کورٹ سے انصاف؟

کورٹ سے انصاف؟

تحریر: ولید احمد

۲۰۱۴ء میں بننے والی فلم کورٹ کوئی کمرشل فلم نہیں ہے۔ اسی لیے یہ اب نیٹ فلیکس پر ریلیز کی گئی ہے۔ کورٹ ایک ایکٹوسٹ کی کہانی ہے جو انڈیا کے لیگل سسٹم کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے۔ کورٹ فلم کے ہدایت کار چھیتانیہ تمھانے ہیں اور یہ فلم وینس فلم فیسٹول ۲۰۱۴ء میں ابھرتی ہوئی بہتری فلم کیٹگری ایوارڈ کے علاوہ ۱۸ دیگر ایوارڈ بھی جیت چکی ہے اور ۲۰۱۵ء میں انڈیا کی جانب سے بہترین فارن فلم کیٹگری کے لیے ایکڈمی ایوارڈ کے لیے نامزد بھی کی جا چکی ہے۔
اتنے ایوارڈ جیتنے والی ایک آرٹ فلم کے لیے کمرشل سینما میں جاری رہنا ممکن ہی نہیں۔ کیونکہ فلم کا موضوع ہی خشک ہے۔ عدالتی نظام کے اندر عام آدمی کو انصاف کی توقع ہی کب ہوتی ہے۔ اور اگر آپ کا کام ریاست کے اندر کسی چھوٹے اہلکار کو بھی ناپسند ہو اورپھر آپ ریاست کے ہتھے چڑھ جائیں تو بچنا مشکل ہے۔ ایسی فلم کو دیکھنے کے لیے یقیناًآرٹ فلم میں دلچسپی ضروری ہے۔
کورٹ کو بہت ہی آسان انداز میں فلمایا گیا ہے۔ کردار ایک محلے میں لگے اسٹیج پر ابھرتے جاتے ہیں، یا پھر ایک ہسپتال کے اندر وارڈ میں ابھرتے رہتے ہیں یا پھر مرکزی کرداروں کے دفاتر یا گھر یا پھر کورٹ روم میں داخل ہوتے، اپنا مدعا بیان کرتے دکھایا گیا ہے۔ کیمرہ اکثر ایک ہی جگہ پر دور سے فکسڈ رہتا ہے اور یوں ہر سین ایک طرح کا اسٹیج سین ہے۔ بس کبھی کبھار کیمرہ بڑے فریم سے چھوٹا ہو کر کسی کردار کے نزدیک آجاتا ہے۔ اس طرح ہدایت کار نے کوشش کی ہے کہ فلم ایک نکتہ نظر سے دیکھی جائے۔ البتہ یہ نکتہ نظر ہر لمحے مظلوم کے ساتھ ہے اور جبر کرنے والوں کے خلاف۔فلم کی تیاری میں بھی کرداروں نے سیاسی کارکنوں کی زندگیوں میں جا کر دیکھا کہ یہ کیسے کام کرتے ہیں اور کس طرح کی زندگی گزارتے ہیں۔ ان سب کو فلم سے قبل ہی مشہور ڈاکومنٹری جئے بھیم کامریڈ دکھائی جا چکی تھی۔
کہانی کچھ یوں ہے کہ ایک فولک گلوکار پر یہ الزام لگا دیا جاتا ہے کہ اس کا گانا سن کر ایک بھنگی نے خودکشی کیسے کر لی۔ پولیس نے کیس یہ بنایا کہ گلوکار نریان کمبلے نے سیورج ملازم کے محلے میں ایک گانا گایا جس میں غیر منصفانہ نظام پر تنقید کی گئی تھی اور یوں اس سیورج ملازم نے گٹر صفائی کے دوران حفاظتی آلات کا استعمال نہیں کیا اور یوں خودکشی کر لی۔
اب اس انتہائی مضحکہ خیز الزام پر مقدمہ بنانے پر پولیس خلاف کاروائی ہونی چاہئے تھی۔لیکن کورٹ میں یہ کیس قریب تین سال تک چلا ۔ ہدایت کار تمھانے نے اس حقیقی کہانی کو حقیقی روپ دینے کے لیے جس طرح کی اداکاری کرائی ہے وہ خوب ہے۔ کوئی بھی کردار عام زندگی سے ہٹ کر نہ ڈائیلاگ بولتا ہے نہ ہی اسٹائل مارتا ہے۔ وکیل ونے وہرہ جس کے گرد زیادہ تر کہانی کو جوڑا گیا ہے یہ بھی ایک عام سا مڈل کلاس شخص ہے جسے سماج میں ناانصافی دور کرنے کی فکر ہے ۔ فولک سنگر نریان کمبلے پر جس طرح پولیس اور پھر سرکاری وکیل نے الزامات لگائے ان میں جو بھونڈا پن ہے اور جس طرح کورٹ میں موجود جج ایک قدامت پرست انسان ہے جس کے عام زندگی کے طور طریقے تبدیلی کے خواہشمند افرا د کا گلہ گھوٹنے کے درپے ہیں اس سے فلم میں بہت جان پڑ گئی ہے۔
کورٹ انڈیا میں تیزی سے گھٹتی ہوئی سیاسی آزادیوں کی عکاس ہے۔ کس طرح دائیں بازو کی بی جے پی کی حکومت ظلم و جبر کے نظام کو سرمایہ داری کے پھیلاؤ کے طور پر مسلط کرتی جا رہی ہے اس کے بجائے اس ظلم کے خلاف عام انسانوں میں بیداری پیدا کرنے والے سیاسی کارکن نریان کمبلے ایک فولک سنگر کے روپ میں آواز اُٹھا رہا ہے اسے بڑی خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔ نریان کو فلم کی ابتداء سے آخیر تک عدالتی نظام، قید وبند اور قید و بند کے خوف سے بے نیاز اپنا کام کرتے جاتے دکھایا گیا ہے۔ یعنی یہ کہ یہ صعوبتیں آواز اُٹھانے کے کام میں کسی طور پر رکاوٹ کے طور پر پیش نہیں کی گئیں۔ یقیناًنریان کمبلے اور ان کی طرح کے سیاسی کارکنوں کو جس طرح کے مسائل انڈیا میں درپیش ہیں اب ان میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ لیکن کورٹ میں جہاں موضوع کورٹ ہے وہاں انصاف کورٹ کے اندر نہیں بلکہ عوامی ابھار کے زرائع تلاش کرنے پر زور دیتا دکھائی دے گا۔ عدالتی نظام عوام کو انصاف نہیں خواص کو انصاف دیتا ہے اور عوام کو جبر و استحصال کے خلاف بیدار کرنے والوں کو کورٹ کے چکر لگواتا ہے، یہی فلم کورٹ کا مقصد ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *