فیمنسٹ سامراجیت

فیمنسٹ سامراجیت

پاکستان میں سوشل میڈیا پہ ہم پیٹی بورژوازی/درمیانے طبقے سے تعلق رکھنے والی ایسی خواتین اور مرد لکھاریوں کو ابھرتا دیکھ رہے ہیں جو عرف عام میں ویمن رائٹس ایکٹوسٹ کہلاتے ہیں اور ان کے ہاں ہم بار بار لبرل ازم سے بے تحاشا پیار کی رام لیلا بھی سنتے رہتے ہیں-یہ فیمنسٹ خواتین و حضرات کا ایک ایسا طبقہ ہے جن میں ابھی کئی نوجوان لکھاری ہیں، جنھوں نے اپنی سوشل لائف میں شہرت اور نام کا مزا چکھنا ابھی شروع ہی کیا ہے اور ہمارا خرانٹ ،پرانا لبرل بابوں کا ایک ٹولہ ان پہ داد کے ڈونگرے برسانے میں مصروف ہے اور ان کے لئے لبرل ازم اور مغرب میں اس کے دل دادہ اور اس رجحان کو ایک دانشورانہ رنگ میں رنگ کر پیش کرنے والوں کے جملوں اور نظریات کو مزید سجاکر ان کے سامنے پیش کرتا ہے اور یہ نوجوان لکھاری عورتیں خاص طور پہ جو اپنی آزادی کو پانے کے لئے سرگرداں بھی ہیں اور اپنے طبقاتی پس منظر کے ہاتھوں مجبور بھی اس سجے سجائے فریب کو ہاتھوں ہاتھ لیتی ہیں-ان کی فرسٹریشن سے جنم لینے والے کچے پکّے اور بعض اوقات کسی مہان لبرل سے مستعار لئے جملوں پہ لائک اور تبصروں کی وہ بوچھاڑ ہوتی ہے کہ رہے نام اللہ کا –اور یہ سب مغربی لبرل فیمن ازم یا مغرب میں عورت کی آزادی کے سامراجی جھنڈے کو بنا سوچے سمجھے اور بنا غور و فکر کئے اٹھانے میں سب سے آگے ہیں-کئی ادھیڑ عمر عورتیں جنھوں نے اپنی جوانی میں مغربی سامراجیت کے کیمپ سے آنے والے فیمن ازم کا جھنڈا اٹھایا تھا اور ان میں سے کئی ایک آج مذہب مین پناہ گزین ہوچکی ہیں ان نوجوان لڑکیوں کو اپنے تجربات سے آکاہ کرتی ہیں اور خبردار کرنے کی کوشش کرتی نظر آرہی ہیں اور کچھ عورتیں جنھوں نے مرد جاتی کے ہاتھوں زبردست اذیت بھگتی ہے وہ اپنی بچیوں کو اس تجربے سے بچانے کی کوشش کررہی ہیں اور یہاں طبقاتی حوالے سے یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ ایسی عورتوں کی بڑی تعداد کا تعلق پیٹی بورژوازی کی ورکنگ پرت سے ہے-لیکن ان نوجوان عورتوں اور ادھیڑ عمر عورتوں کی اکثریت کی تحریروں میں فکر کا وہ رسوخ عنقا ہے جس کا تقاضا ان کو درپیش فکری ،نظریاتی بحران کرتا ہے-میں نے اس حوالے سے امریکہ میں سوشلسٹ پارٹی کی سرگرم کامریڈ دیپا کمار سے بات کی تو انہوں نے مجھے انٹرنیشنلسٹ سوشلسٹ ریویو میں شایع ہونے والی ایک رپورٹ کا لنک بھیجا ،جس میں انہوں نے سامراجی فیمن ازم کے عنوان سے ایک جائزہ لبرل فیمن ازم کا لیا ہے-جب ہم لبرل فیمن ازم کی اصطلاح یا سامراجی فیمن ازم کی اصطلاح بولتے ہیں تو اس سے مراد کیا ہوتی ہے؟دیپا کمار کہتی ہیں کہ لبرل فیمن ازم سے جڑے دانشور مغرب /ویسٹ کو ایک برتر کلچر کا مالک خیال کرتے ہیں-ان کے خیال میں مغرب ہی لبرل اقدار جیسے جمہوریت ،سیکولر ازم، بنیادی انسانی حقوق ، عورتوں کے حقوق، گے اور لیزبین رائٹس، آزادی اظہار وغیرہ پہ یقین رکھتا ہے جبکہ گلوبل ساؤتھ جو ہے وہ وحشیانہ ، مس جاسوجنسٹ/عورتوں سے نفرت کرنے والا، مذہب کے اثر میں چلنے والا اور غیر لبرل لے-اور اسی سے وائٹ مین برڈن اور وائٹ وویمن برڈن کے تصورات ابھرتے ہیں-اور نجانے مجھے کیوں لگتا ہے کہ مغربی لبرل ایسا برڈن زرد اور براؤن لبرل عورتوں اور مردوں میں بھی منتقل کردیتے ہیں جو مغرب کے ایک جھوٹے امیج کے ساتھ اپنے زرد اور کالے بہن بھائیوں کو مغربی لبرل ازم کی برکات گنواتے نہیں تھکتے ہیں-اور سفید فام مرد و عورتوں کے ساتھ ساتھ بہت ساری زرد اور کالی عورتیں بھی اسی قسم کے لبرل ازم کے ساتھ “کالونائزیشن پہ مبنی جنگوں ” کو آزادی کی جنگ قرار دیگر کم خوش قسمت زرد اور کالی عورتوں کو آزاد کرانے میدان میں اتر آتی ہیں

کامریڈ دیپا کمار کہتی ہیں کہ ایسا فیمن ازم اصل میں سامراجی فیمن ازم ہے-اور اس لحاظ سے وہ تین پہلوؤں کو دریافت کرنے پہ زور دیتی ہیں:

”  تاریخی اعتبار سے سامراجی فیمن ازم اس لئے ایک گلوبل فنومنا بنا ہوا ہے کہ اس کے پیچھے ایک طرف تو وہ سوشل ویلفئیر کی شکل میں وہ نیو لبرل فنڈنگ ملوث ہے جس نے این جی اوز کے لئے سپیس فراہم کی اور فیمن ازم کی این جی اونائزیشن کا راستہ ہموار کیا ، وار آن ٹیررازم اس میں ایک دوسرا مددگار عامل ہے جوکہ امپریل ازم کے مفادات کو بچانے کا ایک  طریق کار ہے- اور پھراس کے ساتھ پرانے اورئنٹلسٹ طریقہ کار بھی اس میں عامل کا کردار ادا کرتا ہے- تیسرا مغربی نیشن سٹیٹس کی تہذیبوں کے تصادم کے فریم ورک کی مطابقت میں تشکیل نو اور ری میکنگ کا عمل ہے جس نے سامراجی فیمن ازم کو ایک گلوبل فنومن / عالمی سماجی مظہر اور رجحان بنانے میں مدد فراہم کی ہے-ان تینوں عوامل کو پاکستانی نوجوان روشن خیال فیمنسٹ عورتوں اور مردوں کو دریافت کرنے کی اشد ضرورت ہے اور اس پہ بحث کرنے کی بھی-دیپا کمار کہتی ہیں کہ سامراجی فیمن ازم صرف بندوق کی نوک پہ عورتوں کو اپنے ہی انداز میں آزادی  دلانے کا پروجیکٹ نہیں ہے بلکہ اسے ایک وسیع معاشی اور سیاسی تناظر میں رکھکر دیکھنے کی ضرورت ہے جس میں ایسے حالات پیدا کئے گئے کہ آج سامراجی فیمن ازم ہمیں تیسری دنیا میں ایک غالب کمپئن کی صورت نظر آتا ہے اور گلوبل ساؤتھ کی جو حکمران اور مڈل کلاس ہے ان میں بھی یہ ایک غالب ڈسکورس کے رائج ہے”

” دوسرا پہلو جسے دریافت کرنے کی ضرورت ہے وہ ہے سامراجی فیمن ازم کی پیچھے 19ویں صدی میں جاکر اصل کی تلاش اور اس کے لئے صرف یہ دیکھنا کافی نہیں ہے کہ کیسے زرد اور کالی عورتیں غالب کالونیل لاجک کے ساتھ تشکیلیت سے گزرتی ہیں ،یعنی کیسے ان کی سوچ اور ان کے اعمال کو کالونیل لاجک کے تابع کیا جاتا ہے اور آج کل فیمنسٹ سامراجیت کا جائزہ لینے والوں کا زیادہ تر ٹاپک یہی ہے-بلکہ مرے خیال میں تو یہ سمجھنے کی ضرورت بھی ہے کہ کیسے ایک وائٹ ویمن کالونیل پالٹیکس کے اندر رچا بسادی جاتی ہے –بعض مڈل اور اپر کلاس سے تعلق رکھنے والی عورتین کالونیل ازم کی حمایت کرتی ہيں، وہ اسے عورتوں کے حقوق جیتنے کا راستہ خیال کرتی ہیں-حقیقت میں ایمپائر کالونیوں /نوآبادیوں میں عورتوں کو کبھی آزاد نہیں کرواتی اور نہ ہی کسی میٹرو پولٹن سٹی میں وہ آزاد کراپاتی ہے-دیپا کا استدلال یہ ہے کہ امپریل سنٹرز /سامراجی مراکز میں عورتیں خاص طور پہ ورکنگ کلاس ویمن بہت کم ایمپائر سے حاصل کرپاتی ہیں

تیسرا پہلو جسے دریافت کرنے کی ضرورت ہے وہ ہے مختلف فیمنسٹوں کے کام کا جائزہ لینا اور ایسا فریم ورک سامنے لانا جس میں رہ کر ایک ٹھوس کثیر القومی اور کثیر الملکی فیمنسٹ سالیڈیرٹی سامنے لاسکیں اور ایک حقیقی گراس روٹ گلوبل فیمنسٹ تحریک کا جنم ہوسکے

سامراجی فیمن ازم کی بنیاد “نیو لبرل ازم ” پہ ہے اور عصر حاضر کا سرمایہ داری نظام اسی شکل میں منظم ہے اور چند عشروں میں اس نے سرمایہ داری نظام میں کئی تبدیلیوں کو متعارف کرایا ہے-یہ شکل سرمایہ دارانہ ریاست کی پہلی اشکال سے مختلف ہے جس میں ریاست یا حکومت اپنے شہریوں کی ضرورتوں کو سوشل ویلفئیر کے پروگراموں کے زریعے سے پورا کیا کرتی تھی-سبسڈائزڈ فوڈ پروگرام چلاتی ، پبلک اسکولنگ نظام ہوتا تھا ، سرکاری ہیلتھ سسٹم تھا وغیرہ وغیرہ، یہاں گلوبل ساؤتھ میں اب بھی ریاست ایسے پروگرام چلا تو رہی ہے لیکن اس کا سوشل سروسز کا سیکٹر مختلف حیلے بہانوں سے سکڑ رہا ہے اور اس میں پرائیویٹ سیکٹر کی مداخلت اور شئیر بڑھتے جاتے ہیں-سوشل پروگراموں کی نجکاری اور ان پہ حملے نیو لبرل ازم کے لئے دو کام کرتے ہیں: وہ سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرتے ہیں اور اکثر گھروں زیادہ سوشل ری پروڈکشن ٹاسک پورے کرنے پہ مجبور کردیتے ہیں ہیں جن میں سے اکثر کا بوجھ عورتوں کے کندھوں پہ ہی ہوتا ہے-اور عورتیں یہ سوشل دی پروڈکشن کے ٹاسک کسی قسم کی اجرت کے بغیر  سرانجام دیتی ہیں اور اسے ان کے پیار اور فرض کا تقاضا خیال کیا جاتا ہے اور اس صورت حال کا زیادہ تر اثر ورکنگ کلاس خاندانوں پہ ہوتا ہے کیونکہ وہ بہت سی ایسی چیزوں کو افورڈ نہیں کرسکتے جن کی نجکاری ہوچکی ہوتی ہے، ان کو کام کی جگہ پہ زیادہ خطرہ ہوتا ہے ، جتنا زیادہ وہ کم تنخواہ والی جاب پہ انحصار کرتے ہیں اتنا ہی نیولبرل حملے کے خلاف مزاحمت کرنے کے کم قابل رہ جاتے ہیں

نیو لبرل ازم نے ایک اور یونیق ،خاص شکل کو جنم دیا ہے جسے این جی او کہا جاتا ہے-سوشل ری پروڈکشن کے پروسس میں سے ریاست اور پبلک ریسورسز کی دست برداری نے ایک خلا پیدا کیا جسے این جی اوز نے گزشتہ چند عشروں میں پر کیا ہے،1980ء سے لیکر ابتک این جی او بڑی تیزی سے بڑھی ہیں اور یہ کہنا مبالغہ نہیں ہوگا کہ یہ این جی اوز عالمی اور قومی سیاست میں اہم کردار بن گئی ہیں اور خاص طور پہ عالمی اور قومی سطح پہ عورتوں کی بہتری اور حقوق کی سیاست میں ان کا کردار بںیادی اہمیت کا حامل ہے-2000ء میں یہ این جی اوز 12 سے 15 ارب ڈالر خرچ کررہی تھیں اور 2012ء میں دنیا کے کچھ علاقوں میں این جی او سیکٹر ریاست سے زیادہ طاقتور ہوچکا تھا-

لیکن 90ء کی دھائی میں ہی این جی اوز میں سے نصف سے زائد این جی اوز تین ایشوز پہ بہت زیادہ فوکس کئے ہوئے تھیں—- ویمن رائٹس ، ہیومن رائٹس اور ماحولیات-ہیومن رائٹس پہ یہ فوکس کوئی حادثاتی امر نہیں تھا؛یہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد وجود میں آیا اور اس کے جنم ، پیدائش نو اور ہیومن ٹیرین ازم کو عراق ،صومالیہ  سے لیکر یوگوسلاویہ تک میں سامراجی مداخلتوں کے جواز فراہم کرنے کے لئے استعمال کیا گیا تھا،جیسے شام میں ، یمن میں سامراجی مداخلتوں کے لئے اسی کو بنیاد بنایا گیا-اس تناظر میں ہیومن ٹیرین این جی اوز اور ہیومن رائٹس گروپوں نے کانفلکٹ کے دوران نیوٹرل رہنے کا ڈھونگ رچانا چھوڑ دیا اور اور مغربی طاقتوں سے فوجی مداخلتوں کی درخواستیں شروع کردیں،بلکہ حملہ آوری اور قبضہ گیری میں شراکت و تعاون بھی شروع کردیا-1990ء میں صومالیہ میں قحط کے خاتمے کے لئے سی اے آر ای نے یو این کی مداخلت کی درخواست کی-ورلڈ وژن اور ہیومن رائٹس واچ نے سربینکا میں مسلمانوں کو بچانے کے لئے فوجی مداخلت کی اپیل کی،آکسفیم نے سربیا کے حلاف کوسوو میں نسلی صفائی روکنے کے لئے نیٹو کو فوجی حملہ کرنے کو کہا اور ایمنسٹی یو ایس اے نے افغانستان میں نیٹو کو قبضہ جاری رکھنے کو کہا-امریکہ این جی اوز کے ملٹری پلاننگ، آپریشن اور پوسٹ وار قبضے کے حق میں ہونے پہ خوش تھا-کولن پاول نے افغانستان میں این جی اوز کے بارے میں کہا تھا: ” وہ ہمارے لئے کئی گناہ طاقتور ثابت ہوئی ہیں اور ہماری کومبٹ ٹیم کا وہ ایک اہم جزو ہیں-فوجی فتوحات کے بعد ایڈ ایجنسز نے ریاست کے کام سنبھال لئے جیسے ہیلتھ ، ایجوکیشن اور ویلفئیر سسٹم کا چلانا –جیسے ہم شام میں رجیم تبدیلی پروجیکٹ میں این جی اوز کے کردار کو ویکی لیکس کے زریعے سے امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے مراسلوں کے سامنے آنے سے بہت اچھی طرح پہچان چکے ہیں-اور وہاں وائٹ ہلمیٹ کا جو پٹھو کردار سامنے آرہا ہے، اس سے بھی سامراجی پروجیکٹ میں این جی اوز کے کردار بار بخوبی آگاہی ملتی ہے-این جی اوز کی کشش  وار آن ٹیرر ، نیو لبرل ازم میں میں اس لئے ہے وہ سوشل فنکشن کی نجکاری کرتے ہیں اور کئی سوشل ری پروڈکشن ضرورتوں کو ایسے اداروں کو دے ڈالتے ہیں جن کو کارپوریشنز اور طاقت ور ریاستیں آسانی سے کنٹرول کرلیتی ہیں کیونکہ این جی اوز فنڈ کے لئے کئی ڈونرز پہ انحصار کرتی ہیں اور ان کو بیوروکریٹک(افسر شاہی ) طریقے سے ایسے منظم کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے ڈونرز کے کنٹرول سے باہر نہ ہوں،چاہے وہ ڈونر حکومت ہو یا کوئی نجی ادارہ-اور یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ این جی اوز کو سماجی تحریکوں سے کم خطرناک خیال کیا جاتا ہے، کیونکہ سماجی طریقوں کو اتنا آسانی سے کنٹرول نہیں کیا جاسکتا-

فیمنسٹ اور ویمن این جی اوز اسی عام تناظر میں آپریٹ کرتی ہیں-اور مزید ان کی صورت گری میکسیکو سٹی ، نیروبی اور بیجنگ میں یو این کی ویمن کانفرنسز کے زریعے سے کی گئی-1995ء میں یہ بیجنگ ویمن کانفرنس تھی جس میں ہیلری کلنٹن نے اپنی مشہور زمانہ تقریر میں کہا تھا ” عورتوں کے حقوق ہیومن رائٹس ہیں ” اور اس نے ایسی این جی اوز کو عالمی توجہ فراہم کی تھی اور اسی نے فیمنسٹ ایکٹوازم کو فرنٹ فٹ پہ لاکھڑا کیا تھا-

سبائن لینگ جوکہ جے ایس آئی ایس میں انٹرنیشنل اینڈ یوروپئن سٹڈیز کی پروفیسر اور ڈیپارٹمنٹ آف پولیٹکل سائنس اینڈ جینڈر ،ویمن اینڈ سیکس چوئلیٹی سٹڈیز میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں اور ان کام کا وکس سول سوسائٹی ،نان گورنمنٹ سیکٹر اور جینڈر پالٹیکس ہے، کا کہنا ہے کہ یہ پروسس اصل میں فیمن ازم کی این جی او آئزیشن کا پروسس ہے اور اس کا مطلب ان کے ںزدیک نہ صرف 1990ء اور 2000ء کے دوران فیمنسٹ این جی اوز کی بے پناہ گروتھ ہے، بلکہ اس سے ان کی مراد ایسا فیمنسٹ ایکٹوازم کا سماجی اور سیاسی تحریکوں میں شرکت سے رخ بدل کر این جی اوز کی  ایڈوکیسی اور ایکشن کی صورت اختیار کرلینا ہے-سبائن کا کہنا یہ ہے سامراجی فیمن ازم اس شفٹ کی توجیح یہ کہہ کر پیش کرتا ہے کہ جہاں سماجی سپورٹ بالکل نہیں ہے یا تھوڑی ہے وہاں این جی اوز بہت زیادہ ضروری سروسز/ خدمات فراہم کرتی ہیں

پاکستان کے اندر بھی ہم اس شفٹ کو دیکھ سکتے ہیں، آج کے پاکستان میں فیمنسٹ ایکٹوازم کی ایک سماجی تحریک کی شکل میں موجودگی کی تلاش ہمیں ناکامی سے دوچار کرسکتی ہے لیکن یہاں پہ فیمنسٹ ایکٹوازم ہمیں این جی اوز کی ایڈوکیسی اور ایکشن کی شکل میں ہی نظر آرہا ہے اور اگر کوئی سماجی تحریک کھڑی بھی ہو تو یہ این جی اوز ان میں جب شرکت کرتی ہیں تو ان کی شرکت کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور یہ سماجی تحریک میں کھڑے ہونے والوں کو غیر سرگرم کرنے کا کام کرتی نظر آتی ہیں-اور ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ماضی کے کئی بڑے فیمنسٹ سماجی و سیاسی ایکٹوسٹ اب این جی اوز میں جاکر ٹھس ہوگئے ہیں-لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ این جی اوز کوئی یہ نوعی/مونو لتھ فنومنا ہے-کچھ این جی اوز بہت اچھا کام بھی کررہی ہیں-لیکن یہ دیکھنا بھی بہت اہم ہے بہترین فنڈڈ این جی اوز اور زیادہ طاقتور این جی اوز ہر طرح کی کارپوریشنز اور انٹرنیشنل ایجنسیز کے ساتھ بندھی ہوئی ہیں،اسی لئے یہ اکثر ڈھے جاتی ہیں اور کسی بھی تحریکی سرگرمی کو لبرل رائٹس بیسڈ اپروچ کے حق میں غیر متحرک کردیتی ہیں اور سرمایہ دارانہ سرگرمی کے حق میں اسے ختم کرنے یا اس کو اس کے مطابق کرنے کی کوشش کرتی ہیں اور یہ این جی اوز ایمپائر اور سرمایہ کے جواز کھونے والے کسی بھی اقدام ساتھ چلنے کو تیار نہیں ہوتیں کیونکہ ان کا ڈیزائن اس کی اجازت نہیں دیتی

پاکستان کی مثال اس میں ایک مرتبہ پھر دی جاسکتی ہے-کراچی سمیت پاکستان کے تمام اربن سنٹرز میں بڑی بڑی این جی اوز کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے اور 90ء کی دھائی کی بعد سے اس میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے اور ان بڑی این جی اوز کے ریسورس سنٹرز، ٹاسک فورسز اور کرائے پہ انگیج کی گئی چھوٹی این جی اوز کے دفاتر ہر چھوٹے بڑے شہر مین موجود ہیں لیکن اس اتنے بڑے نیٹ ورک کی موجودگی کا نتیجہ پاکستان میں عورتوں کی تحریک کا ڈی موبلائز ہونا ہے اور یہ تحریک اپنے سیاسی چہرے سے تو محروم ہوئی ہے، ساتھ ہی اس کے گراس روٹس بھی نظر نہیں آتے-اور ایک تاثر اور بھی شدید ہوا ہے کہ فیمن ازم اپر مڈل کلاس اور پروفیشنل مڈل کلاس تک محدود نظر آتا ہے اور اس کی اپیل ورکنگ کلاس ویمن میں نظر نہیں آتی، این جی اوز سماجی تحریکوں کو غیر متحرک کرکے صورت حال کو اور بدتر بناتی ہیں اور اکثر سرگرمیاں این جی اوز ایکٹویٹی ہی چوس لیتی ہیں

کامریڈ دیپا کمار فیمنسٹ ایکٹوازم مین بنیادی شفٹ کے بارے میں ایک اور رجحان کی نشاندہی کرتی ہیں اور وہ اسے “کمرشلائزیشن آف ہیومن رائٹس ” کا نام دیتی ہیں-پاکستان کے اندر کئی این جی اوز انٹرنیشنل این جی اوز کی فنڈنگ سے “بیوٹی ود آؤٹ باڈرز ” پروجیکٹ چلارہی ہیں اور اس پروجیکٹ کا بنیادی تھیم پاکستانی عورتوں کو بیوٹی فیکشن کورسز کے وریعے سے آزادی حاصل کرنے کا راستہ دکھانا ہے اور اس مين فنڈنگ کا بنیادی سورس کاسمیٹک کمپنیاں ہیں-اور اس کا اصل مقصد منافع میں اضافہ اور کاسمیٹک کی منڈی میں وسعت لیکر لانا ہےاور ایسا ہی ایک کمپئن افغانستان میں بھی چلی تھی

عورتوں کو بیوٹی سکلز کی فراہمی کی منطق یہ ہے کہ وہ ان کو سیکھنے کے بعد اپنے بیوٹی سیلون چلاسکیں،اور اس کی بنیاد ڈویلپمنٹ/ماڈرنائزیشن اپروچ پہ ہے جو کہ عورتوں کو انٹرپریرنیر بناکر امپاور کرنے کی بات کرتی ہےاور افراد کو تربیت دیکر ان کو اپنا بزنس چلانے کے قابل بنانے کا یہ ماڈرنائزیشن فریم ورک دنیا بھر کی این جی اوز کے غالب فریم ورک میں لبریشن کا ایک طریقہ کار ہے اور اسی وجہ سے ” ہندوستان کی بیٹی ” جیسی ڈاکومنٹری کے لئے جیوتی سنگھ ایک پوسٹر گرل بن جاتی ہے

جیوتی سنگھ کی تعریف اس کی سخت محنت اور پختہ عزم کی وجہ سے کی جانی بنتی ہے—اس نے ایک میڈیکل اسکول میں نائٹ جاب کی تاکہ وہ اپنے آبائی شہر میں ایک ہسپتال قائم کرسکے-وہ ایک ایسی شخصیت ہے کہ جس کو ڈویلپمنٹل ماڈرنائزیشن کی انفرادی منطق کی بہترین مثال قرار دیا جاسکتا ہے-اس کو دکھایا گیا کہ کیسے اس نے نیولبرل انڈیا کی طرف سے ان تمام وسائل کو بروئے کار لائی جو اسے میسر آئے جبکہ یہ فلم اس سسٹم کے بارے کوئی سوال کھڑا نہیں کرتی جوکہ لوگوں کو نائٹ جاب پہ مجبور کرتا ہے جبکہ ایجوکیشن کو  ہر حال میں مفت/ فری ہونا چاہئیے-تو بہت ساری مٹالیں ہیں ویمن لبریشن کے کمرشلائزڈ ہونے کی جیسے “بیوٹی ود آؤٹ باڈرز کمپئن “ہے-لیلی ابو لغود جوکہ امریکی –فلسطینی –جیوش پس منظر رکھتی ہیں اور کولمبیا یونیورسٹی نیویارک میں ویمن اور جینڈر اسٹڈیز پڑھاتی ہیں 2013ء میں شایع ہوئی اپنی کتاب ” کیا مسلم عورتوں کو سیونگ کی ضرورت ہے ؟ میں لکھتی ہیں،عورتوں پہ تشدد کے خلاف ہر تین میں سے ایک گلوبل ویمن کمپئن عورتوں کو اپنے کارڈ ، چارم ،ڈاگ ٹیگ خود خریدنے پہ زور دیتی ہیں-پیس کیپر میٹکس آپ سے ویمن کاز کو سپورٹ کرنے کے لئے ان کی لپ سٹک اور نیل پالش خریدنے کو کہتے ہیں اور ان کی منطق یہ ہوتی ہے کہ اس طرح سے رقم اکٹھی کرکے مسلم اکثریت کے ممالک میں عورتوں پہ تشدد کے خلاف لڑا جاسکتا ہے-پاکستان کے اندر فوڈ اینڈ بیوریجز انڈسٹری نیشنل و ملٹی نیشنل کمپنیز لڑکیوں کو اسکول بھیجنے ، لڑکیوں کے اسکولوں میں مسنگ فیسلٹیز کی فراہمی کے لئے اپنی ملک ، ڈیری اور بیوریجز پروڈکٹ کو خریدنے کو کہتے ہیں اور اس کی بڑی پبلسٹی کی جاتی ہے، ایسے ہی تھر ، بلوچستان ، چولستان میں عورتوں کی لبریشن کے لئے فنڈز مختص کرنے کے اعلان سامنے آتے ہیں اور اپنی پروڈکٹس کی سیل پہ زور دیا جاتا ہے-یہ اور ایسے بہت سے اقدامات جو کارپوریٹ سیکٹر  این جی اوز کے ساتھ ملکر کرتا ہے ویمن لبریشن کی کمرشلائزیشن کی مثالیں ہیں-آج دنیا میں عورتوں سے سالیڈیرٹی کا اظہار کرنے کے کا راستہ شاپنگ اینڈ چیرٹی تک محدود ہوکر رہ گیا ہے-

 2016ء تک آتے آتے ہم ایک ایسی صورت حال کا شکار ہیں جس میں سامراجی فیمن ازم کا چلن اور اس کا زرمیہ مستحکم اور مضبوط ہوگیا ہے اور  اسی سینس یا معنی میں 20ویں صدی کا سامراجی فیمن ازم 19ویں صدی سے مختلف ہے کہ یہ ایک طرف اپنے خواص میں 19وں صدی کے سامراجی فیمن ازم کا پیش رو بھی ہے اور ساتھ ساتھ اس کی اپنی منفرد خاصیات بھی ہیں- جسے ہم کالونیل فیمن ازم کہتے ہیں اور جسے سامراجی فیمن ازم کہا جاتا ہے ان دونوں کے درمیان کیا چیز مماثل ہے اور کیا چیز مشترک ہے؟کالونیل فیمن ازم 19ویں صدی میں دنیا کے ایک بڑے حصّے کی یوروپی کالونائزیشن کی وجہ سے سامنے آیا-کالونیل ازم کو جسٹی فائی کرنے یا جواز فراہم کرنے کے لئے ،جیسے ایڈورڈ سعید ہمیں بتاتا ہے کہ خیالات کا ایک نیا ادارہ بنایا گیا جسے اورئنٹل ازم کہتے ہیں،جس کی بنیاد اس خیال پہ تھی کہ مغرب مشرق سے بہتر ہے، مشرق جوکہ پسماندہ ہے، اسے مہذب بنانے کی ضرورت ہے-مشرقی اور مسلم عورتیں اس اورئنٹلسٹ فریم ورک کا مرکزی جزو بن کئے ہيں-کئی سکالرز نے یہ ثابت کیا ہے کہ اس فریم ورک میں عورتوں کو دو طریقوں سے پیش کیا گیا: پہلا طریقہ عورتوں کو “حرم کی فنتاسی دنیا کے ایک سیکس معروض /اوبجکیٹ کے طور پہ پیش کرنا تھا اور دوسرا طریقہ ان کو کچلی ہوئی ، پسی ہوئی،قیدی بنائی ہوئی ، الگ تھلگ کردی ہوئیں،چھپادی گئیں ہوئیں اور مردوں کی غلام بنی ہوئی دکھا کر پیش کرنا-ان دونوں کنسٹرکشن میں یہ فرض کرلیا جاتا تھا کہ ان کو بچانے کی ذمہ داری کالونیل آفیشل پہ ہے-لیکن حقیقت میں ایسٹرن ویمن کی آزادی کبھی بھی کالونیل پاورز کے ایجنڈے پہ نہیں تھا-جیسا کا 19ویں صدی کا ایک کالونیل فرنچ آفیشل اس بارے بات کرتے ہوئے کہتا ہے،

” اگر ہمیں الجیرین معاشرے کی مزاحمت کو توڑنا ہے تو ہمیں سب سے پہلے ان کی عورتوں کو فتح کرنا ہوگا،ہميں ان پردوں کے پیچھے جانا ہوگا جہان انہوں نے اپنی عورتوں کو چھپا رکھا ہے”

 نیویارک سٹی یونیورسٹی کے گریجویٹ سنٹر اور ہنٹر کالج میں سوشیالوجی کے پروفیسر کرسٹائن ڈیلفی مارنیا لازرگ کے حوالے سے کتاب  ” سیرپریٹ اینڈ ڈومینیٹ: فیمن ازم اینڈ ریس ازم آفٹر دی وار آن ٹیرر”میں کہتی ہے، ” فرنچ نے شمالی افریقن ویمن کے لئے کچھ بھی نہیں کیا-لیکن وہ الجئیرین جنگ آزادی کے دوران عورتوں کو زبردستی حجاب پہننے پہ مجبور کئے جانے کے خلاف ایک دو کمپئن ضرور لیکر آئے اور یہاں بھی انہوں نے شمالی افریقن عورت کی آزادی کا خوب ڈھونڈرا پیٹا-جبکہ حقیقت میں ایسی کمپئن کا مقصد الجئیریائی مردوں کو ڈی مارلائز کرنا تھا کہ ان سے ان کی آخری ملکیت یعنی عورتوں کو بھی ان سے چھین لیا جائے اور اس مقصد کے لئے فرنچ ملٹری کے سپاہیوں نے الجیریا کی عورتوں کے ریپ کرنے اور مقامی عورتوں کے چکلے کھولنے کی حوصلہ افزائی کی-اور اس کے ساتھ ساتھ حجاب اور اسلام پہ حملوں کا مقصد قومی آزادی کی تحریک کو بے ضرر بنانا تھا جوکہ اسلام کو ایک نظریاتی گلو کے طور پہ استعمال کرتی تھی تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ فرنچ سامراجیت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں-جب 1882ء میں برٹش سامراج نے مصر پہ حملہ کیا تو لارڈ کورمر تھا جس نے اس قبضہ کا مقصد مصری عورتوں کو آزاد کرانا قرار دیا تھا-اس کے اسلام ، عورتوں اور حجاب بارے مخصوص خیالات تھے اور اس نے ان تین کے بارے میں ہی لکھا-اس نے اسلام کو مکمل ناکامی سے تعبیر کیا اور اسے عورتوں کی ذلت کا سبب بتایا-اس کا کہنا تھا کہ عیسائیت کے برعکس (جس کے ساتھ یوروپی مردوں نے عورتوں کو اونچے مرتبے تک پہنچایا )اسلام میں حجاب اور الگ الگ رکھے جانے کی پریکٹس نے مسلم مردوں کو عورتوں کی تذلیل کرنے کی طرف مائل کیا اور آخرکار عورتوں نے بھی اپنے آپ کو کمتر خیال کرنا شروع کردیا-کرومر کا خیال تھا کہ مصریوں کو اپ لفٹ کرنے کے لئے ان کو ترغیب یا ترہیب (ڈرا کر ) مغربی تہذیب کی روح سے آراستہ کرنا ہوگا

یہاں پہ یہ نوٹ کرنا بھی اہم ہے کہ یہ صرف کالونیل لارڈز ہی نہیں تھے جو مغربی تہذیب کی برتری بارے ایسے دلائل پیش کرتے تھے بلکہ اس طرح کا استدلال کرنے والے بہت سے مقامی تھے جنھوں نے اس پروجیکٹ کو آگے بڑھانے میں کالونیل آقاؤں کی مدد بھی کی-مصر کے قاسم امین جوکہ فرانس سے پڑھ کر آئے تھے اور ان کا تعلق مصر کی اپر مڈل کلاس سے تھا اور پیشہ کے لحاظ سے وہ وکیل تھے، انھوں نے ایک کتاب ” لبریشن آف ویمن ” 1899ء میں لکھی جس میں انہوں نے کالونیل استدلال کو ہی دوھرایا –یہ افواہ بھی ہے کہ کرومر ہی نے اس کو یہ کتاب لکھنے کو کہا تھا-اور مصر کی معروف فیمنسٹ لکھاری لیلی احمد کا تجزیہ یہ دکھاتا ہے کہ کیسے نہ صرف یہ کتاب مغرب کی تعریف سے لبریز اور مصر کی مذمت سے بھری ہے بلکہ اصل میں یہ اینٹی فیمنسٹ بھی ہے-امین کا کہنا یہ تھا کہ مسلم معاشروں کو اپنے “پسماندہ راستے” ترک کرنا ہوں گے اور تہذیب و کامیابی پانے کے لئے مغربی راستہ اختیار کرنا ہوگا اور اس کے لئے مسلم ماؤں کو وہ نیک فرض ادا کرنا ہوگا جو فرض ترقی یافتہ ملکوں کی ماؤں نے ادا کیا اور ایسے اپنے بیٹوں کو پروان چڑھایا-لبریشن سے مراد لبریشن فرام اسلام ہے،تاکہ مسلم عورتیں وکٹورین عورتوں کی طرح بن سکیں-تو یہان قاسم امین کی عورتوں کی لبریشن سے مراد مصری یا یورپی عورتوں کی آزادی نہیں ہے بلکہ اس سے مراد ایسی مصری عورتوں کی دستیابی ہے جو مصری مردوں کی اچھے سے دیکھ بھال کرسکیں-تو کیا کرومر کی پالسیوں کا مقصد مصری عورتوں کی لبریشن تھا؟ بالکل بھی نہیں-لیلی احمد ثابت کرتی ہے کہ کیسے برٹش نے ہر قسم کی ایسی روکاوٹوں اور پابندیوں کو عورتوں کی تعلیم پہ روا رکھا جو کہ ان کے آگے بڑھنے کے لئے لازم تھیں-کرومر اور قاسم امین کے اعصاب پہ حجاب ہی سوار تھا اور وہ عورتوں سے اسے ترک کرنے کو کہتے تھے-کرومر اور قاسم امین کے نقاد خاص طور پہ ابتدائی 20ویں صدی کے فیمنسٹ کہتے ہیں کہ “حجاب ” ان کے لئے ایک ایسا فکری مغالطہ تھا جس کے زریعے سے وہ اصل ایشوز سے مصری رائے عامہ کی توجہ ہٹاتے تھے-ان کا کہنا ہے کہ عورتون کی آزادی کے جس کاز کو اگے بڑھانے کی ضرورت تھی وہ تو تھا عورتوں کی تعلیم اور صحت تک رسائی ، گھر سے باہر کام کرنے کی اجازت ، ان کے شادی بیاہ و طلاق جیسے حقوق کی بحالی ،ان حقوق کے بغیر ، صرف حجاب ہٹادینے سے عورتوں کے مقام میں کوئی بدلاؤ آنے والا نہیں تھا

کرومر اور قاسم امین جیسے مردوں کی طرح، کئی عورتوں نے بھی سامراجی فیمن ازم کے اس پروجیکٹ میں شرکت کی –بہت سی مشنری عورتیں جنھوں نے مصر اور دوسرے ممالک کا سفر کیا اور انہوں نے یہ دلیل دی کہ صرف مسیحیت کی غریب ، کچلے پسی ہوئی مسلمان عورتوں کو بچا سکتی ہے-ایک یورپی مشنری کہتی ہے،

 ” مسلم عورتوں کو ان کی جہالت اور تذلیل جس میں وہ زندگی بسر کرتی ہیں کرسچن سسٹرز کے زریعے بچایا جاسکتا ہے”

برٹش فیمنسٹ، خاص طور پہ اپر مڈل کلاس وائٹ ویمن جوکہ ووٹ کے حق کے لئے جدوجہد کررہی تھیں ،انھوں نے بھی اس بند ویگن میں چھلانگ لگادی تھی-جیسے اینٹونی برٹن بتاتی کہ برٹش فیمنسٹ جوکہ ووٹ کے حق کے لئے سرگرداں تھیں اپنے حقوق کے لئے ان کی دلیل یہ ہوا کرتی تھی،

“اگر برطانیہ ایک سچی عظیم سول لائزیشن اور گریٹ کالونیل پاور ہے تو اس دعوے کے ثبوت کے لئے ضروری ہے کہ برطانیہ ميں عورتوں کے برابر کے حقوق ہوں-مطلب یہ ہے کہ ان اپر مڈل کلاس ویمن فیمنسٹ نے اورئنٹلسٹ تصور برتری مغرب کو اپنا لیا تھا اور ان کا کہنا یہ تھا کہ برطانیہ کو گریٹ کالونیل پاور بنانے کے لئے وہان کی عورتوں کو ووٹ کا حق ملنا ضروری ہے

اندر پال جوکہ امریکی یل یونیورسٹی میں جینڈر اینڈ سیکچوئلٹی کی پروفیسر ہیں نے اپنی کتاب ” ہوم اینڈ حرم ” میں لکھا:

“جیسا کہ سیاح ، ایتھنولوجسٹ، مشنری ،ریفارمرزز اور انگلش ویمن نے بھی کالونیل پروجیکٹ میں شراکت کے حوالے سے اپنی برابری ظاہر کی جوکہ خالص طور پہ ہیٹروسیکسچوئل ، تانیثی ٹرمز میں فیمنائن ٹیرٹری اور ویک کلچرز میں ایک مداخلت اور ماسٹری سے عبارت تھی-ایسی شراکت سے وہ مشرقی عورتوں پہ اپنے مفروضہ نسلی اور قومی برتری برقرار رکھ سکتی تھیں جسے بہت سی انگلش عورتیں محسوس کرتی تھیں اور اس کو وہ مردوں کے مقابلے میں برابر کے حقوق رکھے جانے کا جواز بھی بناتی تھیں”

حقیقت میں، کالونیل ازم نے عورتوں کے حقوق کے کاز کو نہ تو کالونی میں اور نہ ہی میٹروپول کو فائدہ پہنچایا-مثال کے طور پہ، لارڈ کرومر جوکہ خود کو مصری عورتوں کے حقوق کا چمپئن کہتا تھا وہ برطانیہ میں عورتوں کو ووٹ کا حق دینے کے انتہائی سخت خلاف تھا-وہ برطانیہ میں نیشنل لیگ مخالفین برائے حق رائے دہندگی نسواں کا بانی رکن اور اس کا صدر تھا-ہم اسے ایک منافق کہہ سکتے ہیں، لیکن اصل میں وہ نہیں تھا-وہ تو مصر مین ویمن رائٹس کو مصر میں ایمپائر کو آگے بڑھانے کے لئے استعمال کررہا تھا-اور اپنے وطن میں وہ وکٹوریائی جینڈر اقدار کا حامی تھا-یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ برٹش ویمن اس زمانے میں چند ہی حقوق رکھتی تھیں-ان کے پاس نہ تو ووٹ کا حق تھا اور نہ ہی جائیداد پہ حق جتانے کے لئے مقدمہ کرنے کا-جب اس کی شادی ہوجاتی تو  وہ اپنے شوہر کی ہی جائیداد خیال کی جاتی تھی اور اس کے شوہر کو میری ٹیل ریپ کرنے کا حق بھی ہوتا تھا تو یہ وہ ضابطہ تھا جسے کرومر برطانیہ میں باقی رکھنے کا خواہاں تھا

اسی وجہ سے ہم کہتے ہیں کہ سامراجی فیمنسٹ بیانیہ ایک مغالطہ آمیز فیمنزم ہے-یہ نہ صرف مشرقی عورتوں کو آزاد کرانے میں ناکام رہتا ہے بلکہ مغربی عورتوں کے حقوق کو بھی پامال کرتا ہے-یہ مغربی عورتوں کو ایک برتر تہذیب کا حصّہ قرار دیکر ان کو پہلے سے ہی آزاد قرار دیتا ہے اور اس کی یہ نعرے بازی ایمپائر کے عین قلب میں عورتوں کو درپیش جبر کو چھپالیتی ہے اور پھر یہ مغربی اور مشرقی عورتوں کے درمیان نسل پرستی ، نیشنل ازم اور تہذیبی برتری کی منطق سے کام لیکر فاصلے جنم دیتا ہے –اگرچہ حکمران طبقے کی وائٹ عورتوں نے ہوسکتا ہے ایمپائر سے مالیاتی فائدہ اٹھایا ہو لیکن وائٹ برٹش ورکنگ کلاس کی طرح سیاسی طور پہ انھوں نے بھی سامراجی فیمن ازم سے نقصان اٹھایا

بالکل اسی طرح کا رویہ لارڈ کرزن نے بھی اپنایا جوکہ وائسرائے آف انڈیا تھا-جب اس کے عہدے کی مدت ختم ہوئی تو اس نے ہندوستان چھوڑتے وقت ایک تقریر میں اپنی بیوی کی ہندوستانی عورتوں کی اپ لفٹ میں ادا کی گئی خدمات کا زکر کرتے ہوئے اس کی تعریف کی لیکن جب وہ وطن لوٹا تو اس نے کرومر کی جگہ عورتوں کو ووٹ کا حق دینے کی محالف برٹش نیشنل لیگ کی قیادت سنبھال لی

اندر پال گری وال لکھتی ہیں،

” 1910ء اور 1911ء میں برٹش عورتوں کو حق ووٹ دینے کے مخالفین کی ایک لسٹ شایع ہوئی جس میں کپلنگ ، کرومر ، جوزف چیمبرلین سمیت وہ سب مرد شامل تھے جھنوں نے انگلیڈ کی سامراجی پالسیسوں کے بہت کچھ کیا تھا-ان مردوں کے لئے ایمپائر تانیثیت کی ایک علامت تھی اور انگریز عورتیں اخلاقیات کی محافظ اور گھر کی حوریں تھیں، کالونیل معاملات کو دیکھنا ان عورتوں کا حق نہ تھا ، جیسا کہ کپلنگ کا فکشن ہمیں بتاتا بھی ہے-مزید یہ ہے کہ برٹش عورتوں کو ایمپائر میں صنفی معاملات بارے فیصلے کرنے کے لئے اہل خیال نہیں کیا کیا –مثال کے طور پہ ایک پارلیمنٹ کے رکن مسٹر جے اے گرانٹ نے ہاؤس آف کامن میں 1913ء میں کہا،

“ایک  وسیع و عریض ایمپائر جیسا کہ ہماری ہے کو کنٹرول کرنا اور اس کی تعمیر کرنا جیسے کہ کئی گئی ہے  یہ صرف مردوں کی جسمانی و ذہنی صلاحیتوں کی وجہ سے ممکن ہوتی ہے اور اس میں عورتوں کی جگہ کہیں بنتی بھی ہے ؟ اس کا جواب نہیں ہے-ایمپائر اور جنگ دونوں مردوں کے میدن ہیں-وائٹ فیمنن اس میں ایک سپورٹیو کردار ادا کرسکتی ہے-تو ایسا بیانیہ عورتوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچاتا بلکہ اسے دوسرے درجے کا سٹیٹس دیتا ہے

 

Even today, empire is still a masculine and sexist enterprise, but what has changed in the twenty-first century is that there is now a “place for women.” Thus, we see the likes of Hillary Clinton and Madeline Albright. But it is not just white women who are agents of empire; Black men like Colin Powell and Black women like Condoleezza Rice have been given leadership roles in the new imperial project. Additionally, native-collaborator roles are represented by women. Ayaan Hirsi Ali is the Qasim Amin of today, having done more than anyone else to malign Muslim majority countries and sing the praises of empire, all the while masquerading as a “feminist.” But even with women and people of color at the helm of empire, racism and sexism still remain central to the imperial mission.

 

Take Hillary Clinton for instance. She is a hawk and a strong defender of US imperialism. This means of course that she is silent on human-rights and women’s-rights violations in countries that the United States regards allies, such a Saudi Arabia, but when useful she will position herself as feminist. Her main claim to being a defender of women’s rights is the speech she made in Beijing in 1995, when she stated that women’s rights are human rights. Of course, if you look at her record back home you see that she willingly participated in the violation of women’s rights by supporting her husband’s move to end “welfare as we know it.” She had little to say when Bill Clinton threw Lani Guinier, his initial choice for assistant attorney general, under the bus, and she cozied up to the health care industry and sold out universal health care. [Since this talk, a new anthology, False Choices: The Faux Feminism of Hillary Clinton was published which explains why she is not a feminist]. But even beyond Clinton’s policy choices it would be fair to say that she has always accepted the status of a second-class citizen in relation to her husband. The most obvious instance of this is not just the adoption of his name but the contradiction between her persona abroad and that at home; even while she argued for women’s rights in Beijing, back home she remained the dutiful wife of Bill Clinton standing by her man despite his numerous infidelities. As much as roles change for women and people of color in the imperial drama, imperial feminism remains mired in sexism.

 

This hasn’t stopped various Western nations from remaking themselves in the era of the war on terror as bastions of liberalism. Whether looking at France, the UK, Canada, or the United States, there is a pattern whereby these nations have branded themselves as the upholders of liberal values in a world where war, assassination through drone strikes, extensive surveillance, indefinite detention, and other such practices are presented as the only means by which to keep the “barbarians” at bay; illiberal actions are necessary to preserve liberalism. In other words, Islamophobia and racism are once again central to national identity in ways similar to what occurred at the highpoint of colonialism in the nineteenth century. This explains France’s ban on the headscarf and then the veil, all in the name of laïcité and the supposed liberation of Muslim women. This devotion to secularism is, however, highly selective. The French government pays for the upkeep of 36,000 churches, and pays the salaries of priests, pastors, and rabbis; half of all French children and teenagers are educated in religiously run, mostly Catholic schools. Take also the defense of “free speech” after the Charlie Hebdo massacre. Charlie Hebdo journalists were celebrated as defenders of free speech, because, it was claimed, they criticized all religions equally. In truth, Islam was the target of the “most frequent and vicious attacks” writes French feminist Delphy. There are also double stands in relation to French free speech laws; the “Gayssot law” makes it a crime to raise questions about the Holocaust. Thus, some kinds of speech are allowed and others disallowed.

 

The end result is a selective appropriation of women’s rights, of secularism, of free speech as a way to remake the nation in classically colonial terms, with racism as its bedrock. The January 11, 2015 march for “national unity” was about strengthening French “values” and French nationalism in the context of a world supposedly characterized by a clash of civilizations. It is not surprising, therefore, that at this march were present Benjamin Netanyahu, Angela Merkel, and a whole host of other global leaders casting the West as a beacon of civilization fighting against the supposed barbarism of Islam.

 

This is true not just of France but various Western nations. In the UK, schools are required to promote “fundamental British values.” John Nash, the schools minister, explained the program and these values as follows: “We want every school to promote the basic British values of democracy, the rule of law, individual liberty, and mutual respect and tolerance for those of different faiths and beliefs. This ensures young people understand the importance of respect and leave school fully prepared for life in modern Britain.”

 

Thus, Modernity=West. Liberalism=West.

 

After the Supreme Court ruling legalizing gay marriage in this country, the British surveillance agency GCHQ, probably the most invasive and extreme surveillance agency in the West, decorated its headquarters in rainbow colored lights! The CIA does the same; it routinely trots out its LGBTQ employees or showcases women in leadership positions, as ways to demonstrate its progressiveness. This strategy has been perfected by Israel, in what is called “pink washing.”

 

In other words, what we have seen in the era of the war on terror is not only the remaking of Western nation states in classically colonial forms, albeit with important differences, but also the appropriation of the gains of various social movements, including feminism and gay liberation, as a way to advance the agenda of empire.

 

So, if we reject imperialist feminism as a false feminism, what alternative ways might we think about and how might we formulate a transnational feminist movement?

 

There is a lot we can say about this question, and feminists like Chandra Mohanty and others have written extensively about transnational feminism. What I want to emphasize are two central pillars of what I think would constitute real solidarity and internationalism. First, in place of charity, shopping, and donations as a way to address the oppression of women in the Global South, we need to insist that solidarity is about the recognition of mutual oppression. This means taking a comparative approach, one that admits that women all over the world face oppression, even if it looks different in different parts of the world, different within various regions in a particular nation, different for different classes of women, and different if we account for factors such as sexuality, race, ethnicity, age and ability. This is the basis from which people can work cooperatively with one another based on the recognition that all women, despite the aforementioned differences, face sexism. The universality of women’s oppression is due to the structuring reality of capitalism and imperialism. Second, and this follows from the first, we need to root our analysis of women’s oppression within the larger structures that produce this oppression and reject simplistic explanations that say religion or culture are primarily to blame.

 

What does it mean to take a comparative approach? First, we have to move away from the imperialist notion that misogyny only exists elsewhere in countries with “backward” cultures and religions, take a long hard look at the oppression that women face in the heart of empire, and explain how both are tied together.

 

For example, women in various countries around the world are killed by family members. In Pakistan, this amounts to about a thousand. Pakistan is a country of 140 million people. This is a serious problem, and as feminists, progressives, and leftists, we shouldn’t paper over these realities. However, we should also challenge the ways in which these murders are characterized. To call them “honor killings” as if religion and culture are solely responsible for the murder of women, gives a complete pass to the larger economic, political, and social conditions that produce this violence.

 

These conditions are important because a similar set of conditions produce horrific levels of violence against women in the United States. Here, 1500 women are killed by their spouses or boyfriends each year in what are called “crimes of passion.” From 2002 to 2012, the number of women killed by intimate partners was 15,462. The US has a population of 300 million, twice the size of Pakistan, but the figures nonetheless are comparable. However, in the mainstream framing of the issue of violence against women, we hear about the murders of women “out there,” but rarely about what happens here. Every day about four women are killed by intimate partners in the United States, but we don’t know their names, we don’t know their stories, and even when we do it is discussed as individual aberrations, crimes driven by passion, rather than by a society that systematically treats women as second class citizens. So rather than resort to this clash of civilizations framing, where “our” misogyny is either papered over or reduced to individual aberrations, while “theirs” is viewed as a product of their backward culture, what we need to do instead is to conduct a concrete analysis of what produces violence against women globally. This necessarily involves looking at structural factors rather than just culture, either “rape culture” or “Islamic culture.”

 

Let me give another example: in the autumn of 2003 sexual violence and the trafficking in Iraqi women and girls rose dramatically. The fall back analysis to explain this spike is to say that Islam is to blame because Islam turns women into sexual slaves. In fact, this is not just lazy, but wrong. Feminists who have studied the situation for women in Iraq after the US invasion have shown that a major explanation for the rise in violence and trafficking is the loss of jobs for women. Seventy percent of salaried women in Iraq had government jobs, and when entire government ministries were dismantled by the United States after its invasion of that country, women lost their jobs. This meant that they had to earn their subsistence by selling their bodies. When we look at structural factors we find that claims that “culture” and “religion” are solely responsible for women’s oppression in the Middle East fall flat. This is why imperial feminists avoid structural analysis, because such an analysis reveals that empire bears the brunt of the blame. Let’s be clear about one more thing: Women in the West do not benefit from imperial feminism, particularly the vast majority of women who don’t occupy positions of power and wealth. When men are trained to be ruthless killers by the military, their wives, partners, and fellow female soldiers also pay a price. Domestic violence in military families is significantly higher than in civilian families, and tens of thousands of women are sexually assaulted every year in the military. Women also pay a price when trillions of dollars are spent on empire, money that could have been used to meet basic social reproduction needs.

 

At the end of the day, transnational solidarity is about tying together the struggle of people like Emma Sulkowicz (the Columbia University student who carried around the mattress she was raped on in order to call attention to the shoddy in way in which she was treated by the Columbia administration after she filed a rape complaint) with that of Jyoti Singh. There is a story to be told about the links between the rape of women on college campuses in the United States and the sexual violence that poor women in India experience. Take the case of rural Indian women who, because Pepsi is depleting the water table, have to walk long distances to collect water and who along the way are raped and sexually harassed. Those who run Pepsi back in the US, who are part a class of men who typically go to school at Columbia University and have been encouraged to think of themselves as “masters of the universe,” dehumanize women here in ways similar to the people they exploit in developing nations.

 

It is not enough to simply talk about rape culture and misogyny here and “backward cultures” there, but instead to ground our analysis of sexual violence within the structural context of neoliberal capitalism and the ways in which it is restructuring people’s lives in various locations in the twenty-first century. When our feminism is based in an anticapitalist and anti-imperialist politics, we have a real basis for solidarity, one, moreover, that is rooted in material interests rather than morality and charity. At the end of the day, it is not beauty campaigns that are going to liberate women but their own self-activity and a politics of transnational solidarity based on a rejection of neoliberalism and empire.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *