روہنگیا قتل عام: دہشت کے خلاف جنگ اور پاکستانی سیاسی پارٹیوں کی نسل پرستی

روہنگیا قتل عام: دہشت کے خلاف جنگ اور پاکستانی سیاسی پارٹیوں کی نسل پرستی

تحریر: ریاض احمد

ایک لاکھ ساٹھ ہزار روہنگیا مسلمانوں کو مغربی میانمار (برما) سے نقل مکانی پر مجبور کر دیا گیا ہے۔ سینکڑوں اس خطرناک سفر میں ہی گھائل ہو گئے اور گزشتہ چند ہفتوں سے ہمسایہ ملک بنگلہ دیش میں انکی اندوہناک ہجرت کا سفر جاری ہے۔ یہ اس لیے نقل مکانی کر رہے ہیں کیونکہ یہ میانمار کی فوجی جنتا کے غیض و غضب سے بھاگ رہے ہیں کہ جس نے ان کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر رکھا ہے۔ستمبر کے پہلے ہفتے میں انسانی حقوق کے گروپوں نے میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے قتلِ عام کے کو بدترین قرار دیا تھا۔
۲۰۱۲ء میں ایک لاکھ چالیس ہزار روہنگیا کو ہجرت کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ اقوام متحدہ نے ایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں بچ جانے والوں کے بارے میں کہا گیا تھا کہ ’خاندان جن کے اراکین قتل، مارپیٹ، زناء کا شکار ہوئے اور انہیں نامعلوم مقامات پر لے جایا گیا جبکہ اسی کے ساتھ ساتھ ان کے گھروں کو لوٹ کر جلا دیا گیا‘۔
میانمار کی وزیر اعظم آنگ سان سوکی نے ان حالیہ مظالم سے یکسر انکار کر دیا ہے۔ الٹا الزام ان ’دہشت گردوں‘ پر عائد کر دیا کہ یہ ’غلط بیانی کے پہاڑ کھڑے کر رہے ہیں‘۔
میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام اور ان مظالم پر آنگ سان سوکی پردہ پوشی کے خلاف دنیا بھر میں مظاہرے ہوئے جن کا مقصد روہنگیا کے عوام کے ساتھ ہونے والے مظالم کو اجاگر کرنا تھا۔
مسلمان ہونے کی وجہ سے میانمار کے نسل پرست قوانین انہیں شہریت ہی نہیں دیتے۔ میانمار میں اکثریتی مذہب بدھ ازم ہے۔
میانمار میں فوجی جنتا ۱۹۶۲ء سے حاکم رہی ہے اور تب سے روہنگیا کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ لیکن اب ملک کے فوجی حکمران ہی مورد الزام نہیں۔ آنگ سان سوکی جو کہ نیشنل ڈیموکریٹک لیگ کی لیڈر ہیں اور خود دسیوں سال جلاوطنی اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتی رہی ہیں یہ بھی اس جعلی ’ریفارم پروسس‘ کا حصہ بن گئی ہے کہ جس میں اصل طاقت فوجی جنتا کے پاس ہی ہے۔
جب تازہ ترین فوجی کریک ڈاؤن شروع ہوا تو سوکی نے روہنگیا پر الزام لگایا کہ یہ ’بنگالی‘ ہیں اور یہ کہ انہوں نے خود ہی اپنے مکانات کو آگ لگا لی ہے۔ تقسیم کرو اور حکمرانی کرو کا اصول جو سابقہ برطانوی نوآبادیاتی حکمران ورثہ میں دے گئے ہیں یہ میانمار کے سماج میں اپنی گہری جڑیں رکھتا ہے۔ اور یہی نسل پرستی میانمار کی سیاست کو بھی تشکیل دیتی ہے کہ جو آزادی کے بعد قومی آزادی کی تحریک کے طور پر حکمرانی کر رہی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ عملی طو رپر تمام سیاست دان بشمول وہ کہ جو فوجی جنتاؤں کے خلاف لڑتے بھی رہے ہیں یہ سب روہنگیا کے خلاف نسل پرستی کو ہی فروغ دیتے ہیں۔
آنگ سان سوکی کو نوبل امن انعام تو ملا لیکن وہی قتل عام کی سربراہ ہے او ریہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ سوکی سے نوبل انعام واپس لیا جائے۔ سوکی صرف اندرونِ خانہ ہی روہنگیا کے قتلِ عام کو سپورٹ نہیں کر رہی بلکہ میانمار میں یہ کھلے عام اس قتل عام کی حمایت کر رہی ہے۔
تقسیم سے قبل برطانوی نوآبادکار ہی بنگلہ دیش سے کھیتی باڑی کے لیے مزدوروں کو برما لے کر گئے اور انہیں روہنگیا کے علاقے میں آباد کیا۔ تقسیم کے بعد برما کی حکومت نے انہیں اپنا شہری ماننے سے انکار کر دیا، یہ کہتی ہے کہ روہنگیا کے لوگوں کو بنگلہ دیش واپس چلے جانا چاہئیے۔ دوسری جانب بنگلہ دیشی حکومت کہتی ہے کہ یہ برما کے شہری ہیں۔ یوں روہنگیا دو ریاستوں کے بیچ کچلے جا رہے ہیں۔ انسانیت پر مظالم میںیہ خونریز سلسلہ یقیناًشرمناک ہے۔
میانمار میں فوجی جنتا نے آنگ سان سوکی کو جمہوری اقتدار اس لیے سونپا کے وہاں حاکم پانچ بڑے سرمایہ دار گروپوں کو اب مزید سرمایہ حاصل کرنے کے لیے عالمی سرمائے کی ضرورت تھی۔ کئی دہائیوں تک دنیا بھر سے کٹے رہنے والا ملک جیسے ہی سوکی کو وزیر اعظم بناتا ہے اس پر دفاعی سے لے کر تجارتی پابندیاں جو آمریت کے نام پر مغربی دنیا نے لگا رکھی تھیں یہ جزوی طور پر ہٹا لی جاتی ہیں ۔ پھر میانمار کی جنتا اپنی معیشت کو رفتہ رفتہ کھولنا شروع کرتی ہے اور بجلی، کمیونیکیشن، ٹرانسپورٹ میں بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کی آمد شروع ہو جاتی ہے۔ جس مقصد کے لیے مغربی ممالک کو جمہوریت کا لیبل چاہئیے تھا وہ حاصل ہو چکا تھا اس لیے انہیں میانمار میں مزید جمہوریت کی کوئی پرواہ نہیں۔ یہ جانتے ہیں کہ بڑے سرمایہ داروں اور موجودہ اورسابقہ فوجی جرنیلوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور اس ساتھ پر پردہ داری ہی نہیں بلکہ ننگ دھڑنگ سرمایہ داری کو فروغ دینے کا کام ہی سوکی کھلے عام کر رہی ہے ۔ آج میانمار کے دارالحکومت رنگون میں جتنی ملٹی نیشنل کمپنیاں اور انکے لاکھوں ڈالر تنخواہ لینے والے مینجران کی فوج ظفر موج ہے اس سے زیادہ چین کے علاوہ شاید ہی کسی ملک میں اتنی ملٹی نیشنل ہوں۔ انہیں اب موبائل فون سے لے کر معدنیات تک میں بھرپور دلچسپی ہے ۔ رنگون شہر اب مقامی آبادی کے لیے رہنے کے قابل نہیں رہا کیونکہ یہاں مہنگائی اور کرائے آسمانوں سے باتیں کر رہے ہیں جبکہ غیر ملکی منہ مانگی قیمت دینے کو تیار ہیں ۔بڑھتی ہوئے امیر غریب کے فرق سے توجہ بٹانے کے لیے نسل پرستی کو فروغ میانمار میں ریاستی سطح پر پھیلایا جا رہا ہے اور روہنگیا اس میں صرف ایک مثال ہیں۔
روہنگیا میں قتل عام میں ’مسلم فیکٹر‘ بھی عالمی طاقتوں کی جانب سے خاموشی کا سبب بنتا ہے۔’ دہشت کے خلاف جنگ‘کا عنوان لگا کر تمام ہی بڑے ممالک میں مسلمانوں کے ساتھ ریاستی سطح پر نسل پرستانہ رویہ اختیار کیا جاتا ہے اور یوں یہ ریاستیں اپنے ملک میں شہریوں کو بنیادی حقوق سے محروم کر نے کے لیے جواز دہشت کے خلاف جنگ گڑھ لیتی ہیں۔ کسی بھی بم حملے، بم دھماکے کے فوری بعد یہی امیج ہر طاقتور ملک لہراتا پھرتا ہے کہ دہشت گرد کا تعلق اسلام سے ہے اور بہانے تراش کر اس کا تعلق القائدہ اور داعش اور طالبان سے جوڑ لیا جاتا ہے۔ یہ الفاظ ہی کافی ہوتے ہیں کہ اس کے بعد ریاست گرفتاریوں، ٹارگٹ کلنگ اور قتل عام کرتی جاتی ہے اور ان ممالک کے عوام کو یہی باور کرایا جاتا ہے کہ یہ کچھ انسان دشمن مسلمان ہیں جن کو ختم کر کے ہی عوام کی آزادی بحال کی جا سکتی ہے۔یوں ان ممالک میں مسلمانوں کے خلاف بدترین نسل پرستی روا ہے جسے عام سیاسی پارٹیاں ہر دم اپنا کر عوام کی توجہ اصل مسائل سے بٹاتی پھرتی ہیں ۔

امریکہ اور یورپ میں عام ہے۔ عوام کو میسر سہولیات جیسے گھر، علاج اور تعلیم کو بڑے پیمانے پر پرائیویٹائز کر دیا گیا ہے اور یوں امریکہ اور یورپ کے بعض شہروں میں پچاس فیصد عوام خط غربت سے نیچے ہیں۔ ان کے سامنے انکی غربت کا ذمہ دار تارکین وطن، مہاجرین اور ا ن میں موجود اسلامی دہشت گردوں کو قرار دیا جاتا ہے۔ میانمار میں بھی سوکی اور فوجی جنتا نے مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے عالمگیر رحجان کا فائدہ اٹھایا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ اقوام متحد ہ کے ادارے برائے مہاجرین کے افسران تک یہ کہتے ہیں روہنگیا کے ہجرت پر مجور لوگوں کو یورپی اور امریکی ممالک میں بسانے میں اولین مشکل یہ ہے کہ ان کا مذہب اور ان کے ’دہشت گردی سے ناطے‘ ان کو بسانے میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ عالمی ادارے بھی روہنگیا کو بنگلہ دیش میں ہی بسانے پر زور دیتے ہیں۔

بے روزگاری اور تنگ دستی امریکہ اور یورپ میں عام ہے۔ عوام کو میسر سہولیات جیسے گھر، علاج اور تعلیم کو بڑے پیمانے پر پرائیویٹائز کر دیا گیا ہے اور یوں امریکہ اور یورپ کے بعض شہروں میں پچاس فیصد عوام خط غربت سے نیچے ہیں۔ ان کے سامنے انکی غربت کا ذمہ دار تارکین وطن، مہاجرین اور ا ن میں موجود اسلامی دہشت گردوں کو قرار دیا جاتا ہے۔ میانمار میں بھی سوکی اور فوجی جنتا نے مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے عالمگیر رحجان کا فائدہ اٹھایا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ اقوام متحد ہ کے ادارے برائے مہاجرین کے افسران تک یہ کہتے ہیں روہنگیا کے ہجرت پر مجور لوگوں کو یورپی اور امریکی ممالک میں بسانے میں اولین مشکل یہ ہے کہ ان کا مذہب اور ان کے ’دہشت گردی سے ناطے‘ ان کو بسانے میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ عالمی ادارے بھی روہنگیا کو بنگلہ دیش میں ہی بسانے پر زور دیتے ہیں۔
انڈیا میں دائیں بازو کے ہندو بھی مسلم مخالف جذبات کو ابھار کر اپنی سیاست چمکاتے ہیں۔ جیسے جیسے عالمی سطح پر اسلاموفوبیا(اسلام سے نفرت) بڑھتی جا رہی ہے ویسے ویسے مسلم مخالف نعرے بازی کو عام کیا جا رہا ہے۔ نریندر مودی نے دو سال قبل اعلان کیا تھا کہ بنگلہ دیش اور پاکستان میں ہندؤں کو انڈیا میں شہریت دی جائے گی۔ اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ غیر قانونی بنگلہ دیشی بھی اپنا سامان باندھیں اور بنگلہ دیش واپس چلے جائیں۔ یوں اپنی تنگ نظر دائیں بازو کی سیاست کو آگے بڑھانے کے لیے مسلم مخالف جذبات کو ابھارا جا رہا ہے اور عالمی سطح پر ایسے ہی لیڈران کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پیش پیش قرار دیا جاتا ہے۔
پاکستان میں روہنگیا مسلمانوں پر مظالم پر ریاستی سطح پر انتہائی دوغلی پالیسی اپنائی گئی ہے۔ ایک جانب اپنا رشتہ مسلم امہ کے نام سے دنیا بھر کے مسلمانوں سے جوڑا جاتا ہے تو دوسری جانب پاکستانی ریاست ہی ہر سال میانمار کی ریاست کو فوجی ساز و سامان اور فوجی ٹریننگ فروخت کر تی ہے۔ ایف ۱۷ تھنڈر طیارے جن کا پاکستانی ریاست بڑے فخر سے اعلان کرتی ہے کہ یہ پاکستانی دفاعی ایکسپورٹ صلاحیت کا منہ بولتا ثبوت ہے یہی طیارے اس سال کے آخیر میں میانمار کو ہی فراہم کیے جائیں گے۔ میانمار میں فوجی جنتا کے دور میں جب عالمی سطح پر آنگ سان سوکی کی تحریک کی بدولت دفاعی سامان کی فروخت پر پابندی تھی تو امریکی جرائد کہتے ہیں کہ اسی دور میں پاکستان میانمار کو ہتھیار فراہم کرتا رہا ہے۔ یہی وہ ادوار رہے ہیں کہ جب میانمار میں مسلمانوں کی شہریت ختم کی گئی اور انہیں اپنے ہی ملک میں مہاجر قرار دے دیا گیا۔
پاکستان میں روہنگیا کے مسلمانوں کے ساتھ مظالم کے خلاف دائیں بازو کی سیاست کرنے والی پارٹیاں جیسے جماعت اسلامی نے روہنگیا میں مظالم کے خلاف خوب آواز اٹھائی۔ مگر ان کا مقصد بھی یہی ہے کہ پاکستان میں مسلمانوں کے اندرمذہبی جذبات کو ابھار کر امت مسلمہ کی مظلومیت کا جذبہ پیدا کیا جائے۔ کشمیر میں انڈیا کی حکومت کے مظالم کے خلاف بھی ایسے سیاست کار مذہبی جذبات ابھارنے کے لیے ہندو مخالف نعرے بازی بہت کھلے عام کرتے ہیں، اب یہ بدھ مت مخالف پراپیگنڈہ کو استعمال کر رہے ہیں۔ ان کی اس طرح سے مذہبی جذبات کو بھڑکانے کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ عوام میانمار کے حکمرانوں یا انڈیا کے نسل پرست حکمرانوں کی مخالفت کرنے اور یوں پاکستانی ریاست سے ان سے ناطے توڑنے کے بجائے اپنی ہی ملک یعنی پاکستان میں ہندو اور بدھ مت ماننے والوں کو اپنا مجرم سمجھنے لگتے ہیں۔ یوں جس نسل پرستی کا شکار ورہنگیا کے مسلمان ہیں اسی قسم کی نسل پرستی کا شکار پاکستان میں ہندو ، بدھ اور عیسائی ہو جاتے ہیں۔ یعنی دائیں باز و کی مذہبی نسل پرست سیاست جو میانمار میں حکمران طبقہ استعمال کر رہا ہے اسی قسم کی نسل پرست سیاست کو پاکستانی حکمران طبقہ بہت اطمینان سے استعمال کرتا ہے۔
اسی طرح پیپلز پارٹی، تحریک انصاف اور متحدہ تک عوام میں روہنگیا میں قتل عام کے خلاف لہر کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے لیے روہنگیا کے مسلمانوں کے لیے میڈیا پر آنسو بہاتے نظر آتے ہیں۔ لیکن یہی پارٹیاں اور ان میں جماعت اسلامی بھی شامل ہے انہیں وہ تین سے چار لاکھ روہنگیا مسلمان جو کراچی اور ملک کے دیگر شہروں میں گزشتہ کئی سالوں سے ہجرت کر کے مقیم ہیں وہ نظر نہیں آتے۔ جیسے روہنگیا مسلمانوں کو میانمار کی ریاست اور سیاسی پارٹیاں شہریت دینے سے انکاری ہیں اسی طرح پاکستان میں پیپلز پارٹی، ن لیگ، تحریک انصاف ، جماعت اسلامی اور متحدہ بھی پاکستان میں روہنگیا مہاجروں کو شناختی کارڈ جاری کرنے کے لیے کوئی آواز نہیں اٹھاتیں۔ یہ پارٹیاں مقامی سطح پر انہی مہاجرین کو معیشت پر بوجھ اور جرائم پیشہ ذہنیت کے لوگ قرار دے کر عوام کو تقسیم کر کے ان میں نسل پرست جذبات ابھار کر اپنی جانب متوجہ کرتی ہیں۔ابھی ایک سال بھی سے یہی پارٹیاں جو جنرل ضیاء کے دور میں افغانی مہاجرین کو ویلکم کرتی رہی ہیں یہ انہی بسے بسائی کام کاج کرتے اور اپنے روزی خود کماتے افغانیوں کی شہریت منسوخ کر کے ان کے شناختی کارڈ چھین کر انہیں زبردستی افغانستان منتقل کرواتی رہی ہیں۔ ان میں بھی جماعت اسلامی پیش پیش رہی ہے۔ اب یہ کہتے ہیں کہ یہی افغانی ملک میں دہشت گردی کا سبب ہیں اور اس کا علاج ان کی افغانستان منتقلی ہے۔ وہی جواز جو میانمار کی نسل پرست حکومت اور پارٹیاں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف استعمال کرتی ہیں کہ یہی جرائم، دہشت گردی کا سبب ہیں تو یہی جواز پاکستانی ریاست اور اسکی کلیدی سیاسی پارٹیاں افغانیوں کے لیے استعمال کرتی ہیں۔
یوں جو نسل پرستی اور قتل عام روہنگیا کے مسلمانوں کے ساتھ ہو رہا ہے اس پر ان سیاسی پارٹیوں کو ٹسوے بہانے کا کوئی حق نہیں۔ یہ اپنے ملک میں اس سے میانمار کے حکمران طبقہ سے زیادہ نسل پرست ہیں۔
سرمایہ داری کی جنگیں اور فوجی آپریشن اور اس سے پیدا ہونے والی ہلاکتیں اور لاکھوں عوام کی دربدری دراصل سرمایہ داری کی پیش رفت کے لیے اہم ترین ہیں۔سرمایہ داری کی جنگیں اور ان سے پیدا لاکھوں ہجرتیں لازم و ملزوم ہیں۔ نہ محض ہجرتوں کو الگ کر کے دیکھا جا سکتا ہے اور نہ ہی سرمایہ داری کو اسلامو فوبیا سے جدا کر کے سمجھا جا سکتا ہے۔ سرمایہ داری عالمی سطح پر بحران کا شکار ہے اور یوں مختلف حکمران طبقہ دہشت گردی، اسلام ، آزادیوں کو خطرہ کا نام لے کر نسل پرستی اور تعصب کو اپنے ہی باسیوں میں عام کر رہی ہیں۔ روہنگیا کے مسلمانوں کے خلاف نسل پرستی اور مذہبی بنیاد پر قتل عام روکنے کے لیے ہمیں سرمایہ داری کی جنگوں ، آپریشنوں کے مادی اسباب کا جائزہ لینا ہو گا اور مذہبی جذبات ابھارنے والی سیاسی و مذہبی پارٹیوں کی اپنی نسل پرستی اور تعصب کا پردہ چاک کرنا ہو گا کیونکہ یہی وہ طبقاتی قوتیں ہیں جو اپنے ہی ملک میں مزدوروں کو تقسیم کر کے عوام پر راج کر رہی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *