منحرف مارکسی سماج واد اور بھوبھل اڑاؤ پروجیکٹ

منحرف مارکسی سماج واد اور بھوبھل اڑاؤ پروجیکٹ

عامر حسینی

پیٹی بورژواوی کی طبقاتی نفسیات پہ کارل مارکس نے بڑا ہی بلیغ اور لطیف پیرائے میں طنز کرتے ہوئے کہا تھا، ” درمیان طبقے کے لوگوں کا سر آسمان کی طرف اور پاؤں کیچڑ میں ہوتے ہیں” اور اس پیٹی بورژوازی طبقے کی دانشور پرت میں سے سابق انقلابیوں کی حالت تو اس سے بھی زیادہ بری ہوجاتی ہے-ایک سابق مارکسی سماج واد پیٹی بورژوا دانشور جب خوشحال ہوکر لبرل رنگ میں رنگا جاتا ہے تو وہ اپنی طبقاتی مستحکم پوزیشن کے دفاع کے لئے سب سے پہلے کارل مارکس پہ حملہ آور ہوتا ہے-بلکہ مرے ایک دوست کہتے ہیں کہ پرانے منحرف سماج واد مارکسی اپنے لبرل دانشوروں کے ساتھ ملکر کارل مارکس کے اصل وژن کو اغواء کرنے کی کوشش میں جت جاتے ہیں اور جتنی بھوبھل (گرد) اڑائی جاسکے وہ اڑاتے ہیں-کارل مارکس پہ اس کا یہ حملہ کھلے دشمن کی طرح نہیں ہوتا بلکہ وہ ایک دوست اور محقق کے روپ میں اس پہ حملہ کرتا ہے-اس حملے میں وہ کارل مارکس کو اس کے نظریات سے ہی بیگانہ ثابت کرنے پہ تل جاتا ہے-ہمارے ہاں اگرچہ مغرب کی طرح علمیاتی ڈسکورس کے ساتھ ایسی کاوشیں کرنے کا سٹیمنا سابق مارکس واد لبرل دانشوروں کے پاس ہے نہیں لیکن وہ اپنے کالموں اور مضمونوں میں کارل مارکس کے ساتھ یہ سب کچھ کرنے کی پوری کروشش کرتے رہتے ہیں-

پیٹی بورژوازی/درمیانے طبقے سے تعلق رکھنے والا ایک دانشور جب انقلابی سماج واد نظریہ سے انحراف کرتا ہے تو اس کی رائے کیسے بدلتی ہے؟ برطانوی مارکسسٹ الیکس کالنیکس اپنے مضمون ” مارکس ڈی فلیٹڈ ” میں ہمیں یہی بتانے کی کوشش کررہے ہیں-کیمبرج ہسٹارین /ماہر تاریخ گیرتھ سٹیڈ مین جانز نے ورنر بلوم برگ کی کارل مارکس سوانح عمری کے انگریزی ایڈیشن کا دیباچہ 1972ء میں لکھا تو انہوں نے بلوم برگ کی سوشل ڈیموکریٹک تعبیر پہ تنقید اور یہ شکائت بھی کی کہ کارل مارکس کی اہمیت بلوم برگ کے نزدیک اس کے ایک انقلابی سماجی نظریہ کے بانی ہونے کے سبب نہیں ہے بلکہ اس کے شاندار ہیومن ازم اور اس بصیرت کے سبب ہے جو اس کے کام میں جگہ جگہ بکھری نظر آتی ہے

قریب قریب 45 سال بعد، سٹیڈمین جانز ، اپنی ضخیم اور پہلے ہی بہت زیادہ سراہی گئی کارل مارکس کی سوانح عمری میں ، کہتے ہیں،

“کارل (شاید اب وہ اسے مارکس کہہ کر پکارنے پہ اصرار میں شرم محسوس کرتے ہیں) اس وقت سیاسی طور پہ بہت زیادہ موثر تھا جب اس نے ایک نئی سوشل ڈیموکریٹک لینگویج 1860ء کے وسط  فرسٹ انٹرنیشنل میں اپنے سیاسی کردار کے زریعے سے پیش کی-اور اپنے آپ کو غالبا اپنی انقلابی کمیونسٹ جوانی سے دور رکھا”

1972ء میں سٹیڈمین جانز نے بلوم برگ کی جانب سے کارل مارکس پہ 1871ء کے پیرس کمیون کو افسانوی بناڈالنے کا الزام لگانے پہ تنقید کی تھی اور اب وہ اس بات سے متفق ہے کہ ” فرانس میں خانہ جنگی ” (کارل مارکس کی کتاب ) جزوی طور پہ ایک تخیلاتی پروجیکٹ تھا اور وہ اس بات پہ افسوس کرتا ہے کہ وہ کارل مارکس کے پیرس کمیون بارے خیالات تنقید کی مذمت میں برطانوی ترقی پسند سیاسی روایت سے کٹ کے رہ گیا-

رائے کے اس فرق کی وجہ بیان کرنا بہت آسان ہے-1972ء میں سٹیڈمین جانز ایک انقلابی سماج واد تھا اور اور “نیو لیفٹ ریویو ” رسالے کی مجلس ادارت کا سب سے دلچسپ دانش کا حامل رکن تھا-لیکن 1980ء میں وہ اس رسالے سے الگ ہوگیا اور اس نے پوسٹ سٹرکچرل ازم کو گلے لگالیا-

1983ء میں اس نے اپنی کتاب ” لینگویج آف کلاس ” شایع کی، جس میں اس کی بنیادی دلیل یہ تھی کہ “کلاس ” ایک معروضی سماجی رشتہ نہیں ہے بلکہ خاص قسم کی سماجی اور سیاسی تحریکوں میں غالب ڈسکورسز کی ایک بنت کاری ہے-سٹیڈمین جانز یہی تصور کلاس /طبقہ اپنی کتاب ” کارل مارکس ” میں پھر سے دوھراتے ہوئے شاید یہ نہ جان سکا کہ کلاس کے محض ایک “کہی بات ” ہونے کا خیال اس نسل کے لئے بالکل پرانے ہوگئے فیشن کی طرح ہے ،وہ نسل جس کے سامنے نیو لبرل دور کی مسلط کی گئی معاشی ناہمواریاں اور عدم مساوات “آکوپائے وال سٹریٹ ” تحریک کے نعرے نے ایک فیصد بمقابلہ 99 فیصد کی شکل میں بہت کھول کر رکھ دی ہے

ہمارے پاکستان میں خوشخال ہوگئے پیٹی بورژوازی /درمیانے طبقے کے کئی دانشور اور ادیب ، تجزیہ کار جو کبھی ماضی میں مارکسی سماج واد تھے اور کارل مارکس کو ایک انقلابی سماجی تبدیلی کے نظریہ کا ان داتا کہا کرتے تھے ، کارل مارکس کو تعریف سے لبھاتے تو ہیں مگر اس کی طبقاتی سماجی نظریہ سے کوسوں دور بھاگتے ہوئے نیولبرل اکنامی کی شان میں ویسے ہی رطب اللسان رہتے ہیں جیسے دوسرے لبرل اوٹ پٹانگ

الیکس کہتے ہیں کہ ان کو خوشی ہے کہ سٹیڈمین جانز نے ہماری جان اس فینسی فلسفے سے چھڑادی ہے جسے وہ پوسٹ سٹرکچرل ازم کے ہر شئے کو محض “ڈسکورس ” قرار دینے کے طریق کار کو جواز دینے کے لئے استعمال کرتے تھے-کارل مارکس کی سوانح عمری میں اس کی اپروچ نام نہاد “کیمبرج اسکول برائے تاریخ افکار سیاست ” سے بہت مختلف ہے جوکہ کیونٹن سکنر اور جان ڈن وغیرہ کے کام سے انسپائر ہے ،جوکہ تھیورٹیکل متون کو  ایک خاص انداز سے ٹریٹ کرتے ہیں جو کہ ( سٹیڈمین جانز کے اپنے الفاظ میں ) “ایک مصنف کی ایک خاص سیاسی اور فلسفیانہ تناظرات میں مداخلت ہے جس میں ہسٹارین کے لئے ضروری ہے کہ بہت احتیاط سے ان کی دوبار تشکیل کرے- سادہ لفظوں میں اگر اسے بیان کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے یہ ایک ایسا کام کرتے ہیں جس میں کسی مصنف کی کتاب کے متن میں جو مصنف کہنا چاہتا ہے اس سے بالکل مختلف معانی نکال لئے جاتے ہیں-یعنی جیسے یہ کہا جائے کہ کارل مارکس کا فلسفہ تاریخی مادیاتی جدلیات پہ بنیاد ہی نہیں رکھتا یا کارل مارکس کو سوشل ڈیموکریٹ بناکر دیکھایا جائے جو ریاست کی طبقاتی بنیادوں کو انقلاب کے زریعے سے بدل ڈالنے کی بجائے اصلاحات سے بدلنے کا قائل ہو

وہ ایک ممتاز انٹلیکچوئل ہسٹارین ہے، وہ اس سیاق و سباق کو ـبخوبی بیان کرتا ہے جس کے اندر کارل مارکس کے اپنے خیالات نمو پائے تھے-اس کتاب میں پیرس میں ہوئے واقعات جنھوں نے 1848ء میں پیرس کمیون کو جنم دیا اور پھر دوسرے انقلابات اسی سال کے اور برطانیہ میں ورکنگ کلاس / محنت کش طبقے کی تحریک میں ہونے والی پیش رفت اور اسی طرح مغربی ریڈیکل سیاست کے انقلابات کی بڑی جامع تفصیل ملتی ہے جس نے پہلی انٹرنیشنل ورکنگ مین ایسوسی ایشن کی بنیاد رکھنے میں کردار ادا کیا تھا-

سٹیڈمین جانز کی کارل مارکس کتاب میں جانز مارکس بارے اپنے متضاد احساسات سے پیچھا نہیں چھڑا پایا-وہ مسلسل اس کتاب میں کارل مارکس کے ہاں اپنے خاندان کے لئے احساسات کی کمی کی شکائت کرتا ہے اور کسی ٹھوس ثبوت کے بغیر یہ الزام عائد کرتا ہے کہ 1845ء میں وہ فرانس سے ڈی پورٹ اپنی نااہلی یا ایروگنس کی وجہ سے ہوا-کئی جگہ اس نے کارل مارکس کو 1845ء کے آخر سے”موڈ چینچز ” سے لیکر بے قابو پیرونیا کے مرض اور بدلے کی فنتاسیاں بننے کا مریض قرار دیا-اور سب سے سنگین الزام اس نے کارل مارکس پہ ” سامیت مخالف ” ہونے کا لگایا اور اس کے لئے مثال اس نے مارکس کے مقالے ” آن دی جیوش کیوسچن” کی دی اور اسے وہ ” سوشلسٹ اینٹی سیمٹزم ” کی ایک مثال قرار دیتا ہے-اور وہ اس الزام کو دوھراتے ہوئے ہال ڈریپر اور ڈیوڈ لیوپولڈ کی اس مقالے پہ بحث کو مکمل نظر انداز کرتا ہے- جانز کارل مارکس کو سامیت مخالف ثابت کرنے کی کوشش میں کارل مارکس کی اس کتاب میں تنقید کے مرکز لیفٹ ہیگلین فلسفی برونو بائز سے خاصی ہمدردی دکھاتا ہے لیکن وہ یہ زکر کرنا بھول گیا کہ کیسے اس کی ہمدردی کا مستحق برونوبائر بعد میں بتدریج ارتقائی عمل سے گزر کر پکا یہودی مخالف ہوگیا تھا-

الیکس کالنیکس کہتا ہے کہ اکر انگریزی میں کسی نے کارل مارکس کی سوانح عمری پڑھنی ہو تو اسے جوناتھن سپربیر کی 2013ء میں کارل مارکس پہ شایع ہونے والی کتاب پڑھنے کا مشورہ دوں گا-اکرچہ جوناتھن سپربیر سٹیڈمین جانز سے تھیورٹیکل طور پہ کمزور ہے ،لیکن وہ جانز کی طرح مارکس کے بارے میں متضاد احساسات کا اسیر نہیں ہے-پھر 19ویں صدی میں جرمن انقلابیت کے ایک مورخ کے طور پہ وہ مارکس کا جو جرمن تناظر اور سیاق و سابق ہے اس پہ اسے بہت مہارت حاصل ہے اور پھر وہ کارل مارکس کو بطور انسان اس کی ذات کے تمام چھوٹے بڑے پہلوؤں کو سٹیڈمین جانز سے کہیں زیادہ بہتر بیان کرتا ہے

سٹیڈمین جانز نے منحرف پیٹی بورژوازی سابق مارکس واد اور حال کے لبرل خیالات کے دلدادہ دانشوروں کی طرح کارل مارکس کو اس کے بنیادی انقلابی خیالات سے الگ کرکے دکھانے کی کوشش اپنی کتاب میں کی ہے-وہ کہتا ہے کہ کارل مارکس کی اصل شخصیت اس کے گرد “بابائے جدید سا‎ئنسی علم تاریخ ” کی متھ/اسطور/ افسانہ کے پیچھے گم کردی کئی-اور کارل مارکس کی یہ افسانوی زندگی اس کے بقول فریڈرک اینگلس اور دوسری انٹرنیشنل نے اس کی 1883ء میں وفات کے بعد تعمیر کی-اور سٹیڈمین جانز کسی ثبوت کے بغیر یہ بھی کہتا ہے کہ مارکس اور اس کے خاندان نے فریڈرک اینگلس سے کارل مارکس کے اختلافات کو ان کی معاشی زندگی کی گاڑی چلنے کا انحصار اینگلس پہ ہونے کی وجہ سے چھپائے رکھا-اس میں کوئی ایسی شئے نہیں ہے جو بہرحال جانز سے خود اپنی تحقیق سے دریافت کرلی ہو بلکہ ایسے الزامات تو کئی نام نہاد مارکسی سماج واد اور لبرل سٹارین دوھراتے آئے ہیں-لیکن یہ کتنی دلچسپ بات ہے کہ مارکس کی موت کے بعد سامنے آنے والے آفیشل مارکسزم (جو کہ بعد میں بنایا گیا ) اور مارکس کے اپنے اصل خیالات میں فرق کو دکھانے کے لئے سٹیڈمین جانز سمیت ان جیسے ہر ایک پیٹی بورژوازی لبرل دانشور نے اس مواد پہ ہی انحصار کیا جو ان کی موت کے بعد خود فریڈرک اینگلس اور دیگر نے مرتب کیا تھا

سٹیڈمین جانز نے دعوے کئے ہیں کہ اس کی کتاب کی خاصیت یہ ہے کہ اس نے مارکس کی ریپوٹیشن بارے جو ان فلیشن اس کے مرنے کے بعد ہوا اور جو مبالغہ آرائی کی گئی اسے اس نے درست کردیا ہے-حقیقی مارکس کا لائف ورک پولٹیکل اکنامی کی تنقید پہ مشتمل “ڈاس کپیٹل ” کی تین جلدوں میں ختم ہوا جوکہ بہرحال نامکمل تھا اور صرف ایک ہی جلد اس کی اپنی زندگی میں سامنے آسکی-

سٹیڈمین جانز کی دلیل یہ ہے کہ کارل مارکس نے اپنی زندگی کے آخری دنوں میں اس پروجیکٹ  کو فکری تعطل کے احساس کی وجہ سے ترک کردیا تھا-اس کا کہنا ہے کہ “سرمایہ ” کی تیسری جلد بہت انتظار کے بعد فریڈرک اینگلس کی وفات جو 1895ء میں ہوئی تھوڑی عرصہ پہلے شایع ہوئی اور اس نے مایوسی پھیلائی کیونکہ اس کتاب میں اس بات کا کوئی ثبوت نہ تھا کہ سرمایہ داری نظام ناگزیر طور پہ خوبخود ہی ٹوٹ پھوٹ جائے گا معاشی اعتبار سے-جہاں تک کارل مارکس کا تعلق ہے تو جانز کے مطابق وہ اپنی زندگی کے اخری دنوں میں کمیونل سوشل فارمز اور ان کی بقاء کے بشریاتی اور تاریخی مطالعات تک محدود تھا –خاص طور پہ زار شاہی روس میں میر کسانوں پہ تحقیق میں-اس کے خیال میں یہ مطالعے یہ ثابت کرسکتے تھے کہ سرمایہ داری کے مرحلے سے گورے بغیر بھی سوشلزم کی منزل حاصل کی جاسکتی ہے-لیکن جانز کے بقول یہ وہ قیاس آرائیاں تھیں جن کو خود مارکس کے روس میں اپنے پیروکاروں نے بھی نظر انداز کردیا-یہ وہ نتیجہ ہے جہاں پہ آکر جانز نے اپنی کتاب ختم کی ہے-ایلیکس کے بقول مارکس کی سرمایہ داریت پہ تنقید کی عصر حاضر میں افادیت بارے بحث سے گریز کرنے میں کوئی شرم جانز نے محسوس نہیں کی

لیکن اگر  سٹیڈمین جانز کارل مارکس کی اوریجنل انٹلیکچوئل بائیوگرافی پیش کرنے کی تلاش کرتا تو مارکس کی پولیٹکل اکنامی پہ تنقید کے ساتھ اس نے جو سلوک روا رکھا وہ عصر حاضر کے سکالر شپ کے معیار پہ پورا نہ اترتی-مارکس کی اصلی انٹلیکچوئل بائیوگرافی مرتب کرنا اب کوئی زیادہ مشکل کام نہیں رہا اور اس کے لئے ہمیں مارکس –اینگلس کمپلیٹ ورکس -‏ایم ای جی اے کا شکر گزار ہونا چاہئیے جس نے اس کے نوٹس اور ڈرافٹس کو دستیاب کرنے کا کام کیا ہے-سٹیڈجانز اس ریسرچ کو بہت ہی زیادہ نظر انداز کرتا نظر آیا ہے-مارکس کی تنقید کا پہلا دور مستحکم پڑاؤ پیرس اور برسلز میں 1840ء  کے درمیان پولیٹکل اکنامی کے بہت زیادہ مطالعے پہ مشتمل ہے ، پھر یہ لندن میں 1850ء کی ابتداء میں وہاں سیاسی-معشیت کے مطالعے میں نظر آتا ہے اور پھر یہ 1857ء سے 1867ء میں پے در پے لکھے جانے والے مسودات میں دکھائی دیتا ہے

جانز نے کارل مارکس کے پہلے اور دوسرے دور پہ توجہ مرکوز رکھی اور “گرونڈرس-1857-8 ہی دیکھا جبکہ اس کی بہت کم توجہ باقی کے دو مسوادات پہ پڑی-1861ء-63ء تک کے مسودات اور پھر 1864ء-65ء کے مسودات جن کی مدد سے انگلس نے سرمایہ کی تیسری جلدی مرتب کی تھی ان کو توجہ نہ دینے کی وجہ سے جونز کارل مارکس کے پولیٹکل اکنامی بارے خیالات میں ارتقاء ، ان کی تشکیل نو اور ان میں پیش رفت کے ارتقاء کو دیکھنے میں ناکام رہا

جونز نے جب یہ پڑھا کہ کارل مارکس نے 1840ء میں ڈیوڈ ریکاڈو کی کتاب ” آن دی پرنسپلز آف پولیٹکل اکنامی اینڈ ٹیکسیشن ” کا فرنچ ایڈیشن 1840ء کے وسط یں پڑھا تھا تو حوب بغلیں بجائیں-اور اس کے خیال میں مارکس اسی لئے ان شکوک کا ازالہ کرنے میں ناکام رہا جو ریکاڈو نے اس کتاب کے تیسرے ایڈیشن 1821ء میں ” لیبر تھیوری ” کے بارے میں ظاہر کئے تھے-

جبکہ حقیقت یہ ہے کہ لیبر تھیوری آف ویلیو اور شرح منافع کے وجود کے درمیان بظاہر جو تضاد تھا اس مسئلے کو پہلے ایڈیشن ہی میں ظاہر کردیا تھا-معاملہ جو بھی ہو لیکن کارل مارکس کو اس میں دلچسپی نہیں تھی کیونکہ جب اس نے پیرس میں پہلی بار لیبر تھیوری آف ویلیو کو پڑھا تھا تو اسے سرے سے مسترد کردیا تھاحلیکن یہ مسئلہ اس کے 1861ء-63ء کے سیاسی-معاشی مسودات میں نظر آتا ہے اور اس پہ انریق ڈوسل نے اپنے مضمون میں روشنی ڈالی ہے-مارکس نے ریککاڈو کی تھیوری آف رینٹ کے مقابلے میں اس مسئلے کا اپنا حل تلاش کرنے کی سعی کی تھی اور اس نے دیکھایا تھا کہ اجناس یا کاموڈیٹی کی لیبر ویلیو پیداوار کی قیمتوں میں کیسے بدل جاتی ہیں جوکہ منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کو کنٹرول کرتی ہیں-لیکن جونز نے نہ صرف مارکس کے اس سیاسی –معاشی مسودے کو نظر انداز کیا بلکہ اس نے انریق کی کمنٹری کو بھی نہ دیکھا اور سرمایہ کی پہلی اور تیسری جلد کے درمیان تضاد کا پرانا راگ ہی الاپا

 جانز کہتا ہے کہ کارل مارکس اپنے فکری تعطل کے احساس کے سبب پولیٹکل اکنامی پہ اپنی تنقید سے بیگانہ ہوگیا تھا اور وہ سرمایہ کی عالمی برتری بعد ازاں مسلسل پھیلاؤ سے خوبخود سرمایہ داری کے گرجانے کے خیال سے بیگانہ ہوگیا تھا-لیکن کارل مارکس کی تحریروں کے سب سے اہم دور یعنی 1857ء سے لیکر 1867ء تک ہم کہیں بھی یہ دعوی اسے کرتے نہیں دیکھتے کہ سرمایہ داری نظام کسی معاشی بریک ڈاؤن کی جانب بڑھ رہا ہے-

اس نے پولٹیکل اکنامی پہ تنقید کے لئے چھے نوٹ بکس لکھنے کا پلان بنایا تھا-ان نوٹ بکس کی ایک جلد ” عالمی منڈی اور بحران” کے نام سے مرتب ہوئی اور بحران سے کارل مارکس کی مراد سرمایہ داری کا بیٹھ جانا نہیں تھا-بلکہ مارکس نے تو اصل میں یہ لکھا تھا کہ سرمایہ داری نظام میں “مستقل بحران وجود ہی نہیں رکھتے “

سرمایہ کی تیسری جلد میں وہ ایک ایسی تحریک کے پھیلاؤ کی تصویر کشی کرتا ہے جس میں شرح منافع کے گرنے کا رجحان    فنانشل اداروں اور  معاشی سلمپ کے ساتھ انٹریکٹ کرتا ہے جس سے سرمایہ تباہ ہوتا ہے اور استحصال بڑھ جاتا ہے اور یہ استحصال بڑھنے کی وجہ سے ارتکاز سرمایہ کے بحال ہونے میں مدد ملتی ہے-مارکس نے اپنے مسودے میں شرح منافع گرنے کے رجحان بارے اپنی بحث جس فقرے پہ ختم کی تھی وہ تو اینگلس نے کسی وجہ سے سرمایہ کی تیسری جلد میں شامل ہی نہیں کیا-اور وہ یہ تھا کہ جب تک سرمایہ داری موجود ہے تو سرمایہ داری میں منافعوں میں اتار اور چڑھاؤ کا یہ بدترین چکر یونہی چلتا رہے گا-

سٹیڈجونز  مین نے اپنی کتاب کارل مارکس میں سب سے غلط دعوی یہ کیا ہے کہ سرمایہ کی پہلی جلد چھپنے کے بعد کارل مارکس نے معاشیات کا مطالعہ بند کردیا تھا کیونکہ کارل مارکس سرمایہ داری کو بطور ایک گلوبل سسٹم کے تجزیہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوا تھا-حال ہی میں جو تحقیق ہوئی جسے جانز کی طرف سے  نظر انداز کئے جانے کی وجہ سمجھ میں آتی ہے-اس تحقیق سے یہ پتا جلتا ہے کہ 1840ء سے مسلسل بلا تعطل کے بورژوا سوسائٹی کو بطور ایک ٹرانس نیشنل رشتوں میں گندھی سوسائٹی کے طور پہ دیکھا-اور 1870ء میں اس نے سرمائے کے بارے میں یہ مرکزی تصور پختہ کیا کہ سرمائے کی اسٹڈی محض ایک وکٹورین برٹن فنومنا کی اسٹڈی نہیں تھی-سرمایہ کی جلد اول کے فرنچ ایڈیشن میں اس نے کالونیل ازم اور عالمی منڈی سے متعلقہ مزید مواد اس میں شامل کیا-اور اس نے امریکہ کے اندر ہونے والی معاشی پیش رفت کو کور کرنے کے لئے مالیاتی منڈیوں اور بحرانوں کے تجزئے کو بڑھانے کے لئے بھی کاوش کی –اور یہ کاوش ظاہر کرتی تھی کہ کارل مارکس پہچان گیا تھا کہ گلوبل سرمایہ داریت کا نیا مرکز امریکہ ہے –

کارل مارک کی روس میں دلچسپی بھی اس کے سرمایہ کی تیسری جلد میں رینٹ اور پراپرٹی کے گہرے تجزئے سے جڑی تھی اور اسی لئے وہ امریکی اور روسی ايگری کلچر کا مطالعہ کرنا چاہتا تھا-سیاست اور بیماری اسے بار بار اس کام سے ہٹاتی اور کامل تر کرنے کی اس کی جستجو پھر بھی ختم ہونے کو نہیں آتی تھی-اس نے 28 اپریل 1862ء کو فرڈینڈ لاسال کو خط میں بتایا، ” میں نے جو بھی چیز لکھی ہے اس میں نقص پہ جو بھی چوٹ /فقرے بازی مجھ پہ ہوتی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک ماہ سے میں نے ان کو دیکھا نہیں تھا اور اس لئے مجھے اسے دوبارہ سرے سے دیکھنا پڑا اور نظر ثانی کرنی پڑی “اور اس کے یہ جملے ہمیں یہ بتانے کے لئے کافی ہیں کہ “سرمایہ ” جیسا کام نامکمل کیوں رہ گیا؟لیکن کارل مارکس کے کے ڈرافٹس پہ گہری نظر  اس کے پروجیکٹ کے شاندار ہونے اور اج بھی اس کے مفید ہونے کا اثر چھوڑتی ہے

اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ ہمیشہ ٹھیک ہی تھا-اس کا استدلال یہ تھا کہ سرمایہ دارانہ نظام کا تختہ معاشی بریک ڈاؤن سے نہیں بلکہ ورکنگ کلاس کے پولیٹکل ایکشن سے ہوگا اور اس ایکشن میں تیزی معاشی بحرانوں اور بڑھتی ہوئی طبقاتی صف بندی سے آئے گی-یہان بہت حقیقی طور پہ جو مشکل پڑتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ اس تحریک کو ناگزیر طور پہ بغیر رکے ایک نیچرل پروسس کے طور پہ دیکھتا ہے-جونز نے اس جانب تو توجہ نہ کی کیونکہ شاید یہ مارکس کی بنائی گئی اس کی تصویر میں فٹ نہیں آتی جو اس کے مطابق اس تصویر سے الگ جسے نظر انداز کیا گیا اور مسخ کیا دوسری انٹر نیشنل نے-سوشلسٹ انقلاب کی ناگزیت کا تصور اور نظریہ کارل کاوتسکی اور پلیخانوف نے کارل مارکس کے اسی خیال سے لیا-

لیکن یہ وہ خیال تھا ، روسی انقلاب کی انسپائریشن اور بالشیویک کے تجربے کے زیر اثر ،بہت زیادہ تخلیقی دانشور جیسے جارج لوکاش اور انتینو گرامچی تھے نے 1920ء میں ہی مسترد کردیا تھا-انقلابی مارکسی سماج وادوں کی اس نسل کی حوصلہ افزائی لینن نے کی جس نے ان کو مارکس کی پیرس کمیون پہ لکھی تحریروں کی جانب رجوع کرنے کا مشورہ دیا اور اس وژن کو دیکھنے کو کہا جو یہ تحریریں سوشلسٹ انقلاب کو ایک ایکٹو پروسس برائے نجات محنت کشاں اور سرمایہ دار ریاست کی تباہی کے پروسس کے طور پہ دیکھنے کے فراہم کرتی ہیں-جونز کی کارل مارکس کی ڈاؤن سائزنگ کی ناکام کوشش شاید اس کے اپنے ماضی سے لڑنے کی عکاسی کرتے دکھائی دیتی ہے-

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *