی اورمقامی سرمایہ کی وجہ سے ایک طرف سے شہروں کے حجم میں بے پناہ اضافہ ہورہاہے تودوسری انہی شہروں بے پناہ شہری مسائل کاانبارہے اورشہری سہولیات کاشدید فقدان بھی۔ شہری کی اصل طاقت لوئیرمڈل کلاس یا سرمایہ نہیں اورنہ اتھنک تقسیم وگروپ ہیں۔ شہروں کی اصل طاقت اس کے ’مزدور‘ہیں۔ یہ مزدورہرقومیت سے تعلق رکھتے ہیں۔ پیداوارکی وجہ سے یہ سرمایہ داری کے اندراپنے طورپرکام کی جگہ پریہ منظم بھی ہیں۔ اوریہ شہرکی ہرقسم کی آبادی میں رہتے بھی ہیں۔ ان کی مشترکہ قوت سے شہر کاپہیہ روں دواں ہے۔ مارکس نے ان کی اس خصوصیت کو’طبقہ بذات خود‘کہاہے۔ لیکن وہ کہتاہے کہ منظم مزدورکااظہار’طبقہ بطورخود‘کہلاتاہے:جب یہ اپنے لئے کھڑاہوتاہے۔ اس کامطلب یہ ہے کہ مزدورعام حالات میں مزدورہی ہوتاہے کیونکہ یہ ایم کیوایم ،پیپلزپارٹی اوراے این پی کوووٹ دیتاہے۔ جب مزدورطبقاتی جدوجہد میں کودتاہے تویہ بطورطبقہ نظرآتاہے۔ اس شہرکے مزدوروں کے مسائل مشترکہ ہیں اوران کاحل مزدورطبقہ کی جدوجہد میں ہے ناکہ تقسیم میں۔
شہروں میں عوام کی مشترکہ تحریک ہی اب شہری مسائل کے حل کی کوئی صورت نکال سکتاہے۔ اسی میں وہ متبادل بھی چھپاہوگاجوایم کیوایم ، پیپلزپارٹی اوراے این پی ہی نہیں بلکہ سرمایہ داروں کے اقتدارکامتبادل بھی ہوگی۔ سوشلسٹوں کی جدوجہد ایک ایسی ہی تحریک کے لئے کوشش کرناہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *