صفہ اول

Dr-Hassan-Zafar

ظفر عارف اور سوشل ازم

تیس مارچ اور یکم اپریل کو میری اور پروفیسر مہر افروز مراد کی پریس کانفرنس کی کوششیں بلآخیر ہماری گرفتاریوں پر ختم ہو گئیں۔ یعنی ہم پریس کانفرنس نہیں کر پائے۔ ایک بنیادی انسانی حق یعنی اظہارِ رائے کی آزادی کا حق جو چھ ماہ قبل ڈاکٹر ظفر عارف سے چھینا گیا تھا وہ اب ہم سے بھی چھین لیا گیا۔

10

اصل مسئلہ تبدیلی لانا ہے!

یہ بات تویقینی ہے کہ کسی مظاہرے ،ہڑتال یا انقلابی اُبھار کا حصہ بننے کے لئے آپ کو فلسفے کی جانکاری کی ضرورت نہیں ہے یہاں تک کہ اچھی نوکری کے لئے بھی۔اگر آپ مزدوروں کی بڑی تعداد کی مارکس اور ہیگل،

18554912_10210906173145070_1337693506_n

اردو یونیورسٹی کے اساتذہ و طلبہ کا ساتھ کیوں دیں؟

وفاقی اردو یونیورسٹی کراچی کی دوسری بڑی یونیورسٹی ہے۔ دو کیمپسوں پر مشتمل یہ یونیورسٹی کراچی کے دس ہزار طلبہ کو۹۳ بیچلرز اور ۱۳ ماسٹرزپروگراموں میں تعلیم دے رہی ہے۔ اردو کی واحد یونیورسٹی ہونے کے ناطے اس کی تاریخی اہمیت بھی ہے

18622928_10210906173105069_538867537_n

علمی آزادی ارتقائی ہے یا نج کاری کے دیو کے خلاف جدوجہد سے ممکن ہو گی؟

۳ مئی کو محترم استاد توصیف احمد خان کا مضمون اخبار ایکسپریس میںپڑھا۔ توصیف صاحب کی علمی اور ترقی پسندانہ خدمات کا کون معترف نہیں۔ البتہ مضمون میں بحث کو جس طرح اساتذہ کی منتخب انجمنوں اور یونیورسٹیوں میں ان انجمنوں کے کردار کو جس طرح پیش کیا گیا وہ نہ صرف یک طرفہ ہے بلکہ علمی آزادی، جمہوری رویوں، جدیدیت ، بیانیہ کی تشکیل، جنگوں کے اثرات ، ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی پالیسیوں

1

کروڑ پتی سے ارب پتی اور اب کھرب پتی بننا چاہتا ہے! مزدور اپنا حق مانگتے ہیں Khaadi

مشہور ملبوسات کے برانڈ کھاڈی نے ۲۲ مئی کو ۳۲ مزدوروں کو برطرف کر دیا۔ اس برطرفی کے بعد سوشل میڈیا پر احتجاج شروع ہوا اور چند ہی دنوں میں کراچی اور لاہور میں کھاڈی کی دکانوں کے باہر اور پریس کلبوں پر احتجاجات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ یہ احتجاجات اور سوشل میڈیا پر نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن کی جانب سے مہم اس قدر موٗثر ثابت ہوئی کھاڈی کو اخبارات میں جوابدہی کرنا پڑی۔

1

بجٹ۲۰۱۷:سرمایہ داروں نے قرض لے کر آپس میں بانٹ لیا

وفاقی بجٹ ۲۰۱۷ء ۲۶ مئی کو پیش کیا گیا۔ ہر بجٹ کی طرح یہ بجٹ بھی نام کو ترقی کے لیے اور حقیقت میں سرمایہ داروں کے درمیان ہم عوام سے حاصل کیے گئے ٹیکس کی رقم کی تقسیم کا اعلان ہے۔ سرمایہ داروں کے لیے اپنی معیشت چلانے کے لیے تین اہم اخراجات ہیں۔ اول قرضوں کی قسط چکانا، دوئم دفاع پر خرچ کرنا، سوئم بجلی کی کمپنیوں اور بجلی پیدا کرنے اور سڑکیں بنانے

66666

دی آرٹ آف لوونگ

انسان کی شدید خواہش ہوتی ہے کہ اپنی علیحدگی کو کسی طرح کم کر کے تنہائی کی قید سے آزاد ہو جائے۔اس مقصد کو حاصل کرنے میں یکسر ناکامی پاگل پن میں تبدیل ہو جاتا ہے کیونکہ مکمل تنہائی کا خوف اسی وقت قابو کیا جا سکتا ہے جب باہر کی دنیا سے کٹ جایا جائے ، اس حد تک کہ علیحدگی کا احساس غائب ہو جائے ۔ کیونکہ باہر کی دنیا جس سے ہم علیحدہ ہوئے وہ غائب جو ہو گئی۔ ہر دور اور ثقافت کا انسان اس ایک سوال کے جواب کا متلاشی رہا ہے۔کیسے اپنی علیحدگی کو کم کیا جائے؟کیسے وصل کی راہیں طے کی جائے؟کیسے دوعلیحدہ وجود اس مقام تک پہنچے کہ یک جان ہو جائے؟چاہے تہذیب سے بے خبر غاروں میں رہنے والا انسان ہو یا اپنے ریوڑوں کو سنبھالتے خانہ بدوش،مصر کے کسان ہوں یا فیونیشین تاجر،رومی سپاہی ہو یا قرون وسطی کا جوگی،جاپان کا سامورائی ہو یاجدید زمانے کا کلرک یا مزدور،سب نے ہی اپنے سامنے اس سوال کو کھڑا پاےا ہے۔جسکا جواب وقت کے ساتھ ساتھ ہر دور میں بدلتا رہتا ہے۔جانوروں کی پوجا،انسانوں کی طرف سے دی جانے والی قربانیاں،فوجی قبضے،نفس پرستی ، صوفیانہ طرززندگی،حکمرانی،تخلیقی عمل،عشق حقیقی یا عشق مجازی، ان سب پہلووں سے اس کا جواب پیش کیا جاتا رہاہے۔جبکہ انسانی تاریخ میں ہی اس کے بے شمار جوابات موجود ہیں۔لیکن جوشخص اس مرکزی مسئلے کو چھوڑ دوسرے چھوٹے موٹے مسائل کی طرف متوجہ ہوتا ہے اُسے اس کے مختلف ثقافتوں سے وابستہ انسانوں کے پیش کردہ چند آدھ حل ہی مل پاتے ہیں۔حالانکہ فلسفے اور مذہب کی تاریخ اس ہی ایک سوال کے جواب، اس کے تنوع اور حدودکی تاریخ ہے۔

22

یورپ میں ٹرک اورکارکادہشت گردی میں بڑھتاہواستعمال

جدید تاریخ میں موٹرکارکوبم دھماکوں میں اس قدرزیادہ استعمال کیا گیاکہ امریکی مورخ مائیک ڈیوس نے اس پر Buda s Wagon: A Brief History of the Car Bomb کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے۔ موٹرکاراوربارودی بم یہ دونوں ہی جدید زمانے کی پیداوارہیں۔ تقریبا 97سال قبل 1920میں اٹلی کے ایک انارکسٹ ماریوبوڈا(Mario Buda) نے اپنی ایک گوڑھاگاڑی (ویگن) کو ڈائمانامیٹ اورلوہے کے تیز دہاروالیٹکڑوں(اسکریپ) سے بھرا اورنیویارک کے وال اسٹریٹ میں دھماکہ سے اڑا ڈالاجس میں 40افرادلقمہ اجل بنے۔ تب سے یہ دہشت پسندوں کاایک پسندیدہ طریقہ ٹہرا۔

poster1

لینن کا اپریل تھیسس اور روسی انقلاب

میں اس طوفانی تقریر کو کبھی بھلا نہیں پاؤں گا جس نے نہ صرف میرے اندر جوش بھرا اور حیرت ذدہ کیا ( میں جو کہ ایک منکر تھا اور حادثاتی طور پہ اس کے ماننے والوں میں گھرگیا تھا) بلکہ اس نے اس کے سبھی سچے پیروکاروں کو حیران کردیا۔مجھے یقین ہے کہ وہاں جو ہوا اس کا کسی کو بھی اندازہ نہیں تھا۔ایسا لگ رہا تھا جیسے معبدوں سے تمام قوتیں اٹھ آئی ہوں اور تباہی کی عالمگیر روح جو کہ کوئی روکاوٹ، کوئی شک ، کوئی مشکل اور کوئی بھی حساب کتاب آڑے آنے نہیں دیتی بدروح شاگردوں کے سروں پہ منڈلا رہی ہو۔