سوشلزم اور آزادی

سوشلزم اور آزادی

تحریر: روزا خان

سرمایہ دارانہ سماج طبقات پر مبنی سماج ہے جس میں ایک طبقہ پیداواری عمل کا حصہ بن کر سماج کی دولت پیدا کرتا ہے یعنی مزدور اور دوسرا طبقہ پیداواری عمل میں حصہ لئے بغیر ہی اپنی تجوریاں بھرتا ہے یعنی سرمایہ دار۔
سائنسی ترقی کے ساتھ ساتھ مزدوروں کے کام کرنے کے طریقہ کار میں بھی جدت آگئی یعنی اب مزدور صرف ہاتھ سے کام کرنے والے نہیں رہے بلکہ ہاتھ کی جگہ اب کمپیوٹرز اور مشینوں نے لے لی۔ اس جدت کے ساتھ سرمایہ دارانہ نظام کے آلات تو بدلے لیکن مزدور کل بھی پیدا کرتا تھا جب یہ آلات نہیں تھے اور مزدور آج بھی پیدا کرتا ہے جب یہ آلات موجود ہیں۔ اس سے یہ بات تو صاف واضح ہے کہ مزدوروں کے حالات کا اس جدت یا سائنسی ترقی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس سے اس کے ]پیدا کردہ دولت کل بھی چھینی جاتی تھی اور آج بھی یہ عمل ویسے ہی جاری ہے۔
سرمایہ دار اس سماج کا نقشہ جو کہ بہت سادہ ہے ، کو ایک معمہ بنا کر پیش کرتے ہیں تاکہ سماجی رشتوں کو سمجھنا اس قدر مشکل بنا دیا جائے کہ اس کی تبدیلی کا سوال اُٹھا نا ہی پیدا نہ ہو کیونکہ معمے انسان کو گول گول گماتے رہتے ہیں اور معمے کو سمجھنا ہی اس قدر مشکل کام بن جاتا ہے کہ اس کو تبدیل کرنا بہت دور کی بات لگنے لگتی ہے۔
سرمایہ دار سماج کو ایسی کھچڑی بنا دیتے ہیں جس میں آلو بھی نظر آئے گا، بینگن کا سواد بھی ملے گا، گوبھی بھی کہیں کہیں دکھائی دے جائے گی ، لیکن چاول جس سے کھچڑی اصل میں بنتی ہے وہ دیکھناممکن نہیں رہتا۔ انسان بینگن اور آلو کے درمیان تعلق کو ہی ڈھونڈتا رہ جاتا ہے۔
اگر سوچا جائے تو آزادی کی تحریکیں ، عورت کی آزادی کی بات، قومی آزادی وغیر ہ جیسے لفظوں کا آپس میں کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ایک مشرق ہے اور دوسرا مغرب۔ ایک سمندر کا ایک کنا رہ ہے اور دوسرا سمندر کا دوسرا سرا لیکن ان سب میں ایک شے مشترک ہے اور وہ یہ ہے کہ سب کسی نہ کسی طور پر آزادی کے خواہش مند ہیں جو آزادی چاہتے ہیں۔
آزادی؟ مگر کس سے؟مرد عورت سے۔ قومیں جبر سے۔ بچے ماں باپ کی روک تھام کرنے سے۔ بہو ساس کے تانوں سے، مزدور کام کے بوجھ سے وغیرہ۔اسی طرح کروڑو ں مثالیں ہم روز مرہ کی زندگی میں دیکھتے ہیں جس میں شکایتوں اور گلوں کی بھرمار ملتی ہے۔ ہر شخص اپنی نا پسندہ شے سے نجات یا آزادی چاہتاہے۔اور تو اور انسان کسی نہ کسی طور اپنی اس خواہش کی تکمیل کا طریقہ کار طے کر کے اس پر وقتا فوقتا عمل بھی کرتا رہتا ہے۔ جیسے اگر مثالیں جمع کی جائے تو عورت اپنی زبان یا ہاتھ یا بہت ہی بہادر عورت جوتے کا استعمال کر کے وقتی طور پر مرد جیسے بھوت سے نجات پا لیتی ہیں۔ اسی طرح بچے ضد کا سہارا لیتے ہیں۔ مزدور جھوٹ اور کام چوری کے پیچھے اپنی آزادی کو پا لیتاہے۔ کچھ لوگ تحریک کے ذریعے تبدیلی لا کر آزادی کو پانے کی کوشش کرتے ہیں اور کچھ لوگ خاموش رہ کر اپنے لئے مسائل کا خاتمہ کرنے پر بھروسہ رکھتے ہیں۔
یہ ساری وہ حقیقتیں تجربات ہیں جسے سماج میں موجود ہر شخص دیکھتا آرہا ہے۔ ان تمام مثالوں میں جو چیز مشترک ہے وہ مختلف قوتوں سے آزادی پانے کی خواہش اور انسان کا اپنے طور پر اس کو پانے کی کوشش ہے۔
ٖٖٖٖ
قدیم انسان کا تصور آزادی:
انسان قدرت کو اپنے قابو میں کرنے کی تگ و دو میں ہمیشہ سے رہا ہے تاکہ اپنی زندگی کو آسان سے آسان تر بنا سکے۔ اسی مقصد کے تحت انسان نے چیزوں کا جاننا شروع کیا لیکن اس کے ساتھ ساتھ انسان نے ناممکن کو ممکن کر دکھانے کی بھی مثالیں قائم کر لی۔ موسموں اور جانوروں نے تنگ کیا تو گھر بنا لئے۔ بیماریوں سے پریشا ن ہوا تو دوائیں متعارف کروائی۔ کام آسان کرنا چاہا تو مشینیں بنا لیں۔ان سب کامقصد انسان کو فائدہ پہنچانا اور ان تخلیقات سے زندگی گزانے کو آسان بنانا تھا۔ کیونکہ ان سب خواہشات کا تعلق انسان کی فطرت سے ہے۔ انسان جینا چاہتا ہے۔ انسان مل جل کر رہنا چاہتا ہے۔ انسان تخلیق کر نا چاہتا ہے۔ یہ وہ خواہشات ہیں جس پر انسان میں کو ئی تفریق نہیں چاہے وہ مرد ہو یا عورت۔ چاہے وہ بچہ ہو یا جوان، چاہے کمزور ہو یا طاقتور ۔اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ انسان میں فطرتا کوئی تفریق نہیں ہے۔
فطرت کو عموما دو سانچوں میں ڈھالا جاتا ہے۔ ایک جسمانی اور ایک دماغی۔ جسمانی اعتبار سے فطرت میں بہت ساری تفریق بحرحال موجو د ہے لیکن دماغی اعتبار سے یا یوں کہا جائے کہ خواہشات کی رو سے انسان میں کوئی تفریق نہیں ہے۔
لیکن اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر اس بات کو حقیقت مان لیا جائے تو سماج میں نظریات کی بنیاد پر روز دیکھے جانے والے یہ تفرقات کہاں سے آئیں؟کیا دیکھا ان دیکھا کر دیا جائے؟ کیا یہ جھوٹ ہے؟ نہیں ان سب کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اگر مثال ایک فیکٹری کو ہی بنایا جائے تو بوس جسے عام طو ر پر مزدور بہت اعلی شخصیت مانتے ہیں اس کے باوجود کہ کبھی یہ باس نے نہیں ملے ہوتے۔ باس کا نظریہ دریا دلی۔ دوسرا منیجر ایک نمبر کا بیہودہ انسان ہوتا ہے جس کا نظریہ جبر۔ اس کے بعد مزدور چغل خور ، بدتمیز، بد بودار۔اس کا نظریہ موقع پرستی۔ اس کے بعدکلرک وغیرہ جو کہ منیجر کے سپاہی اور مزدوروں کا دوست۔ یعنی سانپ جسے مزدور دودھ پلاتا ہے اور یہ پھر بھی منیجر کو رپوٹنگ کرتا ہے۔ اس کی ذات کمین اور نظریہ چاپلوسی۔یہ ہے وہ تفرقات جو کہ سماج میں عام رائج ہیں اور جن سے ہر انسان کا بلواسطہ یا بلا واسطہ ہر لمحہ تعلق ہے۔
ان تفرقات کو مد نظر رکھتے ہوئے آج کا انسان ان نظریات سے آزادی چاہنے کا خواہش مند ہے۔ وہ اپنے ساتھ والے شخص کے جبر، چغلی ، زیادتی وغیرہ سے آزادی چاہتا ہے اور اس کا طریقہ کار بے شک یہی سمجھ آتا ہے کہ عورت اپنی سینڈل ہاتھ میں رکھ کر چلے۔ بچہ آنکھوں میں آنسو لانے کا فن سیکھے ۔ مزدور صفائی سے جھوٹ بولنا جانتا ہو۔ ساتھی پاؤں کھینچنے کے لئے کمزوریوں سے واقف ہو۔
یہ ہے وہ ساری صورتحال جس سے آج انسان نجات پانا چاہتا ہے۔ اس کا دشمن اب قدرت نہ رہی بلکہ دوسرا انسان بن گیا ہے۔ اس کے شوق اب تخلیق نہیں بلکہ تنقید بن گیا ہے۔یہی وہ سب غلاظتیں ہیں جو صاف نظر آتی ہیں۔ جس سے کسی شخص کو انکار نہیں ہے۔
لیکن سکے کا ایک دوسرا رُخ بھی ہے۔جو واضح ہو کر بھی چھپا دیا جاتا ہے ۔اوراس کو چھپاتا وہ ہے جو سماج کو ایک )

جو سماج کو ایک معمہ کے طور پر ہی پیش کرنا چاہتا ہے اور ا یسے لوگو ں کی آپ کے ارد گرد کمی نہیں ہوتی۔

اصل کام سماج کو بدلنا ہے:
مارکس کا یہ جملہ بہت مشہور ہے کہ فلسفیوں نے دنیا کی توجیحات تو پیش کر دی ہے لیکن اصل کام تو اسے بدلنا ہے۔
اگر آپ دنیا سمجھنا چاہتے ہیں تو فلسفہ ڈیپارٹمنٹ آپ کے لئے حاضر ہے جو بخوبی سماج کو سمجھنے کا فن سکھا دیتا ہے لیکن میں نے ایسی مثالیں بھی پائی ہیں جو کہ صرف فلسفہ پڑھتے ہیں۔ اس کی ایک سمجھ آنے والی وجہ تو یہ ہے کہ ہم جس نظام میں رہتے ہیں اس کے حکمرانوں کو سائنس کی اشد ضرورت ہیں فلسفے کی نہیں ۔ اس لئے فلسفہ کا ڈیپارٹمنٹ کی مثال ایک یتیم بچے کی سی ہے جس پر حکمران کوئی خرچہ نہیں کرنا چاہتے۔ چونکہ نظام کو فلسفے کی ضرورت نہیں اس لئے یہ ایک ناکارہ مضمون ہے کیونکہ اس میں ایڈمیشن لینے والے بدقسمت کا مستقبل تاریک ہے۔ علمی طور پر اس سے روشن مضمون کوئی نہیں لیکن فلسفے کی نوکریاں بہت کم ہیں اس لئے اس میں بدقسمتی سے وہ شخص آتا ہے جسے کہیں ایڈمیشن نہیں ملتا۔اسی وجہ سے یہاں پڑھنے والے اکثر و بیشترلوگوں کوفلسفہ سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ فلسفہ انسان کی زندگی میں بہت اہمیت کا حامل ہے۔
بہرحال مارکس کی یہ بات بالکل درست ہے کیونکہ اس کی تاریخ بھی گواہ ہے اور انسان خود بھی۔سماج میں موجود ہر شے، ہر عقیدے، ہر پرزے کا کوئی نہ کوئی مقصد ہے۔ اسی طرح انسان کا بھی کوئی نہ کوئی مقصد ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان اپنے ادرگرد چیزوں اور واقعات کو سمجھنے کے لئے ہمیشہ بے چین رہا ہے۔لیکن اس کے ساتھ ہی انسان اس کو سمجھنے کے بعد اس کو تبدیل بھی کرنا چاہتا ہے۔یہی وہ بنیادی فرق ہے جو انسان کو جانور سے جدا کرتی ہے۔ جانور کتنے ہی عقلمند کیوں نہ ہوجائے وہ معاشرہ نہیں بناتا لیکن انسان نے مل کر رہنا سیکھا۔ معاشرہ بنایا۔لیکن اب یہ معاشرہ یہ سماج ایک بوجھ بن چکا ہے کیونکہ اس سماج کی بنیا د استحصال ہے۔یہاں کام کوئی کرتا ہے اور مال کوئی بناتا ہے۔ تخلیق کسی کی اور نام کسی کا۔ پیدا کوئی اور کرتا ہے اور لے کوئی اور جاتا ہے۔ سماج مزدور چلاتا ہے لیکن جینے کا حق حکمران کو ہوتا ہے۔ یہی وہ بنیادی وجہ ہے جس سے لوگوں کے آپس میں اختلافات بڑھتے جاتے ہیں اور انسان انسان کا دشمن ہے۔ اس میں اس کی نفسیات کا مسئلہ کم اور نظام کی خرابی کا مسئلہ زیادہ ہے کیونکہ انسان ایک معاشرہ کے ایک خاص نظام سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کی خرابیوں کا تعلق بھی نظام کو سمجھ کر ہی سمجھا جا سکتا ہے۔

کیا یہ نظام بہت پیچیدہ ہے؟
دیکھو تو سب کتنا عجیب ، سوچو تو بات کچھ بھی نہیں،جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے۔ جو نہیں دکھتا اسے دیکھنے کی ضرورت ہیں تا کہ معاملات سمجھ آئیں۔
جیسا کہ میں نے پہلے ہی اپنے طور پر واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ سماج کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ اسے بدلنا اصل کام ہے اور اسے بدلنے کے لئے سماجی نظام، اس کی ساخت اوراس کے کام کرنے کے طریقہ کا ر کو دیکھا جاتا ہے۔لیکن میں یہاں اس بات کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتی ۔ کیونکہ میر ا مقصد تبدیلی کیسے ممکن ہے ،یہ وضاحت کرنا ہے۔
جز یا کل؟نفسیات یا نظام؟
ایک درخت کو اگر دیکھا جائے تو اس میں شاخیں ، پتے، پھل جانے کیا کیا نظر آئے گا لیکن اگر اس درخت کو ختم کرنے کا سوال اُٹھایا جائے تو اس کے لئے اس کی جڑوں کو کاٹنا ہی بہت ہے۔ اسی طرح سرمایہ دارانہ نظام کی بھی مثال ہے۔اگر اس کو دیکھا جائے تو بہت اُلجھاؤ نظر آئے گا لیکن اس نظام کی جڑوں کی طرف دیکھا جائے تو اسے بدلنا کا طریق کا ر سمجھنا قدرے آسان ہے۔
اگر عام حالات میں دیکھا جائے توسماج کو میں مزدور طبقے میں بہت انتشار ہے جس کا ذکر میں پہلے کر چکی ہوں ۔ ہر شخص کی دوسرے سے نفسیات اور سمجھ بوجھ کی بناء پر اختلاف ہے ۔ ایسے میں اس کو تبدیل کرنا سمجھنا ایک مشکل عمل دکھا ئی دیتا ہے ۔ہر شخص کی جنگ اپنے ساتھی کی نفسیات سے ہے اور وہ اسے بدلنے کی کوشش بھی کرتا ہے ۔لیکن جیسا کہ میں نے مثال دی کہ اصل مسئلہ تو جڑوں کا ہے۔
یہ نظام جس میں پیدا کرنے والے کو اس کی پیدا وار پر کنٹرول کا اختیا ر نہیں ، اس میں اسی ایک وجہ سے مختلف مسائل کی پیدا وار ہوتی ہے جیسے کام چوری، بیگانگی کا احساس، کام ایک بو جھ وغیرہ۔ ایسے میں فلاحی کا م جس میں تعلیم دینا، پیسوں کی مدد کرنا وغیرہ کے لئے کافی جگہ بن جاتی ہے لیکن مسئلہ یہ ہے اس طرح کے فلاحی کاموں کا دائرہ کار بہت محدادہوتا ہے۔ یہ اس نظا م میں رہتے ہوئے ہی اس میں مدد اورہمدردی کا درس دیتا ہے۔ لیکن اصل مسئلہ یعنی یہ نظام خود، کی تبدیلی کا کوئی ذکر نہیں۔
اس کے برعکس دوسری طرف تبدیلی ایک تحریک کی صورت میں ہونے کی بھی سینکڑوں مثالیں موجود ہیں جس میں وہ طبقہ جو سماج کی دولت کی پیداوار کا ضامن ہے یعنی مزدور ، ایک ساتھ مل کر سرمایہ داروں کی دولت پیدا کرنے سے انکار کر دیتا ہیں۔ اس حالت میں سماج میں موجود یہ الجھاؤ ختم ہو جاتا ہے اور صاف ستھرا نظر آنے والے دو طبقے نکل کہ سامنے آ جاتے ہیں۔
اس طرح جب کوئی تحریک بنتی ہے تو سرمایہ داروں کا ایک اور خول بھی ٹوٹ کر بکھر جاتا ہے کہ سماج کی طاقت وہ ہے جس کے پاس پیسہ ہے ۔ اس کے برعکس یہ تجربہ عمل میں آتا ہے کہ سماج کی اصل طاقت وہ ہے جو دولت پیدا کرتا ہے کیونکہ اگر سرمایہ دار اگر چاہے تو بھی اس نظام کا پہیہ جام نہیں کر سکتا لیکن اگرمزدور چاہے تو یہ کر سکتا ہے۔ اسی سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ اس نظام میں پیسے والا طاقت ور محض ایک نعرے کے سوا کچھ نہیں۔
اس طرح ایک تحریک کی صورت میں سماج کی پیداوار ان لوگوں کے ہاتھ میں آجاتی ہے جو اسے پیدا کرتا ہے اور مل کر ایک ایسا سماج تشکیل دیتے ہیں جس کی بنیادبرابری ہوتی ہے۔
آزادی لفظ کا اصل مطلب بھی اسی وقت صحیح طور پر اُبھر کر سامنے آئے گا جب اس آزادی کی تحریک کی بنیاد مزدور وں کی ڈیمانڈز ہوگی ۔
آزادی مطلب طبقات سے آزادی۔ اونچ نیچ پر کھڑے نظام سے آزادی۔کام میں بوجھ کے احساس سے آزادی۔انسان کے مشین کی مانند کام سے آزادی۔
مزدوروں کی کوئی بھی تحریک کسی قسم کی قید سے آزادی کی طرف ایک قدم ہوتا ہے جو اگر پھیل جائے تو تاریخ بناتے ہیں اور اگر کسی وجہ سے نہ پھیل پائے تو کچھ سکھا جاتے ہیں۔

انقلاب اور انقلابی پارٹی
مزدور جب سماج میں تحریک کی شکل میں جُڑ کر اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہیں اورنظام کا پہیہ جام کر دیتے ہیں تو ایسے میں انقلابی پارٹی کی اشد ضرورت ہوتی ہے جس کا کام اس تحریک کو پھیلانے اور اسے دیرپا بنانے کا ہوتا ہے۔
انقلابی ایسے حالات میں مزدوروں کا اپنا رسالہ نکالنے اور اس کے ذریعے مزدور طبقے کو ساتھ جوڑنے کا کام کرتے ہیں۔ مزدوروں کی یونینز سے جُڑکراس میں لیڈر شپ،ان کے سامنے تاریخی حوالوں سے ایسی مثالیں لانے جس میں نظام کو تبدیل کیا گیا، جیسی چیزیں سامنے لاتے ہیں۔
آزادی کسی جشن کا نام نہیں ایک تحریک کا نام ہے جس کے ذریعے عرصے سے ایک ہی انداز سے چلنے والے بڑے بڑے نظاموں کی ساخت بدلتی ہے۔ایک عوامی طاقت کا مظاہرہ جس سے سماج کا نقشہ بدلا ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *