افسانہ:بغیر اجازت

افسانہ:بغیر اجازت

تحریر:سعادت حسن منٹو کتاب:منٹو نامہ

سعادت حسن منٹو کو آج کل کون نہیں جانتا۔ تقسیم ہند کے وقت سماجی حالات کی بہت عمدہ تصویر کشی کرنے کا فن منٹو صاحب خوب جانتے تھے۔جب سے ان پر منٹو کے نام سے فلم بنائی گئی ہے تب سے وہ نوجوان جنہوں نے منٹو کانام سنا تھا، اب منٹو کو پڑھنے کی خواہش رکھتے ہیں۔
آزادی کے نام پر جس خوشحالی کا ذکر ہم اپنی نصاب اور دیگر تاریخ کی کتابوں میں دیکھتے ہیں ان کے پیچھے کی حقیقت صرف وہی مصنف بیان کر سکتا ہے جس نے وہ دور دیکھا ہو۔ سعادت حسن منٹو کے افسانے اس سماج کو سمجھنے میں بہت معاون ہیں۔
منٹو صاحب کے ایک افسانے بنام ’نیا قانون‘ جو کہ سندھ ٹیکسٹ بورڈ کی دہم جماعت کے نصاب کا حصہ ہے ،میں انہوں نے بہت عمدہ انداز میں ایک تانگے والے جیسے عام آدمی کے آزادی سے جُڑے خواب اور حقیقت کاموازنہ کیا ہے۔
اگست کا مہینہ آتے ہی میڈیا ، گلی کوچوں ،بازاروں میں آزادی آزادی کے نعرے گھونجنے لگے۔ایسے میں میرے ذہن میں سعادت حسن منٹو کا یہ افسانہ آیا ۔یوں تو یہ ۱۹۵۵ میں لکھا گیا ہے لیکن اس کی اہمیت آج بھی ویسی ہی برقرارہے ۔ اس کی وجہ بہت سادی سی ہے اور وہ یہ کہ طبقاتی سماج کا آج بھی اسی طرح موجود ہونا۔
ملاحظہ فرمائیں:

نعیم ٹہلتا ٹہلتا ایک باغ کے اندر چلا گیا ۔۔۔۔اس کو وہاں کی فضا بہت پسند آئی۔۔۔۔گھاس کے ایک تختے پر لیٹ کر اس نے خود کلامی شروع کردی۔
’کیسی پُر فضا جگہ ہے۔۔۔۔حیرت ہے کہ آج تک میری نظروں سے اوجھل رہی۔۔۔۔نظریں۔۔۔۔اوجھل‘
اتنا کہہ کر وہ مسکرایا
’نظریں ہو تو چیزیں نظر بھی نہیں آتیں ۔۔۔۔آہ کہ نظر کی بے نظری!‘
دیر تک وہ گھاس کے اس تختے پر لیٹا اور ٹھنڈک محسوس کرتا رہا لیکن اس کی خود کلامی جاری تھی۔
’یہ نرم نرم گھاس کتنی فرحت ناک ہے‘
آنکھیں پاؤں کے تلوؤں میں چلی آئیں ۔۔۔۔اور یہ پھول۔۔۔۔یہ پھول اتنے خوبصورت نہیں جتنی ان کی ہرجائی خوشبو ہے۔۔۔۔ہر شے جو ہرجائی ہو ۔۔۔۔خوبصورت ہوتی ہے۔۔۔ہرجائی عورت۔۔۔۔ہر جائی مرد۔۔کچھ سمجھ میں نہیں آتا ۔۔۔۔یہ خوبصورت چیزیں پہلے پیدا ہوئی تھیں۔۔یا خوبصورت خیال۔۔۔۔۔۔ہر خیال خوبصورت ہوتا ہے۔۔۔۔مگر مصیبت یہ ہے کہ ہر پھول خوبصورت نہیں ہوتا۔۔۔۔۔مثال کہ طور پر یہ پھول، اس نے اُٹھ کر ایک پھول کی طرف دیکھا اور اپنی خود کلامی جاری رکھی۔
یہ اس ٹہنی پر اکڑوں بیٹھا ہے۔۔۔۔کتنا سفلہ دکھائی دیتا ہے بہرحال یہ جگہ خوب ہے۔۔۔۔ایک بہت بڑا دماغ معلوم ہوتی ہے۔۔۔۔روشنی بھی ہے۔۔۔۔سائے بھی ہیں۔۔۔۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس وقت میں نہیں بلکہ یہ جگہ سوچ رہی ہے۔
یہ پُر فضا جگہ جو اتنی دیر میری نطروں سے اوجھل رہی۔
اس کی بعد نعیم فرط مسرت میں کوئی غزل گانا شروع کردیتا ہے۔۔۔۔۔۔کہ اچانک موٹر کے ہارن کی کرخت آواز اس کے ساز دل کے سارے تار جھنجھوڑ دیتی ہے۔
وہ چونک کر اُٹھتا ہے۔۔۔۔۔دیکھتا ہے کہ ایک موٹر پاس کی روش پر کھڑی ہے اور ایک لمبی لمبی مونچھوں والے آدمی نے گرج کر کہا۔
’اے تم کون ہو۔۔۔۔۔‘
’نعیم جو اپنے ہی نشے میں سرشار تھا چونکا۔۔۔۔۔
’یہ موٹر اس باغ میں کہا ں سے آگئی‘
مونچھوں والا جو اس باغ کا مالک تھا بڑبڑایا
وضع قطع سے تو آدمی شریف معلوم ہوتا ہے مگر یہاں کیسے گھس آیا۔۔۔۔کس اطمینان سے لیٹا تھا جیسے اس کے باوا کا باغ ہے۔۔۔۔۔پھر اس نے بلند آواز میں للکار کے نعیم سے کہا
’اماں ۔۔۔۔کچھ سنتے ہو۔۔۔۔‘
نعیم نے جواب دیا
’حضور سن رہا ہوں۔۔۔تشریف لے آیئے۔۔۔۔یہاں بہت پُر فضا جگہ ہے۔‘
باغ کا مالک بھنا گیا
’تشریف کا بچہ۔۔۔۔۔ادھرآؤ‘
نعیم لیٹ گیا
’بھئی مجھ سے آیا نہ جائے گا تم خود ہی چلے آؤ۔۔۔۔۔واللہ بڑی دلفریب جگہ ہے تمہاری سب کوفت دور ہوجائے گی‘
باغ کامالک موٹر سے نکلا۔۔۔۔۔اور غصے میں بھرا ہوا نعیم کے پاس آیا۔
’اُٹھو یہاں سے‘
نعیم کے کانوں کو اس کی تیکھی آواز ناگوار گزری’اتنے اونچے نہ بولو۔۔۔۔آؤ میرے پاس لیٹ جاؤ۔۔۔۔بالکل خاموش جس طرح کہ میں لیٹا ہوا ہوں ۔۔۔۔آنکھیں بند کر لو۔۔۔۔اپنا سارا جسم ڈھیلا چھوڑ دو۔۔۔۔دماغ کی ساری بتیاں گُل کر دو۔۔۔۔پھر جب تم اس اندھیرے میں چلوگے تو ٹٹولتی ہوئی تمہاری انگلیاں غیر ارادی طور پر ایسے قمقمے روشن کریں گی جن کے وجود سے تم بالکل غافل تھے۔‘
آؤ میرے ساتھ لیٹ جاؤ
باغ کے مالک نے ایک لحظہ سوچا۔۔۔۔۔نعیم سے لہا
’دیوانے معلوم ہوتے ہو۔۔۔‘
نعیم مسکرایا ’نہیں ۔۔۔۔۔تم نے کبھی دیوانے دیکھے ہی نہیں۔۔۔۔۔میری جگہ یہاں اگر کوئی دیوانہ ہوتا تو وہ ان بکھری ہوئی جھاڑیوں اور ٹہنیوں پر بچوں کے گالوں کے مانند لٹکے ہوئے پھولوں سے کبھی مطمئن نہ ہوتا۔۔۔۔۔۔دیوانگی اطمینان کانام نہیں میرے دوست۔۔۔۔۔لیکن آؤ ہم دیوانگی کی باتیں کریں۔‘
’بکواس بند کرو۔۔۔۔نکل جاؤ یہاں سے‘
باغ کے مالک کو طیش آگیا۔۔۔۔اس نے اپنے ڈرائیور کو بلا یا کہ آکر نعیم کو دھکے مار کر باہر نکال دے۔
’ارے تم کون ہو۔۔۔۔بڑے بدتمیز معلوم ہوتے ہو‘
جب نعیم باہر جا رہا تھا تو اس نے گیٹ پر ایک بورڈ دیکھا جس پر لکھا تھا’بغیر اجارت اندر آنا منع ہے‘
وہ مسکرایا
’حیرت ہے کہ یہ میری نظروں سے اوجھل رہا۔۔۔۔نظر ہوتو بعض چیزیں نظر نہیں بھی آتیں ۔۔۔۔۔آہ نظر کی یہ بے نظری‘
یہاں سے نکل کر وہ ایک آرٹ کی نمائش میں چلا گیا تاکہ اپنی ذہنی تکدر دور کر سکے۔

ہال میں داخل ہوتے ہی اس کو عورتوں اورمردوں کا ایک جھرمٹ نظر آیا جو دیواروں پر لگی پینٹنکز دیکھ رہا تھا۔
ایک مرد کسی پارسی عورت سے کہہ رہا تھا
’مسز فوجدار۔۔۔۔ یہ پینٹنگ دیکھی آپ نے‘
مسز فوجدار نے تصویر کو ایک نظر دیکھنے کے بعد ایک عورت شیریں کی طرف بڑے غور سے دیکھا اور اس مرد سے جو غالبا اس کا ہونے والا شوہر تھا کہا
’تم نے دیکھا شیریں کتنی سج بن کے آئی ہے۔‘
ایک نوجوان عورت ایک نو عمر لڑکی سے کہہ رہی تھی’ثریا ادھر آکے تصویریں دیکھ۔۔۔۔۔تو وہاں کھڑی کیا کررہی ہے‘
ثریا کو تصویروں سے کوئی دلچسپی نہیں تھی اصل میں اس کو ایک بوائے فرینڈ سے ملنا تھا۔
ایک ادھیڑ عمر کا مرد جسے کوئی دلچسپی نہیں تھی اپنے ادھیڑ عمر کے دوست سے کہہ رہا تھا۔
’بلی زکام کی وجہ سے نڈھال ہے، ورنہ ضرور آتی۔۔۔۔آپ جانتے ہی ہیں پینٹنگز سے اسے کتنی دلچسپی ہے اب تو وہ بہت اچھی تصویریں بنا لیتی ہے ۔پرسوں اس نے پینسل کاغذ لے کر اپنے چھوٹے بھائی کی سائیکل کی تصویر اُتاری۔۔۔۔۔ میں تو دنگ رہ گیا‘
نعیم پاس کھڑا تھا۔۔۔۔۔اس نے ہلکے سے طنز کے ساتھ کہا
’ہوبہو سائیکل معلوم ہوتی ہوگی‘
دونوں دوست بھونچکے ہوکر رہ گئے کہ یہ کون بدتمیز ہے چنانچہ ا ن میں سے ایک نے نعیم سے پوچھا۔
’آپ کون ہیں؟‘
نعیم بوکھلا گیا
’میں ۔۔۔۔میں‘
’میں میں کیا کرتے ہو۔۔۔۔۔بتاؤ تم کون ہو‘
نعیم نے سنبھل کر کہا
’آپ ذرا آرام سے پوچھئے۔۔۔۔۔۔۔۔میں آپ کو بتا سکتا ہوں‘
’تم یہاں آئے کیسے؟‘
نعیم کا جواب بڑا مختصر تھا
’جی پیدل۔۔۔‘

عورتیں اور مرد جو آس پاس کھڑے تصویریں دیکھنے کے بجائے خدا معلوم کن کن چیزوں پر تبصرہ کر رہے تھے ہنسنا شروع کردیا۔۔۔۔۔اتنے میں اس نمائش کا ناظم آیا اس کو نعیم کی گستاخی کے متعلق بتا یا گیا تو اس نے بڑے کڑے انداز میں اس سے پوچھا
’تمہارے پاس کارڈ ہے۔‘
نعیم نے بڑے بھولے پن سے جواب دیا
’ کارڈ ۔۔۔۔۔کیسا کارڈ۔۔۔۔۔پوسٹ کارڈ؟‘
ناظم نے اپنا لہجہ اور کڑا کر کے نعیم سے کہا
’بغیر اجازت تم اندر چلے آئے جاؤ بھاگ جاؤ یہاں سے‘
نعیم ایک تصویر کو دیکھ کر دیر تک دیکھنا چاہتا تھا مگر اسے بادل نخواستہ وہاں سے نکلنا پرا۔۔۔۔۔سیدھا اپنے گھر گیا دروازے پر دستک دی اس کا نوکر فضلو باہر نکلا۔
نعیم نے اس سے درخواست کی۔
’کیا میں اندر آسکتا ہوں‘
فضلو بوکھلا گیا۔۔۔۔۔’حضور۔۔۔۔۔حضور۔۔۔۔۔یہ آپ کا اپنا گھر ہے اجازتی کیسی؟‘
’نہیں فضلو۔۔۔۔۔یہ میرا گھر نہیں ہے۔۔۔۔۔۔یہ گھر جو مجھے راحت بخشتاہے کیسے میرا ہوسکتا ہے۔۔۔۔۔مجھے اب ایک نئی بات معلوم ہوئی ہے‘
فضلو نے بڑے ادب سے پوچھا
’کیا سرکار؟‘
نعیم نے کہا
’یہی کہ یہ میرا گھر میرا نہیں ۔۔۔۔۔۔البتہ اس کا گرد وغبار۔۔۔۔۔اس کی تمام غلاظتیں میری ہیں۔۔۔۔۔وہ تمام چیزیں جن سے مجھے کوفت ہوتی ہے میری ہیں لیکن وہ تمام چیزیں جن سے مجھے راحت پہنچتی ہے کسی اور کی۔۔۔۔۔خدا جانے کس کی۔۔۔۔۔میں اب ڈرتا ہوں۔۔۔کسی اچھی چیز کو اپنانے سے خوف لگتا ہے یہ پانی میرا نہیں ۔۔۔۔۔۔یہ ہوا میری نہیں۔۔۔۔۔یہ آسمان میرا نہیں۔۔۔۔وہ لحاف جو میں سردیوں میں اوڑھتا ہوں میرا نہیں۔۔۔۔۔۔اس لئے کہ میں اس سے راحت طلب کرتا تھا۔‘
فضلو جاؤ ۔۔۔۔۔۔تم بھی میرے نہیں
وہ چلا گیا
رات کے دس بج چکے تھے

ہیرا منڈی کے ایک کوٹھے سے پیا بن ناہے آوت چین کے بول باہر اُڑاُڑ کے آرہے تھے
نعیم اس کوٹھے پر چلا گیا
اندر مجرا سننے والے تین چار مردوں کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔اور طوائف سے کہا
’ان اصحاب کو کوئی اعتراض تو نہیں ہوگا ‘
طوائف مسکرائی
’انہیں کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔۔۔۔۔ادھر مسند پر بیٹھئے۔۔۔۔گاؤ تکیہ لے لیجئے‘
نعیم بیٹھ گیا۔۔۔۔اس نے کمرے کا جائزہ لیا اور طوائف سے کہا
’یہ کتنی اچھی جگہ ہے‘
طوائف سنجیدہ ہوگئی
’آپ کیا مذاق اُڑاتے ہیں۔۔۔۔۔یہ اچھی جگہ ہے۔۔۔۔۔جسے تم شرفا حد سیز یا وہ گندی جگہ کہتے ہیں‘
نعیم نے اس سے کہا
’ یہ اچھی جگہ اس لئے ہے کہ یہاں بغیر اجازت کے آنا منع ہے کا بورڈآویزاں نہیں ہے۔‘
یہ سن کر طوائف اور اس کا مجرا مننے والے تماشبین ہنسنے لگے
نعیم نے ایسا محسوس کیا کہ دنیا ایک قسم کی طوائف ہے جس کا مجرا سننے کے لئے اس قسم نے چغد آتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جہاں سماج کی بنیاد طبقات ہوں وہاں سماج میں سکون اور راحت پانے کے حقدار صرف وہ ہیں جو اسے افورڈ کر سکتے ہوں۔آرٹ سماج کے ان لوگوں کی ملکیت بن جاتی ہے جو اس کی قیمت ادا کر سکتا ہو ۔ خوبصورتی اور نیچر کی قربت بھی پیسوں میں تولی جاتی ہے۔
سرمایہ دارانہ سماج میں تمام چیزیں پہلے سے طے شدہ ہوتی ہیں۔یہ طے ہوتا ہے کہ کون سماج کی دولت پیدا کرے گا اور یہ بھی کہ کون اس دولت کو لے اُڑے گا۔اس میں راحت ، سکون اور تخلیق نامی چیزوں کی کوئی جگہ نہیں ہے۔
کام ، پیشے ، زندگی گزارنے کا انداز سب طے شدہ ہے۔
سرمایہ دارانہ سماج ایک مشین کی مانند ہے جس میں مزدور مشین ہے۔ سرمایہ دار اس مشین کو جب چاہے جتنا چاہے جیسے چاہے استعمال کرے اور جب مزدور (مشین)گھس گھس کر ناکارہ ہوجائے تو اسے اُٹھا کر پھینک دے۔ یہی وجہ ہے کہ نوکریاں دینے والے سرمایہ دار کے لئے مزدور کی عمر بہت اہم ہوتی ہے۔یہ مشین کم عمر ہے فریش ہے لہذا کام کی ہے۔ زیادہ چلے گی اور زیادہ کمائے گی۔ اس مشین کی عمر زیادہ ہو چکی ہے۔کم چلے گی کیونکہ آئے دن بیمار پڑھ جائے گی پھر چھٹیاں کرے گی اس لئے میرے کام کی نہیں۔
اس طرح اس سماج کی بنیا د مشین ہے اور اس کا مزدور بھی مشین ہے۔ کون کیا کام کر ے گا یہ مزدور خود نہیں طے کرتا بلکہ یہ اس کا مالک طے کرتا ہے۔
ایسے سماج میں تخلیق کے لئے کوئی جگہ نہیں بچتی کیونکہ تخلیق کار اصولوں اورضابطوں کا پابند نہیں ہوتا۔ تخلیق کار کیا ، کیوں اور کیسے کرے گا یہ خود طے کرتا ہے ۔لیکن سرمایہ دارانہ سماج میں تخلیق کاری کے لئے کوئی جگہ نہیں کیونکہ تخلیق کے اصول اور ضابطے ہیں ۔ تخلیق کاری سیکھی جاتی ہے اور اسے سیکھ وہ سکتا ہے جس کے پاس اس کو سیکھنے کی قیمت ہوتی ہے۔
اس سماج میں انسان کی راحت اور سکون کی خواہش محض ایک خواہش ہے۔ اسے طے شدہ سماج کو بدلنا ہی انقلاب ہے کہ جس میں پیدا کرنے والا خود اپنی زندگیوں کا تعین کرے گا۔ کام کرنے والا خود اپنے کام کا تعین کرکے کام کے بوجھ تلے دبے گا نہیں بلکہ تخلیقی عمل کا حصہ بنے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *