ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال برطرفیوں کے بعد بھی جاری!

ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال برطرفیوں کے بعد بھی جاری!

رپورٹ

لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال سوشلسٹ کے چھپتے چھپتے آٹھویں روز بھی جاری تھی۔ ایک جانب نواز شریف انصاف کے لیے پنڈی سے لاہور مارچ کر رہا ہے تودوسری جانب اسی کا بھائی پنجاب کا وزیر اعلیٰ ینگ ڈاکٹروں کو انصاف مانگنے پر برطرف کر رہا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ مزدوروں کے لیے معیار الگ اور طبقہ اعلیٰ کیلیے معیار الگ۔ ینگ ڈاکٹرز نے پولیس اور آنسو گیس اور گرفتاریوں اور برطرفیوں کے باوجود لاہور کی ہڑتال کو پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی پہنچا دیا۔ اسی سے ظاہر ہوتا ہے کہ مزدور متحد ہوں تو کتنے ہی طاقتور سرمایہ داروں سے لڑ سکتے ہیں۔ ینگ ڈاکٹرز کا احتجاج روزآنہ ٹی وی پر تنقید کا نشانہ بھی بن رہا ہے۔ البتہ کب ایسا ہواکہ مزدور احتجاج کریں اور سرمایہ دار اسے منفی انداز میں پیش نہ کریں۔
لاہور میں ینگ ڈاکٹرز اور صوبائی حکومت درمیان ہونے والے طویل مذاکرات ناکام ہوگئے تھے جس کے بعد ینگ ڈاکٹرز نے ہڑتال چوتھے روز بھی جاری رکھتے ہو ئے او پی ڈی کھولنے سے انکار کردیا تھا۔ملتان میں ینگ ڈاکٹرز نے حکومت سے مذاکرات کے بعد گزشتہ روز سے ایمرجنسی میں کام شروع کردیا ہے تاہم ان ڈور اور آوٹ ڈور میں اب بھی ہڑتال جاری ہے۔ وارڈز اور آؤٹ ڈور وارڈز میں ہڑتال ہے، جبکہ الائیڈ اور سول اسپتال میں ہونے والے معمول کے آپریشن بھی ملتوی کردیئے گئے ہیں۔ گجرات ، رحیم یار خان ، فیصل آباداور ملتان میں بھی ینگ ڈاکٹرز سینٹرل انڈکشن پالیسی واپس لینے اور دیگر مطالبات کی منظوری کیلئے سراپا احتجاج ہیں۔ ینگ ڈاکٹرز سے مذاکرات میں ناکامی کے بعد محکمہ صحت نے کارروائی کرتے ہوئے ملتان اور لاہور میں ہسپتالوں سے غیر حاضر ڈاکٹرز کو معطل کر دیا ہے اور دیگر کو نوٹس جاری کر دیئے ہیں۔
ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال سے راولپنڈی شہر کے تینوں ہسپتالوں میں ہڑتال رہی۔ او پی ڈی اور ان ڈورز میں ڈاکٹروں کی ہڑتال کامیاب رہی۔ آپریشن کیلئے مریضوں کو ایک ماہ سے 2ماہ بعد کی تاریخ دی جا رہی ہے جس سے مریض شدید تکلیف کا شکار ہیں۔ پروفیسر حضرات اور دیگر سینئرز راؤنڈ کے علاوہ مریضوں کو دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے۔ بینظیر بھٹو ہسپتال میں آپریشن کیلئے مریضوں کو 30سے 60دن بعد کی تاریخ دی جا رہی ہے۔ ارتھو پیڈک اور دیگر وارڈز میں جہاں مریض کا بیڈ پر رہنا ضروری ہے‘ اتنے لمبے انتظار سے مریضوں کے لواحقین بھی شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ارتھو پیڈک ڈیپارٹمنٹ بینظیر بھٹو ہسپتال جہاں پر چار اضلاع اور آزاد کشمیر سے آئے مریض آپریشن کے منتظر ہیں‘ انہیں نہ تو گھر بھیجا جا سکتا ہے نہ ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال کی وجہ سے آپریشن کئے جا سکتے ہیں۔ اس سے قبل جہاں روزانہ 11سے 13آپریشن ہوتے تھے وہاں صرف 2یا 3آپریشن کئے جا رہے ہیں۔ گرمی اور حبس کے موسم میں پلستر سمیت لیٹنا بھی مریضوں کیلئے ایک عذاب سے کم نہیں۔ گزشتہ روز بھی بجلی کی طویل بندش کے باعث مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ ہولی فیملی ہسپتال میں آرتھو پیڈک کا ڈیپارٹمنٹ ہی نہیں۔ اس طرح ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال سے تینوں ہسپتالوں میں کام رک گیا۔ مقامی قیادت بھی اس ہڑتال کو ختم کرانے میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے میں دلچسپی نہیں لے رہی جس پر عوام نے مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ پنجاب حکومت بھی ڈاکٹروں کے مطالبات پورا کرنے یا مسئلہ کا فوری حل نکالنے کی بجائے اپنے موقف پر ڈٹی ہوئی ہے جس سے مریضوں‘ اْنکے لواحقین اور عام آدمی براہ راست متاثر ہو رہے ہیں۔
کراچی میں بھی سندھ نرسنگ ایگزامینیشن بورڈ کے خلاف نرسنگ اسٹوڈنٹس دوسرے روز بھی سراپا احتجاج ہیں، احتجاج میں جے پی ایم سی اسکول آف نرسنگ ، این آئی سی ایچ کی نرسز شامل ہیں۔نرسز کامطالبہ ہے کہ امتحانات میں شفافیت کو نظرانداز کیاگیا،ہم نتائج سے مطمئن نہیں،لہذا دوبارہ امتحانات لئے جائیں،جب تک ہمارے مطالبات منظورنہیں ہوتے احتجاج جاری رہیگا۔

جمہوریت

حبیب جالب
!دس کروڑ انسانو
!زندگی سے بے گانو
صرف چند لوگوں نے حق تمہار ا چھینا ہے
خاک ایسے جینے پر ؂! یہ بھی کوئی جینا ہے
بے شعور بھی تم کو بے شعور کہتے ہیں
سوچتا ہوں یہ نادان کس ہوا میں رہتے ہیں
اور یہ قصیدہ گو فکر ہے یہی جن کو
!ہاتھ میں علم لے کر تم نہ اُٹھ سکو، لوگو
!کب تلک یہ خاموشی چلتے پھرتے زندانو
!دس کروڑ انسانو
یہ ملیں ، یہ جاگیریں کس کا خون پیتی ہیں؟
بیرکو ں میں یہ فوجیں کس کے بل پر چلتی ہیں؟
کس کی محنتوں کا پھل داشتائیں کھاتی ہیں
جھونپڑوں سے رونے کی کیوں صدائیں آتی ہیں
جب شباب پر آکر کھیت لہلہاتا ہے
کس کے نین روتے ہیں کون مسکراتا ہے
کاش تم کبھی سمجھو کاش تم کبھی جانو!
!دس کروڑ انسانو
علم و فن کے رستے میں لاٹھیوں کی یہ باڑیں
کالجوں کے لڑکوں پر گولیوں کی بوچھاڑیں
یہ کرائے کے غنڈے یارگار شب دیکھو
کس قدر بھیانک ہے ظلم کا یہ ڈھب دیکھو
رقص آتش و آہن دیکھتے ہی جاؤ گے
دیکھتے ہی جا ؤ گے ہوش میں نہ آؤ گے
ہوش میں نہ آؤ گے اے خا موش طوفانو!
!دس کروڑ انسانو
سینکڑوں حسن ناصر ہیں شکار نفرت کے
صبح و شام لٹتے ہیں قافلے محبت کے
جب سے کالے باغوں نے آدمی کو گھیر ا ہے
مشعلیں کرو روشن دور تک اندھیرا ہے
میرے دیس کی دھرتی پیار کو ترستی ہے
پتھروں کی بارش ہی اس پہ کیوں برستی ہے
ملک کو بچاؤ بھی ملک کے نگہبانو!
!دس کروڑ انسانو
بولنے پہ پابندی سوچنے پہ تعزیریں
پاؤں میں غلامی کی آج بھی ہیں زنجیریں
آج حرف آخر ہے بات چند لوگوں کی
دن ہے چند لوگوں کا رات چند لوگوں کی
اُٹھ کے درد مندوں کے صبح و شام بدلو بھی
جس میں تم نہیں شامل وہ نظام بدلو بھی
دوستوں کو پہچانو دشمنوں کو پہچانو
!دس کروڑ انسانو

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *