کراچی یونیورسٹی میں ملازمین انتخابات

کراچی یونیورسٹی میں ملازمین انتخابات

تحریر: ریاض احمد

کراچی یونیورسٹی میں اساتذہ، افسران اور ملازمین کی تین ایسوسی ایشنز ہیں ۔ ان ایسوسی ایشنوں کے انتخابات سالانہ یا ہر دو تین سال بعد ہوتے ہیں۔ اساتذہ کی ایسوسی ایشن کراچی یونیورسٹی ٹیچرز سوسائٹی ہے اس میں دو یا تین گروپس انتخابات میں حصہ لیتے ہیں۔ اسی طرح افسران کی کراچی یونیورسٹی آفیسرز ایسو سی ایشن ہے جو گریڈ ۱۷ سے بالا افسران کی منتخب تنظیم ہے یہاں بھی دو گروپس انتخاب لڑتے ہیں۔ اسی طرح ملازمین یعنی گریڈ ایک تا ۱۶ کے ملازمین کی کراچی یونیورسٹی امپلائیز ایسوسی ایشن ہے جس کے ۲۰۱۶ء کے انتخابات میں تین گروپوں نے حصہ لیا تھا۔
۳ اگست ۲۰۱۷ء کو کراچی یونیورسٹی امپلائیز ایسو سی ایشن کے انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ یہ انتخابات اس لیے ہو رہے ہیں کیونکہ اپریل ۲۰۱۷ء میں گزشتہ سال منتخب ہونے والی باڈی کے تمام عہدیداروں یعنی صدر ، سیکریٹری سمیت کابینہ نے یک دم استعفی دے دیا تھا۔ یہ غیر معمولی اقدام تھا لیکن یونیورسٹی کی سیاست سے واقف افراد کے لیے یہ تعجب کی بات نہ تھی۔ ۲۰۱۵ء سے کراچی آپریشن میں شدت کے بعد سے کئی بار اسی امپلائیر زایسوسی ایشن کے عہدیداران کو رینجرز نے گرفتار کیا اور پھر اکثر کو کچھ دن بعد چھوڑ دیا۔ یونیورسٹی انتظامیہ ان گرفتاریوں پر خاموش رہی اور ملازمین کی جانب سے کچھ احتجاج کے بعد معاملہ چھوڑ دیا جاتا۔ وجہ یہ تھی کہ گرفتار ہونے والے یا امپلائیز ایسوسی سی ایشن کے منتخب عہدیداران کا تعلق انصاف پسند گروپ سے ہی تھا جو ایم کیو ایم سے وابستہ سمجھی جاتی ہے ۔ ان گرفتاریوں کے سبب ہی ۲۰۱۵ء میں ایم کیو ایم کے انصاف پسند گروپ میں تقسیم پیدا ہو گئی اور یوں ۲۰۱۶ء میں بھی قبل از وقت انتخابات ہوئے۔ ان انتخابات کے نتائج حیران کن تھے۔ انصاف پسند کو ۹۰۰ ووٹ پڑے جبکہ پیپلز پارٹی کی سپورٹ سے پیپلز یونٹی کو ساڑھے سات سو ووٹ پڑے اور ایک اور گروپ یونائیٹڈ ورکز کو ساڑھے چار سو ووٹ پڑے۔ ۲۰۱۵ء کے انتخابات میں انصاف پسند کو ۱۵ سو ووٹ پڑے تھے جبکہ یونائیٹڈ گروپ کو چھ سو ووٹ۔ یوں ۲۰۱۶ء کے انتخابات میں جہاں پیپلز پارٹی کا حمایت یافتہ گروپ ابھرا وہاں ایم کیو ایم حمایت یافتہ انصاف پسند گروپ کا ووٹ بنک آدھا ہو گیا۔ یوں ایم کیو ایم تقسیم ہوئی اور اس میں سے پاک سرزمین پارٹی کا حمایت یافتہ گروپ سامنے آیا اور پیپلز اور یونائیٹڈ نے متحد ہو کر پیپلز یونٹی بنا لی۔
۲۰۱۷ء کے انتخابات بھی اسی تقسیم کا سبب ہیں۔ پاک سرزمین پارٹی کے زیرِ اثر ایک نیا گروپ ملازمین اتحاد کے نام سے سامنے آیا ہے اس کی قیادت میں زیادہ تر ایم کیو ایم سے منحرف ہونے والے سابقہ قائدین ہیں اور کچھ یونائیٹڈ سے نکل کر شامل ہونے والے بھی ہیں۔ ان کی آمد سے ایم کیو ایم کا انصاف پسند گروپ کمزور ہو گیا ہے۔ اور انصاف پسند گروپ کی جانب سے دباؤ کے پیشِ نظر انصاف پسند گروپ نے اپریل ۲۰۱۷ء میں استعفی کا اعلان کر دیا۔ ان کا یوں ہول سیل انداز میں پوری کابینہ کا مستعفی ہونا یونیورسٹی ملازمین سیاست میں ایک انہونا معاملہ بن گیا۔ جب ان سے پوچھا جاتا کہ انہوں نے استعفیٰ کیوں دیا تو انصاف پسند گروپ یہی کہتا کہ ہم پر دباؤ ہے۔ کس کا دباؤ ہے تو جواب ہوتا آپ سمجھ جائیں۔ یعنی ایجنسیوں کا دباؤ۔ اشارہ یہ ہوتا کہ کیونکہ ایم کیو ایم سے رغبت رکھنے والے ملازمین گرفتار ہوتے رہے ہیں اورمارچ ۲۱۰۱۷ء میں تو یونیورسٹی ایڈمنسٹریشن بلاک سے ہی دو افراد کو رینجرز کے ساتھ نقاب پوشوں نے گرفتار کیا تھا اس لیے اشارہ یہی ہوتا۔ مارشل لاء کے زمانے میں بھی یونیورسٹی کے اساتذہ، افسران، ملازمین پر کبھی اس طرح کا دباؤ نہیں آیا کہ یہ مستعفی ہو جائیں۔ یقیناًدباؤ ایم کیو ایم کی جانب جھکاؤ اور شہر میں ایم کیو ایم کا فوجی آپریشن کا نشانہ بننا ہے لیکن اس دباؤ میں مستعفی ہوجانا یہ بتاتا ہے کہ اندرونی طور پر تقسیم اس کی بڑی وجہ ہے۔ کچھ کا کہنا ہے کہ انصاف پسند گروپ کو شکست کا خوف ہے، کچھ کا یہ بیان ہے کہ انہیں دست برداری پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
جولائی کے آخری ہفتے میں انتخابی مہم کے دوران دو گروپ ہی میدان میں نظر آئے۔ ایک پیپلز یونائیٹڈ اور دوسراپاک سرزمین کی حمایت سے ملازمین اتحاد۔ پھر انصاف پسند گروپ نے اعلان کیا کہ وہ کسی گروپ کو سپورٹ نہیں کر رہے اور اپنا پینل کا اعلان جلد کریں گے۔ لیکن پھر یہ خبر آئی کہ انصاف پسند گروپ انتخابات میں حصہ نہیں لے رہا۔
ایم کیو ایم سے رغبت رکھنے والے ملازمین کراچی یونیورسٹی میں افسران اور ملازمین کی ایسوسی ایشن کا ایک طویل عرصے سے حصہ رہے ہیں۔ یہ ملازمین کے مشترکہ مفادات کی جدوجہد میں دیگر ملازمین، افسران اور اساتذہ کی طرح کئی ایک مشترکہ جدوجہد میں پیش پیش بھی رہے ہیں۔ البتہ ان کا اس طرح مستعفی ہونا اور پھر ملازمین ایسوسی ایشن انتخابات سے دست بردار ہوجانا کوئی صحت مند عمل نہیں ہے۔ شہر کی سیاست جس طرح سے یونیورسٹی ملازمین کو سیاسی گروہوں میں تقسیم کرتی آرہی ہے اب اس میں نئے باب کا اضافہ ہو رہا ہے۔
شہری سیاست کا اساتذہ یا ملازمین یا افسران کی ایسوسی ایشنوں میں عمل دخل گزشتہ کئی دہائیوں سے غیر مثبت رہا ہے۔ شہری سیاست یونیورسٹی میں طلبہ سیاست میں شامل ہو کر طلبہ کے داخلوں اور ان کی غیر نصابی سرگرمیوں کا حصہ بن جاتی ہے اور ساتھ ہی یونیورسٹی انتظامیہ پر دباؤ کا سبب بھی اور یوں طلبہ تقسیم ہوتے رہے ہیں اور انکی یونینیں آج تک بحال نہ ہو سکیں۔ اسی طرح ملازمین کی ایسو سی ایشن سیاست میں شہری سیاست کا عمل دخل میرٹ سے بالا ہو کر سفارشی بھرتیوں اور انتظامی بدعنوانی کو صوبائی حکومت و گورنر ہاؤس سے پردہ پوشی کا سبب بنتی رہی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ کراچی یونیورسٹی کے ملازمین پنجابی، پٹھان، بلوچ، سندھی اور مہاجر گروپوں میں تقسیم ہو کر اپنے بڑے حقوق سے انتظامیہ کے ہاتھوں محروم ہوتے رہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام طلبہ، اساتذہ، ملازمین اور افسران کو اپنی انجمنوں کے انتخابات میں آزادانہ حصہ لینے دیا جائے ۔ جب ایسا ہو گا تو یقیناًان کی نمائندگی حقیقی طور پر ممکن ہو سکے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *