عمران خان کا بھوت، لبرل لیفٹ اورقوم پرست

عمران خان کا بھوت، لبرل لیفٹ اورقوم پرست

عمران خان نے نوازشریف کی برطرفی کی خوشی میں منعقدہ جلسہ میں تقریرکرتے ہوئے کہاکہ ‘ہم نے کرپشن کے خلاف جنگ جیتی نہیں ہے اور وہ جیتیں گے اور آج شہباز شریف آپ سے کہہ رہا ہوں کہ جتنا آپ کے ساتھ کرپٹ مافیا ہے اور ایل این جی عباسی آپ کو کہہ رہا ہوں کہ آپ بالکل نہ یہ سمجھیں کہ نواز شریف چلا گیا اور اب آپ کھائیں گے، آپ کے پیچھے آ رہا ہوں اور آصف زرداری آپ کو بھی نہیں چھوڑوں گا۔’ ظاہرہے یہ آنے والے وزیراعظم شہبازشریف اورآصف زرداری کے لئے چیلنج سے کم نہیں۔ عمران خان کی طرف سے جشن اس بات کی علامت ہے کہ نوازشریف کی برطرفی دراصل ان کی کوششوں کانتیجہ ہے۔ وہ اس کیس میں پٹشنرتھے۔ نوازشریف ایک مضبوط حکمران تھے۔ وہ نہ صرف پنجاب سے تعلق رکھتے تھے بلکہ عمران خان کی تحریک نےچھوٹے صوبوں کی قوم پرست پارٹیوں کے علاوہ جے یوآئی کوبھی نوازشریف کے گرد اکھٹاہونے میں مدددی۔ اگردیکھاجائے توپیپلزپارٹی بھی ایک طرح سے عمران کے چیلنج سے پریشان ہے۔ پی پی پی پنجاب اورصوبہ خیبرپختونخواہ کا ایک طرح سے صفایاہوگیا۔ اے این پی اورپشتونخواہ میپ بھی نوازشریف کومضبوط کرکے عمران خِان کی تحریک انصاف کوزک پہنچانے کے درپے تھے۔ حالات بدل گئے ہیں۔ نوازشریف کی برطرفی نے پوسٹ ماڈرنسٹ (سابقہ لبرل لیفٹ)، قوم پرست پارٹیوں جیسے اے این پی، قومی وطن پارٹی، پشتونخوامیپ اورمولانافضل الرحمن کوایک طرح سے بے یارومددگارچھوڑ دیاہے۔ یہ عمران خان کے چیلنج اوربھوت سے ڈرے ہوئے ہیں۔ سابقہ لبرل لیفٹ کی مشکلات یوں دوچند ہیں کہ پیپلزپارٹی اب ناصرف سندھ کی پارٹی بن کررہ گئی ہے بلکہ یہ حددرجہ نسل پرستانہ پالیسیوں اوراقدامات کی طرف گامزن دکھائی دیتی ہے۔ باقی صوبوں سے اس کاتقریباصفایاہوگیا۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ لبرل لیفٹ اس طرح بے آسرا ہوا ہو۔ قائم پاکستان کے بعد اور1980سے قبل لبرل لیفٹ اورقوم پرست نیشنل عوامی پارٹی( نیپ) کےگرد جمع ہواکرتے تھے۔ جب زیڈ اے بھٹونے پیپلزپارٹی بنائی توچین نوازماواسٹ ،کسان اوراین ایس ایف سے جڑے طلبہ اس طرف جھکے۔ جب نیپ پرپابندی لگی اور1982میں آیم آرڈی کی تحریک چلی تواس کےبعد یہ لبرل لیفٹ اورٹریڈیونین کومتاثرکرنے میں کام ہوگئی۔ اس کے بعد سے 2013تک پی پی پی بلاشریک غیرے لبرل لیفٹ، روشن خیال اورترقی پسند عناصرکوراغب کئے ہوئے تھی۔ مگراب اچانک پیپلزپارٹی کی چھتری سرغائب ہوئی۔ 1990میں کچھ عناصرنے نوازشریف کوقومی سرمایہ دارقراردے کراس کی حمایت کی۔ اوریہ ایک حقیقت ہےکہ وسط 1990سے نوازشریف کی قیادت میں فوج کوقابوکرنے کی کوششیں شروع ہوئیں۔ زاہد ہ حنا ان افرادمیں اولین تھی جس نے اس کوبھانپ لیاتھا۔ پیپلزپارٹی زیادہ ترفوج سے مفاہمت اورکچھ مزاحمت پرکمربستہ رہی مگرنوازشریف کی قیادت میں مسلم لیگ نے فوج کوزیادہ چیلنج پیش کئے۔ اس لئے لبرل لیفٹ اورچھوٹے صوبوں کی قیادت اس وقت نوازحکومت کے ہٹنے کوایک سازش قراردے رہے ہیں۔ عمران خان، ان کے نزدیک فاشسٹ رحجانات کاحامل ہے۔ اوراس کوہرقیمت پرلگام دیناضروری ہے۔ اب مرکزمیں کوئی ایسی پارٹی نہیں رہی جوعمران خان کامقابلہ کرے سوائے مسلم لیگ ن کے، اوربھی بحران کا شکارہے۔ اب پاکستان کی سطح پرتحریک انصاف سے مختلف پارٹیاں ہرصوبےمیں مقابلہ پرہیں۔ پشاورکے صحافی عزیزبونیرسوشل میڈیا پرلکھتاہے کہ ‘2018کے جنرل الیکشن میں خیبر پختونخوا کیے تمام سیاسی جماعتوں کا ایک ہی نعرہ ہوگا وہ پی ٹی ائ کے خلاف نعرہ’۔ عمران خان کاجشن سے خطاب پرلبرل لیفٹ اورقوم پرستوں کی طرف سے شدیدترین تنقید اسی پس منظرمیں ہورہی ہے۔ اے این پی کے سینٹرافراسیاب خٹک کہتاہے کہ ‘ کشمیرکےمنتخب وزیراعظم کوذلیل کہنے والےعمران کوبھٹوکی پھانسی پرشیخ عبداللہ کا تبصرہ یادنہیں’ شکرہے ہم پاکستان میں نہہیں ورنہ یہی حشرہوتا’۔ افراسیاب کہتاہےکہ عمران خان کی تقریرپاپولسٹ نعرہ بازی سے زیادہ کچھ نہیں۔ اس نے اہم معاملات یاقومی ایشوز کاذکرتک نہیں کیا بلکہ یہ ‘ساڈی باری آنڑ دو’ سے زائد کچھ نہیں تھا۔ تجزیہ نگارنسیم زہرہ کہتی ہیں کہ رہنما معیارطے کرتے ہیں اورعمران خان نے آزادکشمیرکے وزیراعظم پرتنقید کرتے ہوئے بہت خراب زبان استعمال کی۔ ایک تبصرہ نگار نے یہاں تک کہاکہ ‘ خان صاحب کی تقریر، تاریخی مغالطوں، حقائق کے قتل عام ، خوشنما لیکن ناقابل عمل وعدوں ، لاف زنی، خیالی پلاؤ اور سیاسی رسہ گیری سے بھرپور تھی’۔ ماروی سرمد نے سوشل میڈیا پرکہاکہ یہ توہوناہی تھا۔ جب اس نے وزیراعظم سےلے کرچیف آف آرمی اسٹاف کوکنٹنیرکےاوپرسے اسلام آباد میں لتاڑاتھاتواس وقت کچھ کرناچاہئے تھا۔ اب لبرل لیفٹ اورقوم پرستوں کے نزدیک کووہ ایک بے قابوگھوڑاہے۔ عمران خان دراصل پروفشینل مڈل کلاس کے نمائندے کے طورپرساری کڑواہٹ انڈیل رہاہے، وہ ساری تلخی جواس ملک میں روایتی اشرافیہ کے بارے میں پائی جاتی ہے وہ تلخی عمران خان کی زبان میں جب آتی ہے توروایتی سیاسی اشرافیہ اس پرپریشان ہوجاتاہے ۔ وہ ان سے حساب مانگتاہے تویہ عام آدمی کومتاثرکرتاہے۔ آج ایک عام پاکستانی کرپشن کوملک کاسب سے اہم مسئلہ گردانتاہے۔ جمہوریت ان کے نزدیک کوئی اہم شے نہیں جس کے لئے لڑاجائے۔ جولوگ جمہوریت کومحض ووٹ تک محدودکرکے دیکھتے وہ شدید غلطی پرہیں۔ جمہوریت عوامی رائے عامہ اورعوامی اخیتارکانام ہے۔ جولوگ جمہوریت کاواویلاکرتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ نوازشریف کتناجمہوریت پسندتھا۔ وہ پارلیمان بہت کم آتاتھا۔ یہاں تک پارلیمانی پارٹی کااجلاس تودورکی بات ہے نوازشریف اپنے کابینہ کے وزراء سے بھی بہ مشکل ملتاتھا۔ نوازشریف کے دورمیں پی آئی اے کے دواحتجاجی مزدوروں کوشہیدکیاگیا، اکاوڑہ کے کسانوں کے خلاف کریک ڈاون ہوا، لیبرقومی مومنٹ کے مزدوروں، نرسوں کوانسداددہشت گردی کے کیس میں ملوث کیاگیا۔ ملک بھرمیں فوجی آپریشن کادائرہ وسیع کیاگیا۔ سرمایہ داروں کی بجلی اورگیس کی لوڈشیڈنگ ختم کرکے عوام کومتاثرکیاگیا۔ یہ کوئی عوام دوست حکومت نہ تھی۔ لبرل لیفٹ اورقوم پرستوں کامطلب نوازشریف کوازخود بچانانہیں، بلکہ جمہوریت کاتحفظ ہے۔ لیکن یہ ایک فضول دلیل ہے۔ نوازشریف کے حکومت کاخاتمہ مزدورطبقہ اورمظلوم قومیتوں کی جدوجہد کے لئے خوش آئندہے۔ البتہ یہ خاتمہ حکمران طبقہ کے اندرونی جنگ سے ممکن ہوسکا،عوام دھرنوں اورہڑتالوں سے نہیں۔ یوں ریاست کاایک ستون اگرپارلیمان کمزوربن کرسامنے آیاتوریاست کاایک اورستون عدلیہ طاقتوربن کرسامنے آگیا۔ عمران خان نے بھی ایک عوامی تحریک کے بجائے مقدمہ بازی کوترجیح دی اوراب عدلیہ کی تعریف بھی کردی۔ مگریہ وہ اس عدلیہ بہت مختلف ہے جوعوامی طاقت سے 2007کی تحریک سے بحال ہوئی تھی۔ لیکن کیامتبادل عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف ہے؟ اس کاجواب نفی میں ہے۔ عمران خان بڑے پروفیشنل مڈل کلاس کانمائندہ ہے۔ یہ اقتدارمیں جگہ چاہتاہے، جوروایتی اشرافیہ دینے پرتیارنہیں۔ اس جنگ میں مزدورطبقہ اورمظلوم قومیتوں کی جدوجہد یوں آگے جاسکتےہیں جب یہ خلیج مزید وسیع ہو۔ عمران خان نے تحریک کوعوامی بنانے سے روک لیا۔ اورلڑائی کوعدالت میں لے گیا۔ لیکن ابھی یہ جنگ ختم نہیں ہوئی۔ نئے وزیرائے اعظم کے آںے اوراگلے انتخابات تک سیاسی فضا گرم رہے گی۔ طاہرالقادری بھی تشریف لارہے ہیں۔ نئے وزیراعظم شہبازشریف سے 14افراد کے خون بہاکاحساب لینے۔ اس کامطلب یہ ہے کہ احتجاج اورمظاہرے مزدورطبقہ کومواقع فراہم کرسکتاہےکہ وہ اپنی تحریک کوآگے لائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *