آزادی کا چراغ جلتا رہے گا

آزادی کا چراغ جلتا رہے گا

تحریر: حانی واحد بلوچ

آزادی ! یہ لفظ بہت ہی آسان ہے۔ دیکھا جائے تو اس کے بہت سے مقاصد ہیں اور ہر پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے اس لفظ کی تہہ کو گہرائیوں سے سمجھنے کے قابل صرف وہ لوگ ہیں جن میں شعور ہو۔ کہتے ہیں کے تعلیم شعور دیتی ہے و ہ ایک بنیادی حق بھی ہے اب تو تعلیم کو بھی ایک عیاشی بنادیا گیا ہے تعلیم یافتہ نوجوان کالجوں ،یونیورسٹیوں میں کھلے عام وحشی درندوں کی طرح شعور یافتہ نوجوانوں کو ماررہے ہیں ، نوچ رہے ہیں ،آیا کہ وہ تعلیم یافتہ ان باشعور نوجوانوں کو ختم کررہے ہیں کیا تعلیم یافتہ لوگوں میں شعور نہیں ؟؟
یہاں شعور اور تعلیم دو الگ چیزیں ہیں کیوں کہ وہ تعلیم یافتہ علم کو سر سے گزار رہے ہیں اس لئے وہ بے شعور ہیں ، لیکن جو حقیقی معنوں میں علم کو حاصل کرتا ہے وہ باشعور ہوجاتا ہے ۔ یہ سب ایک طرف یہاں لفظ آزادی کی بات ہورہی ہے مطلب کے بے خوف ، خودمختار کسی کا پابند نہ ہونا ۔مکمل اختیارہونا وغیرہ ہونے کے علاوہ اور بھی بہت سے معنی اس لفظ سے جُڑے ہیں ۔ کیا آزادی سب کے لیے برابر ہے ؟ اس کا جواب بہت ہی مشکل ہے کیونکہ وہ نوجوان یا وہ لوگ جو تعلیم یافتہ بھی ہیں اور بے شعور بھی وہ بے خوف ہوکر لوگوں کو مار مارکر نوچ رہے ہیں اور وہی لوگ خود مختار ہوکر اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔ نہ وہ کسی کے پابندہیں ، نہ کسی سے خوف ، ہرچیز ان کے اختیار میں ہے اور پر سکون ہو کر اطمینان سے جو چاہے کر سکتے ہیں ۔ اس کے بر عکس دوسری طرف وہ طبقہ ہے جو کہ تعلیم یافتہ بھی اور با شعور بھی ہیں لیکن وہ کافی حد تک ڈر ڈر کر خوف زدہ ہوکر زندگی گزار رہے ہیں ۔ انہیں بولنے تک کی آزادی نہیں اور نہ انہیں اپنی زندگی پر سکون ہو کر گزار نے کا اختیار ہے ۔ نہ ہی وہ خود مختار ہیں ۔ بلکہ ہر طرح سے وہ کسی نہ کسی کا پابند ہے۔ ہر دن گھٹ گھٹ کر جی رہے ہیں ۔ یہاں آزادی بھی سب کے لیے نہیں بلکہ جس میں بولنے کی صلاحیت ہے تو اسے زندہ رہنے نہیں دیا جاتا ۔ یا مذہبی انتہا پرست لوگ اسلام کا مخالف کہہ کر انہیں ختم کردیتے ہیں یا ریاست خود ایسے لوگوں کو ختم کردیتا ہے ۔ جو بات کرنا جانتے ہیں ، جو آزاد ہوکر رہنا چاہتے ہیں ۔لیکن انکے بولنے کی قوت ہی انکے موت کا سبب بن جاتی ہے ۔ انہیں کچل دیا جاتا ہے۔ایک طرف مشال خان جیسے ہنستامسکراتا ہوا نوجوان جنہیں سب کے سامنے بے پردگی سے مذہب کے نام پر بے دردی سے مارا جاتا ہے ۔ لوگ تماشائی کھڑے دیکھ کر ویڈیو بناتے ہیں تاکہ سوشل میڈیا پر ان لوگوں کے لیے جلد از جلد اپلوڈ کیا جائے ۔ تا کہ وہ لوگ دیکھ سکے جو نیا تماشہ دیکھنے کے منتظر ہو۔ اس میں قصور وار وہ تعلیم یافتہ بے شعور طبقہ نہیں بلکہ وہ تعلیمی ادارے یا وہ نظام ہے جو یونیورسٹیوں میں ایسے درندے پیدا کرتے رہتے ہیں ۔ یہ صرف ایک مشال خان تو نہیں بلکہ یہاں لاتعداد اور بھی مشال ہیں ۔ بلوچستان کے ایسے لاتعدار نوجوان ہونگے جنکی مسخ شدہ لاشیں انکے ماؤں کے سامنے رکھ دی جاتی ہیں اور ایسے بھی نوجوان جو گمشدہ ہیں پتہ نہیں کس اذیت خانوں میں اذیت سہہ رہے ہونگے ۔ اور یہ سوچ کر تھک جاتی ہوں جب مشال خان کے ماں کے سامنے ان کے بیٹے کی مسخ شدہ لاش لائی گئی ہوگی۔ یقیناًماں کا کلیجہ پھٹ گیا ہوگا۔لیکن آج بھی تو بلوچستان کے یونیورسٹی کا ہونہار طالب علم ذاکر مجید اور اس کے علاوہ ہزاروں نوجوان لاپتہ ہیں تو کیا ان کے ماؤں کے کلیجے ہر روزپھٹتے ہونگے ؟شاید وہ ہر روز یہ بات سوچتے ہونگے کہ کب ہمارا لخت جگر ایک مسخ شدہ لاش کی صورت میں ہمارے سامنے رکھ دیا جائے گا ۔حالانکہ مشال کو اسلام کے نام پر ختم کیا گیا تو ان نوجوانوں کو جو آزادی کے متعلق بات کرتے تھے یا کرتے ہیں انہیں ختم کرنے میں ریاست کا ہاتھ ہے جو دو الگ الگ پہلو ہیں۔ لیکن تکلیف اور دردایک ہی طرح کا ہے۔ آج مشال خان کی والدہ بھی تڑپ رہی ہوگی لیکن اس درد کا شاید ہمیں اندازہ نہ ہو یقیناًوہ مائیں بخوبی اندازہ لگا سکتی ہیں جنکے لال کو ایک مسخ شدہ لاش کی صورت میں انکے سامنے رکھ دیا گیا ہوگا۔ وہ ماؤں کے زخم پھرسے تازہ ہوئے ہونگے جب انہوں نے مشال خان کا سنا ہوگا۔ایک بار پھر انکے درد تازہ ہوئے ہوں گے۔ یہ بھی ممکن نہیں وہ مائیں اس درد کو بھول چکی ہوں۔ بلکہ وہ تو اطمینان سے زندگی ختم ہونے تک کا انتظار کررہی ہیں تاکہ جلد وہ اپنے لخت جگروں کے پاس جاکر انہیں گلے لگا سکے ۔ مائیں بھی ان دردوں کو بھول نہیں سکتیں جسے ہم بھول چکے ہیں ۔ کہا جاتاہے ایک نئی زندگی کو جنم دینے کے لیے کروڑوںPlenty, of Desire, Feelings, Emotion, Senseکی ضرورت ہوتی ہیں ۔ جب ایک ماں تخلیق کے عمل سے گزر تی ہے ایک بچے کو جنم دیتی ہے وہ درد بیس ہڈیوں کے Fractureہونے کے درد کے مترادف ہوتا ہے ۔ ہر طرح کے Biological Factorسے گزر تی ہے لیکن وہی مائیں جب ہزاروں خوائش لیے اپنے لخت جگروں کی مسخ شدہ لاشیں دیکھیں تو ان پر کیا گزرتی ہوگی اس کا ہمیں احساس نہیں۔ ہم یہ بھی بھول چکے ہیں ہم انسان ہیں۔ انسانیت کی قدر کرنا بھول چکے ہیں ۔اب تو انسانیت بھی مرچکی ہے ۔ لیکن ان سب کے پیچھے اصل ذمہ دار کون ہے!! ۔ آئیے زرا سوچیے ان سب کے پیچھے کیا پڑھا لکھا نوجوان طبقہ ہے؟ کیا مذہبی جنونی پرست لوگ ہیں ؟ کیا ریاست ہے ؟آخر اصل مسئلہ کیا ہے ؟ یہاں تو آوے کا آوا بگھڑا ہوا ہے۔ ان تمام برائیوں کا جڑ پورا کا پورا نظام ہے ۔ میں کس طرح طالب علموں کو قصور وار ٹہراؤں !یہاں تک کے ہم نے استادوں کو بھی دیکھا اور سنا ہے کس قدر جاہلیت کا دورہے اس کا ہمیں اندازہ تک نہیں۔ اس لیے میں یونیورسٹی کے پروفیسر کے بارے میں بتانا چاہونگی جس سے اس بات کو سمجھنے میں آسانی ہو کہ نہ صرف انتہاء پسندی کو سیکھنے والا شریک ہے بلکہ سکھانے والے کا ہاتھ بھی شامل ہے ۔ یہ حقیقت کچھ اس طرح سے ہے جب ہم Vivaدینے کے لیے Examination Hallمیں گئی تو ایک External یونیورسٹی کی پروفیسر Chemistryکے Vivaمیں ایک طالب علم سے یہ پہلا سوال پوچھتی ہے کہ آپ Nail polish لگا کر آئی ہو مسلمان نہیں ہو ؟ طالب علم جواب دیتی ہے میم میں مسلمان ہوں ۔پھر دوسراسوال کرتی ہے نما زنہیں پڑھتی ہو ؟ پھر تیسرا سوال یہ کہ کرسٹن ہو؟ اس طرح کچھ سوالات کئے۔ کیا ہندوہو؟ لڑکی ڈرکی وجہ سے خود کو مسلمان کہہ کر کہتی ہے شاید وہ خود کو مسلمان بھی اس لیے کہتی ہے تاکہ اسے Viva میں Failنہ کیا جائے ۔ وہ مذہب بھی تبدیل کرکے کہتی ہے میم میں مسلمان ہوں چیک کرنے کے لیے لگا لیا تھا ۔لیکن اب نہیں اتر رہی ہے ۔ تو ٹیچر مشورہ بھی دیتی ہے بیٹا آئندہ سے اسلامک Nail polishلگالینا ۔ میں پہلے بھی کہہ چکی ہوں یہاں قصور وار صرف ایک طبقہ نہیں پورانظام ہے ۔ لیکن میں بس یہ واضح کردینا چاہونگی انسانی جسم کوتو ختم کردینا ممکن ہے لیکن اس سوچ کو کیسے ختم کر سکوگے ۔آج ایک مشال خان کو ماروگے کل ایسے ہزاروں مشال پیدا ہونگے۔ کتنے ذاکر مجید کو زندان میں رکھوگے آج بھی تو ذاکر مجید جیسے نوجوان اپنی بات منوا سکتے ہیں ۔کتنے ہی پروفیسر صبا دشتیاری جیسے لوگ جسمانی طور پر ہم میں نہیں ہیں لیکن ان کے نظریات کی روشنی میں ہزاروں صبا دشتیاری کی شکل میں ظلم کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں ۔ آج کون کہتا ہے سبین محمود ہمارے درمیان نہیں وہ تو ہر دلوں میں زندہ ہے ۔ جو بھی ہو ایسے لوگ چراغ کی مانند رات کے اندھیرے کو چیرتے ہوئے اُمنگ کی کرنیں بکھیرتے رہیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *