کشمیر کی سنگ بارلڑکیاں

کشمیر کی سنگ بارلڑکیاں

بشکریہ :بی بی سی اردوڈاٹ کام

انڈیا کے زیرِانتظام کشمیر کے کشیدہ ماحول میں پلنے بڑھنے والی لڑکیوں اور ملک کے باقی حصوں میں رہنے والی لڑکیوں کی زندگی کتنی یکساں اور کتنی مختلف ہو سکتی ہے؟یہی سمجھنے کے لیے وادی کشمیر میں رہنے والی دعا اور دہلی میں مقیم سومیا نے ایک دوسرے کو خط لکھے۔ سومیا اور دعا کی ایک دوسرے سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی ہے۔ انھوں نے ایک دوسرے کی زندگی کو گذشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران خطوط کے ذریعے ہی جانا(بی بی سی اردوڈاٹ کام )
پیاری دعا،
میں یہاں پر بالکل ٹھیک ہوں اور میرا خاندان بھی اچھا ہے۔ آج کل میرے گھر میں میری پھوپھی آئی ہوئی ہیں۔
سمرتھ بھی بالکل ٹھیک ہے، لیکن اس کی شیطانیاں اب بھی کم نہیں ہوئی ہیں۔
امید ہے آپ اور آپ کے اہل خانہ سبھی صحیح سلامت ہوں گے۔
گذشتہ خط میں جو باتیں آپ نے لکھی ہیں ان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارا معاشرہ، چاہے وہ دہلی ہو یا کشمیر یا پھر ملک کا کوئی اور حصہ، لڑکیوں کے لیے اتنا محفوظ نہیں ہے۔
جی ہاں، دہلی میں تو کچھ لڑکیاں ‘سیلف ڈیفنس’ کی چیزیں رکھتی ہیں۔ پھر بھی لڑکیوں پر ظلم کم نہیں ہوتا ہے۔
‘سنگ بار لڑکیوں’ کی کہانی سن کر مجھے یہ سمجھ نہیں آیا کہ آرمی نے ان لڑکیوں پر حملہ کیوں کیا؟
آرمی تو ہماری حفاظت کے لیے ہوتی ہے نا؟
میں تمہیں بتانا چاہتی ہوں کہ اگر میں ایسی حالت میں پھنس جاتی، تو اپنی حفاظت کے لیے میں بھی کچھ ایسا ہی کرتی۔
تم نے مجھ سے دہلی کی زندگی کے بارے میں پوچھا تھا، تو میں آپ کو بتانا چاہتی ہوں کہ یہاں کی زندگی بالکل مست ہے۔
رمضان شروع ہو چکا ہے۔ ان دنوں پرانی دہلی کے علاقوں میں کافی رونق رہتی ہے۔ ویسے انڈیا گیٹ بھی آدھی رات تک جگمگاتا رہتا ہے۔
دہلی میں تو ہم انٹرنیٹ اور باقی ذرائع ابلاغ کے بغیر زندگی کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ مجھے بہت دکھ ہے کہ کشمیر میں لوگوں کو اتنی بری حالت سے گزرنا پڑتا ہے۔
لیکن ان حالات کے لیے بعض عناصر ذمہ دار ہیں یا پھر بات کچھ اور ہے؟
اگر وہاں کے لوگوں کو اتنی پریشانی ہوتی ہے، تو پھر انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا بند کیوں کیا جاتا ہے؟
میں نے نیوز میں پڑھا تھا کہ 16 سال کے ایک لڑکے نے ‘کاش بک‘ کے نام سے سوشل میڈیا ‘ایپ’ تیار کیا ہے۔
کیا تم بھی اسے استعمال کرتی ہو یا پھر تمہارا کوئی جاننے والا اس کا استعمال کرتا ہے؟
کیا کشمیری عوام ان حالات سے بور نہیں ہوگئی ہے؟
تمہارے جواب کے انتظار میں۔۔۔
تمہاری دوست،
سومیا۔

پیاری سومیا،
تمہارا خط ملا اور یہ جان کر اچھا لگا کہ میری طرح تمھیں بھی کتابیں پڑھنا اور موسیقی سننا پسند ہے بلکہ تم میری ہی طرح ‘ون ڈائر کشنر‘ بھی ہو۔
تم نے اپنے خط میں مجھ سے ایک سوال پوچھا کہ جب بھی کشمیر کے باہر کے لوگ وادی کے بارے میں کچھ بھی سنتے ہیں تو ان کے دماغ میں جو پہلی بات آتی ہے وہ ‘مسلم’ ہے اور تم جاننا چاہتی ہو کہ کیا یہاں صرف مسلم ہی رہتے ہیں۔
اس کا جواب نہیں ہے لیکن یہاں رہنے والے زیادہ تر لوگ مسلمان ہیں۔
پورے جموں کشمیر کی بات کریں تو 70 فیصد مسلمان ہیں، ہندو 20 فیصد اور باقی مذاہب (مسیحی، جین مت، بدھ مت، سکھ وغیرہ) 10 فیصد.
مذہب کوئی بھی ہو، یہاں کشمیر میں تمام لوگ بہت بھائی چارے کے ساتھ رہتے ہیں۔
ہم اردو کی ایک کہاوت ’ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی، آپس میں سب بھائی بھائی‘ میں یقین کرتے ہیں۔
یہ سمجھانے کے لیے میں تمہیں ایک مثال دیتی ہوں۔ تقریباً دو سال پہلے، شوپیاں نام کے ایک علاقے میں مسلمانوں نے ایک غریب ہندو کی بیٹی کی شادی کروانے میں اس کی مدد کی تھی۔
تم نے موسم کی بھی بات کی اور خواہش ظاہر کی کہ دہلی کا موسم بھی کشمیر جیسا ہو جائے لیکن یقین مانو تم یہ پسند نہیں کرو گی، کیونکہ جیسا میں نے تمہیں اپنی گذشتہ خط میں لکھا تھا، ہمارے یہاں شدید سردی پڑتی ہے۔
چلہء کلاں کے دوران تو درجہ حرارت منفی 15 ڈگری تک پہنچ جاتا ہے۔ دوسرے یہ کہ یہاں موسم کبھی بھی بدل جاتا ہے۔
گذشتہ دو دن خوب دھوپ نکلی، اب جب میں یہ خط لکھ رہی ہوں مجھے باہر سے بارش کی آواز سنائی دے رہی ہے۔
اور ٹھنڈک اس قدر ہے کہ قلم تک پکڑنے میں انگلیاں برف سی ہوئی جا رہی ہیں۔
ہاں گرمیوں میں گرمی نہیں بلکہ اچھا موسم ہوتا ہے (تمہارے لیے ہو نا ہو لیکن ہمارے لیے 33 ڈگری بھی بہت گرم ہوتا ہے)۔
میں سکول میں ایک اچھی سٹوڈنٹ ہوں۔ جیسا میں نے تمہیں بتایا تھا کہ میں نویں کلاس میں ہوں۔
ساتھ ہی ساتھ میں دسویں کلاس کی تیاری بھی کر رہی ہوں۔ اب یہ سمجھ نہیں آرہا کہ دسویں کلاس میں کون سے سبجیکٹس (مضامین) لوں۔
کیا تم مجھے اس سلسلے میں کوئی مشورہ دے سکتی ہو؟ تم کون کون سے مضامین لینے والی ہو؟
تمہارے مطابق کس سبجیکٹ میں مستقبل میں زیادہ مواقع ملیں گے، کئریئر بنے گا اور جن پر توجہ دی جانی چاہیے؟
تمہارے ذہن میں کچھ ہو تو مجھے ضرور لکھ بھیجنا۔
تمہارے جواب کی منتظر
تمہاری دوست
دعا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *